×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے
Dated: 08-Apr-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com الیکشن کی آمد آمد پر حکومتی پارٹی عوامی مفادات ،ریلیف اور ان کی تن آسانی کے لیے پالیسیاں ترتیب دیتی ہے۔ اپوزیشن اور حکومت سے باہر کی پارٹیاں زمامِ اقتدار اپنی دسترس میں لانے کے لیے حکومتی پالیسیوں اور اقدامات کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے عوام کو حکمرانوں کی خامیوں سے آگاہ کرتی اور اصلاحِ احوال کی تجاویز پیش کرتی ہیں۔ آج کی حکومت نے اپوزیشن کا اقتدار میں آنے کا کام آسان کر دیا اور اپنے اوپر اقتدار کے دروازے بند کرنے کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ بادی النظر میں تو ایسا ہی محسوس ہوتا ہے۔ الیکشن اس سال قبل از وقت ہوں یا اگلی موجودہ پارلیمنٹ کی آئینی مدت کے خاتمے پر، آئین کے مطابق وہ آصف علی زرداری کی صدارت کے دوران ہوں گے۔کچھ لوگوں کو تحفظات ہیں کہ زرداری صاحب کی تشکیل کردہ نگران حکومتیں شفاف الیکشن نہیں کرائیں گی۔ شاید حکومتی سطح پر بھی ایسی ہی سوچ موجود ہو کہ 20ویں ترمیم جس میں شفاف الیکشن کے لیے غیرجانبدار چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے لیے قانون سازی کی گئی ہے، کے باوجود صدر اپنی پارٹی کے لیے کچھ نہ کچھ کریں گے۔ اسی لیے شاید حکمران عوام پہ ایک کے بعد دوسرا ،تیسرا اور پھرچوتھا ستم ڈھا کر بھی گردن میں سرمایا لیے پھرتے ہیں ۔ گویا ان کو عوام کی کوئی پروا نہیں۔ ایک طرف کرپشن کی ہزار داستان نے ان کی ساکھ برباد کر دی ہے تودوسری طرف تیل بجلی و گیس کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ کر دیاگیا ہے۔ وہ بھی اس کے باوجود کہ بجلی اور گیس ضرورت کے مطابق دستیاب ہی نہیں ہے۔ حکومت این آر اوکیس پر عمل درآمد کے لیے تیار نہیں۔خصوصی طور پر وزیراعظم گیلانی پر توہین عدالت کی فرد جرم لگ چکی ہے۔ لیکن وہ کہہ رہے ہیں کہ کچھ بھی ہو جائے سوئس حکام کو خط نہیں لکھیں گے کیونکہ صدر کو استثنیٰ حاصل ہے۔ ان کے وکیل جو پہلے خط لکھنے کے حامی تھے ان کی وکالت کا فارم پُر کرنے کے بعد خط لکھنے کی مخالفت میں بے وزنی قسم کے دلائل دے کر وزیراعظم کو اس کیس میں تقریباً تقریباً پھنسا چکے ہیں۔ وکیل موصوف نے عدالت کے روبرو صدر کا استثنیٰ ثابت کرنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن اس سے پھِر گئے ۔ عام مباحث میں بھی جس فریق کے پاس دلائل ختم ہو جائیں تو وہ دست و گریبان ہونے پر تُل جاتا ہے یہی محترم وکیل صاحب کر رہے ہیں۔ اب معاملہ فیصلے کی دہلیز پر ہے تو ان کو بنچ کے جج متعصب اور بنچ میں بیٹھنے کے قابل نظر نہیں آتے۔ دیکھیے کیس کی فیس کی مد میں سینیٹ تک رسائی پا جانے والے بیرسٹر اپنے موکل کو کہاں تک پہنچاتے اور گراتے ہیں۔ اس کیس کے فیصلے کے بعد وزیراعظم کی رہی سہی ساکھ بھی خاک میں مل سکتی ہے۔ دو روز قبل کا فیصلہ ملاحظہ فرمایئے۔سپریم کورٹ نے رینٹل پاور منصوبوں میں کھربوں روپے کی کرپشن کی نشاندہی کرتے ہوئے نیب کو مجرموں کی خبر لینے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم نے اعتراف کیا ہے کہ یہ فیصلے کابینہ نے کیے تھے وہ بھی اس کی ذمہ دار ہے۔ اگر ایسا ہے اور یقینا ایسا ہے تو وزیراعظم کو اس پر پوری کابینہ سمیت مستعفی ہو جانا چاہیے لیکن وزیراعظم کے ذمہ داری کا اعتراف کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جن کے خلاف سپریم کورٹ نے کارروائی کا حکم دیا ہے ان کا این آرو سے استفادہ کرنے والے قاتلوں، لٹیروں، اغوا و بھتہ کے مجرموں کی طرح بال بھی بیکا نہیں ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ فیصلے کے بعد نیب نے ہنوز کوئی کارروائی نہیں کی۔ ووٹر ایسے اقدامات اور بیانات کو بھی نوٹ کر رہے ہیں۔ گذشتہ دنوں CNG کی قیمتوں میں اضافہ کرکے اس کی قیمت 80روپے کر دی گئی ۔ تین ماہ قبل یہ ساٹھ روپے سے کم تھی۔ صارفین ابھی اس پر سٹپٹا رہے تھے کہ ایک روز بعد پٹرول کی قیمت میں 8روپے سے زائد کا اضافہ کرکے 105روپے لٹر تک پہنچا دی گئی ۔ بجلی و گیس کی قیمتیں بھی مسلسل بڑھائی جا رہی ہیں۔ آج تیل و گیس اور بجلی کی قیمتیں پاکستان کی تاریخ انتہائی اور ریکارڈ سطح پر ہیں۔ مہنگائی پہلے ہی ناقابل برداشت ہے۔ اب اس میں مزید طوفانی اضافہ ہوگا جو لوگوں کو چین سے نہیں بیٹھنے دے گا۔ میں گذشتہ روز اپنے گائوںمیتراں والی میں تھا تو چند جیالے چلے آئے، وہ غصے میں بھرے ہوئے تھے، ان کا کہنا تھا کہ لوگوں نے ہمیں طعنوں اور کوسنوں سے مار ڈالا ہے۔اپنے حلقہ 113 ڈسکہ میں جہاں مجھے غمی اور خوشی کی تقریب میں شرکت کرنا تھی جیسے ہی میری آمد کا جیالوں کو پتہ چلا تو دیکھتے ہی دیکھتے درجنوں جیالے اکٹھے ہو گئے اور مجھے دیکھتے ہی میرے اور پارتی کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی اور متعدد نے تو سینہ کوبی کرتے ہوئے رو رو کر بُرا حال کر لیا۔میرے جیالے دوست مجھے پوچھ رہے تھے کہ تم بتائو پارٹی کس کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔کیا پیپلزپارٹی نے آئندہ الیکشن سے آئوٹ ہونے کا پروگرام بنا لیا ہے؟ کیا یہ مسلم لیگ ن کو’’ باری‘‘ فراہم کرنے کا موقع تو نہیں دیکھ رہے؟ہماری اپنی ہی پارٹی کے وکلاء نے مجھے کہاکہ ہم پبلک میں جا کر تو یہ نہیں کہہ سکتے کہ حکومت چلی جائے مگر ہمارے دلوں میں یہ خواہش بھی چھپی ضرور ہے کہ خدا اس حکومت کو جلدی ختم کر دے تاکہ پارٹی کو بچایا جا سکے۔جیالوں کے غم و غصے کا یہ انداز دیکھ کر اب سیاسی اسٹاک ایکسچینج دیکھنے کی ضرورت نہیں رہی۔کیا میرے پارٹی پہ قابض لوگ یہ بتانا پسند کریں گے کہ اگر جیالوں کو پارٹی کی محبت میں سزا دینا مقصود ہے تو خدارا اس ملک کے باقی عوام کو تو ظلم و ستم کا نشانہ نہ بنایاجائے۔18،18گھنٹے لوڈشیڈنگ نہ پانی، نہ بجلی، نہ کیس ،نہ ملازمت اب ہم اب کس منہ سے عوام میں جا کر روٹی، کپڑا او رمکان کی باتیں کریں گے۔لوگ کہتے ہیں عوام سے آخری نوالا چھیننے والے حکمران اب ہمیں زہر دے دیں۔ وہ لوگ جو اپنے دکھ اور درد کا مداوا جمہوریت کو قرار دیتے تھے اب وہ بھی ایسی جمہوریت سے آمریت اچھی کی باتیں کر رہے ہیں۔میں ڈسکہ سے واپس آ رہا تھا تو میں ایک بڑے بورڈ پر جلی الفاظ میں یہ لکھا ہوا دیکھ کر تھرا گیا۔ ’’مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے۔‘‘ اس کے نیچے لکھی غزل پڑھنے کے لیے مجھے رکنا نہیں پڑا۔ وہ میں فیض احمد فیض کی زبان سے متعدد بار سن چکا ہوں جو مجھے ازبر ہو گئی۔ چند اشعار ملاحظہ فرمایئے۔ بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں نہیں دیتے تم اچھے مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتے دردِ شبِ ہجراں کی جزا کیوں نہیں دیتے خولِ دلِ وحشی کا صِلا کیوں نہیں دیتے مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے منصف ہو تو اب حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے جس نے یہ بورڈ لکھوایا اور لگوایا یہ بالکل عیاں تھا کہ اس نے اس غزل میں کس کو مخاطب کیا تھا۔ الطاف حسین بھی کچھ عرصہ قبل ان کو کھلی دعوت دے چکے ہیں۔ میں اپنی پارٹی سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اگلے الیکشن کی تیاری کرتے ہوئے عوام کو تکلیف کے بجائے کچھ نہ کچھ ریلیف دینے کی خلوص نیت سے کوشش کریں اگر اس نے اپنا وطیرہ اور رویہ نہ بدلا تو مخلوق کے مٹنے سے پہلے اس کو انصاف دلانے والے آ جائیں گے اور ہم ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کی صورت میں ایسا انصاف بھگت چکے ہیں جس کا شاید آج ان کے نام نہاد جاں نشینوں کو ادراک نہیں؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus