×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
خونی انقلاب یا پُرامن تبدیلی
Dated: 25-Mar-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com بھوک، ننگ اور افلاس انسان کو انسانیت کے درجے سے بھی گرا دیتی ہے۔ لوگ عزتیں نیلام اور اولاد تک کو فروخت کرنے پر بھی آمادہ و مائل ہو جاتے ہیں۔ کچھ دنیا کے دکھوں سے نجات کے لیے اپنی اولاد اور بیوی کو بے رحم حالات کے حوالے کرکے خود کشی کر لیتے ہیں اور بعض ایسے بھی ہیں جو پورے خاندان کو لے مرتے ہیں۔ یہ ہمارے بالادست طبقوں کی خوش قسمتی ہے کہ قلاش قسم کے لوگوں کو شعور نہیں ہے کہ وہ خود تو جان اور عزت سے جا رہے ہیں، اس سے قبل ان حالات تک پہنچانے والوں سے نمٹ لیں۔ جس دن معاشرے میں یہ اجتماعی سوچ اجاگر ہو گئی وہ انقلاب کی ابتدا ہو گی۔ ایسے انقلاب کی ابتدا جس کی وارننگ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف بارہا دے چکے ہیں۔ خونیں انقلاب! جب ہم ماضی کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو انقلابِ فرانس اور انقلابِ روس خونیں انقلاب کی بھیانک شکل میں ہمارے سامنے آ موجود ہوتے ہیں۔زارروس نکولس دوم حکومتی معاملات میں زارینہ الیگزنڈرا کی بے جامداخلت کے سامنے بے بس تھا۔ الیگزنڈرا جرمن شہزادی تھی جس سے زار نے 1894ء میں شادی کی۔ زارینہ نے راسپوٹین کو سر پر چڑھا رکھا تھا۔ جس سے کلیسا تک تنگ اور پریشان تھا۔ زار پہلی جنگ کی تباہ کاریوں اور ہولناکیوں سے سنبھل نہ پایا۔ روس میں ہر چیز کی قیمت 4 گنا سے 5گنا بڑھ گئی۔ کاروبار ختم، ہر طرف بھوک کا دور دورہ، بادشاہ سلامت عوام کو حب الوطنی کا درس دیتے دیتے ان کو بھوک و افلاس کے رحم و کرم پر چھوڑ کر دارالحکومت سے 5سو میل دور صحت افزاء مقام پرجا بسے لوگ پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے سٹور اور بیکریاں لوٹنے، پولیس ان کی لاشیں گرانے لگے۔ درباری زار کو سب اچھا کی رپورٹیں پہنچا رہے تھے۔11مارچ1917ء کو احتجاج کرنے والے 200افراد کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا گیا۔ 1917ء میں نکولس دوم کو تخت سے دستبردار ہونا پڑا۔ 30اپریل 1918ء کو زار کو پورے خاندان سمیت قصبے ییکاٹرن برگ میں آرمی کی دو منزلہ بیرک میں قید کر دیا گیا۔16اور 17جولائی کی درمیانی شب 2بجے پورے خاندان کو ان کے ملازموں سمیت جگا کر لباس تبدیل کرکے تہہ خانے میں لے جا کر فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ خاندان نکولس دوم، ملکہ الیگزنڈرا، ایک بیٹے الیکسی اور 4بیٹیوں پر مشتمل تھا۔ تاتینا، الگا، انتیسا اور ماریا چاروں بہنوں نے قید کے دوران اور فائرنگ کے وقت بھی ڈیڑھ کلو ہیرے جواہرات کے قیمتی زیورات پہن رکھے تھے۔ 1789ء میں انقلابِ فرانس بھی بھوک کی وجہ سے برپا ہوا۔ لوئی سمیت انقلاب فرانس کے دوران ہزاروں درباریوں اور مصاحبوں کو پھانسی دی گئی اور گلوٹین میں رکھ کر سر قلم کیے گئے۔ ملکہ میری انٹونئے جس نے بھوکے فرانسیسیوں کو کہا تھا کہ روٹی نہیں ملتی تو یہ کیک کھائیں۔ اس ملکہ کا سر قلم کرنے سے قبل اس کا سر مونڈ کے بازاروں میں گھمایا گیا تھا۔ ملکہ کے آخری الفاظ تھے ’’مجھے معاف کر دو‘‘ شاہ لوئی اور ملکہ میری کی اولاد کا انجام بھی ان جیسا ہی ہوا تھا۔ نوے کی دہائی رومانیہ کے نکولائی چائو شسکو کو پورے خاندان سمیت فائرنگ سکواڈ کے سامنے ڈال دیئے جانے کی وجہ بھی بھوک اور بھوکے لوگ بنے تھے۔ آج پاکستان میں بھی حالات اس قدر دگرگوں ہیں کہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ آج لوگ جمہوری حکومتوں کے رویوں سے اس قدر عاجز آ چکے ہیں کہ خونیں انقلاب کی باتیں کرتے ہیں اور فوج کو دعوت تک دے رہے ہیں۔موجودہ جمہوری حکومت جو شہید ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے وژن کو مشعل رہ بنانے کی دعویدار ہے، بھٹوز کے فلسفے کو اپنانے کی بات کرتی ہے، روٹی کپڑا اور مکان کی فراہمی کے نعرے لگاتی ہے، بدقسمتی سے عمل نہ صرف زیرو ہے بلکہ اکثر پالیسیاں عوام دشمنی پر مبنی ہیں۔ گیس و بجلی کی شدید قلت کے باوجود ان کے نرخوں میں انتہائی زیادہ اضافہ کر دیا گیا ہے۔ بجلی کے موجود بلوں میں تین سو فیصد اضافہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر کیا گیا ہے۔جس کسی کو 1000کے ساتھ مزید دو ہزار بل آیا اور تنخواہ 10یا 12ہزار ہے اس کے بچوں کے منہ سے نوالہ چھین لیا گیا ہے۔ پھر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر رہی ہے ہمارے یہاں اس میں تسلسل کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ پارلیمنٹ کی حقیقت اور اہمیت کا اندازہ کیجئے قومی اسمبلی نے فروری کے آغاز میں کیا گیا اضافہ واپس لینے کی متفقہ قرارداد منظور کی۔ حکومت کی طرف سے بجائے قومی اسمبلی کی قرارداد کا احترام کرنے کے اگلے ماہ مزید اضافہ کر دیا گیا ۔ اب اپریل میں بھی اضافے میں مزید اضافے کی شنید ہے۔ کرپشن کی داستانیں عام ہیں وہ بھی اعلیٰ سطح پر۔ اقرباپروری اور دوست نوازی سے کون واقف نہیں ۔ عدالتوں اور ان کے فیصلوں کا جو حشر کیا جا رہا ہے وہ تاریخ میں پیپلزپارٹی کے ماتھے پر ایک بدنما داغ بن چکا ہے۔ مشرف کی آمریت کے دوران بھی ڈرون حملے ہوتے تھے ان میں جمہوری حکومت کے دوران 10گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ دہشت گردی کی جنگ کا ڈھول مشرف نے اپنے گلے ڈالا جسے موجودہ حکومت فوجی آمر سے بڑھ کر بجا رہی ہے۔ اسی جنگ کے باعث ہماری معیشت ڈوبی،5ہزار سے زائد فوجیوں سمیت 40ہزار پاکستانی اپنی جانوں سے گئے لیکن ہنوز اس جنگ سے نجات کی کوئی تدبیر نہیں کی جا رہی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کشمیر کی خاطر ہزار سال تک جنگ لڑنے کا عزم ظاہر کیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں یومِ یکجہتی کشمیر منانے کی روایت ڈالی جو آج بھی موجود ہے۔ لیکن بھٹوز کے بزعمِ خویش جاں نشیں آج کشمیریوں کی وفائوں اور خون کا سودا کرتے نظر آ رہے ہیں۔ بھارت کے ساتھ تجارت کا حجم بڑھایا جا رہا ہے، اسے من پسند ملک قرار دیا جا رہا ہے۔یہ سب کچھ عوام کی برداشت سے باہر ہے۔ عام آدمی کی مشکلات آج بے انتہا بڑھ چکی ہیں لوگ سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔ پاکستانی قوم مشکلات اور مصائب سے گھبرانے والی نہیں ایثار اور قربانی کا جذبہ رکھتی ہے لیکن اس کے سامنے کوئی کاز اور مقصد تو ہو۔ وہ محض لٹیروں کے خزانے بھرنے کے لیے اپنا خون کیوں جلائیں؟ لوگوں کے ہاتھ ان کو اس نہج تک پہنچانے والوں کے گریبانوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہاں بھی انقلابِ روس اور انقلابِ فرانس جیسے حالات پیدا ہو چکے ہیں۔ لوگ تبدیلی چاہتے ہیں جس کا سیاستدانوں اور حکمرانوں کو ادراک ہونا چاہیے۔ ضروری نہیں کہ تبدیلی خون کی ندیاں بہا کر ہی آئے یہ پُرامن طریقے سے بھی آ سکتی ہے۔ جنوبی افریقہ میں نیلسن منڈیلا اور ملائشیا میں مہاتیرمحمد خون کا ایک قطرہ بہائے بغیر تبدیلی لائے۔ ہمارے لیے انقلابِ روس و فرانس نہیں منڈیلا اور مہاتیر محمد کا لایا ہوا انقلاب رول ماڈل ہونا چاہیے۔ اس کے لیے ’’بال ‘‘ اب ہمارے سیاستدانوں کی کورٹ میں ہے۔ آیا وہ خونیں انقلاب کی طرف بڑھتے قدموں کی سنائی دینے والی چاپ پر خاموشی اختیار کرتے ہیں یا اس کی پیش بندی پُرامن تبدیلی سے کرتے ہیں؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus