×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
جمہوریت کی آخری ہچکی
Dated: 01-Jul-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com قیام پاکستان سے ہی وطن عزیز کی راہیں متعین کرنے کی کاوشیں برآور ثابت نہ ہوئیں۔ اپنی ہی کوتاہیوں کی وجہ ہی تھی کہ ملک کو بار بار مارشل لائوں کی صورت میں جمہوریت سے ڈیل ریل کیا گیا اور جمہوریت کی گاڑی ہمیشہ پٹڑی سے اتاری جاتی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوریت کی یہ گاڑی آج تک منزل تک نہ پہنچ سکی۔ جمہوریت کی گاڑی جہاں جہاں سے گزری ہم لوگوں نے وہیں وہیں سے پٹڑی اکھاڑ کر لوہے کے بیوپاریوں کو بیچ دی۔ پاکستان بننے کے بعد ہمارے نااہل سیاست دانوں نے اپنی ذمہ داریوں کا احساس تو دور کی بات کبھی یہ سوچا بھی نہیں کہ ’’ڈیلی ویجز‘‘پر چلنے والا یہ سسٹم آخر کب تک بغیر کسی حکمت عملی اور منصوبے کے بغیر چلے گا۔ یہاں پر ایک طرف عسکری طالع آزمائوں تو دوسری طرف سیاسی طالع آزمائوں نے بھی وطن عزیز کی سالمیت کی مضبوطی کی بجائے اپنے اقتدار کو دوآم دینے کے لیے انتہائی حربے استعمال کیے۔ ایوب خان نے ملک کے صدر کو جلاوطن کیا اور سیاست دانوں کو ’’ایبڈو‘‘ کے کالے قوانین کی زنجیریں پہنوا کر ملک کی نوزائیدہ سیاسی نرسری کو نہ صرف بند کر دیا بلکہ سیاست کو سیاست دانوں کے لیے شجرممنوعہ بنا دیا گیا۔ مگر یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ انہی آمروں اور ان کی کرتوتوں کو سہارا بھی سیاست دانوں کے اپنے بھائی بندوں نے دیا اور یوں بِلی چوہے کا یہ کھیل ہمیں اپنے مشن اور پاکستان کے کاز سے دور لے گیا۔ انہی کم عقلیوں کی وجہ سے ملک متعدد بار ایڈونچرز کا شکار ہوا۔ قائداعظم کی مسلم لیگ کو تختہ مشق بنایا گیا اور یوں قائداعظم والی اصلی مسلم لیگ ان ہی ایڈونچرز کا شکار ہو کر اپنی ہی عوام میں اپنی جڑیں اور پہچان گنوا بیٹھی۔ دوسری طرف افواج پاکستان روز اول سے ہی ایک مکار دشمن سے واسطہ پڑنے کی وجہ سے مسلسل حالت جنگ میں رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب اس وقت دنیا کی دو بڑی سپُرطاقتوں کے درمیان سرد جنگ عروج پر تھی، روس نے افغانستان پر قبضہ کر لیا اور پھر یہ پاک فوج کا ادارہ آئی ایس آئی ہی تھا جس نے عالمِ اسلام اور یورپ کی لاج رکھی اور دنیا بھر نے آئی ایس آئی کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا۔ روس تو جنگ ہار کر چلا گیا مگر روس کے انخلا کے بعد خطے کے معاملات کسی کے کنٹرول میں نہ رہے۔ امریکہ نے افغانستان کے مسائل سے جان چھڑانے کی ٹھانی اور اس وقت کے مجاہدین اور ان کے کمانڈروں کوبے یارومددگار چھوڑ دیا۔ پھر9/11کے بعد حالات نے امریکہ کو پھر ایک دفعہ اس خطے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ اپنی طاقت کے زعم میں واحد سُپرپاور اس وقت بھول گیا کہ یہ مکافاتِ عمل ہے جس افغانستان کو وہ بوجھ سمجھ کر اتار کر بھاگ گیا تھا اسے پھر وہاں اپنے تمام مغربی اتحادیوں سمیت ڈھیرے بسانے ہوں گے اور یہی وجہ ہے کہ پچھلے دس سال سے امریکہ اور اس کے اتحادی نیٹو اپنی دو لاکھ افواج کے ساتھ افغانستان کی سرزمین پر وقتاً فوقتاً لاشے اٹھانے پر مجبور ہیں اور اب ایک دفعہ پھر امریکہ اور اتحادی پہلی روش کو بھولے نہیں بلکہ ایک دفعہ پھر وہی غلطی دہرانے جا رہے ہیں جس غلطی کا خمیازہ کھربوں ڈالرز کا ضیاع اور ہزاروں فوجیوں کی ہلاکت کی صورت میں برآمد ہوا ہے۔ ٹھیک اسی طرح اس وقت کی پاکستانی قیادت تب بھی اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہی اور موجودہ سیاسی قیادت بھی حالات کی نزاکت اور علاقائی و جغرافیائی حقیقتوں کا ادراک سمجھنے سے قاصر ہے۔ مشرف کے ایک طویل عسکری و نیم عسکری اقتدار کے بعد سیاسی جماعتوں نے عوام کو تاثر دیا کہ اب وہ میچور ہو گئے ہیں۔ عوام نے اپنی سیاسی قیادت کی غلطیوں کو بالائے طاق رکھ کر سیاسی قیادت کو اعتماد دیا اور 2008ء کے الیکشن میں جمہوری قوتوں کو ایک نیا مورال، نیا مینڈیٹ دے کر دیگر قوتوں کو واضح پیغام دیا کہ جمہوریت ہی اس ملک کی اصل منزل ہے۔ مگر شومئی قسمت ملک ابھی جمہوری عادات کا پوری طرح عادی بھی نہیں ہوا کہ اس ملک کے سیاست دانوں نے جو اقتدار سے باہر ہیں اقتدار کے ایوانوں کی اینٹیں اکھاڑنا شروع کر دی ہیں اور جو اقتدار کے اندر ہیں انہوں نے جس شاخ پر بیٹھے ہیں اسی کو کاٹنے کے لیے اپنی آریاں اور چُھرے تیز کر لیے ہیں۔میں کبھی اقتدار کا حصہ نہیں رہا شاید یہی وجہ ہے کہ مجھے اقتدار کے لمس اور لالچ کا احساس نہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ جمہوریت کی بحالی ،آصف علی زرداری کی رہائی ہمارا مقصد تھا مگر پاور شیرنگ کبھی منزل مقصود نہ تھی۔ میں حیران ہوں کہ 80ء کے ابتدائی ایام میں اقتدار کا چسکا لگنے کے بعد میاں برادران کے لیے اقتدار کے بغیر رہنا ایسے ہی ہے جیسے مچھلی بغیر پانی کے زندہ نہیں رہ سکتی۔ اور بالکل یہی مرض دوسری طرف بھی ہے جہاں شہید محترمہ سے ازدواجی بندھن میں بندھنے کے بعد زرداری صاحب جب ایوان اقتدار میں پہنچے تو پھر سالوں تک قیدوبند کی صعوبتیں بھی ان کے جذبہ اقتدار کو متزلزل نہ کر سکا۔ ملک کی دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں نے کارکنوں کے لاشوں پر قدم رکھ رکھ کر اقتدار کی منازل طے کیں۔ آج بھی قلعے اور کوڑھے ہماری لوک داستانوں کا حصہ بن گئے ہیں۔ لاکھوں جیالے گزرتے وزراء کی گاڑیوں کی طرف دیکھ کر اونچی انچی پکارتے ہیں دیکھو وہ جانے کا صاحب میرا عزیز دوست ہے اردگرد لوگ اس پر ہنستے ہیں اوروہ اپنا پنکچر بائیسکل لے کر ان کے طعنوں سے دور چلا جاتا ہے مگر شاید یہی بھی مکافاتِ عمل کا حصہ ہے کہ جلاوطنی کے ایام میں مال روڈ لاہور پر محترمہ کلثوم نواز شریف صاحبہ ایک جلوس کی قیادت کر رہی تھیں جس میں درجن بھر متوالے موجود تھے جب پولیس کے لفٹر ٹرک نے محترمہ کلثوم نوازشریف کی گاڑی کو اٹھا لیا تو انہوںنے نظریں دوڑا کر دیکھا تو کوئی بھی ساتھی موجود نہ تھا۔ یہ وہ لمحات تھے جن کو ہزاروں دفعہ اقتدار ملنے کے باوجود بھلایا نہیں جا سکتا۔ ٹھیک انہی ایام کی طرح جب آج کے صدر مملکت کو خصوصی فرمائش پر مجھے یورپ سے بلوایا گیا تھا اور جب زمینی حالات بہت تلخ ہو چکے تھے۔ اقتدار چھوٹا ہو یا بڑا اقتدار اقتدار ہوتا ہے اور آج اقتدار کی مسند پر بیٹھے پنجاب اور مرکز کے حکمرانوں کے کانوں میں اقتدار کا سیسہ بھر دیا گیا ہے۔ سانحہ ایبٹ آباد، سانحہ اخروٹ آباد اور سانحہ مہران بیس کیمپ کے بعد ہماری ان قوتوں نے اقتدار کی طرف للچائی نظروں سے دیکھنا شروع کر دیا ہے اور اپنی ہی پاک فوج اور صرف اب تک باقی بچنے والے واحد ڈسپلنری ادارے کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آصف علی زرداری ماضی میں عسکری قیادت کے بہت بڑے نقاد رہے مگر میاں نوازشریف فیملی کی موجودہ سیاسی روش نے انہیں عسکری قیادت کے قریب تر کر دیا ہے جبکہ عسکری قیادت کے کندھوں پر بیٹھ کر آنے والی شریف قیادت نے اپنی فطری نیچر کے خلاف عسکری قیادت کو للکار کر خود کو ہمیشہ کے لیے شاید فوج سے دور کر لیا ہے۔ بھلا ہو چوہدری نثار کا جنہوں نے خود کبھی صاحب اقتدار نہ بننے کی خواہش کے بعد میاں برادران کو بھی اقتدار سے کوسوں دور کر دیا ہے۔ کیا ایبٹ آباد کے واقعے پر عدالتی کمیشن کا واویلا جائز تھا کہیں ایسا تو نہیں کہ میاں برادران واشنگٹن ڈی سی کی خواہشات براستہ جدہ وصول کر رہے ہیں۔ امریکی سعودی تعلقات اب رشتوں کے بندھن میں بندھ چکے ہیں اور سعودی حکمرانوں کے رائے ونڈ سے تعلقات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ امریکہ پاکستان میں اپنے مقاصد کے لیے ہماری فوج کو کمزور کرنے کے لیے ہم سے ہمارے ایٹم بم چھیننے کے لیے ایٹم بم کا دھماکہ کرنے والے نوازشریف کو بلواسطہ استعمال کر رہا ہے؟ قومی اسمبلی کے ان سیشن کیمرہ اجلاس میں جب چوہدری نثار نے عسکری قیادت کے خلاف زہر اگلا تو آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل شجاع پاشا نے جوابی تقریب میں خود کو پیش کرکے کہا کہ میں اس ملک کی پارلیمنٹ کے سامنے سرنڈر کرتا ہوں اور مستعفی ہونے کی پیش کش کی اور بادل نخواستہ یہ بھی کہا کہ کیا میں اپنے لیپ ٹاپ پر ان لوگوں کی کرتوتیں دکھا سکتا ہوں جو رات کے اندھیرے میں آ کر ہم سے منتیں کرتے ہیں۔ جس کے بعد چوہدری نثار صاحب نے چپ سادھ لی مگر اپنی زبان میاں صاحب کے منہ میں ڈال دی۔ کیا میاں صاحب نے 90کے الیکشن، کارگل کی جنگ، سپریم کورٹ پر حملہ کیسز پر عدالتی کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے؟ کیا اس ملک کی سیاسی قیادتیں بچے کھچے پاکستان اور وفاق پاکستان کا بھرم ملک کی مسلح افواج کو ہدف تنقید بنانے اور عالمی سازشوں کا شکار ہو کر اپنے ہی پائوں پر کلہاڑی مارنے کا عمل دہرائیں گی۔ پاکستان اس وقت دنیا کے ایٹمی کلب کا ساتواں نیوکلیئر ممبر ہے ہماری فوج اور ہمارے بم دشمنوں کے سینوں پر مونگ دلتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اب کی بار امریکہ بھارت اور اسرائیل نے ہمارے ہی ملک کی عوام کو گمراہ کرکے پاکستانی اساس اور سرحدوں کی حفاظت کی ضامن پاک فوج کو اپنا ہدف نمبر ایک بنا لیا ہے۔ کیا ماضی میں اس وقت کی سپر طاقت امریکہ کے پرل ہارپر پر حملہ پھر ویت نام اور کوریا میں شکستیں اور نائن الیون کے روز امریکی انٹیلی جنس کو مفلوج کرنے کے واقعات کے بعد امریکی سیاست دانوں اور عوام نے اپنی فوج کو بُرا بھلا کہاہے ۔کیا پینٹاگون پر حملہ اور جی ایچ کیو پر حملہ ایک جیسے محرکات کا حامل نہیں؟ وطن عزیز کے سیاست دانوں،طالب علموں، مزدوروں، کسانوں، دانشوروں، صحافیوں،مخدوموں،نوابوں، وڈیروں، سیدوں، چوہدریوں کو خواب غفلت سے جاگنا ہوگا وگرنہ ہمارے ازلی دشمن مگرمچھ کی طرح منہ کھولے ہماری اندرونی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر ہڑپ کر جانے کو تیار بیٹھے ہیں۔ گذشتہ روز آزاد کشمیر کے الیکشن کے روز ملک بھر میں فسادات ،جھگڑے ،قتل و غارت سے یہی لگا کہ ہمارے سیاست دانوں نے ماضی کی تلخیوں کے نتائج سے کچھ نہیں سیکھااور الیکشن پاکستان بھارت کے درمیان نہیں تھے اس ہی ملک کی سیاست جماعتوں کے درمیان لڑے گئے ہیں۔ صاحب اقتدار طبقے کو خواب غفلت سے جاگنا ہوگا وگرنہ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔ اور جمہوریت اپنی آخری ہچکی لے کر ہمیں اندھیروں کے سمندر میں غرق ہونے کے لیے تنہا چھوڑ دے گی۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus