×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
تیزی سے بدلتا ہوا سیاسی منظرنامہ
Dated: 06-Nov-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com صرف میں ہی نہیں وطن عزیز کے اٹھارہ کروڑ عوام اور اس خطے سے اس ملک سے تعلق رکھنے والا ہر ذی شعور انسان اس وقت ایک ہی سوچ اور اس کے ذہن میں بس ایک ہی سوال ہے کہ پاکستان کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا؟گذشتہ پونے پانچ سالوں میں اس ملک کے سیاستدانوں ،عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ غرضیکہ ہر کسی نے کچھ ایسی قلابازیاں کھائی ہیں کہ اب عوام کا کسی پہ اعتبار نہیں رہا۔کل کے دوست آج کے دشمن بن چکے ہیںاور کل تک جو قاتل تھے آج مظلوم اتحادی بنے بیٹھے ہیں۔ان حالات میں کوئی سیاسی پیشین گوئی نہیں کی جا سکتی مگر میں اپنے سیاسی تجربے کی بنیاد اور اردگرد رونما ہونے والے واقعات سے جو نتیجتاً اخذ کرتا ہوں وہ کچھ اس طرح ہے کہ اگلے سال الیکشن ہوئے تو پیپلزپارٹی اپنی انہی اتحادی جماعتوں کے ساتھ میدان میں اترے گی جن کے ساتھ اس نے گذشتہ دور میں اقتدار انجوائے کیا ہے۔اے این پی اور جمعیت علماء اسلام (متحدہ مجلس عمل)کے پاس سیاسی موسم میں کوئی آپشن نہیں رہ گئی کہ وہ پیپلزپارٹی کے علاوہ کسی اور کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلا سکیں۔جہاں تک ایم کیو ایم کا تعلق ہے پیپلزپارٹی نے اپنے دو صوبائی وزراء داخلہ ذوالفقار علی مرزا اور منظور وسان کی قربانی دے کر ایم کیو ایم کو اپنے ساتھ ہمیشہ کے لیے نتھی کر لیاہے۔اورگذشتہ صوبائی بلدیاتی آرڈیننس منظور کروا کے پیپلزپارٹی کی پکی حلیف بن چکی ہے۔سندھ بلدیاتی آرڈیننس کی ہی وجہ سے مسلم لیگ ن،تحریک انصاف کو موقع ملے گاکہ وہ سندھی قوم پرست جماعتوں کے ساتھ مل کر جن کا کہ سندھ کے دیہی علاقوں میں خاصا اثر ہے آئندہ الیکشن میں پیپلزپارٹی کو اندرون سندھ میں ٹف ٹائم دے سکیں۔ خاص طور پر پچھلے آٹھ ماہ سے میاں نوازشریف صاحب کے سندھ میں طوفانی دورے اس بات کے غماز ہیں کہ مسلم لیگ ن تخت لاہور کے پائے ہلانے والی قوتوںکو چین سے نہ بیٹھنے دے گی۔جبکہ مسلم لیگ ن نے ہزارہ، ایبٹ آباد سے گوہر ایوب کو پارٹی میں شامل کرکے پیپلزپارٹی ،اے این پی اور اتحادی جماعتوں کو ایک ’’چتائونی‘‘دی ہے۔ دوسری طرف مولانا فضل الرحمن نے ایم ایم اے کو دوبارہ تشکیل سے جماعت اسلامی کو نکال کر ایک طرف تو جماعت اسلامی کے دیگر راستے مسدود کر دیئے ہیں جبکہ اس حکمت عملی سے مسلم لیگ ن کو سیاسی تقویت ملے گی۔اور ایسا بھی ممکن ہے کہ مسلم لیگ ن کو سیاسی اکھاڑے میں اترنے کے لیے جس دینی سیاست جماعت کی ضرورت تھی وہ کسر جماعت اسلامی پوری کر دے ۔ویسے بھی جماعت اسلامی کا مسلم لیگ کے ساتھ فطری اتحاد بنتا ہے۔اور جماعت اسلامی کی پنجاب کے شہری انتخابی حلقوں میں اثرو رسوخ کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتااوروہ سیاسی نجومی جو یہ طے کیا بیٹھے ہیں کہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کو تحریک انصاف سے نقصان پہنچے گا۔جماعت اسلامی اور مسلم لیگ ن کے سیاسی اتحاد سے مسلم لیگ ن کے انتخابی نتائج پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گاجبکہ پیپلزپارٹی نے گذشتہ ماہ سنٹرل پنجاب سے اپنے پارٹی صدر امتیاز صفدر وڑائچ کو تبدیل کر دیا تھا اور اس کی جگہ ایک سابق مسلم لیگی وزیراعلیٰ جو کہ پیپلزپارٹی کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وزیراعلیٰ بننے میںکامیاب ہو گئے تھے۔یہی وجہ ہے کہ جیالوں کے ایک بڑے طبقہ کومیاں منظور وٹو کو پنجاب پیپلزپارٹی کے صدر کے روپ میں دیکھ کر کوئی زیادہ خوشی نہیںہوئی۔جبکہ پیپلزپارٹی پنجاب کو تنظیمی لحاظ سے دو حصوں میں تقسیم کرکے اپنی سیاسی شکست کا پہلے ہی اعتراف کر چکی ہے کیونکہ جیالوں کی ایک بڑی تعداد ’’اکھنڈا‘‘پنجاب کے فلسفے پر یقین رکھتی ہے۔اسی کے ساتھ مسلم لیگ ق جس کو گذشتہ سال 31اکتوبر کے عمران خان کے جلسے کے بعد سب سے زیادہ سیاسی نقصان ہوا تھااور اس کے 80فیصدسابقہ ٹکٹ ہولڈرز تحریک انصاف میں چلے گئے تھے کو جب صدر آصف علی زرداری صاحب نے پنجاب میں مشن سونپا تھاتو مسلم لیگ ق کے بہت سارے اڑے کبوترواپس آ گئے تھے۔میاں منظور وٹو کے پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر بنتے ہی ق لیگ کی قیادت اور ٹکٹ ہولڈرز کی صفوں میں مایوسی کی لہر پھیل گئی ہے۔اسی ناراضگی ہی کی وجہ سے گذشتہ روز گورنر ہائوس میں ہونے والی میٹنگ میں ق لیگ کی دوسرے درجے کی قیادت نے شرکت کی۔ ان حالات و واقعات کا قریب سے جائزہ لیں تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ الیکشن 2013ء سے پہلے سیاسی جماعتوں کے پاس بے شمار قلابازیاں کھانے کے مواقع موجود ہیں۔ایم کیو ایم، اے این پی،جمعیت علماء اسلام اور ق لیگ کا پیپلزپارٹی کے ساتھ انتخابی اتحاد پر تو اصرار ہے مگر ایک انتخابی نشان پر امیدوار کھڑا کرنے پر احترازاس بات کا ثبوت ہے کہ پیپلزپارٹی کی اتحادی جماعتوں نے کچھ آپشنز اپنے پاس بھی رکھے ہیں۔اور آئندہ الیکشن میں انتخابی نتائج کو دیکھتے ہوئے فیصلے کرنے کا موقع ہاتھ سے گنوانا نہیں چاہتے۔اور یہ بات قرین قیاس لگتی ہے کہ مسلم لیگ ق آئندہ الیکشن سے پہلے یا بعد میں مسلم لیگ ن کے ساتھ شراکت اقتدار کرکے بیٹھی ہوئی نظر آئے گی۔موجودہ سیاسی منظرنامے میں تحریک انصاف کے آئندہ کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اکیلی تحریک انصاف شاید کوئی بڑا معرکہ مارنے میں کامیاب نہ ہو۔لیکن مسلم لیگ ن اور جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر ایک نیا اتحاد سامنے آئے۔چونکہ سیاسی لحاظ سے ان تینوں جماعتوں کا مخالف پیپلزپارٹی اور اس کا انتخابی اتحاد ہے۔لہٰذا دشمن ایک ہونے کی صورت میں جماعت اسلامی، تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن الیکشن سے پہلے یا الیکشن کے بعد اکٹھی دیکھتی نظر آتی ہیں۔جبکہ پاکستان میں موجودہ لااینڈ آرڈر کی بگڑتی ہوئی صورت حال، مہنگائی کا طوفان بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ۔بدامنی کے ان حالات میں ایک تیسری قوت کئی لوگو ں کی امیدوں پر پانی پھیر سکتی ہے جبکہ کچھ لوگوں کے لیے یہ نیا سیاسی منظرنامہ اقتدار کی نوید ساتھ لے کر آ سکتا ہے۔آج ہونے والے امریکی الیکشن کے نتائج کے بعدصورت حال کافی حد تک واضح ہو جائے گی۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus