×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
صدرِ مملکت اپنے وکلا کی بلیک میلنگ میں نہ آئیں
Dated: 23-Jun-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com سید یوسف رضا گیلانی توہین عدالت کیس میں محض 30سیکنڈ کی سزا پانے کے بعد نااہل ہو گئے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق این آر او کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد سوئٹزرلینڈ میں صدر مملکت جناب آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات کھولنے کے لیے خط لکھنے سے انکار کر دیا تھا۔ پاکستان پیپلزپارٹی آج نیا وزیراعظم لا رہی ہے۔ صدر مملکت جناب آصف علی زرداری نے پھر کہا ہے کہ نیا وزیراعظم بھی شہید بی بی کی قبر کا ٹرائل نہیں ہونے دے گا۔ گویا صدر صاحب کی طرف سے عندیہ دے دیا گیا ہے کہ نیا وزیراعظم بھی سوئس حکام کو خط نہیں لکھے گا۔ اس کی پاداش میں یقینا وہ بھی یوسف رضا گیلانی جیسے انجام سے ہی دوچار ہوگا بلکہ اس سے بھی شاید کچھ بڑھ کر۔ اس کے بعد بھی یہ سلسلہ رُکتا دکھائی نہیں دیتا۔ تاآنکہ سوئس حکام کو خط لکھ نہیں دیا جاتا۔ یہ میری سمجھ سے بالا ہے کہ خط لکھنے میں آخر حرج ہی کیا؟ خط لکھنے سے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی قبر کا ٹرائل ہوگا نہ صدرِ مملکت جناب آصف علی زرداری پر کوئی حرف آئے گا۔ میں گذشتہ 28سال سے سوئٹزر لینڈ میں ہوں۔ مجھ سے بہتر سوئس قوانین، اصولوں اور ضوابط کو وہاں سے ہزاروں میل دور بیٹھے لوگ نہیں سمجھ سکتے۔ مجھے محترمہ بے نظیر بھٹوشہید نے سوئٹزرلینڈ کی عدالتوں میں دائر تمام مقدمات میں مکمل طور پر پاور آف اٹارنی دی تھی۔ میں ان مقدمات کی پیروی کرتا رہا ہوں۔ ان میں کچھ بھی نہیںہے۔ وکیل سوئٹزرلینڈ کا ہو، انگلینڈ کا ،یاپاکستان کا، سب کی نفسیات ایک جیسی ہوتی ہے۔ کلائنٹ سے پیسے نکلوانے کے لیے اس کو خوفزدہ کرتے اور جذباتی بلیک تک بھی کر جاتے ہیں۔ محترمہ کو یہی ہتھکنڈے استعمال کرکے وکیلوں نے خوب، خوب لوٹا ۔ سوئٹزر لینڈ کے ایک وکیل نے محترمہ سے کہا کہ اس کو مذکورہ کیسوں کے حوالے سے دھمکیاں مل رہی ہیں۔ بچوں کو اغوا کیے جانے کا خطرہ ہے۔ مجھے اب بچوں کے لیے الگ گاڑی اور ڈرائیور بھی چاہیے۔محترمہ نے اس کی Emotional black mailing میں آ کر اسے جتنی رقم چاہیے تھی دے دی۔ حالانکہ سوئٹزرلینڈ میں دیگر کئی یورپی ممالک کی طرح ڈرائیور کا تصور تک نہیں۔ ان کے وزراء اور وزیراعظم تک سائیکل پر دفاتر آتے ہیں۔ اغوا کا لفظ نہ جانے سوئس وکیل نے کہاں سے سن لیا؟ مجھے یاد ہے کہ محترمہ نے مجھے کسی اچھے جیورسٹ سے کیس پر رائے لینے کے لیے کہا میں نے معروف جیورسٹ Mr. Remy Buttz سے محترمہ کے وکیل فاروق ایچ نائیک سے ملاقات کرا دی۔ جنہوں نے پورا کیس سٹڈی کے لیےRemy Buttz کے حوالے کر دیا۔ ان کی رائے تھی کہ لگتا ہے محترمہ کے وکیل ان کا ماس تک نوچ ڈالنا چاہتے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ میں مال بنانے، محترمہ کو خوفزدہ کرنے میں سوئٹزرلینڈا ور انگلینڈ کے وکلا نے جو کردار ادا کیا وہی پاکستان میں محترمہ اور صدرِ مملکت جناب آصف علی زرداری کے وکیل کرتے رہے اور بدستور کر رہے ہیں۔ لگتا ہے کہ وہ مراعات کیس لڑکر نہیں بلکہ ان کو خوفزدہ کرکے لیتے ہیں۔ یہی حربے استعمال کرکے لطیف خان کھوسہ پہلے اٹارنی جنرل بنے پھر گورنر پنجاب، بابر اعوان کو وزیر قانون بنایا گیا پھر پارٹی میں نائب صدر کا خصوصی عہدہ ان کے لیے تخلیق کیا گیایہ الگ بات ہے کہ کردنی یا ناکردنی کے باعث آج کل وہ معتوب ہیں، اعتزاز احسن چھلانگیں مارتے مارتے آج سینیٹر ہیں کل ہو سکتا ہے کہ نگران وزیراعظم بن جائیں۔ فاروق ایچ نائیک کا وزیر قانون اور چیئرمین سینیٹ بننابھی ایسے ہی ’’وکیلانے کردار‘‘ کی مرہون منت ہے۔ یہ لوگ اپنی کارکردگی دکھا کر نہیں باتوں کا ’’کھٹیا‘‘ کھا رہے ہیں۔ سوئس حکام کو خط لکھنے کی راہ میں یہی رکاوٹ ہیں تاکہ ان کے تیل پانی کا ذریعہ چلتا رہے۔ میں چونکہ پہلے روز سے ان کیسوں سے وابستہ اور سوئس قوانین سے واقف ہوں اس لیے پورے وثوق کے ساتھ کہتا ہوں کہ ان کیسز کے حوالے سے صدرِ مملکت جناب آصف علی زرداری بالکل محفوظ ہیں۔ اگر آج سوئس حکام کو خط لکھ دیا جائے تو سوئس عدالتوں اور حکام نے پاکستانی قوانین اور پاکستانی عدالتوں کے احکام کی بجا آوری میں کچھ نہیں کرنا بلکہ وہ اپنے قوانین کے مطابق کارروائی کرتے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ کے قوانین کے مطابق کسی بھی ملک کے صدر کو استثنیٰ حاصل ہے۔ اس لیے صدرِ مملکت جناب آصف علی زرداری کے حوالے سے کوئی مقدمہ ان کی صدارت کے دوران نہیں کھل سکتا۔ دوسرے ان بینکوں کی ساکھ ہی معاملات کو خفیہ رکھنا ہے۔ وہ صدرِ مملکت جناب آصف علی زرداری کے اکائونٹس اور ان میں پڑی رقم، اگر ہے تو پاکستانی حکومت کے حوالے کرکے پوری دنیا میں اپنی ساکھ اور اعتبار مجروح نہیں کر سکتے۔ تیسری بات یہ ہے کہ پاکستان میں 60سے 80فیصد ادویات اور ٹیکسٹائل مشینری سوئٹزرلینڈ سے درآمد ہوتی ہے۔ سوئس حکومت بھی نہیں چاہے گی کہ وہ موجودہ صدر کے خلاف کوئی ایسی کارروائی کرے جس سے اس کی اپنی مارکیٹ متاثر ہو۔ میں گارنٹی دیتا ہوں کہ سوئس حکام کو صدر مملکت اپنے وکیلوں کی بلیک میلنگ سے باہر نکل کر خط لکھ دیں۔ ان کا بال بھی بیکا نہیں ہوگا۔دوسری صورت میں انہوں نے ایک وزیراعظم کو گنوا دیا دوسرے کی قربانی تیار ہے اور پھر چل سو چل۔ایسا کرنے سے سسٹم کا بیڑا غرق ہوگا۔ ملک تو پہلے ہی کئی قسم کے بحران میں پھنسا ہے وہ مزید بحرانوں کی دلدل میں دھنستا چلا جائے گا۔ آئندہ الیکشن سر پر ہیں۔ ایک کے بعد دوسرا وزیراعظم اور پھر تیسرا گیا تو پارٹی کی مقبولیت شدید متاثر ہو سکتی ہے جبکہ ضرورت پارٹی کو مضبوط اور مستحکم کرنے کی ہے۔ وہ اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ پیپلزپارٹی کی حکومت اداروں کو تصادم سے بچائے اور یکسو ہو کر عوام کی خدمت کرے۔ جس کی راہ میں آج سب سے بڑی رکاوٹ سوئس حکام کو خط نہ لکھنا ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus