×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
حکومت کے غیرملکی دورے۔تنقید اور نتائج
Dated: 16-Nov-2008
18فروری 2008ء کو ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں اتحادی حکومت نے اقتدار سنبھالا تو اسے بے شمار مسائل اور بحران ورثے میں ملے۔ یہ دراصل مارشل لاء سے جمہوری حکومت کو اقتدار کی منتقلی تھی۔ نئی حکومت کے لیے سب سے بڑا مسئلہ خود جنرل (ر) پرویز مشرف تھے جنہوں نے جمہوری حکومت کو اقتدار کی منتقلی کے پہلے دن سے ہی غیرمستحکم کرنے کی سازش نما کوششیں شروع کر دی تھیں۔ اس لیے ان سے چھٹکارہ حاصل کرنا ضروری تھا۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی بصیرت سے پرویز مشرف کو آرمی چیف کا عہدہ چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔ صدارت سے ہٹانے کے لیے آصف زرداری، میاں نواز شریف،اسفند یارولی اور مولانا فضل الرحمن کے صرف عزم کی ضرورت تھی جب جمہوری قوتوں نے عزم کا اظہار کیا تو پرویز مشرف کو استعفیٰ دینا ہی پڑا۔ جمہوری حکومت کو اصل اقتدار جنرل (ر) پرویز مشرف کے صدارت سے استعفیٰ کے بعد ہی منتقل ہوا۔ پرویز مشرف اپنے عہدہ صدارت کے آخری دنوں میں اعتراف کرتے تھے کہ معاشی صورتحال جولائی 2007ء کے بعد سے بگڑنا شروع ہوئی۔ لہٰذا وہ موسمی سیاستدان جو چیخ چیخ کر واویلا مچا رہے ہیں اور موجودہ حکومت پر معاشی بحران کے حوالے سے الزامات لگا رہے ہیں پرویز مشرف کے اعترافات سے ان کے الزامات کی نفی ہوتی ہے۔ پرویز مشرف اور ان کے حواریوں نے ملک کو معاشی طور پر تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا تھا۔اوپر سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی دلدل میں بھی ملک کو پھنسا دیا گیا۔ (یک نہ شد دو شد)ایک طرف جمہوری حکومت کو وراثت میں مسائل اور بحران سے دوسری طرف عالمی منظرنامہ بھی نئی حکومت کے لیے کوئی اچھا شگون ثابت نہیں ہو رہا تھا۔ تیل کی قیمت برق رفتاری سے 160ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی جس کی وجہ سے پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ ناگزیر ہو گیا۔ قوم نے ایثار سے کام لیا اور پٹرول کی 87روپے فی لیٹر قیمت برداشت کی۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا طوفان آنا ہی تھا۔ ڈالر کی قیمت بھی بڑھنا تھی اس طرح صرف پٹرول کی قیمت بڑھنے سے زراعت اور انرجی کرائسس شروع ہو گئے۔ نئی حکومت کو اپنے پائوں جمانے کے لیے کچھ وقت درکار تھا جبکہ دوسری طرف پائوں کے نیچے زمین ہی نہ تھی اس لیے عوام اور حکومت دونوں پریشان تھے کہ وہ اپنے اپنے منصب سے کس طرح عہدہ برآ ہوں۔ حکومت کے بدخواہ طعنہ زنی کر رہے تھے۔ حکومت کو پالیسیاں بنانے میں کچھ وقت لگا ایسے میں عالمی سطح پر بھی حالات کچھ سازگار ہوئے۔ تیل کی قیمتیں کم ہوئیں تو جمہوری حکومت نے بھی اس میں بتدریج کمی شروع کر دی۔ گذشتہ روز تیسری بارپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے۔بجلی کے نرخوں میں 450یونٹ کے استعمال تک 13فیصد کمی کی گئی ہے۔ یہ عام آدمی کے لیے فوری ریلیف ہے کیونکہ غریب آدمی تو 100یونٹ سے لے کر 450 یونٹ تک سے زیادہ کی بجلی ایفورڈ ہی نہیں کر سکتااس لیے یہ حکومت کی طرف سے ملک کے غریب طبقہ کے لیے ایک ریلیف پیکیج ہے۔گذشتہ دورے حکومت میں پاکستان کے عوام کو جس طرح کمپیوٹرائزڈ دھوکے دیئے جاتے رہے اس سے عام آدمی کے ذہن میں یہ تصور تھا کہ ملک کے اندر کوئی مسائل نہیں ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گذشتہ حکومت میں مہنگائی کے عالمی دبائو کے باوجود بھی صرف الیکشن کی وجہ سے قیمتوں میں ضروری اضافے کو نظرانداز کیا جس کی وجہ سے موجودہ حکومت کو مسائل کے انبار ورثے میں ملے۔ کیا موجودہ قیادت کے پاس کوئی ایسا الہ دین کا جن تھا جو بجلی کی تاروں کو بادلوں میں پھینک کر براہ راست بجلی پیدا کر لیتے ؟ مشرف حکومت اعلان کرتی رہی کہ بھاشاڈیم کی تعمیر شروع کر دی گئی ہے جبکہ یہ سفید جھوٹ ثابت ہوا۔ جمہوری حکومت نے فوری طور پر بھاشاڈیم کی تعمیر شروع کرنا کا علان کیا ہے۔ ساتھ ہی کالا باغ ڈیم کی تعمیر پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے بھی پھر سے کوششیں شروع کر دی گئیں ہیں۔ میں سمجھتا ہوں اس طرح ہم نہ صرف حقیقی منزل کی طرف چلنا شروع ہو گئے ہیں بلکہ ڈیموں کی تعمیر سے ہم زراعت کو فروغ دے سکیں گے۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ جمہوری حکومت کی طرف سے کسی بھی طرح جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے۔ قوم،ملک اور جمہوری حکومت پر سب سے بڑا ظلم ناجائز منی چینجرنے کیا۔ بجائے اس کے کہ وہ نئی حکومت کو معاشی بحران سے نکالنے کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرتے انہوں نے مرے کو اور مارنے کے مترادف اس ملک کی جڑیں کھوکھلی کرکے اس کی بنیادوں سے اینٹیں نکال کر دیارِ غیر بیچنا شروع کر دیا۔ ان ناسوروں نے اربوں روپے بیرون ممالک سمگل کرکے ملکی معیشت کو مزید دھچکا لگا دیا۔پاکستان کے ناعاقبت اندیش دوستوں نے اس ملک سے سرمایہ کاری کا رخ دیارِ غیر کی طرف موڑ دیا۔ جبکہ ملک کے اندر گوادر پراجیکٹ جو کہ مستقبل میں پاکستان کی معاشی اساس کی ضمانت ہے کو نظرانداز کرکے ملک کے اربوں ڈالر قریبی ہمسایہ ممالک میں سرمایہ کاری کی گئی جس سے ملک کی بنیادیں کھوکھلی ہو گئیں۔ اگر ان منی چینجرز کو کنٹرول کیا جاتا اور پالیسی بنا کر بینکوں کو مضبوط کیا جاتا تو آج یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتے۔ اب حکومت کو چاہیے کہ ناجائز کاروبار کرنے والے جو ٹیکس کی مد میں ایک کھوٹا سکہ بھی دینے کوتیار نہیں ایسے تمام نام نہاد منی چینجرز کو ایک ضابطہ اخلاق کے اندر لایا جائے اور وہ لاکھوں پاکستانی جو دیارِ غیر میں اپنے خون پسینے کی کمائی پاکستان بھیج کر پاکستان کی بنیادوں کو مضبوط کرنے میں لگے ہوئے ہیں ان کو لیگل طریقے سے اپنی کمائی ملک کے اندر بھیجنے کے انتظامات کیے جائیں۔ آج میڈیا مکمل طور پر آزاد ہے لیکن افسوس کہ مکمل طور پر غیرجانبدار نہیں۔ میڈیا کے بعض حلقوں کو جمہوری حکومت سے خدا واسطے کا بیر ہے۔ تنقید برائے اصلاح کے بجائے تنقید برائے تنقید کو معمول بنا لیا گیا ہے۔ حکومتی کارکردگی کا اعتراف نہ سہی حقائق سے آنکھیں چرانا اور ہر کام کی غلط تصویر پیش کرنے کو صحافتی دیانتداری نہیں کہا جا سکتا۔ بعض اینکر پرسنز اور کالم نگار صدر مملکت جناب آصف علی زرداری کے غیرملکی دوروں کو حرف تنقید بنا رہے ہیں۔ حالانکہ صدرآصف زرداری اور سابق صدر پرویز مشرف کے دوروں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ وہ سرکاری خرچے پر تین تین سو لوگوں کے جتھے چارٹرڈ جہازمیں لے جاتے تھے۔ صدر مملکت جناب آصف علی زرداری نے منصب سنبھالنے کے چند ہی دنوں بعد یو این او کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کیا تو ہر طرف واویلا مچا دیا گیا کہ صدر کو پہلے چین جانا چاہیے تھا حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ یو این او کا صدر مقام امریکہ میں ہے اس لیے اس کانفرنس میں شرکت کے لیے امریکہ جانا ضروری تھا جبکہ حکومت نے واضح طور پر کہہ بھی دیا کہ پہلا سرکاری دورہ چین کا کیا جائے گا۔اپنے پہلے دورے میں صدرمملکت صرف چند ساتھیوں کو ساتھ لے کر امریکہ گئے جن میں سے اکثر کا خرچ اپنی جیب سے ادا کیا اس کے بعد چین کے دورے میں بھی بھاری بھرکم وفد کی بجائے ضرورت کے لوگوں کو ساتھ لے جایا گیا۔ اور اب سعودی عرب میں بھی صرف سرکاری وفد میں شامل ان لوگوں کو کیا گیا جن کی وہاں پر معاہدوں کے لیے ضرورت تھی۔جبکہ ملک کے کونے کونے سے صحافیوں،دوستوں اور خیرخواہوں کو ایک علیحدہ چارٹرڈ جہاز سے عمرہ کے لیے لے جایا گیاجس کا مقصد شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی روح کے ایصال ثواب کے لیے تھا۔اور اس سلسلے میں سارا خرچہ جناب صدرمملکت آصف علی زرداری صاحب نے اپنی جیب سے ادا کیا۔صدرمملکت جناب آصف علی زرداری صاحب نے پہلا دورہ چین کا کیا تھا اس پر بھی تنقید کی گئی پھر کہا جاتا تھا کہ وہ سعودی عرب نہیں جا رہے جس سے سعودی حکمران ناراض ہو جائیں گے وہ سعودی عرب گئے تو پھر تنقید کی گئی۔ صدرمملکت کے موجودہ دورہ امریکہ کو بعض لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ وہ امریکہ کے نئے صدر اوباما کو مبارک باد دینے کے لیے گئے ہیں حالانکہ وہ بین المذاہب کانفرنس میں شرکت کے لیے امریکہ گئے ہیں دراصل یہ بین المذاہب کانفرنس سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ کے مشورے سے یو این او کے تعاون سے منعقد کی گئی تھی جس میں یو این او کے قریباً تمام ہی ممبر ممالک نے شرکت کی۔ اس میں پاکستان کے صدرمملکت کو بھی دعوت تھی۔ کیا صدرمملکت غیرملکی سربراہان مملکت کی دعوتوں کو ٹھکرانا شروع کر دیں اور ایک الگ تھلگ حجرے میں مقیم ہو جائیں؟ یہ دنیا ایک گلوبل ولیج ہے جہاں سربراہانِ مملکت اور وفود کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ دورے سیروتفریح کے لیے نہیں دوسرے ممالک کی دعوت اور ملکی مفاد میں معاہدوں کے لیے کیے جاتے ہیں۔ کیا عالمی برادری کو یہ کہا جا سکتا تھا کہ صدر پاکستان خرچے کی وجہ سے آپ کے دورے کی دعوت کو قبول نہیں کر سکتے؟ایسا کہنے اور کرنے سے کوئی بھی ملک گلوبل ولیج سے الگ تھلگ ہو جاتا ہے جو کہ آج کے دور میں ممکن نہیں کہ آپ ایک دو اینٹ کی علیحدہ مسجد بنا کر بیٹھ جائیں۔ آج یہ دنیا ایک بین الاقوامی برادری کی حیثیت رکھتی ہے کیا ہم ایسا کرنے کی پوزیشن میں ہیں کہ خود نہ جائیں اور اپنی ضرورتوں کے لیے غیرملکی وفود اور سربراہان مملکت کو دعوتیں دیں؟یہ سودا بھی ہمیں مہنگا پڑے گا کیونکہ جانے پر اتنا خرچہ نہیں آتا جتنا مہمانوں کو بلا کر گھر میں ان کی خاطر تواضع کرنے پر آتا ہے۔اگر پاکستان کا تمام پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا ایک مثبت سوچ لے کر تعمیر پاکستان کے لیے اپنی ذاتی خواہشوں اور پسند نا پسند کو ایک طرف کرکے مردِ جمہوریت مجید نظامی کی طرح سوچنا شروع کر دیں تو یقینا یہ ایک بہت بڑی خدمت ہو گی جس کی اس وقت پاکستا ن کی نظریاتی اساس کو مضبوط کرنے کے لیے اشد ضرورت ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus