×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
اسٹیبلشمنٹ میں گرینڈ آپریشن کی ضرورت صدارت کے لیے آصف علی زرداری بہترین چوائس
Dated: 24-Aug-2008
سابق صدر پرویز مشرف گرتے پڑتے لڑکھڑاتے ڈگمگاتے استعفیٰ دے کر چلتے بنے۔ ان کے حواری اور پروردہ ابھی اسٹیبلشمنٹ میں موجود ہیں۔ وہ زخمی سانپ کی طرح وارکرنے در پے ہیں وہ موجودہ حکومت کو غیرمستحکم کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے۔پاکستان پیپلز پارٹی کو اقتدارپلیٹ میں رکھ کر ملا نہ یہ چور دروازے سے اقتدار میں آئی۔ عوامی خدمت کے لیے اس مقام پر پہنچنے کے لیے اسے اپنے قائدین اور کارکنان کی ڈھیروں قربانیوں کی داستان رقم کرنا پڑی۔ لیکن اسٹیبلشمنٹ چور دوازے سے اقتدار پر قبضہ کرنے کے خواہشمند طالع آزمائوں کے ایما پر اپنا کھیل کھیلتی رہی ہے جو بدستور جاری ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے ایوانوں میں یہ کسی صورت گوارا نہیں کہ جمہوری قوتیں کامیابی اور کامرانی سے عوام میں اپنا مقام بنا سکیں اس لیے وہ اپنے مذموم ارادوں کی تکمیل کے لیے انتہائی گھٹیا سے گھٹیا قدم اٹھانے کے لیے بھی تیار ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کے کاہل نااہل کرپٹ اور نالائق کارندے ہر شعبے ہر ڈیپارٹمنٹ کے اندر موجود ہیں اور کچھ موقعے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے بِلوں میں جا گھسے ہیں لیکن بلی اور چوہے کا یہ کھیل حکومت اور عوام دونوں کے اعصاب کو تھکادینے والا ہے۔کسی بھی پارٹی کو جب حکومت تفویض کی جایت ہے تو اسے اپنی پالیسیوں، ایجنڈے اور منشور پر عملدرآمد کے لیے مکمل طور پر بااختیار ہونا چاہیے لیکن ہمارے ہاں سیاسی پارٹی کو اقتدار کی منتقلی سے قبل ہی اس کے اقتدار سے بے دخلی کے منصوبے اور سازشیں پروان چڑھنے لگتی ہیں۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو اسٹیبلشمنٹ کی ان گھنائونی سازشوں سے آگاہ تھے انہوں نے حکومت سنبھالتے ہی اقتدار کے ایوانوں سے چمٹے ان الوئوں کو کھینچ کر باہر پھینک دیا جس کی وجہ سے انہیں پارٹی منشور کو عملی جامعہ پہنانے میں کسی حد تک آسانی رہی۔ 18 فروری کے الیکشن کے بعد جب پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے عوام کے مینڈیٹ سے کوالیشن گورنمنٹ تشکیل دی تو اسے پٹڑی سے اتارنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ نے ہر طرح کے حربے استعمال کیے مگر پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت یہ جانتی ہے کہ اسے ایک دن پھر عوام کو جواب دیدہ ہونا ہے بالآخر عوامی عدالت میں ہی جانا ہے اور بار بار جانا ہے۔اپنی پالیسیوں پر عملدرآمد بیوروکریسی کو نہیں مگر یہ نقصان پیپلز پارٹی کی ساکھ کو پہنچے گا۔بیوروکریسی مکمل طور پر اپاہج نہیں اس میں اعلیٰ دماغ اگر ہیں تو وہ ملک و قوم سے والہانہ محبت رکھنے اور قوم کے لیے کچھ کر گزرنے کاجذبہ رکھنے والے لوگ بھی موجود ہیں۔ لیکن مسائل تک پیدا ہوتے ہیں جب مختلف ڈیپارٹمنٹ کے اندر کرپٹ اہل کار اپنی خباثتوں سے باز نہیں آتے۔ میاں شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں وہ بیوروکریسی کی محلاتی سازشوں سے خوب واقف ہیں۔ انہوں نے اقتدار میں آتے ہی اپنی پارٹی کے پروگرام کو عملی جامہ پہنانے اور رٹ آف گورنمنٹ قائم کرنے کے لیے پہلے ہی روز پانچ ہزار کارندوں کو فارغ کر دیا۔ اب وہ جہاں کہیں نالائق اور نااہل افراد کو دیکھتے ہیں کان سے پکڑ کر چلتا کر دیتے ہیں۔ ان کے آپریشن کلین اپ سے معاملات پر ان کی مناسب گرفت ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو جیسا گرینڈ آپریشن آج پھر مرکز میں کرنے کی ضرورت ہے۔ وگرنہ اداروں میں چھپے ہوئے یہ لوگ نہ صرف حکومت کی کامیابیوں کے رستے میں روڑے اٹکائیں گے بلکہ جمہوریت کے رستے میں بھی کانٹے بوئیں گے۔ پیپلز پارٹی اپنے منشور پر کوالیشن گورنمنٹ کی موجودگی میں اسی وقت عمل کر سکتی ہے جب اس کے پاس پورے اختیارات ہوں۔ الحمد اللہ آمریت سے جان تو چھوٹ گئی ہے مگر آمریت کے حواری اپنی ریشہ دوانیوں میں نہ صرف مصروف ہیں بلکہ وہ کوالیشن گورنمنٹ کو اب بھی اپنا سب سے بڑا ٹارگٹ خیال کرتے ہیں۔ اس لیے کوالیشن گورنمنٹ کو چاہیے کہ وہ جہاں دیگر بنیادی مسائل کا انبار لگا ہے اس سے نبٹ رہے ہیں وہی وہ اس نکتے کو بھی نظرانداز نہ کریں کہ اسٹیبلشمنٹ کے پروردہ یہ لوگ جو جھونکوں کی طرح حکومتی کامیابیوں کا خون نچوڑ رہے ہیں ان کو ایک گرینڈ آپریشن سے پاک اور صاف کر دیا جائے۔ اب صدر کے انتخاب کا مسئلہ درپیش ہے 6ستمبر کو صدارتی الیکشن کا اعلان کر دیاگیا ہے۔ میرے خیال میں جمہوریت کے لیے اور وفا، قربانیوں،اہلیت اور صلاحیت کو اگر ایک جگہ اکٹھا کیا جائے تو جو نام بنتا ہے وہ آصف علی زرداری ہے۔ میاں محمد نواز شریف نے سب سے پہلے ان کی بطور صدر نامزدگی کی حمایت کی تھی۔ اسفندیارولی اور مولانا فضل الرحمن بھی تائید کر چکے ہیں۔قائد الطاف حسین نے ان کو صدر بنانے کی تجویز دے کر سیاسی حلقوں میں اپنا نام اور کردار بلند کر لیا۔اس سے زیادہ پاکستان میں کسی بھی شخص پر اتفاق رائے ممکن نہیں۔ دو روز پہلے سندھ اسمبلی نے جس کوپاکستان کی قرارداد سب سے پہلے پاس کرنے کی سعادت حاصل ہے اس نے متفقہ طور پر سینیٹر آصف علی زرداری صاحب کو عہدہ صدارت کے لیے نامزد کرکے دراصل مہر ثبت کر دی ہے۔سینیٹر آصف علی زرداری صاحب کو جمہوریت کی جنگ میں اپنے شریک حیات کی قربانی کے علاوہ ان پر تشدد ہوا، ان کی زبان اور گلا کاٹا گیا ان کو ایک ہی دن میں ملک کے تین مختلف شہروں میں مقدمات کے لیے پیش ہونے پر مجبور کیا گیا۔ جب وہ کسی صورت میں نہ بِکے نہ جھکے تو ان کے بچوں سے ان کی ماں اور اس قوم سے اس کی عظیم لیڈر چھین لی گئی۔ اس لیے میں خیال میں آصف علی زرداری سے بہتر اور متفقہ صدر اس وقت ڈھونڈنا مشکل ہوگا۔لیکن خود آصف علی زرداری صاحب نے کسی خاتون کو صدر بنانے کی بات کی ہے۔ یہ ان کے کردار کی عظمت اور سیاسی معاملات پر مکمل عبور کی نشاندہی ہے۔ہمارے ملک میں خواتین کی آبادی 50فیصد سے زیادہ ہے اور آبادی کے اتنے بڑے حصے کو کاروبار مملکت سے الگ تھلگ رکھنا نہ صرف ناانصافی بلکہ اس ملک کے کروڑوں عوام کا احتصال ہوگا۔ اس لیے اگر پیپلز پارٹی کے منشور سے متفق اور خیالات سے قریب تر کسی خاتون کو صدارت کے عہدے پر متمکن کرنا دورِ حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق ہوگالیکن ہمیں ان تمام معاملات کے لیے اپنے کوالیشن پارٹنرز کو اعتماد میں لینا ہوگاکیونکہ آخر ہمیں انہی کے ساتھ کاروبارِ حکومت چلانا ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus