×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
وزیراعظم راجہ کے پاس دامن پر لگے داغ دھونے کا بہترین موقع ہے
Dated: 11-Aug-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com سپریم کورٹ نے توہین عدالت پر وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو فردِ جرم کے لیے 27اگست کو طلب کیا ہے۔ یہ وہی جرم ہے جس کی پاداش میں راجہ کے پیشرو سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نااہل ہو کر وزیراعظم ہائوس سے ملتان چلے گئے۔ راجہ کو بچانے کے لیے توہینِ عدالت قانون لایا گیا جوسپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا۔ وزیراعظم راجہ کو اسی کیس کا سامنا ہے جس کے باعث گیلانی تاجِ سلطانی سے محروم ہوئے اور وہ وزیراعظم سے ایک بار پھر مجاور ملتانی بن گئے۔ این آر او کیس کا فیصلہ 17رکنی فل بنچ نے دیا تھا اس کو 17رکنی بنچ سے کم تر کوئی بنچ تبدیل نہیں کر سکتا۔ سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کا مطلب کسی بھی وزیراعظم کا وہی انجام ہے جس سے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی دوچار ہوئے اور راجہ پرویز اشرف کو وزیراعظم بننے کا موقع مل گیا۔ وزیراعظم بننا بڑا اعزاز ہے، خواہ چند روزہ ہی وزارتِ عظمیٰ کیوں نہ ہو۔ یہ اعزاز راجہ پرویز اشرف کو حاصل ہو گیا ہے اب ان کی نسلیں اس پر فخر کیا کریں گی۔ راجہ پرویز اشرف کی وزارت عظمیٰ میں ہفتہ ہفتہ یا دو دو ہفتے کی مہلت کا اضافہ ہو رہا ہے بالآخر ان کو اگر کوئی انقلابی تبدیلی نہ آ گئی تو اپنے پیشرو کی طرح نااہلی کا سامنا کرنا پڑے گا جس کے لیے وہ ذہنی طور پر تیار ہیں۔ اگر وہ نااہلی سے بچ جاتے ہیں تو بھی ان کے پاس وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ سات ماہ سے زیادہ عرصہ کے لیے نہیں ہے۔ موجودہ پارلیمنٹ اپنی آئینی مدت پوری کر لیتی ہے تو اگلے سال مارچ میں سات ماہ بعد انتخابات ہوں گے۔ ان انتخابات میں حکمران پارٹیوں کی اپنی کارکردگی اور عمران خان کے اٹھائے ہوئے طوفان کے باعث سرخرو ہونا آسان نہیں ہے۔ بالخصوص بحرانوں ،اعلیٰ سطح تک کرپشن کی داستانوں اور بجلی و گیس کی شدید قلت سے پیپلزپارٹی کی مقبولیت خاصی متاثر ہوئی ہے۔ اب عام الیکشن قریب ہیں مرکز میں تمام تر اختیارات پر دسترس کے باوجود پیپلزپارٹی عوامی امنگوں کے مطابق ڈلیور کرتی نظر نہیں آتی۔ آج پیپلزپارٹی کو اپنی ساکھ بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر راجہ پرویز اشرف کو کچھ پرانا قرض چکانا ہے اور کچھ آنے والے وقت کے لیے خود کو منوانا ہے۔ راجہ پرویز اشرف پانی و بجلی کے وزیر تھے تو انہوں نے آتے ہی کالاباغ ڈیم منصوبے کے خاتمے کا اعلان کیا۔ ساتھ ہی ایک مخصوص مدت میں بجلی کی قلت پر قابو پانے کے دعوے اور وعدے کرتے رہے۔ پھر رینٹل پاور منصوبوں میں بے قاعدگیوں میں بھی ان کا نام آنے لگا۔ گذشتہ سال کابینہ کا سائز مختصر کیا گیا توراجہ کوبھی دیگر درجنوں وزراء کی طرح کابینہ سے باہر بٹھا دیئے گئے۔ یوں لگتا تھا کہ راجہ اب پوری زندگی ماتھے پر داغِ ندامت سجائے سیاست کریں گے۔ لیکن ان کو قدرت کی طرف سے اپنے دامن پر لگے داغ مٹانے کا موقع ملا ہے۔ وہ وزارتِ عظمیٰ کے اعلیٰ ترین منصب پرہیں۔ وہ قوم کی بجلی کے بحران سے جان چھڑا سکتے ہیں۔ انہوں نے رمضان میں سحر و افطار میں بجلی کی لوڈشیڈنگ نہ کرنے کا اعلان کیا لیکن وہ بھی ان کے بجلی کی لوڈشیڈنگ کی ڈیڈلائن جیسا ہی ثابت ہوا جس سے ان کی مزید سبکی ہوئی۔ وہ اختیارات کے حوالے سے طاقتور وزیراعظم ہیں۔ 400ارب روپے کے سرکلر ڈیٹ سے قوم آگاہ ہے۔ تاہم ڈے ٹو ڈے نجی کمپنیوں کو ادائیگیوں اور سرکاری تھرمل پاور پلانٹس کو تیل کی بروقت فراہمی سے اپنی وزارت عظمیٰ کی مدت تک وہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا اہتمام کر سکتے ہیں۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ ہی آج ملک و قوم کا سب سے بڑا اور ہیجان خیز مسئلہ ہے۔ دو روز قبل واپڈا نے لاہور ہائیکورٹ میں جواب داخل کرایا کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے پاکستان کا کوئی علاقہ ڈوبے گا نہ بنجر ہوگا۔ ملک و قوم کے اس بہترین منصوبے کی مخالفت تکنیکی نہیں، سیاسی بنیاد پر ہوتی ہے۔ راجہ پرویز اشرف نے کالاباغ ڈیم منصوبے کو ترک کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس پر اتفاق رائے نہیں ہے۔ اب وزیراعظم ہیں وہ آسانی سے مشترکہ مفادات کی کونسل میں اتفاق رائے پیدا کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے اتحادیوں کے تحفظات دور کرنے کی پوزیشن میں بھی ہیں۔ یہ نیک کام بھی کر گزریں۔ کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے بجلی و پانی کا بحران بیک وقت ختم ہو جائے گا۔ یقینا وہ اور ان کا خاندان ایسی کرپشن میں ملوث نہیں ہے جو ان کے کچھ ساتھی سیاستدانوں کا طرئہ امتیاز رہا ہے۔ وہ کرپشن کے خاتمے کے لیے کمرکس لیں اور قوم کو اس سے نجات دلا دیں تو ریلوے، پی آئی اے اور سٹیل مل جیسے ادارے قوم و ملک کے لیے ایک بار پھر سونے کا انڈہ دینے والی مرغی بن سکتے ہیں۔ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے لیے وقت بہت کم اور چینلجز زیادہ ہیں البتہ وہ مختصر ترین وقت میں محنت ،جانفشانی اور دیانتداری سے کام کریں تو مذکورہ بحرانوں کا خاتمہ کرکے وہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اپنا نام روشن کرا سکتے ہیں۔ بات تھوڑے سے عزم، حوصلے اور ارادے کی ہے۔ کالاباغ ڈیم بن سکتا ہے ،کرپشن ،بدعنوانی اور لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہو سکتا ہے، ادارے درست سمت اختیار کر سکتے اور ملک ترقی اور قوم خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکتی ہے اور یہ سب ہو جائے تو وزیراعظم راجہ کا نام امر ہو سکتا ہے۔بس اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ وزیراعظم اپنے ارد گردسیاسی خواجہ سرائوں اورابن الوقت سیاسی مراثیوں کو جمع نہ ہونے دیں۔ اگر وزیراعظم ایسے خوشامدی لوگوں سے بچ گئے تو یقینا وہ ملک و قوم کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus