×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
پنجاب میں جیالا وزیراعلیٰ لانے کا خواب حقیقت بنے گا؟
Dated: 22-Sep-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com ذوالفقار علی بھٹو شہید کے چاہنے والوں اور جانثاروں کو جیالے کا نام دیا جاتا ہے۔ جیالے کے صحیح قدردان قائدعوام ذوالفقارعلی بھٹو اور ان کے بعد دُخترِ مشرق شہید محترمہ بے نظیر بھٹو تھیں۔ پیپلزپارٹی کے وجود میں آنے کے ساتھ ہی جیالے بھی منظرِ عام پر آ گئے۔ جیالوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے شانہ بشانہ ہو کر ان کے خیالات کو عملی جامہ پہنانے میں کراچی سے خیبر تک اپنا تن من دھن نچھاور کرنے سے دریغ نہیں کیا۔ یہ جیالے ہی تھے جو قائد عوام کو اقتدار کے ایوانوں تک لے گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بھی ان کو عزت دی، احترام دیا اور سیاست میں اعلیٰ مقام دیا۔ پھر جب ذوالفقار علی بھٹو پر بُرا وقت آیا تو جیالے بھٹو صاحب کی خاطر پھانسی کے پھندے سے جھولے، کوڑے کھائے، قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں اور اپنی اولاد سے دور رہ کر جلاوطنیاں کاٹیں۔ فوجی آمر جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کو پھانسی دی تو ہر جیالے نے سمجھا کہ گویا خوداس کو پھانسی لگ گئی ہے۔ طویل آمریت کے دوران جیالے زیر عتاب رہے تاآنکہ بھٹو کی بیٹی 1986ء میں جلاوطنی کے بعد وطن واپس آئیں تو پورا لاہور جیالوں سے بھرا ہوا تھا۔ ان کی تعداد ملینز میں تھی۔ ان کی طرف سے اپنے لیڈر کی بیٹی کا استقبال فقیدالمثال تھا۔ یہی جیالے آمریت کے دوران بھی محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ ان کے ہمقدم تھے۔ ان پر ہمہ وقت جان نچھاور کرنے پر آمادہ و مائل تھے اور جب آمریت اپنی موت آپ مری تو جیالے شہید محترمہ کو بڑے جوش و ولولے کے ساتھ اقتدار میں لے آئے۔ایک بار نہیں دو باراور پھر 2008ء میں تیسری بار محترمہ کے جان نشین اقتدار میں لے لائے۔ محترمہ نے بھی اپنے والد کی طرح جیالوں کا احترام کیااور ممکنہ حد تک ان کو سیاسی مقام دیا۔ لیکن افسوس کہ آج جیالے اپنی پارٹی کے اقتدار کے دوران پریشان ہیں۔گذشتہ ساڑھے چار سال میں بہت سے جیالوں کو دیوار سے لگا دیا گیا اور بہت سے جیالوں کو دیواروں میں چنوا دیا گیا ہے۔ اب اصلی جیالا ہاتھ میں چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔ توڈھونڈ اسے چراغِ رخِ زیبا لے کر اب جیالوں کی آبیاری بند کر دی گئی ہے اور نرسری ہی بند ہو جائے تو پھر گلشن و گلستان کی تمنا کیسی؟۔ زرداری صاحب ! آپ نے جن لوگوں کو بی بی کا قاتل کہا تھا ان سے ہی گلے مل رہے ہیں۔ جمہوریت خوبصورت ہے اور جمہوریت بہترین انتقام بھی ہے شائد جمہوریت اسی خوبصورتی کے باعث بی بی کے مبینہ قاتلوں کو ڈپٹی وزیراعظم اور دیگر عہدوں سے نوازا گیا۔ اسی جمہوریت کے حسن کا کرشمہ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے قاتل کے بیٹے کو کہیں پنجاب کا وزیراعلیٰ نامزد نہ کرا دے۔ آج چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الٰہی سب سے ’’بڑے جیالے‘‘ ہیں۔ مشرف کے دور میں جو لوگ اقتدار کے مزے لوٹتے رہے اور جو لوگ مشرف کے ساتھی رہے ان میں سے آدھے آج کابینہ میں ہیں اور دیگر عہدوں پر فائز ہیں۔ پرویز الٰہی ،حنا ربانی کھر، حفیظ شیخ، فواد چودھری، فردوس عاشق جیسے ’’مشرفیے ‘‘ آج پیپلزپارٹی کا ہراول دستہ ہیں۔ 35سال کے بعد پنجاب کو فتح کرنے کو خواب دیکھنے والی ہماری قیادت کو شاید زمینی حقائق کا کوئی اندازہ نہیں۔ کوئی شک نہیں کہ جیالا کسی دوسری پارٹی کو ووٹ نہیں دیتا مگر غصے اور جذبات کے اظہار کے طور پر جیالا پولنگ اسٹیشن بھی نہیں جاتا۔ قائدین کا یہی رویہ رہا تو اس دفعہ بھی جیالوں کو پولنگ اسٹیشن لے جایا نہیں جا سکے گا۔یہی نوشتہ دیوار ہے ‘ کوئی اسے پڑھے یا نہ پڑھے اس کی مرضی۔ صدر آصف علی زرداری نے گذشتہ ہفتے لاہور کے گورنرہائوس میں پنجاب پیپلزپارٹی کی قیادت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ پنجاب کا وزیراعلیٰ جیالا ہوگا۔ جس طرح سندھ میں جئے بھٹو کے نعرے لگتے ہیں اسی طرح لاہور کے وزیراعلیٰ ہائوس میں بھی جئے بھٹو کے نعرے لگیں گے۔ ہم جہاں پیپلزپارٹی کے آئندہ الیکشن میں کامیابی کے حوالے سے بحث میں نہیں پڑتے جو کارہائے پارٹی قیادت سرانجام دے رہی ہے وہ کسی سے مخفی نہیں ہم صدر صاحب کی اس خواہش پر بات کریں گے جو ان کے اندر لاہور کے وزیراعلیٰ ہائوس میں کسی جیالے کو لا بٹھانے کے حوالے سے پائی جاتی ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی پنجاب کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی تیاری کر چکی ہے۔(1) پنجاب (2)جنوبی پنجاب۔ پنجاب کے لیے پارٹی کی صدارت امتیاز صفدر وڑائچ اور جنوبی پنجاب کی مخدوم شہاب الدین کے پاس ہے۔ اگر ایک ہی صوبہ رہتا ہے تو ان دو میں سے آخر لاہور کے وزیراعلیٰ ہائوس میں کون بیٹھے گا؟ وڑائچ یا مخدوم؟ دو صوے بنا دیئے گئے توکیا واقعی لاہور کے وزیراعلیٰ ہائوس میں امتیاز صفدر وڑائچ اور ملتان میں مخدوم شہاب الدین براجمان ہوں گے یا چُوری تیار ہونے پر نئے میاں مٹھو آ جائیں گے؟ جس طرح آج جیالوں کو نظرانداز کرکے مشرف کے ساتھیوں کے سرپر ’’ہُما‘‘ بٹھا دیا گیا ہے۔ آخر پنجاب چودھریوں کے حوالے کرنے کا وعدہ بھی تو کر رکھا ہے ۔ وہ وعدہ ایفا ہوا تو پھر جیالے کو وزیر اعلیٰ بنانے کے خوب کا کیا بنے گا۔ کیا یہ بھی جیالوں کے لئے ایک جھانسا اور پر فریب جال تو نہیں ہے ؟۔۔۔وزیراعظم کے بعد سب سے بڑا عہدہ پرویز الٰہی کے پاس۔ فواد چودھری مشرف کا کل بھی دوست تھا آج بھی ہمدم ہے لیکن وہ پیپلزپارٹی کے ہم قدم ہے۔ پوری پارٹی سے ایک وزیرخزانہ اور ایک وزیر خارجہ بھی نہ مل سکا۔ یہ خلا پُر کرنے کے لیے یاجیالوں کو نااہل ثابت کرنے کے لیے حفیظ شیخ اور حنا ربانی کھر کو مشرف سے مستعار لینا پڑا۔ انتخابات سر پر ہیں۔ جیالے مایوس ہیں۔ ان کی ہمراہی کے بغیر پیپلزپارٹی کا اقتدار میں آنا ناممکن ہے۔ پارٹی قیادت آنکھیں وا کرے۔ اصلی جیالوں کو احترام دیں وہ آپ کو ایک بار پھر بلند ترین مقام پر لے جائیں گے۔ دوسری صورت میں ع موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus