×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
وزارتِ عظمیٰ کے وقار کا تقاضا ہے کہ گیلانی مستعفی ہو جائیں
Dated: 17-Feb-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اس وقت کے صدر جو آرمی چیف ہونے کے ناطے طاقت کا سرچشمہ تھے، کے ساتھ مفاہمت کرکے پاکستان آئیں۔ اسی مفاہمت کے باعث میاں نوازشریف کے لیے بھی جلاوطنی کے دس سال مکمل کرنے سے قبل پاکستان واپسی کا راستہ کھل گیا۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے یقینا محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ این آر او کرنے کے لیے امریکہ اور مغرب کا دبائو قبول کیا۔ اس این آر او میں ایسے لوگوں کو بھی فائدہ اٹھاتے دیکھا گیا جو قتل، دہشتگردی، اغوا اور ڈکیتی و لوٹ مار جیسی سنگین وارداتوں میں ملوث ہو کر جیلوں میں سزائیں کاٹ رہے تھے اور ان کی تعداد بھی ہزاروں میں تھی ۔4نومبر کو محترمہ نے مشرف کے اس آرڈیننس کو کالاقانون قرار دے دیا تھا۔ محترمہ کے اس بیان کے بعد مشرف اور ان کے مابین ہونے والی مفاہمت مخاصمت میں بدل گئی تھی۔ پھر پوری دنیا نے دُختر مشرق کو گولی لگنے کے بعد شہید ہوتے ہوئے دیکھا۔ مشرف اس وقت بھی آل ان آل تھا۔ آج مشرف محترمہ بے نظیر بھٹو قتل کیس میں مفرور ہے۔ شہید محترمہ کا این آر او کو کالا قانون قرار دینا بھی ان کے قتل کی ایک وجہ ہو سکتا ہے۔ پھر جب اس آرڈیننس کو قانون بنانے کا مرحلہ آیا تو پیپلزپارٹی کی اتحادی ایم کیو ایم نے اس کی شدید مخالفت کی۔ اس وقت ایم کیو ایم پیپلزپارٹی کی ناک کا بال تھی جبکہ ق لیگ جو کسی دور میں صدر آصف علی زرداری کی نظروں میں ’’قاتل لیگ ‘‘ تھی۔ صدر صاحب کے قریب تر ہو کر اقتدار کے سنگھاسن میں حصہ دار بنی تو ایم کیو ایم ’’آنے‘‘ والی جگہ پر آ گئی۔ اب اسے اقتدار کا حصہ بنا رہنے کے لیے صدر کی حمایت میں لاکھوں کی ریلیاں نکالنی پڑتی ہیں۔ بہرحال ایم کیو ایم کا این آراو کی مخالفت کا اس وقت فیصلہ مثبت اور قومی مفاد میں تھا۔ایم کیو ایم نے ان حالات میں این آر او کی شدید مخالفت کی جب خود اس کے سب سے زیادہ لوگ اس سے مستفید ہو رہے تھے۔ بہرحال بقول جسٹس رمدے پارلیمنٹ نے این آر او کو بدبودار مردہ چوہے کی طرح اٹھا کر پارلیمنٹ سے باہر پھینک دیا۔ اعتزاز احسن رمدے صاحب کے بیان پر اس قدر سیخ پا ہوئے کہ ان کو بہت کچھ ایسا کہہ گئے جسے اخلاقیات کے دائرے سے باہر قرار دیا جاسکتاہے۔اعتزاز احسن نے رمدے صاحب کو مشورہ دیا کہ وہ ریٹائرمنٹ کو دو سال ہونے تک سیاست نہیں کر سکتے۔حالانکہ رمدے صاحب نے سیاست نہیں محض ایک کیس کی بطور ماہر وضاحت کی تھی۔ رمدے صاحب اس سترہ رکنی بنچ میں شامل تھے جس نے پارلیمنٹ سے باہر پھینکے گئے این آر او کیس کی سماعت کی اور 16دسمبر2009ء کو 17ججوں نے متفقہ طور پر این آر او کو کالعدم قرار دیتے ہوئے این آر او کے تحت بند ہونے والے مقدمات کھولنے کا حکم دیا۔عدالتی احکامات میں سوئس حکام کو اٹارنی جنرل ملک قیوم کی طرف سے لکھے گئے خط کے ذریعے بند ہونے والے کیس کو کھولنے کا حکم بھی تھا۔ حکومت نے این آر او کیس پر عملدرآمد کو اس حد تک لٹکایا کہ نظرثانی کی اپیل بھی تقریباً دو سال بعد دائر کی۔ وہ بھی خارج ہو گئی تو سپریم کورٹ نے عدالتی حکم پر عملدرآمد کے لیے ایک مدت مقرر کر دی، وزیراعظم نے اسے بھی کوئی اہمیت نہ دی۔ ایک موقع پر کابینہ کی کورکمیٹی کا اجلاس بلا کر کہلوا دیا گیا کہ سوئس حکام کو خط لکھنے کے عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں ہوگا۔ بات بالآخر وزیراعظم پر توہین عدالت تک پہنچ گئی۔ ایک طرف وزیراعظم اور دیگر حکومتی کارندے بڑے زوروشور سے کہتے ہیں کہ وہ عدالتی فیصلوں کا احترام کرتے ہیں ، ساتھ یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ سوئس حکام کو خط نہیں لکھیں گے۔ اور یہ کہہ کر کہ یہ شہید محترمہ کی قبر کا ٹرائل ہے عوام کو ایموشنل بلیک میل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اب وزیراعظم اس پر تلے ہوئے ہیں کہ سوئس حکام کو خط لکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وہ پارٹی اور پارٹی ’’کوچیئرمین‘‘ کے ساتھ بظاہر وفاداری نبھانے کا ڈرامہ کر رہے ہیں حالانکہ انہوں نے آئین پاکستان اور ریاست کے تحفظ کا حلف اٹھا رکھا ہے، جس کے آرٹیکل 188-189کے تحت وہ عدالتی فیصلوں کو نہ صرف ماننے بلکہ ان پر عملدرآمد کرانے کے بھی پابند ہیں۔ ان کی پارٹی سے وفاداری اپنی جگہ لیکن اس سے بھی اہم آئین اور ریاست ہے۔ وہ پارٹی کی وفاداری آئین شکنی کی قیمت پر کریں گے تو گرفت تو یقینا ہو گی۔ وہ عام زندگی میں پارٹی وفاداری کی خاطر اقتدار قربان کرنے کی بات کرتے ہیں لیکن عدالت میں جا کر موقف اختیار کرتے ہیں کہ صدر کو چونکہ استثنیٰ حاصل ہے اس لیے خط نہیں لکھا۔ عدالت نے ان کے وکیل اعتزاز احسن سے کہا کہ صدر کا استثنیٰ ثابت کریں انہوں نے کہا کہ ایسا کر دکھائوں گا لیکن یکم فروری کو اپنے وعدے اور دعوے سے پھر گئے۔ پاکستان کی تاریخ کے مہنگے ترین وکلاء میں سے ایک اعتزاز احسن جن سے وزیراعظم اور ساتھیوں کو امید تھی کہ وہ اپنے کلائنٹ کومکھن سے بال کی طرح نکال باہر لائیں گے۔ اعتزاز احسن نے برملا اعلان اور اس پر چار سال تک عمل بھی کیا کہ وہ چیف جسٹس کے چونکہ وکیل رہے ہیں اس لیے ان کے سامنے کسی کیس میں پیش نہیں ہوں گے لیکن وہ شاید وزیراعظم کو بچانے کی آخری حسرت لیے فردِ جرم کے خلاف نظرثانی کی اپیل میں چیف جسٹس کے روبرو بھی پیش ہو گئے لیکن ایک مہنگے وکیل کی ذاتی خدمات ڈی میرٹ کو میرٹ میں تو نہیں بدل سکتی تھیں۔ 8رکنی بنچ نے فردِ جرم عائد کرنے کے حوالے سے فیصلے کو برقرار رکھا اور گذشتہ روز وزیراعظم پر فردِ جرم بھی عائد کر دی گئی۔ وزیراعظم کو کٹہرے میںکھڑا کرکے سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس ناصر الملک نے دو صفحات پر مشتمل فردِ جرم پڑھ کر سنائی۔ چارج شیٹ میں کہا گیا کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے جان بوجھ کر عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں کیا۔ چارج شیٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ این آر او کے تحت زیر التوا مقدمات پر عمل درآمد شروع کروانے کے لیے سوئس حکام کو خط لکھیں۔ جبکہ وزیراعظم نے ایسا نہیں کیا۔ وزیراعظم آئینی طور پر عدالت کے احکامات ماننے کے لیے پابند تھے۔ عدالت نے وزیراعظم سے استفسار کیا کہ آپ توہین عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں؟وزیراعظم گیلانی نے فردِ جرم کی صحت ے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے موقف کا دفاع کریں گے۔وزیراعظم کا کسی جرم کا مرتکب ہونا ہماری تاریخ کا شرمناک باب ہے۔ اس سے بھی شرمناک وزیراعظم کا عدالت سے باہر نکل کر ساتھیوں کی طرف فاتحانہ انداز میں ہاتھ ہلانا تھا جیسے کشمیر فتح کرکے اور دلی پر سبزہلالی پرچم لہرا کر آئے ہوں۔ حسین حقانی پر میموگیٹ کا محض الزام لگا تھا کہ ان سے استعفیٰ لے لیا گیا۔ گیلانی پر تو توہین عدالت کی فردِ جرم عائد ہوئی ہے۔ ان کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔ گذشتہ ہفتے بھارت میں دو وزراء پر اپنے موبائل فون پر فحش تصاویر دیکھنے کا الزام لگا تو وہ مستعفی ہو گئے۔ وزیراعظم توہین عدالت کا باقاعدہ ملزم قرار دینے پر بھی استعفیٰ دینے پر تیار نہیں۔ اسے ڈھٹائی کے کس درجے میں رکھا جا سکتا ہے؟ وہ بیرون اور اندرون ملک کس منہ سے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ ملیں گے؟ بین الاقوامی رہنما کیا سوچیں گے کہ وہ کس وزیراعظم کے ساتھ بیٹھے ہیں جو کہ ایک’’ ملزم‘‘ ہے؟ وزارت عظمیٰ کے منصب کے وقار کا تقاضا ہے کہ وزیراعظم گیلانی فوری طور پر مستعفی ہوں اور عدالت عالیہ سے خود کو کلیئر کروا کے دوبارہ بے شک اس منصب پر متمکن ہوجائیں؟وزیراعظم گیلانی اپنی اور خاندان کی اربوں روپوں کی کرپشن، لوٹ کھسوٹ اور مار دھاڑ چھپانے کے لیے اب ملبہ پیپلزپارٹی اور ’’کوچیئرمین‘‘ پر ڈالنا چاہتے ہیں۔ پارٹی کو اس نکتے کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus