×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
پیپلزپارٹی کا سیاسی شوقِ شہادت
Dated: 13-Jan-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com شہید ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہیدنے جس جمہوریت کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، آج ان کے جا نشین اپنے ہاتھوں اسی جمہوریت کا گلا دبانے کے درپے ہیں۔ فوجی جنرل پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کو این آراو کی پیشکش کی۔پہلے پہل تو محترمہ نے اسے قبول کیا تاہم اس کی تفصیلات سامنے آنے پراسے کالا قانون قرار دیا جس کا ذکر ان کی کتاب ’’ری کنسی لیشن ‘‘ میں موجود ہے۔ بدقسمتی سے محترمہ کی شہادت کے بعد میری پارٹی کی قیادت نے این آر او میں اپنی بقا ڈھونڈ لی۔ کچھ تو اس سے استفادہ کرنے والے تھے باقی استفادہ کرنے والوں کے کاسہ لیس اور اپنے مفادات کے اسیر این آر او پر جان نچھاور کرتے نظر آئے۔ پیپلزپارٹی اقتدار میں آئی تو این آر او پارلیمنٹ سے منظور کرانے کی کوشش کی۔ یہ کوشش ایم کیو ایم نے شدید مزاحمت کرکے ناکام بنا دی۔ حالانکہ ایم کیو ایم کے ہزاروں لیڈروں اور کارکنوں نے بھی اس سے فائدہ اٹھایا تھا۔ این آر او سپریم کورٹ گیا تو اسے کالعدم قرار دے دیا گیا۔ یہ دو سوا دو سال پرانا قصہ ہے لیکن سپریم کورٹ کے اہم فیصلے پر عملدرآمد سے حکومت ٹال مٹول کرتی رہی۔ ایک موقع پر حکومت کا موقف تھا کہ وہ اس پر عملدرآمد کرے گی۔ اس پر نظرثانی کی اپیل نہیں کرے گی۔ پھر اپیل کی تو اس کا مقدر بھی کالعدم ٹھہرا۔ اب این آراو سے مفاداٹھانے والوں کے لیے اس پر عملدرآمد کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ اس پر عملدرآمد سے لیت و لعل سے کام لینے والے حکمران اب خم ٹھونک کرسپریم کورٹ کے سامنے آ گئے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ مذاق نہیں ہوتا۔ جسے پی پی حکومت نے مذاق بنا کے رکھ دیا۔ کورکمیٹی کے اجلاس میں کہلوایا گیا کہ حکومت سوئس حکام کو خط نہیں لکھے گی۔ صدر صاحب نے میمو کیس کے حوالے سے کہا کہ وہ اس پر قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا فیصلہ مانیں گے۔ساتھ ہی این آر او پر عدالت کے بجائے پارٹی کے فیصلے کو ماننے کا عزم ظاہر کیا۔ صدر کا یہ انٹرویو پوری دنیا میں نشر کیا گیا اوپر سے سابق وزیر قانون بابر اعوان اور موجودہ وزیر قانون مولا بخش چانڈیو کا سپریم کورٹ کے بارے میں رویہ انتہائی تضحیک آمیز رہا۔ سپریم کورٹ کے خلاف پریس کانفرنس کی گئیں اور بابر اعوان یہ تک کہتے رہے ’’نوٹس ملیا تے ککھ نہ ہلیا۔‘‘اس سے زیادہ سپریم کورٹ کی تذلیل اور تضحیک کیا ہو سکتی ہے۔ اپنے چار سالہ دورِ اقتدار میں روٹی کپڑا اور مکان کی عوام کو فراہمی کے دعوے اور وعدے کرنے والوں نے عوام کو کیا دیا بھوک، ننگ اور افلاس۔ عام آدمی غربت کے ہاتھوں خودکشی اور بچوں کی فروخت تک مجبور ہو گیا۔ ملک میںبجلی ہے نہ گیس، نہ پانی میں اپنے گائوں متراں والی گیا وہاں اس جدید دور میں بھی 18گھنٹے بجلی بند رہتی ہے۔حکمرانوں کی کرپشن کی داستانیں اور سکینڈلزسامنے آ رہے ہیں۔ کروڑوں اربوں کی کرپشن کرنے والے وزیراعظم گیلانی کو سیاستدان تاریخ کا کرپٹ ترین وزیراعظم کہتے ہیں۔جن کا پورا خاندان اپنی دکان سجائے بیٹھا ہے۔ ریلوے، پی آئی اے اور سٹیل مل کا کباڑا ہو گیا۔ کسی ادارے اور شعبے میں اصلاح نظر نہیں آ رہی ہے۔ ایسے میں شاید حکمرانوں نے اپنی سیاسی شہادت کا راستہ چنا ہے۔اپنے اقدامات اور بیانات سے فوج اور عدلیہ کو مقابل لانے کی وجہ شاید یہ ہے کہ یہ ادارے مل کر انہیں تخت بدر کر دیں اور یہ عوام کے پاس جا کر اپنی مظلومیت کا رونا رو کر اگلے الیکشن میں پھر عوام کو کہہ سکیں کہ ہمیں تو کام ہی نہیں کرنے دیا گیا۔شرم کی بات ہے کہ حکومت نے ایک طرف عدلیہ کے خلاف محاذ کھولا ہوا ہے تو دوسری طرف فوج کو اپنے مقابل آنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ امریکی ٹکڑوں کا ایسا چسکا پڑا کہ عسکری قیادت کی طرف سے نیٹو سپلائی بند ہونے پر یہاں اس کی حمایت کی، امریکہ کو سپلائی بحال کرانے کی یقین دہانی کرائی جا رہی ہے۔ وزیراعظم گیلانی دبے الفاظ میں اس کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد سے انکار کے ساتھ فوج سے پنگے بازی گیلانی حکومت کا ان اداروں کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ میمو کے معاملے پر گیلانی نے فوج پر پہلے چڑھائی کی اگلے روز معافی مانگتے نظر آئے۔ اب پھر ان کو جوش آیا اور ہوش سے بیگانہ ہو گئے۔ یہ امریکہ کا دبائو تھا یا میمو نے ڈس لیا۔عین اس وقت آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے سپریم کورٹ میں بیان داخل کرانے کے طریقہ کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دے دیا حالانکہ یہ جواب اٹارنی جنرل نے جمع کرائے تھے۔اور فوج کے خلاف زبان درازی کا موقع دیکھیے کونسا ڈھونڈا جب آرمی چیف چین کے دورہ پر تھے اور بلایا بھی کس اخبار کو۔ چین کے ایک روزنامے کو۔ اس کا کیامطلب لیا جائے۔ اگر آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے آئین اور قانون کی خلاف ورزی کی تو اس کے احتساب کا اخباروں کو بیانات دیناطریقہ نہیں ہے۔ جو طریقہ ہے وہ اختیار کرتے۔پیپلزپارٹی کی قیادت نے معاملات پوائنٹ آف نوریٹرن تک پہنچا دیئے ہیں۔فوج ٹیک اوور نہیں کرنا چاہتی جبکہ حکمران بوجوہ اسے ایسا کرنے پر انتہائی حد تک مجبور کر رہے ہیں۔ پہلے آمریت آنے کے بعد پی سی او لائی تھی اب کے حکمران فوج کو مجبور کر رہے کہ وہ آئے پی سی او ساتھ لے کر آئے۔حکمرانوں نے عدلیہ اور فوج کے خلاف جس قسم کا رویہ اپنا رکھا ہے اگر غیر جانبداری سے تجزیہ کیا جائے تو یہ آئین توڑنے کے مترادف ہے اور آج کل عام آدمی بھی آئین شکنی کی سزا سے آگاہ ہے۔ لیکن پارٹی قیادت ان کے صائب مشوروں پر کان دھرنے کی بجائے ان نادان مشیروں کی باتیں سن کر ان پر عمل کر رہی ہے جو قیادت کو تخت سے اٹھا کر تختہ دار تک لے جانا چاہتے ہیں۔سیاسی شہادت کے شوق میں پی پی پی قیادت ’’آبیل مجھے مار‘‘ کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے جو کسی طور بھی قیادت اور جمہوریت کے مفاد میں نہیں۔ خدا شہید بھٹوز کی پارٹی پر رحم فرمائے۔یہ کیا طرفہ تماشا ہے کہ پیپلزپارٹی اسی شاخ کو کاٹنے پر مضر ہے جس پر وہ خود تکیہ کیے بیٹھی ہے ۔اب کی بار عوام کا شعور بڑھ چکا ہے ۔شہید ذوالفقار علی بھٹواورشہید محترمہ بینظیر بھٹو کے ویژن نے لوگوں کے شعور کو اجاگر کیا ہے اور ہمارے موجودہ حکمرانوں نے عوام کے شوق اور تکمیل ویژن کو بلیک میل کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔اقتدار آنی جانی چیز ہے قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹواور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے طرز سیاست سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے پارٹی قیادت کو چاہیے کہ اس اقتدار کو اس طرح سمجھنا چاہیے جیسے: خود سری پہ جو ہم آج آئیں تو اے جانیں تمنا ہم ستاروں کو بھی نظروں سے گرا دیتے ہیں
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus