×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بجلی گیس نہ پانی۔ پھر بھی حق حکمرانی
Dated: 04-Oct-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com کہیں یہ ایک ایسے خاموش انقلاب کی دستک تو نہیں؟ یہ وہ سوال ہے جو وطن عزیز کا ہر عام و خاص شہری ایک دوسرے سے کر رہا ہے اور کیا پیپلزپارٹی سینیٹ الیکشن کروا پائے گی؟ اور کیا پیپلزپارٹی آئندہ جنرل الیکشن میں اپنی برتری برقرار رکھ سکے گی؟ اور پیپلزپارٹی جو اس وقت کمزور قیادت مرکزاور صوبائی سطح سے لے کر یو سی اور تحصیل و ضلع کی سطح پر تنظیمی فقدان کی شکار ہے۔ دوسری ہیوی ویٹ سیاسی جماعتوں کا سامنا کر سکے گی؟ یہ تین سوال وطن عزیز کے کروڑوں جیالے ایک دوسرے سے کر رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ 2008ء کے الیکشن کے بعد بننے والی حکومت کو تقریباً سبھی سیاسی دھڑوں کی حمایت حاصل تھی۔ خصوصی طور پر پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن کو اسی وجہ سے ’’فرینڈلی اپوزیشن‘‘ کا نام دیا گیا۔ ڈپٹی سپیکر ،سپیکر، وزیراعظم اور خصوصی نشستوں پر انتخابات باہمی خوش اسلوبی سے طے پائے۔ یہی وجہ تھی کہ کابینہ میں تقریباً ہر پارٹی کا وزیر موجود تھا۔ اور آٹے ،گندم،چینی، گیس، پانی، بجلی، تیل ،کھاد، ادویات کے بحران سر اٹھانے لگے جس پر حکومت وقت اور اتحادیوں کے پاس شروع شروع میں ایک معقول بہانہ یا جواب تھا کہ یہ سب ہمیں گزشتہ حکومت سے جہیز میں ملے، سنگین بحران ہیں۔ خود راقم اور دیگر وہ لوگ جو پیپلزپارٹی کا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر دفاع Reperisent کرتے تھے ایک لمبے عرصے تک اسی بات کا واویلا کرتے رہے کہ یکدم ڈالر کا 63سے85روپے تک گِر جانا سابقہ معاشی غلطیوں کی وجہ سے ہے۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ کو خصوصی طور پر سابقہ وزیر بجلی نے ہمیشہ سابقہ حکومت کی غلطیوں کا خمیازہ بیان کیا۔ پھر نئے بجلی گھر اور ڈیم کی کمی کا حوالہ بھی پوشیدہ نہیں۔ پھر وعدوں کا دور شروع ہوا اسی دوران مسلم لیگ ن اقتدار سے پیچھے ہٹ گئی اور ایک حقیقی اپوزیشن کا کردار شروع کر دیا مگر عوام کے ایک بڑے حصے نے مسلم لیگ ن کے اس رول کو پسند نہ کیا وہ پنجاب کے ثقافتی رول کے مطابق ایک اپوزیشن کے کردار کی باتیں کرنے لگے۔ یہی وجہ ہے کہ جب جب میاں محمد نوازشریف نے پیپلزپارٹی کی حکومت کی تائید جاری رکھی تو مسلم لیگی عہدے داروں کو عوام کے درمیان کافی مزاحمت دیکھنے کو ملی۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ زیادہ تر ضمنی انتخابات مسلم لیگ ن ہارتی چلی گئی، چونکہ عوام مسلم لیگ ن سے ایک حقیقی اپوزیشن کے کردار کا مطالبہ کر رہے تھے۔ دوسری طرف پیپلزپارٹی کے جیالے اور مقامی سطح کی لیڈرشپ ایک شاک اور خوف میں مبتلا تھی۔ شہید بی بی کے دورِ حکومت میں یا لیڈر شپ میں ایک عام جیالے کو گلے شکوے کی اس قدر اجازت تھی اور پارٹی کے مرکزی عہدے داروں کو برسرعام گلوں اور کالروں سے پکڑ لیا جاتا تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ اکثر سیاسی لوگ پیپلزپارٹی میں شامل تو ہونا چاہتے تھے مگر جیالوں کے بے باک رویوں سے ڈرتے تھے کہ پیپلزپارٹی کا جیالا احتساب کرتا ہے۔ محترمہ کی شہادت کے بعد نئی قیادت کی موجودگی میں ایسے کئی سرکش لیڈروں کو تنبیہہ کی گئی اور کچھ کو باقاعدہ پارٹی سے نکال دیا گیا۔ جس کا نتیجہ آج یہ نکلا ہے کہ تنظیمیں ڈمی بن کر رہ گئی ہیں اور نوے فیصد پارٹی سے تعلق رکھنے والی ایک خاموش اکثر یت نے پارٹی معاملات سے لاتعلقی اختیار کر لی ہے اور جیالوں کی یہ اکثریت اور اسی طرح مسلم لیگ ن کے متوالوں کی اکثریت اپنی اپنی پارٹی سے شاکی ہونے کی وجہ سے اپنے اندر طوفان لیے بیٹھے ہیں۔ جس کا اظہار عام لوگوں کو یا تو آئندہ الیکشن کے رزلٹ سے ملے گا یا پھر کسی دن کسی بھٹو سے مشابہت رکھنے والے لیڈر کے سامنے نیا عہد کرتے نعرے لگائے گئے کیونکہ اب بھٹو شہید بھی نہیں اس کی تصویر بے نظیر شہید بھی نہیں ۔ بس اقتدار ہی ایک ایسی وجہ ہے کہ جس نے پیپلزپارٹی کو مرکز اور مسلم لیگ ن کو صوبے میں استحکام دیا ہوا ہے۔ اکثر تھڑوں پر بیٹھ کر پارٹی کارکنان وزیراعظم فیملی کی کرپشن اور لوٹ مار کا ذکر کرکر کے پریشان ہوتے ہیں۔ سابقہ و موجودہ وزیر بجلی اور دیگر کرپٹ وزراء کے نامہ اعمال کا ذکر ہوتا ہے۔ ان لوگوں کے کینیڈا ،امریکہ اور لندن کے اثاثہ جات کی رپورٹ جیالوں کو زبانی یاد ہے۔ ملک بھر میں کوئی آسمانی آفت آ جائے، اب کارکنان قیادت کو جواب دیتے ہیں کہ ہمیں دیا کیا ہے؟ جو ہم سے عطیات مانگتے ہو؟ ہماری رگوں میں تو آپ لوگوں نے خون بھی نہیں چھوڑا۔ گزشتہ ساڑھے تین سال سے ایک وائٹ کالر طبقے کا بزنس بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بند ہے۔ چھوٹے بڑے سرمایہ دار بنگلہ دیش، ملایشیااور دوبئی بھاگ رہے ہیں مگر اس ملک کا مزدور کہاں بھاگے؟ بیس کروڑ عوام میں چند لاکھ تو ڈوبتا پاکستان چھوڑ دیں گے۔ حکمران اپنے اربوں کھربوں کے اثاثے ملک سے پہلے ہی باہر منتقل کر چکے ہیں مگر غریب کے پاس تو ایک اکھڑی ہوئی سانس کے علاوہ کچھ نہیں بچا۔ لاکھوں مزدور روز گھر سے مزدوری کا خواب لے کر سڑک پر عبرت کی تصویر بن کر اس دنیا کے ساتویں نیوکلیئر ممبر کے منہ پر طمانچہ بنے فٹ پاتھوں پر بیٹھے نظر آتے ہیں۔ ہر روز مرتے ہیں پھر امید سے خود کو زندہ رکھنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ لاہور جیسے شہروں میں اب 16گھنٹے بجلی کا جانا ہماری عزت، ہماری غیرت، ہماری ناموس، ہماری انا اور ہمارے لیڈروں کی بلند و بانگ دعوئوں کے منہ پر ایک زبردست طمانچے کے مترادف ہے۔ اس ملک میں نہ بجلی، نہ پانی، نہ گیس ہے نہ مزدوری ہے۔ کیا حکمرانوں کے غیرملکی اثاثے لوٹی گئی قومی دولت اگر واپس ملک میں آ جائے تو ہم ورلڈ بینک اور امریکی و برطانوی سامراج کے تسلط سے آزاد ہو جائیں گے۔ یاد رکھیئے حکمرانو! اس قوم کو بس ایک انگڑائی لینے کی ضرورت ہے، ایک انقلاب کی نوید ہم سب دیکھ رہے ہیں وہ احساس جاگ اٹھا تو ہم نہ تمہیں بھاگنے دیں گے نہ تمہارے بچوں کو آکسفورڈ اور غیرملکی اداروں میں پڑھنے دیا جائے گا۔ مٹھی بھر کرپٹ خاندانوں کو بیس کروڑ عوام پر اب ظلم کی رات کو ختم کرنا ہوگا۔ اب عوام جاگنے والی ہے اگر ملک کی عدالتوں اور ججز اور عسکری قیادت نے ابھی تک عوامی انقلاب کی دھمک نہیں سنی، انقلاب کی دستک نہیں سنی تو وہ یاد رکھیں عوام انہیں بھی برابر کا مجرم سمجھ کر معاف نہیں کریں گے۔ ظلم و جبر کی ایک حد ہوتی ہے۔ لوٹ مار، چادر چاردیواری ،اغواء برائے تاوان قومی کھیل کا درجہ پا چکے ہیں۔اور پھر کرپٹ سیاست دانوں کی طنزیہ مسکراہٹیں جلتے عوام پر تیل چھڑکنے کے مصداق ہے۔ اب یا تو عوام کو حکمرانی میں شامل کرنا ہوگا یا پھر انقلاب کا انتظار کرو جو اپنے ساتھ سب کچھ بہا لے جائے گا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus