×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
مروجہ سیاست اور تلخ حقیقت
Dated: 22-Jul-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com عقلمندوں سے قول ہے کہ اک ذرہ سی غلطی انسان کو منزل سے میلوں دور کر دیتی ہے۔ کچھ یہی حال ملک کے دو دفعہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب رہنے والے میاں نوازشریف صاحب کے ساتھ بھی ہوا۔ اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ میاں نوازشریف صاحب نے میثاق جمہوریت کا جب راستہ اپنایا تھا تو وہ دل سے خواہاں تھے کہ یہ بیل منڈھیر چڑھ جائے۔ خود میں بھی چند ان لوگوں میں شامل تھا جو میثاق جمہوریت کے بانیوں میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔ جدہ میں نواب زادہ نصراللہ خان مرحوم سے لے کر لندن میں میثاق جمہوریت پر دستخط ہونے تک کی تقریبات اور دونوں بڑے سیاسی راہنمائوں کے جذبے اور خیالات و کلمات دیکھ اور سن کر لگتا تھا کہ ملک کی دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں کے قائدین کو یہ ادراک ہو چلا ہے کہ اگر ملک بھر کی سیاسی قیادتیں ہم آہنگ نہ ہوئیں تو پھر مستقبل میں ان غیرمرئی قوتوں کو روکا نہ جا سکے گا جو ہمیشہ کسی ایسے ہی موقع کی تلاش میں رہتے ہیں، جن کو نوابزادہ مرحوم ’’طالع آزما‘‘ کہتے تھے۔ مگر بدشومئی قسمت کہ ابھی میثاق جمہوریت کی سیاہی بھی خشک نہ ہوئی تھی کہ میاں نوازشریف صاحب نے لندن میں جمع متحدہ مجلس عمل اور دوسرے موقع پرستوں سے مل کر نئی انجمن سجانے کے منصوبے بنانے شروع کر دیئے۔ یہی وجہ تھی کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی پاکستان کی اس وقت کی قیادت خصوصاًفوجی قیادت کے ساتھ روابط اور پیغام رسانی کو آگے بڑھایا کیونکہ محترمہ جانتی تھیں کہ جلاوطنی صدیوں پر محیط نہیں ہونی چاہیے عوام کی سیاست کرنے کے لیے عوام کے درمیان ہونا ضروری تھا۔ اگر میثاق جمہوریت کو شروع ہی میں دھچکا نہ لگتا تو شاید دونوں بڑی سیاسی قیادتیں اکٹھے پاکستان واپس آنے کا پروگرام بناتے جس سے آخر مشرف کے پاس بھاگنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہتا۔ 18اکتوبر2007ء کو سانحہ کارساز کے بعد محترمہ کو احساس ہوا کہ کچھ قوتیں ان کے پاکستان واپسی کو پسند نہیں کرتیں مگر 9سال جلاوطنی کاٹنے اور صورت احوال سے پوری طرح باخبر نہ ہونے کی وجہ سے محترمہ شہید کو بے شمار فیصلے ایسے بھی کرنا پڑے جو شاید وہ عام حالات میں نہ کرتیں۔ الیکشن 2008ء کا اعلان ہوا تو میاں صاحب برادران آ گئے۔ اس دفعہ سعودی حکومت کی مشرف کو گارنٹی تھی کہ جب محترمہ واپس آ گئیں ہیں تو شریف برادران کو مزید روکنا مشکلات کھڑی کرے گا اور دوسری طرف مشرف کو بھی یقین تھا کہ آٹھ سال تک جس مسلم لیگ کی آبیاری اس نے کی ہے، اربوں کے فنڈ استعمال ہوئے ہیں۔ تقریباً وہ تمام فیملیز جو سیاست کے میدان میں اپنی اپنی آبائی نشستیں جیت جاتی ہیں وہ سب مشرف کے ساتھ اس کی بنائی ہوئی مسلم لیگ میں شامل تھے، اس لیے خطرات کم تھے کہ مشرف کی پارٹی کو ہار ملتی۔ انہی حالات کی نشاندہی پر میاں برادران نے ایک دفعہ پھر الیکشن کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیامگر شہید محترمہ بے نظیر بھٹو جانتی تھیں کہ 85ء کے انتخابات کے بائیکاٹ کے نتائج کو وہ اب تک بھگت رہی تھیں۔ پھر عین الیکشن سے چند روز بیشتر محترمہ بے نظیر بھٹو کی المناک شہادت کے بعد سندھ اور پاکستان خون میں نہاگیا۔ حالات معمول پر آنے میں کچھ دیر لگی اس دوران میاں نوازشریف نے دوسری دفعہ انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا مگر تب سینیٹر آصف علی زرداری جو محترمہ کی شہادت کے بعد عملاً پارٹی قیادت اور آنے والے الیکشن کے نتائج کی صورت میں ایک متبادل قیادت کے طور پر سامنے آ چکے تھے نے کمال دانش مندی سے میاں صاحبان کو الیکشن میں حصہ لینے پر مجبور کر دیا کیونکہ آصف علی زرداری صاحب جانتے تھے کہ مسلم لیگ (ن) کے انتخابات سے بائیکاٹ کی صورت میں الیکشن کے نتائج اپوزیشن کے لیے ناقابل قبول ہو جائیں گے۔ دوسری طرف میاں نوازشریف خود یہ نہیں جانتے تھے کہ وطن واپسی کے بعد ان کی پذیرائی اس قدر ہو گی کہ عوام انہیں شہید محترمہ کے متبادل کے روپ میں دیکھ رہے ہوں گے۔ الیکشن2008ء کے نتائج ایک طرف مسلم لیگ ن کے لیے غیر متوقع تھے تو دوسری پیپلزپارٹی توقع کے مطابق پنجا ب میں کلین سویپ کی خواہش پوری نہ کر سکی، جبکہ مشرف کی مسلم لیگ ق دھاندلی کے تمام تر انتظامات کے باوجود اور آئی ایس آئی کے پیچھے ہٹ جانے پر تنہا رہ گئی اور کئی بڑے بڑے بُرج اُلٹ گئے۔ مگر میاں نوازشریف الیکشن سے پہلے اپنے اتحادیوں متحدہ مجلس عمل کی جماعتیں بالخصوص جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کی قیادتوں کے لیے ایک سوالیہ نشان بن گئے تھے۔جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے شاید یہ بات آ گئی کہ میاں شریف برادران پر اعتبار اب سیاست کی زبان میں مشکل ہے۔ خود میاں نوازشریف کو بھی شاید اس وقت کے معروضی تقاضوں میں پرانے اتحادیوں کی ضرورت نہیں تھی، اس لیے معاملات آگے بڑھتے گئے مگر اسی دوران وزیراعظم ،سپیکر،ڈپٹی سپیکر تک کے معاملات’’بڑے بھائی اور چھوٹے بھائی‘‘ کے درمیان خوش اسلوبی سے انجام پا رہے تھے۔ وزیراعظم کی نامزدگی کے بعد میاں صاحب کو احساس ہوا کہ ابھی تک مشرف مسند اقتدار پر ہے اور شاید اندرون خانہ کچھ بھی نہیں بدلا؟ مگر تب تک سیاسی طور پر بہت دیر ہو چکی تھی۔ آصف علی زرداری میثاق جمہوریت کی آخری سیاہی نچوڑ کر صدر کے عہدے پر متمکن ہو چکے تھے۔ اور بعدازاں ججز کی بحالی اور پنجاب میں گورنر راج کی داستانوں کے فوائد اور نقصانات سے ہر ذی ہوش پاکستانی واقف ہے۔ پھر بھوربن مری معاہدہ اور پھر اس معاہدے کی جس طرح دھجیاں بکھیری گئی یہ سب ہماری سیاسی تاریخ پر بدنما داغ کے طور پر ہمیشہ موجود رہے گا۔ اسی طرح کے معاہدوں اور ان کے انجاموں کے خوف ناک نتائج سے ملک عزیز پاکستان کے باسیوں کے سیاست پراعتبار اور اعتماد اٹھ گیا ہے۔ قوم یہ جاننا چاہتی ہے کہ یہ سیاست دان جس چیز کو آج حرام قرار دیتے ہیں، جن سیاسی جماعتوں سے آج کسی وجہ سے آپ کی ناراضگی ہے اس کو کافر قرار دے دینا، ان سے ہاتھ ملانا جرم قرار پاتا ہے، اسی سیاسی جماعت کے ساتھ مستقبل میں پھر آپ کو اکٹھے بیٹھ جانا پڑے تو آپ کی کریڈبیلٹی کیا رہ جاتی ہے؟ موجودہ حکومت کے اقتدار کو تین سال سے زائد عرصہ ہو گیا ہے۔ قریباً ایک سال تک نئے انتخابات کا اعلان بھی کر دیا جائے گا مگر اس دوران بے شمار پانی پلوں کے نیچے سے بہہ چکا ہوگا۔ سینٹ کے انتخابات مکمل ہو چکے ہوں گے اور پیپلزپارٹی سادہ اکثریت ہی سہی مگر سینٹ میں فیصلوں کی مجاز ہو گی۔ مسلم لیگ ن کے لیے یہ سب لمحہ فکریہ ہے مسلم لیگ ن نے ان جاری پانچ سالوں میں اپنی تنظیموں کو مضبوط کرنے کی بجائے اقتدار اور پنجاب تک محدود رکھا۔ بلوچستان، خیبر پی کے اور سندھ میں مسلم لیگ ن کی حالت بہت پتلی ہے۔ صرف پنجاب سے مسلم لیگ ن کو قومی اسمبلی کی اتنی نشستیں جن سے حکومت بنائی جا سکے ملنا ناممکن ہے۔ پھر میاں نوازشریف ایسا سمجھتے ہیں کہ صدر مملکت انہیں اقتدار کی سیاسی باری دینے کو تیار ہوں گے۔اس حالات میں جب پیپلزپارٹی صاحب اقتدار ہو تو مسلم لیگ ن کے لیے مرکز میں قومی اسمبلی کے نتائج حوصلہ افزا نہیں ہوں گے۔ اس کے باوجود ان تمام حقائق کی روشنی کے باوجود میاں نوازشریف پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور صدر مملکت کے ساتھ میثاق جمہوریت کا ’’دوگانا‘‘ گاتے رہے۔ اقتدار کوئی لسّی کا گلاس نہیں جو کوئی آپ کو معاہدوں کے احترام میں پیش کر دے گا۔ آج مسلم لیگ ن جو ایم کیو ایم کے ساتھ ایک نئے رشتے نئے تعلق کی تلاش میں نکلی تھی تو صاحبان حال یہ سمجھتے کہ ایم کیو ایم ایسی مچھلی کی مانند ہے جو اقتدار کے پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے پتے کھیلتے ہوئے پہلے ایم کیو ایم کو ناراض کیا ۔ اس حد تک کہ وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اقتدار سے باہر جائے پھر ایم کیو ایم کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جب یہ دیکھا کہ ایم کیو ایم گرینڈ الائنس کا حصہ بننے جا رہی ہے اس کی کسی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر اسے واپس بلوا لیا۔ جبکہ اس دوران میاں نوازشریف اپنے پرانے اتحادیوں تحریک انصاف کے عمران خان اور جماعت اسلامی کی قیادت کو بھی نہ قائل کر سکے جبکہ جمعیت العلما اسلام (ف) کی سیاست تو ویسے ہی آدھا تیتر آدھا بٹیر کے مترادف ہے۔ انہیں کہیں بھی اقتدار کسی صورت دے دیا جائے یا قائد حزب اختلاف کا چوغا پہنا دیا جائے وہ مطمئن ہو جاتے ہیں۔ پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا نے فلمی گانوں کی دھنیں بنا کر مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم کو حدف بنایا۔ سعدرفیق، اسحاق ڈار،چوہدری نثاری اور میاں شہبازشریف کی تقریروں کے ’’ٹوٹے‘‘دوسری طرف الطاف حسین، حیدرعباس رضوی، ہارون رضا اور فاروق ستار کی بڑھکوں کے ’’ری پلے‘‘ یہ سب کچھ کافی تھا اس لیے کہ گرینڈ الائنس بننے سے پہلے ہی دم توڑ جائے۔ آج حالات یہ ہیں کہ مسلم لیگ ن اپنی غلطیوں در غلطیوں اور نامناسب فیصلوں کی وجہ سے بروقت فیصلے نہ کرنے کی وجہ سے سیاسی تنہائی کا شکار ہے۔ مسلم لیگ ن اپنے موجودہ تنظیمی الیکشن میں اس بات کو مدنظر رکھے کہ شاید مستقبل میں اسے سیاسی مہمات میں اکیلے ہی لڑنا ہوگا کیونکہ موجودہ سیاسی کھچڑی میں عمران خان، پشاور دھرنے کی کامیابی کے نشے سے باہر نکلنے کو تیار نہیں اور جماعت اسلامی کم قبول کرنے کو تیار نہیں۔ ایم کیو ایم اے، اے این پی اور غیر اعلانیہ طور پر مولانا فضل الرحمان بھی اقتدار کی بس سے لٹکے ہوئے ہیں۔ جبکہ مسلم لیگ ن سیاسی غلطیوں سے سبق سیکھنا نہیں چاہتی۔ مسلم لیگ صرف اسی صورت میں پریشر ڈال سکتی ہے جب مسلم لیگ کے تمام دھڑے اکٹھے ہو کر کسی ایک غیر متنازعہ قیادت پر متفق ہو کر اپنا لائو لشکر تیار کریں۔ وگرنہ کوئی صورت نظر نہیں آتی کہ اقتدار کی آج کی بندر بانٹ سے کسی ایک کو علیحدہ کرکے اپوزیشن کرنے پر آمادہ کیا جا سکے۔ ایک یہودی ایک نجی محفل میں بتا رہا تھا کہ جب ان کے ہاں بیٹا پیدا ہوتا ہے تو وہ جب بولنے اور سمجھنے کی عمر کو پہنچتا ہے تو اسے ہر وقت یہ بات یاد کروائی جاتی ہے کہ کبھی کسی پر اعتبار نہ کرنا۔ نہ کاروباری ،نہ سیاسی ،نہ غیر سیاسی۔ پھر جب بچہ 6سال کا ہو جاتاہے تو اسے ایک چھ فٹ اونچی دیوار پر بٹھا دیا جاتاہے اور پھر باپ بیٹے سے کہتا ہے کہ بیٹا چھلانگ لگائو میں تجھے بانہوں میں دبوچ لوں گا۔ بچہ چھلانگ لگا دیتا ہے باپ اپنی بانہیں پیچھے ہٹا لیتا ہے ،بیٹا نیچے گر جاتا ہے روتے ہوئے ضرور پوچھتا ہے کہ آپ نے مجھے پکڑا کیوں نہیں۔ یہودی باپ جواب دیتا ہے کہ میں نے اور خاندان نے تجھے کتنا سمجھایاکہ کسی پر اعتبار نہیں کرنا۔ حتیٰ کہ باپ پر بھی اعتبار نہیں کرنا۔ آج کا تمہارا گرنا تمہارے لیے زندگی کا سبق ہے کہ کبھی باپ پر بھی اعتبار نہ کرنا۔ آج ہماری سوسائٹی، ہمارے معاشرے بھی جو کسی پر اعتبار نہیں کرتا وہ کامیاب رہتا ہے ،سیاست میںاعتبار اور جذبات کی کوئی قدر نہیں ، یہاں فیصلے دل سے نہیں دماغ سے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے سیاست دان سیاست کو اس حد تک لے گئے ہیں کہ اب کسی عام شہری کا سیاست سے اعتبار اٹھتا جا رہا ہے اور وہ کسی تیسری قوت کی طرف نظریں اٹھا کر دیکھ رہے ہیں ایک دفعہ پھر کسی فریب کسی دھوکے کے لیے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus