×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ہم بحیثیت قوم کہاں کھڑے ہیں؟
Dated: 24-Nov-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com انگلینڈ کے میڈلینڈ کرائون کورٹ میں ایک مقدمہ پیش ہوا ۔ ایک پاکستانی نژاد برٹش سکول ٹیچر کے خلاف شکایت تھی کہ اس نے اپنے سٹوڈنٹس کو ٹیوشن پڑھاتے ہوئے کچھ ایسے سوالات بتا دیئے اور ان کی تیاری کروا دی جو آئندہ امتحان میں آنے والے تھے۔ کسی وجہ سے یہ بات ’’لیک‘‘ ہو گئی اور بات پہنچے پہنچے پولیس تک پہنچ گئی، متعلقہ سکول ٹیچر کے خلاف کیس فائل کر دیا گیا ۔ کیس کی سماعت کے بعد جج نے ملزمہ سکول ٹیچر کو سزا سناتے ہوئے مخاطب کیا اور کہا کہ اس کیس میں آپ کو چھ ماہ کی کمیونٹی سروس کی سزا بھی سنائی جا سکتی تھی مگر چونکہ آپ نے اپنے پیشے کے تقدس کوپامال کیا ہے اور خود میں آج جس عہدے پر براجمان ہوں وہ بھی اس تعلیمی پالیسی کا تسلسل ہے۔ اس لیے میں کسی کو بھی اجازت نہیں دے سکتا کہ وہ اس سسٹم اور نظام کی جڑیں کاٹے، جس نے مجھے جج بنایا اور ہمارے پورے معاشرے اور تہذیب کو شعور دیا۔ لہٰذا میں آپ کو تین سال قید بامشقت سناتا ہوں تاکہ آئندہ کوئی برٹش نظام تعلیم کی جڑیں کاٹنے کی کوشش نہ کر سکے۔ بالکل اسی طرح دوسری جنگ عظیم میں جب ہٹلر کی افواج نے فتوحات کا سلسلہ دراز کیا ہوا تھا ۔ یورپ اور فرانس کو روندتے ہوئے جب ہٹلر نے انگلینڈ کی طرف پیش قدمی کی تو اس وقت کے وزیراعظم سر ونسٹن چرچل نے فوراً اپنی کابینہ کا اجلاس طلب کیا ،پھر اپنے وزراء اور مشیروں سے پوچھا کہ کیا ہمارے ملک میں انصاف کا حصول کتنا آسان یا مشکل ہے۔ مشیروں نے بتایا کہ عدالتیں اپنے اعلیٰ اختیارات کے ساتھ فیصلے سنا رہی ہیں کسی بھی سرکاری اور غیرسرکاری ادارے کا ہماری عدالتوں پر اثر رسوخ نہیں ہے ۔ ملکہ اور بادشاہ تک عدالتوں کے حکم ماننے پر مجبور ہیں، جس پر سرونسٹن چرچل نے پُرجوش اور جوشیلے لہجے میں باآواز بلند کہا اگر میری عدالتیں انصاف کر رہی ہیں تو پھر مجھے کسی ہٹلر کی پرواہ نہیں ہے اور ہٹلر ایک انصاف پسند قوم کو فتح نہیں کر سکتا۔ اسی سے ملتا جلتا ایک واقعہ گذشتہ روز رونما ہوا ،جب انگلینڈ کی ایک کورٹ کے جج ’’مسٹر کک‘‘ نے تین پاکستانی کھلاڑیوں کو سپاٹ فکسنگ میں سزائیں سنا کر دنیائے سپورٹس کو حیرت میں ڈال دیا۔ اس سے پہلے انگلینڈ کی ایک عدالت نے تقریباً ڈیڑھ سو سال سے جاری برٹش جریدے ’’نیوز آف دی ورلڈ‘‘ کو نہ صرف مجرم ٹھہرایا بلکہ اس کی اشاعت پر پابندی بھی عائد کر دی۔ یہ انگلینڈ کی عدالتوں میں ہونے والے فیصلوں میں سے ایک انتہائی اہم فیصلہ تھا ،جس کے خلاف برٹش گورنمنٹ میڈیا یا عوام الناس نے احتجاج تک نہ کیا۔ کیونکہ انہیں اپنی عدالتوں پر یقین ہے اور مجرم قرار پانے والے پاکستانی کھلاڑیوں کو مخاطب کرکے کہا گیا کہ آپ کو سزا دینا اس لیے ضروری ہے کہ کرکٹ کو بچایا جا سکے اور پاکستانی کرکٹ کو بچایا جا سکے۔ وجہ اس فیصلے کی جو بھی ہو مگر یہ حقیقت ہے کہ آئندہ کرکٹ کے کھیل میں کھلاڑیوں کے جوئے کو کسی حد تک ’’بریک‘‘ لگ گئی ہے یا کم از کم آئندہ ایسی جرأت رندانہ کرتے ہوئے ورلڈ کرکٹ کے کھلاڑی ایک خطرناک انجام سے ناآشنا نہیں ہوں گے؟ اور فیصلے اور انجام کا خوف انسان کو جرم سے منع کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ چند روز پہلے ایک برطانوی نشریاتی ادارے کے اردو سروس پر ایک پروگرام نشر ہو رہا تھا۔اینکر نے ایک مشہور پاکستانی جو اپنے فن کی وجہ سے اور چیریٹی کی وجہ سے پوری دنیا میں ایک ممتاز مقام رکھتے ہیں کے ساتھ لائیو انٹرویو نشر کیا۔ لاکھوں پاکستانی اور اردو جاننے والے اس پروگرام کو دیکھ رہے تھے جس میں ایک Callerنے انکشاف کیا کہ جس شخص کو Celeberties بنا کر اس پروگرام میں پیش کیا جا رہا ہے وہ گزشتہ رات اس کے ساتھ والی نشست پر بیٹھا تھا جب وہ دونوں ایک جوئے خانے میں اکٹھے جوا کھیل رہے تھے اور اس پروگرام کے مہمان خصوصی نے 47000ہزار پائونڈز یعنی پچاس لاکھ روپے صرف ایک رات میں ہارے تھے۔ ٹی وی پروگرام کے اینکر جو کہ ایک معروف ادبی شخصیت ہے نے بعد ازاں کنفرم کیا کہ اس ’’اعلیٰ شخصیت‘‘ کے چہرے پر اڑنے والی ہوائیاں اور بدحواسیاں اس کے محترم ہونے کا ثبوت فراہم کر رہی تھیں۔ میں نے اس پروگرام کی سی ڈی دیکھنے کے بعد اپنے حواس کو بامشکل سنبھالتے ہوئے سوچا کہ میرے ملک کا ہر راہبر راہزن بن چکا ہے۔ میں اپنے ملک کے آمروں، سیاست دانوں،تاجروں، سرمایہ داروں، جاگیرداروں سے تو غیرمطمئن ہوں ہی مگر کیا میرے ملک کے نام نہاد راہبر بھی ڈاکو بن چکے ہیں جو عوا م کے خون پسینے کے پیسے اور زکوۃکی ادا کی گئی ہوئی رقوم اپنی نجی ضرورتوں اور عیاشیوں کی نذر کر دیتے ہیں؟ کیا میرے ملک کے مسیحا بھی مرہم رکھنے کی بجائے ہمارے جذبات کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ہماری معصومیت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ میں چند ایک ایسے ہیروز کو جانتا ہوں جو ٹیلی ویژن سکرین پر مذہب کی چادر اوڑھ کر معصوم عوام کو بے وقوف بناتے ہیں جبکہ ان کا باطن ان کے ظاہر سے Matchنہیں کرتا؟ میرے وطن کے وزراء کے محکمے دیوالیہ ہو جاتے ہیں، ٹرینیں رُک جاتی ہیں،ہوائی جہاز ناکارہ ہو جاتے ہیں، کھمبوں پر تاریں رہ جاتی ہیں مگر بجلی کے بغیر، جب ہمارے وطن کی سٹیل ملوں میں لوہا دیکھنے تک کو نہیں ملتا ،کھربوں روپے کرپشن کے خسارے کو پورا کرنے میں صرف ہو جاتے ہیں۔ ملکی اور غیرملکی بھیگ کے باوجود تسلسل زندگی کا برقرار رکھنا مشکل ہو جائے، تب بھی ہمارے راہزنوں کو احساس نہیں ہوتا کہ وہ اپنی آنے والی نسلوں کا ماس نوچ رہے ہیں ۔ آخر کب تک غیرملکی آقا ان لٹیروں اور چوروں کا بوجھ برداشت کریں گے؟ آخر کب ہم ایک قوم بننے کے عمل کو روکے رکھیں گے؟ آخر کب تک ہم لٹیروں اور راہزنوں کو راہبروراہنما مانتے رہیں گے؟ میری ماں کہا کرتی تھی کہ چور کے گھر کبھی دیا روشن نہیں ہوتا۔مگر میں دیکھ رہا ہوں صرف چوروں کے گھر ہی قمقمے روشن ہیں جبکہ میرے وطن کا غریب اپنے خون سے دیئے روشن کرکے ان چوروں کے لیے راستے روشن کر رہا ہے۔ قوم کو اب قربانیوں کی عادت ڈالنا ہو گی مگر وہ قربانی چوروں کے لیے نہیں اپنے لیے دینا ہو گی۔ نامی کوئی بغیر مشقت کے نہیں ہوا سو بار جب عقیق کٹا تب نگین ہوا
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus