×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
زندہ ہے بی بی زندہ ہے
Dated: 21-Jun-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com ہم گاڑی میں سوار فلاڈیلفیا سے واشنگٹن ڈی سی جا رہے تھے۔ فلاڈیلفیا یونیورسٹی میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا ایک خصوصی لیکچر تھا۔ میرے ساتھ اس وقت گاڑی میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے علاوہ مینارٹی آلائنس کے وکٹر گِل اور پیپلزپارٹی UK کے موجودہ قائم مقام صدر خالد اعوان بھی موجود تھے جو کہ گاڑی ڈرائیو کر رہے تھے۔ شہید محترمہ فرنٹ سیٹ پر بڑے انہماک سے باتیں سن اور کر رہی تھیں کہ اچانک خالد اعوان بولے کہ لگ رہا ہے گاڑی کا ٹائر پنکچر ہو گیا ہے۔ ہائی وے پر گاڑی اپنی پوری سپیڈ پر جا رہی تھی۔ اعوان صاحب نے گاڑی کو ایک سائیڈ پر پارک کیا نیچے اترے گاڑی کی ڈگی کھولی پھر مجھے باہر بلایا اور فکر مند لہجے میں کہنے لگے ،وڑائچ صاحب ڈگی میں (سٹپنی)اضافی ٹائر موجود نہیں اب کیا کریں؟ اب تو محترمہ سے جھاڑیں بھی پڑیں گی اور وہ ناراض بھی ہوں گی۔ خیر ہم نے ریسکیو والوں کو فون پر ساری صورت احوال کا بتایا اور یہ بھی بتایا کہ ہمارے ساتھ اس وقت پاکستان کی سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ بھی ہیں جس پر چند ہی منٹوں میں فضا میں ہمارے اوپر ہیلی کاپٹر منڈلانے لگے اور فوری طور پر ایک لفٹر ٹرک بھی پہنچ گیا۔ محترمہ گاڑی میں ہی بیٹھی رہیں اور لفٹر نے ہماری مرسڈیز گاڑی کو ٹرک پر لوڈ کر دیا جس نے پولیس اسکارٹ کی معیت میں ہمیں قریبی ایک پٹرول پمپ پر پہنچا دیا جہاں ٹائر تبدیل کرنے کی سہولت میسر تھی۔ پھر جیسے ہی لفٹر نے گاڑی کو ٹرک سے نیچے اتارا تو شہید محترمہ گاڑی سے باہر نکل آئیں اور پٹرول پمپ پر موجود شاپ کے اندر چلی آئیں ہم بھی محترمہ کے پیچھے پیچھے شاپ کے اندر آ گئے۔ محترمہ سیدھی واش روم چلی گئیں اسی دوران دوکان کے کائونٹر پر موجود ایک نوجوان نے تقریباً چلاتے ہوئے ہم سے پوچھا کیا یہ بے نظیر بھٹو صاحبہ ہیں؟ جب ہم نے اسے بتایا کہ ہاں یہ محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ ہی ہیں تو نوجوان کو اپنی آنکھوں اور ہماری باتوں پر شاید یقین نہیں آ رہا تھا وہ دم بخود حیرت کی تصویر بنا چند لمحے کھڑا رہا پھر کہیں فون ملانے لگا اتنی دیر محترمہ واش روم سے واپس آ گئیں ۔شاپ سے کچھ چاکلیٹ وغیرہ خریدی اور کائونٹر پر آئیں تو اس نوجوان نے کہا محترمہ مجھے بھی یقین نہیں آ رہا اور میں نے اپنی ماں کو فیصل آباد فون کرکے بتایا ہے وہ بھی میری بات پر یقین نہیں کر رہی تو کیا آپ مہربانی کرکے ایک لمحے کے لیے میری ماں سے بات کریں تاکہ اسے پتہ چل جائے کہ میں جھوٹ نہیں بول رہا۔ محترمہ نوجوان کے ہاتھوں سے فون پکڑ کر نوجوان کی ماں سے بات کی اور مسکرا کر اسے بتایا کہ ہاں میں بے نظیر بھٹو ہوں پھر محترمہ نے نوجوان سے پوچھا آپ یہاں جاب کرتے ہو؟ جس پر نوجوان نے محترمہ کو بتایا کہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے مگر جب ملک میں مناسب جاب نہ ملی تو امریکہ میں حصولِ روزگار کے لیے آ گیا اور اس پٹرول پمپ پر جاب کر رہا ہوں۔ محترمہ نے نوجوان سے کہااگر ہم اقتدار میں واپس آ گئے تو آپ کو آپ کی تعلیم کے لحاظ سے مناسب جاب پاکستان میں دیں گے ۔جس پر نوجوان نے کہا محترمہ آپ یہ سب مجھے ایک کاغذ پر لکھ کر دیں، محترمہ نے مسکراتے ہوئے مجھ سے ایک وزیٹنگ کارڈ لیا اور اس کی پشت پر ایک تحریر لکھ کر نوجوان کے حوالے کی جو کہ کسی خزانے کے مل جانے سے بھی زیادہ مسرور نظر آ رہا تھا۔ اتنی دیر تک گاڑی کا ٹائر تبدیل ہو چکا تھا ہم سب واپس گاڑی میں بیٹھے اور واشنگٹن ڈی سی کی طرف چل دیئے۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی جلاوطنی کے دوران ایسے بے شمار مواقع آئے جہاں مختلف اوقات میں جگہ جگہ محترمہ کی مدد اور معاونت کی، ان کے ایک حکم پر سرخم تسلیم کیا اور روبوٹ کی طرح محترمہ کے کہنے پر پاکستان میں جمہوریت کی بحالی اور سینیٹر آصف علی زرداری صاحب کی رہائی کی جدوجہد میں شامل ہوتے چلے گئے۔ اس وقت میں بھی جلاوطنی میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے ہمراہ ہوتا تھا اور وہ مجھ پر اعتماد کرتے ہوئے اکثر مجھے کچھ مخصوص ٹارگٹ دے دیتی تھیں اور الحمد اللہ ان کی شہادت تک میں نے ان کے ہر حکم کی تعمیل کی اور دیئے گئے اہداف کو پورا کیا۔ اس مشکلات کے دور میں ہمیں دنیا بھر میں موجود نہ صرف پاکستانیوں سے بلکہ اکثر یورپین دوستوں، عرب دوستوں اور ہر اس شخص نے ہمارا ساتھ دیا جس سے بھی ہم نے پوچھا وہ ہمارے کاروان کا حصہ بنتا چلاگیا۔ جلاوطنی میں محترمہ شہید نے کبھی بھی اپنی سالگرہ کو اہتمام کے ساتھ نہ منایا مگر ان کی خواہش ہوتی تھی کہ وہ اپنی سالگرہ اپنے بچوں کے ساتھ منائیں۔ پھر وقت نے کروٹ لی ظالموں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیا۔ ہم نے ہی نہیں عالمِ اسلام سے، تیسری دنیا سے ، ایشیا سے اس کا لیڈر چھین لیا گیا۔ پھر وقت ہی نہیں چہرے بھی بدل گئے جو لوگ جمہوریت کی بحالی اور سینیٹر آصف علی زرداری کی رہائی کی جدوجہد میں شامل تھے، جن لوگوں نے عملاً اس میں حصہ لیا ، ایسے بھی لوگ تھے جنہوں نے اس دوران بیماریوں کی بھی پروا ہ نہ کی ایسے بھی ہمسفر تھے جنہوں نے اپنی ازدواجی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا اور کچھ دوستوں کے جنون نے ان کو طلاقیں بھی دلوائیں مگر وہ بے نظیر بھٹو کے دیئے ہوئے مِشن پر قائم رہے، نقصانات کو حکم عدولی پر ترجیح دی۔ایسے ہی کچھ دوست چند روز قبل میرے ساتھ بیٹھے تھے جنہوں نے اس پورے عرصے کے دوران طلسماتی کرشمے دکھائے اور جمہوریت کی بحالی کے لیے اپنی زندگیاں تک دائو پر لگا دی تھیں۔ وہ بڑے مایوس تھے اور مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ ہمیں تو یہ لگتا ہے کہ محترمہ زندہ بھی ہوتی تو ہمارے ساتھ یہی ہونا تھا۔ جس پر میرا دل بڑا افسردہ ہوا میں انہیں کیا جواب دیتا؟ کچھ روز بعد میری ملاقات اس وقت کے شہید بی بی کے پرائیویٹ سیکرٹری بریگیڈیئر امان صاحب سے ہوئی جو کہ اب بھی اکثر فون کرکے حال و احوال پوچھتے رہتے ہیں۔ میں نے بریگیڈیئر صاحب سے پوچھا کہ وہ بتائیں اگر محترمہ زندہ ہوتیں ،آج اقتدار میں ہوتیں تو کیا بحالی جمہوریت اور سینیٹر آصف علی زرداری کی رہائی کے لیے کام کرنے والے کاروان کے ساتھ کیا پھر بھی یہی سلوک ہوتا؟ جس پر بریگیڈیئر امان صاحب نے کہا نہیں میں خود گواہ ہوں بلکہ میرے پاس ایک ایسی لسٹ ہے جس پر ترتیب وار ایسے تمام دوستوں کی تفصیلات اور نام موجود ہے جن کو شہید محترمہ نے خصوصی طور پر نوازنا تھا۔ کیونکہ بھٹو خاندان کے لہو میں احسان فراموشی کا کوئی بھی عنصر موجود نہیں۔ بریگیڈیئر صاحب کی باتیں سن کر مجھے قرار سا آ گیا ایسے لگا جیسے دل کو سکون آ گیا میں نے بریگیڈیئر صاحب کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے بعد دنیا بھر میں موجود ان دوستوں کو، کاروان بحالی جمہوریت کے دستے کو، بریگیڈیئر امان صاحب کاجواب پہنچایا اور مجھے خوشی ہے کہ وہ یہ سب مجھ سے سن کر یقینا اتنے خوش ہوئے ہو ں گے اور محترمہ کے متعلق ان کے دل میں اگر کہیں ملال آیا بھی تھا وہ اس پر شرمندہ ضرور ہوئے ہوں گے۔ اپنی سوچوں پر مگر سوچوں پر تالے بھی تو نہیں لگائے جو پورے میچ کے دوران کہیں نظر نہ آئی ہو؟ وہ لوگ جو آمر کی گود میں بیٹھے تھے، وہ لوگ جو ذوالفقار علی بھٹو شہید اور بے نظیر بھٹو شہید کی ذات کے متعلق غلیظ گالیاں بکتے تھے، وہ لوگ جو ضیاء کے ساتھی تھے، وہ لوگ جو کوڑے مارنے والے تھے جو پھانسیاں دینے والے تھے، وہ لوگ جو قلعوں میں اذیتیں دینے والے تھے، وہ لوگ جو سیاسی قیدیوں پر تشدد اور قیدیوں کی چیخیں سن کر مستانہ وار ناچتے تھے، وہ لوگ جو بحالی جمہوریت کی راہ میں سینہ تان کر رکاوٹ بنے تھے ۔ میرے دوست نے مجھے بتایا ایک ایسے شخص کو ایک وفاقی محکمے کا چیئرمین لگایا گیا ہے جس نے الیکشن سے چند ماہ قبل پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل کے بھتیجے کی شادی میں اونچی آواز میں آج کے صدر مملکت کے متعلق بات کرتے ہوئے غلیظ گلیاں دیں تھیں۔ جس کے گواہ وہ پوری تقریب کے مدعوئین ہیں جو اس وقت وہاں موجود تھے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جس شخص نے آگے بڑھ کر اس شخصیت کو روکا اس کا گریبان پکڑا وہ شخص آج زیر عتاب ہے جبکہ گالیاں دینے والا تب بھی کہتا تھا دیکھنا میں کامیاب ہو جائوں گا میرا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلق ہے مگر تم لوگ آج بھی ناکام ہو کل بھی ناکام ہو گے۔ یہاں جیت صرف گالیاں دینے والے کی ہوتی ہے۔ میرا وہ دوست جو مجھے یہ سب بتا رہا تھا پیپلزپارٹی کی ہر ہونے والی تقریب میں ہر روز ہر دفعہ بس مستانہ وار ایک ہی نعرہ لگاتا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں ’’زندہ ہے بی بی زندہ ہے‘‘میں نے اس جیالے دوست سے پوچھا تم جنون کی حد تک مست ہو کر یہ نعرہ کیوں لگاتے ہو تو اس جیالے نے کہا۔ جب میں چوری کھانے والے مجنوئوں پر نوازشات کی بارش دیکھتا ہوں انہیں سٹیج پر براجمان دیکھتا ہوں جب میں بے نظیر بھٹو شہید کے قاتلوں کو وزراء کے روپ میں دیکھتا ہوں تو جس طرح شیطان کو دیکھ کر اسے بھگانے کے لیے ’’لاحول ولا قوۃ‘‘ پڑھتے ہیں میں اس طرح ان قاتلوں ،ان فصلی بٹیروں کو بھگانے کے لیے ’’زندہ ہے بی بی زندہ ہے‘‘ کا دیوانہ وار وجد کرتا ہوں تو ان قاتلوں کے بوکھلاتے ہوئے چہرے اور ان پر گھبراہٹ دیکھ کر اسے انتہائی خوشی ہوتی ہے۔ دنیا بھرمیں بے نظیر بھٹو شہید کے چاہنے والے اپنے اپنے طریقے میں اپنی وابستگیاں محترمہ شہید سے جوڑے ہوئے ہیں۔ مختلف ناموں سے موجود ایسے دوست شہید قائد کو تاحیات رہتی دنیا تک خراج تحسین پیش کرتے رہیں گے اور کہتے رہیں گے۔ ’’زندہ ہے بی بی زندہ ہے‘‘
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus