×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
جب ہیرو بن گئے زیرو!
Dated: 05-Nov-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com قیامِ پاکستان کے بعد ہی سے ہمارے ازلی دشمن بھارت نے اس تقسیم کو جو دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ہوئی تھی ماننے سے انکار کر دیا۔ اور خاک بدہن کہا میں دیکھوں گا کہ یہ نوزائیدہ مملکت کتنے دنوں تک زندہ رہ پاتی ہے۔ انہی سازشوں کی ہی وجہ تھی کہ مکار دشمن ہم پر پہلا کاری وار کرنے میں اس وقت کامیاب ہو گیاجب اس نے سابقہ مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی کے ایجنٹ بھیجنے شروع کر دیئے اور صرف 23سال بعد ہی مشرقی پاکستان کو ہم سے علیحدہ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ لیکن مکار ہندو بنیے کی سازشوں نے نہ تھمنے والا سلسلہ شروع کیے رکھا۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک ہم پر متعدد جنگیں تھوپیں گئیں۔ عالمی محاذوں پر ہماری مخالفت بھارتی لابی کا وطیرہ بن چکا ہے۔ حتیٰ کہ کسی بھی میدان میں، کسی بھی محاذ پر ہندو سوچ نے ہماری راہیں مسدود کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ چند سال پہلے لاہور میں سری لنکا کی ٹیم جب اپنے دورے پر آئی ہوئی تھی تو میٹروپولیٹن شہر لاہور کے لبرٹی چوک پر جو حملہ کیا گیا، اس میں ہمارے ازلی دشمن بھارت کی ان دہشت گردوں کو مکمل سپورٹ تھی۔ بعدازاں تفتیش اور پکڑے گئے ملزمان نے اس کا اقرار بھی کیا۔ جبکہ یورپ میں ایک تقریب میں ایک مدہوش بھارتی ڈپلومیٹ نے سچ اُگل دیا کہ چونکہ پاکستان کے بمبئی حملوں میں ملوث ہونے کے ثبوت پائے گئے ہیں جس سے ہمارے ملک کی ٹورازم انڈسٹری کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے، لہٰذا پاکستان کو جواب دینا لازمی تھا۔ اب پاکستان کسی بھی انٹرنیشنل ایونٹ کو ترسے گا۔ اس سے ثابت ہوا کہ مکار دشمن نے ہماری کرکٹ انڈسٹری کو اپاہج بنا کر رکھ دیا ہے۔ ہندو بنیے نے اسی پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ایک قدم آگے چلتے ہوئے انڈین پریمیئر لیگ کے میچوں میں پاکستانی کھلاڑیوں پر پابندی لگا رکھی ہے، جس کی کوئی وجہ اب تک نہ بتائی گئی ہے۔ اس طرح پاکستانی ٹیلنٹ کو محدود کرنے کی سازش کی گئی ہے جبکہ سری لنکا ٹیم پر حملوں کے بعد ہماری کرکٹ گرائونڈز کھلاڑیوں کے لیے ترس گئی ہیں۔ جس سے پاکستان کرکٹ بورڈ اور پاکستان کی انٹرٹینمنٹ اور کمرشل انڈسٹری کو اربوں روپوں کا نقصان برداشت کرنا پڑ اہے اور پاکستان مجبور ہے کہ وہ اپنے زمین پر نہ کھیلے جانے والے میچز دوبئی اور ابوظہبی شارجہ وغیرہ کی گرائونڈز پر کھیلے۔ پھر پچھلے سال جب پاکستان کی کرکٹ ٹیم انگلینڈ کے دورے پر گئی تو مکار ہندو اور متعصب برطانوی سوچ مل کر ایک ایسی سازش بُننے میں کامیاب ہو گئے جس سے پاکستان کو آج عالمی دنیا میں تقریباً تنہا کرکے رکھ دیا۔ دورے کے آغاز سے پہلے ہی مظہر مجید نامی شخص جس کا انڈیامسلسل آنا جانا ہے اور وہ بھارتی لابی کا یقینا ایجنٹ ہے۔ لندن کے مشہور اسکینڈل اخبار ’’نیوز آف دی ورلڈ‘‘کا ملازم تھا یہ اخبار اپنی اسکینڈل بنانے کی وجہ سے بہت مشہور ہے جس کو بعدازاں ایک عدالت نے ہمیشہ کے لیے بند کر دینے کا حکم دیا اور اب یہ اخبار بند ہو چکا ہے،اس اخبار نے اس اسکینڈل میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں کرکٹ پر جواء ایک فیشن ہی نہیں ایک کاروبار کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ ملک بھر میں ہر شہر، ہر قصبہ حتیٰ کہ دیہات اور گلی کوچوں میں کرکٹ ’’بُکی‘‘ موجود ہیں ایک محتاط اندازے کے مطابق صرف کرکٹ اور گھڑدوڑکی ریس کے بکیوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے جبکہ اس بزنس سے لاکھوں لوگ وابستہ ہیں اور ہر سال سالانہ ایک ارب ڈالر کا جواء کھیلا جا تا ہے۔ جبکہ لاہور کے مڈل کلاس اور ہائی کلاس فیملیز میں میچ کے دوران آپس میں بھی شرطیں لگائی جاتی ہیں۔ ایک مشہور ’’بُکی‘‘ کے مطابق اگر حکومت اس کاروبار کو ٹیکس لگا کر لاگو کر کر دے تو سالانہ 5ارب ڈالرز کما سکتی ہے جبکہ کراچی ،لاہور،فیصل آباد اور بڑے شہروں میں اس غیرقانونی صنعت سے وابستہ افراد کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ ہمارے کرکٹر دورہ انگلستان میں بھارتی لابی کے بچھائے ہوئے جال میں پھنس گئے۔ محمد عامر جو کہ ابھی کرکٹ کی دنیا میں نیا نیا آیا تھا دراصل اس لابی کا اصل ٹارگٹ تھا۔ دنیا بھر کے سینئر ترین کرکٹر کا موقف ہے کہ اگر محمد عامر چند سال مزید کھیل لیتا تو وہ دنیا کا سب سے بہتر باولر بننے کی صلاحیت رکھتا تھا اور یقینا یہ بات بھارتی بنیے کی آنکھوں میں کھٹک رہی تھی جبکہ محمد آصف بھی ایک بہترین باولر کی حیثیت سے موجودہ دور کا کھلاڑی تھا مگر وہ اسکینڈلز کی راہ پر چل پڑا۔ اسی طرح سلمان بٹ بھی ایک اچھے کرکٹر کی خوبیوں کا مالک تھا۔ ان تمام کھلاڑیوں کو دشمن کی نظر لگ گئی یا دشمن کی نظر کھائی گئی۔ لالچ اور راتوں رات امیر بننے کی کاوش میں ان سے وہ جرم سرزد ہو گیا جس سے نہ صرف ان کھلاڑیوں کے خاندانوں بلکہ ملک و قوم کو بھی پوری دنیا میں ندامت اٹھانی پڑی۔اس طرح بھارت نے ایک تیر سے کئی شکار کرکے ہماری کرکٹ انڈسٹری کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ دراصل ’’تند ہی نہیں پوری تانی بگڑی ہوئی ہے‘‘ کے مصداق ہماری قوم کی رگوں میں رشوت رچ بس گئی ہے۔ جس قوم کے راہنما ،جس قوم کے حکمران رشوت کے بازار سجائے بیٹھے ہوں، جس قوم کا حکمران طبقہ اربوں ڈالرز غیرملکی بینکوں میں چھپائے بیٹھا ہو ، جس قوم کے ممبران اسمبلی رشوت دے کر پارٹی کی ٹکٹیں حاصل کرتے ہوں، جس ملک میں سوئی گیس دو، سڑکیں بنائو پھر ووٹ لو کے بورڈز، بینرز لگے ہوں۔ ملک کے قانون ساز سے لے کر قانون پر عمل کروانے والا ادارہ رشوت کے بغیر بات نہ سنتا ہو، جس ملک میں اناج تو درکنار ادویات جعلی بنتی اور بکتی ہوں ، جس ملک میں سڑکوں کی مرمت کے نام پر اربوں روپے ہضم کر لیے جاتے ہوں، جس ملک کی عدالتیں انصاف دینے کی بجائے انصاف بیچتی ہوں اور سر عام کہا جانے لگے کہ اچھا وکیل ہائر کر لینے سے بہتر ہے کہ اچھا جج اپروچ کر لو۔ جس ملک کی اشرافیہ چوری، رشوت، جعل سازی کی دلدل میں پھنس چکی ہو گی اور بیس کروڑ عوام یہ سمجھنے لگیں کہ شارٹ کٹ کے لیے رشوت ضروری ہے۔ اس قوم کے راہنما راہزن نہیں بنیں گے تو کیا راہبر بنیں گے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارتی لابی اور ’’را‘‘ کے ساتھ مل کر برطانیہ کی خفیہ ایجنسیوں نے پاکستان کو سبق سکھانے کا جو منصوبہ بنایا تھا وہ ہمارے کرکٹرز کی ’’ایک چھوٹی سی ہاں‘‘ سے دشمن کی توقع کے مطابق اپنے انجام کو پہنچا۔ مگر ذرا ایک لمحے کے لیے سوچئے کہ ہمارے ان ’’معصوم‘‘ کرکٹر زکے پاس لاکھوں روپے کہاں سے آئے، لاکھوں کروڑوں روپے کے جوئے کھیلے گئے۔ پھر عدالتوں میں اقرار بھی کیا اور وعدہ معاف گواہ بننے کے لیے روتے بھی رہے پھر بھی پاکستان کے عوام توقع رکھتے ہیں کہ ان کو معاف کر دیا جائے؟ کیا کروڑوں روپے وصول کرتے وقت ان کرکٹرز کے ہاتھ نہ کانپے تھے ،والدین کے سفید باریش چہرے ان کی نگاہوں میں نہیں گھومے تھے۔ ان کو یاد نہ آیا تھا کہ ان کی مائیں اپنے محلوں میں اور اپنی گلیوں میں اپنے ہی ہمسائیوں کو کیا منہ دکھائیں گی؟ جرم کا یہ نہ مٹنے والا داغ ان کے ماتھے پر چسپاں ہو جائے گا۔ قوم نے ان کو جو عزت دے رکھی ہے وہ پردہ چاک ہو جانے کی صورت میں ایک لمحے میں ماتھے کا کلنک بن جائے گی؟ ہمارے ان نوجوان کھلاڑیوں ، سابقہ سپوتوں کی سزائیں ایک افسوسناک امر ہے مگر کیا ہم نے اپنے گناہوں کا کفارہ ادا نہیں کرنا؟ ہمارے یہ کھلاڑی بھی سمجھتے تھے کہ جرم کرکے بچا جا سکتا ہے جیسا کہ ملک کا حکمران طبقہ ہر دفعہ جرم کرکے بچ جاتا ہے۔ ہر دفعہ لوٹ کا مال سمیٹ کر بھاگ جاتا ہے۔ مال ٹھکانے لگا کر پھر لوٹنے آ جاتا ہے۔ بس ان باتوں سے ان نوجوان کھلاڑیوں کو بھی ترغیب ملی اور انہوں نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا سنہری موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ جس کی اب انہیں مہنگی قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیںیہ ہندو اور متعصب برطانوی سوچ کا بہلاوا تھا مگر کیا ہمارے کرکٹرز اتنے معصوم تھے کہ وہ یہ عمل ثواب سمجھ کر کر رہے تھے؟ اب پوری دنیا میں رسوائی ان کا مقدر بن چکی ہے جبکہ وہ ہیروز سے زیرو بس ایک اسی لمحے میں بن گئے تھے جب انہوں نے سبز ڈالروں اور پونڈوں کو چھوا تھا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus