×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
عالمی بھتہ خور۔۔۔اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹے
Dated: 26-May-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com سلالہ چیک پوسٹ پرامریکی جارحیت کے بعد پاک فوج کے سخت ردِّ عمل کے باعث نیٹوسپلائی بند کر دی گئی تھی۔ فوج کے اس اقدام کی حکمرانوں اور پوری قوم نے تائید کی۔ سلالہ چیک پوسٹ کا حملہ 26نومبر2011ء کو ہوا۔ نیٹو سپلائی تو فوری طور پر بند کر دی گئی ساتھ ہی شمسی ایئربیس خالی کرانے کی وارننگ بھی دے دی گئی۔ یہ وہی بیس ہے جو پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو لیز یا کرائے پر دے رکھا تھا جس نے آگے ڈرون حملوں کے لیے امریکہ کے سپرد کر دیا۔ کن شرائط پر امریکہ کے حوالے کیا گیا؟ اس کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں تاہم اس بیس سے ڈرون اُڑ کر پاکستانیوں کو تہہ تیغ کرتے رہے۔امریکہ نے کافی لیت و لعل اور ٹال مٹول کے بعد شمسی ایئر بیس 11دسمبر2011ء کو پاکستان کی دی گئی ڈیڈلائن کے مطابق خالی کر دیا۔ پاکستانی حکام کے ان قدامات سے اس خیال کو تقویت مل رہی تھی کہ اب پاکستان شاید امریکہ کی اس جنگ سے مکمل علیحدگی کی طرف گامزن ہوگا جس جنگ میں ہماری معیشت ڈوبی، 5ہزار پاک فوج کے سپوتوں سمیت چالیس ہزار عام شہری اپنی جان سے گئے۔ بے گھر ہونے والی تیس لاکھ آبادی ہنوز مناسب طور پر بحال نہیں ہو سکی۔ انفراسٹرکچر کی مد میں 70ارب ڈالر کا نقصان ہوا لیکن افسوس صد افسوس کہ ہمارے حکمرانوں کی قوت برداشت اب جواب دیتی نظر آتی ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے سپلائی بحالی پر زور دیا تو پہلے پہل ہمارے حکمران سپلائی کی بندش کو پتھر پر لکیر قرار دیتے تھے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ جھکتے چلے گئے اور اب لیٹے نظر آتے ہیں۔ کہاں یہ کیا گیا کہ امریکہ معافی مانگے تب بھی سپلائی بحال نہیں ہو گی پھر قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کی تیارکردہ بیس سفارشات سے سپلائی مشروط کرنے کا پہلا پتھر پھینکا گیا۔ اس کے بعد شرائط کم ہوتے ہوتے امریکہ سے معافی اور ڈرون حملے روکنے تک محدود رہ گئیں تو امریکہ نے اس کو بھی پذیرائی نہ بخشی۔ اب سپلائی کی بحالی کی اکلوتی شرط نیٹو کنٹینرز پر 5ہزار ڈالر فی ٹرک ٹیکس لاگو کرنا رہ گئی۔ وسط ایشیائی ریاستوں میں نیٹو کی سپلائی پر فی کنٹینر 18ہزر ڈالر لاگت آتی ہے۔ امریکہ وہ تو برداشت کر رہا ہے جبکہ ان کنٹینرز کی وجہ سے پاکستان کی سڑکیں دھول اور مٹی میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ سڑکوں کے نقصان کو دیکھتے ہوئے 5ہزار ڈالر کوئی زیادہ ٹیکس نہیں۔ پاکستان کے اس مطالبے کو امریکہ نے نہ صرف رد کیا ہے بلکہ سینیٹ کی ذیلی کمیٹی نے پاکستان کی طلب کردہ فیس کو بھتہ بھی قرار دیا۔ یہ پاکستانی حکمرانوں اور قوم کی ایسی تذلیل ہے جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اگر بھتہ خوری کی بات کی جائے تو امریکہ سے بڑا بھتہ خور پوری کائنات میں کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا۔ امریکہ پوری دنیا میں جہاں کہیں بھی اپنے مفادات دیکھتا ہے ان کو حاصل کرنے کے لیے لاکھوں افراد کا خون بہانے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ بلکہ اپنے مفادات کے حصول کے لیے اپنے ملک کے غریب فوجیوں کو بھی ایسی قتل گاہوں میں روانہ کر دیتا ہے جہاں سے زندہ واپسی کا کوئی امکان اور سامان نہیں ہوتا۔ امریکہ کی بھتہ خوری کی تازہ ترین مثالوں میں عراقی اور لیبائی بلیک گولڈ تیل کے لامتناہی ذخائر پر قبضہ کرنا ہے۔ افغانستان سے سونا، چاندی، جپسم اور دیگر قیمتی دھاتیں بھی عالمی تھانیدار کی بھتہ خوری کی نذر ہو رہی ہیں۔ اکثر عرب ممالک کو اس نے بلیک میل کرکے فوجی خدمات کے عوض ان کے وسائل پر قبضہ کیا ہے۔ پاکستان کو وہ پانچ ہزار ڈالر فی کنٹینر خرچہ دینے سے انکاری ہے دوسری طرف عرب مالک کو ایک بندوق بھی ہزاروں ڈالر میں فروخت کرتا ہے۔ افغانستان میں امریکہ و نیٹو کی موجودگی پاکستان کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ۔ وہ نیٹو سپلائی کی بحالی کے لیے پاکستان کے سامنے کب کا گھٹنے ٹیک چکا ہوتا لیکن ہمارے حکمرانوں کی کمیشنی جبلت اور ڈالر سمیٹنے کی رعلت کے باعث سپلائی مکمل طور پر بند ہی نہیں کی گئی۔ نہ صرف پہلے روز سے فضائی سپلائی جاری ہے بلکہ کئی بہانوں سے جزوی طور پر زمینی سپلائی بھی چلتی رہی ہے۔ حکمرانوں کے لالچ اور ذاتی مفادات کے تحفظ کے باعث پاکستان کی پوری دنیا میں تذلیل ہو رہی ہے۔ اسی سبب پاکستان کی خارجہ پالیسی بھی ناکام ہے۔ جب تک حقیقت میں قومی خودمختاری اور عزت کا احساس نہیں جاگتا خارجہ پالیسی ناکام رہے گی اور عظیم تر پاکستان دنیا کی نظر میں بے وقار ہوتا رہے گا۔ آج حکمران نیٹو سپلائی کی فوری بحالی کے لیے بالکل آمادہ نظر آتے ہیں جسے پنجابی میںکہتے ہیں( چور نالوں پانڈ کالی)۔لیکن پاک فوج اس پر پہلے روز کی طرح ڈٹی ہوئی ہے اور اس کے موقف میں کوئی فرق نہیں آیا اب شاید حکومت امریکہ کو شکایت کر رہی ہے کہ فوج کا کچھ کریں۔ جس طرح میمو میں اپنی بے بسی کا اظہار کیا گیا تھا۔کیا حکمران چاہتے ہیں کہ خارجہ پالیسی فوج اپنے ہاتھ میں لے۔یقینا نیٹو سپلائی پر فوج کا موقف عوامی امنگوں کا ترجمان ہے لیکن حکمران یہ بھی یاد رکھیں کہ وہ اگر خارجہ پالیسی اپنے ہاتھ لیتی ہے تو وہ سب کچھ کیوں نہ ہاتھ میں لے جو بگاڑ اور پستی کا شکار ہے۔ ہماری ناکام خارجہ پالیسی کی وجہ ہے کہ خطے کے تمام ممالک نے پاکستان کو اپنے اپنے کھیل کا میدان بنا لیا ہے یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کا ایک نیب وزیر کسی وقت پاکستان آ کر ڈانٹ ڈپٹ کر چلا جاتا ہے۔ ہمارا چین دوست دوستی کا رعب جھاڑ کر اپنے تابع رکھنا چاہتا ہے۔ ایران سے مسلکی بنیاد پر کچھ غلط فہمیاں موجود ہیں اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ گوادر اور دیگر مفادات بشمول بلوچستان ایک نئے تنائو کی کیفیت موجود ہے۔ ترکی کا کوئی بھی وزیرپاکستان کے معاملات میں ایمپائر بننے کی کوشش ضرور کرتے ہیں۔ اور کبھی بھارت اسرائیل کے ساتھ مل کر وطن پاکستان کو دنیا بھر میں رسوا اور تنہا کرنے کی کوئی بھی کسر نہیں چھوڑتا۔ اور تو اور ’’کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ‘‘ افغانستان کے صدر حامد کرزئی کا بھی دل کرتا ہے کہ وہ پاکستان کو آنکھیں دکھا سکے۔ جبکہ ہمارا حکمران طبقہ کبھی استنبول اور جدہ کے طواف کرتا ہے کبھی لندن، واشنگٹن یاترا کرکے عوام کو مرعوب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پتہ نہیں مگر وطن عزیز کے خلاف عالمی دنیا میں ایک ایسا جال بُنا جا رہاہے جس کے حصار سے نکلنا ناممکن بھی ہے اور مشکل بھی۔ خدا کرے ہماری قوم کو باصلاحیت ، بے خوف قیادت مل جائے اور وہ اس قوم کی بھاگ دوڑ اپنے ہاتھ میں لے لے۔ جبکہ امریکی قیادت نے اس وقت پاکستان کو بڑھ چڑھ کر ڈانٹنا جھڑکنا شروع کر دیا ہے، لگتا ہے ڈیموکریٹ اور ری پبلکن نے اپنی اپنی الیکشن کمپین میں پاکستان کی مخالفت کرنا اپنے اپنے منشور کا حصہ بنا لیا ہے تاکہ اسرائیل اور بھارت کو خوش کیاجا سکے۔ اگر ہم نے اپنی ناکام خارجہ پالیسی کی تصحیح نہ کی تو الٹا چور کوتوال کو ڈانٹتا رہے گا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus