×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
یومِ تاسیس۔ جیالوں اور قیادت کے لیے لمحہ فکریہ!
Dated: 04-Dec-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com پیپلزپارٹی کے قیام کو 45سال ہو گئے۔ 30نومبر1967ء کو پاکستان میں بظاہر ایک سکوت تھا لیکن جمہوریت کے قیام کے لیے بے چین ترقی پسند مفکروں کی نوجوان نسل میں اضطراب کی کیفیت تھی۔ ایوبی آمریت کی طاقت اور جاہ و جلال اپنے عروج پر تھا۔ کسی بڑے طوفان کے پھوٹنے کے آثار اور علامات کو بہت کم لوگ پرکھ رہے تھے۔ سیاسی اور سماجی خاموشی میں گہرا شور بہت کم کانوں کو سنائی دے رہا تھا۔ ایک انقلابی بغاوت اور عوامی سرکشی کے لیے بہت کم امید اور تیاری تھی۔معاشرے پر حاوی دانش ور اور تجزیہ نگار کسی انقلابی تحریک کے امکان کو مسترد کر رہے تھے۔ لیکن پھر ایسے دو تین سو افراد نومبر کی اس آخری خنک صبح کو لاہور میں ایک نئی انقلابی پارٹی کی تخلیق کا عزم لیے اس کے تاسیسی اجلاس میں شرکت کے لیے جمع ہو رہے تھے۔ جابر ریاست ہر طرح سے ان کو روکنے کی کوشش اور ان کو ہراساں بھی کر رہے تھی، لیکن پھروہ اپنی اس جبر کی کاوش میں پوری طرح پرجوش اور پرعزم اس لیے نہیں تھی کیونکہ ریاست کے منطقی فلسفہ اور سوچ رکھنے والے مفکرین کو کوئی ایسا خطرہ ہی محسوس نہیں ہو رہا تھا کہ یہ تھوڑے سے افراد پر مبنی پارٹی اس ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی پارٹی بن جائے گی۔ لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر میں ہونے والے تاسیسی اجلاس پارٹی کے مقاصد طے کیے گئے۔ ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر میں تاسیسی اجلاس کا بھی ایک پس منظر ہے اس کے ذکر کے بغیر پیپلزپارٹی کے قیام کی کہانی مکمل نہیں ہو سکتی۔ یہ کہانی مجید نظامی صاحب بیان کرتے ہیں ان کی زبانی ملاحظہ فرمایئے: ’’معاہدہ تاشقند کے بعد جب وزیر خارجہ بھٹو صاحب کی ایوب خان نے چھٹی کرا دی تو وہ راولپنڈی جا کر اپنی سرکاری رہائش گاہ میں گوشہ نشین ہو گئے۔ میں اور سلہری صاحب مرحوم ان کے گھر پنڈی ملنے گئے۔ میرا مشن تو انہیں سیاست میں لانا تھا تاکہ وہ ایوب خان کے لیے مسئلہ بنیں اور ایوب خان کمزور ہو۔ سلہری صاحب کا مشن کچھ اور تھا۔ اس کا تعلق بعد میں مجھے پتہ چلا کہ کارخاص سے تھا۔ اس کے علاوہ بھٹو صاحب پر بورسٹل جیل لاہور میں مقدمہ چل رہا تھا۔ میں واحد ایڈیٹر تھا جو وہ مقدمہ سنا کرتا تھا۔ میری اور بھٹو صاحب کی لندن کے زمانے سے یاد اللہ تھی۔جہاں میں اپنے اخبار کی نمائندگی اور ساتھ ہی انٹرنیشنل افیئرز کا کورس اور گریزان میں بار ایٹ لاء کر رہا تھا، بھٹو صاحب پہلے وزیر سائنس تھے(شاید) پھر وہ وزیر خارجہ ہو گئے۔ بطور صحافی میرا پاکستان ہائی کمیشن ہر روز جانا ہوتا تھا، خبر کی تلاش میں۔ بھٹو صاحب میرے ہم عمر تھے اور بیرسٹر بھی۔ ان سے کافی گپ شپ رہتی۔ 62ء میں پاکستان واپس آ کر ان سے دوبارہ ملاقات ہوئی، وہ فلیٹی ہوٹل میں ٹھہرتے تھے۔ میرا دفتر شاہدین بلڈنگ میں تھا۔ نیچے ہیکوریستوران تھا۔ بھٹو صاحب وہاں آنے سے پہلے مجھے فون کر دیتے اور ہم وہاں بیٹھ کر چائے کافی کی پیالی پر گپ شپ کرتے۔کافی ہائوس بھی موقع ملتا تو جاتے۔ جس ٹرائل کا میں نے ذکر کیا ہے، بھٹو صاحب کو ان کی مجوزہ پارٹی کا مجوزہ مینی فیسٹو ملا۔ میں نے بھی دیکھا۔ اس میں لکھا تھا کہ سوشلزم ہماری معیشت ہو گا۔ میں نے کہا، بھٹو صاحب آپ تو ہمارا قبلہ مکہ کے بجائے ماسکو کی طرف لے جائیں گے۔انہوں نے مسودہ کے مصنف جے اے رحیم سفیر پاکستان مقیم پیرس کو گالی دی اور کہا میں سب ٹھیک کر دوں گا لیکن انہوں نے نوٹ کیا کہ میں سوشلزم کے خلاف ہوں۔یہ حقیقت بھی ہے کہ میں بڑا سخت اینٹی کمیونسٹ تھا۔ اب تو کمیونزم روس میں بھی ختم ہو چکا ہے۔ روس کے ٹکڑے ٹکڑے ہو چکے ہیں۔ چین میں بھی کمیونزم اگر کہیں ہے بھی تو برائے نام۔ چینی بھائیوں نے بند گلے کا کوٹ بھی اتار دیا ہے۔ اب آیئے وائی ایم سی اے ہال لاہور میں حمید نظامی مرحوم کے برسی کے جلسے کی طرف۔ پنڈی سے واپس آنے کے کچھ دنوں بعد یہ جلسہ آ گیا۔ میں نے فوراً بھٹو صاحب کو اس جلسے کی صدارت پیش کرکے سیاسی طور پر لانچ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ وزارت سے چھٹی کے بعد یہ ان کا پہلا فنکشن یا پہلی رونمائی تھی۔ وائی ایم سی اے ہال بھرا ہوا تھا، بال کے سامنے چھت کا صحن بھرا ہوا،سیڑھیاں بھری ہوئیں یعنی سامنے مال روڈ پیکڈ تھی، نیلے گنبد کو جانے والی سڑک بھری ہوئی تھی۔ جلسہ ختم ہوا تو انہیں بانس کی سیڑھی لگا کر اتارنا پڑا۔ مبشر حسن ،ڈاکٹر شبرحسن کے چھوٹے بھائی ہیں۔ شبر حسن حمید نظامی صاحب کے اس زمانے کے دوچار دوستوں میں سے تھے۔ میں نے ڈاکٹر مبشر حسن سے کہا کہ آپ امریکہ سے نئی شیورلیٹ لائے ہیں، بھٹو صاحب کو فلیٹی ہوٹل پہنچا دیں۔ اگلے روز وہ میرے پاس آئے اور کہا، مجید مجھے بھٹوکے نام خط دو، میں نے ملنا ہے۔ وہ میرا خط لے کر ان سے ملے اور پھر ایسا چکر چلایا کہ گلبرگ میں ڈاکٹر شبر اور اپنے مشترکہ گھر میں پی پی پی کا تاسیسی کنونشن بلایا،خودسیکرٹری جنرل بنے اور بعد میں پی پی پی حکومت کے وزیر خزانہ بنے۔ بھٹو صاحب جب تک زندہ رہے، ان کی اور میری ملاقات کا سلسلہ جاری رہا۔ اختلافات رائے بھی تھا۔ دوستی بھی تھی۔ حق مغفرت کرے، عجیب آزاد مردتھا۔ بھٹو صاحب کے ساتھ میرے ہی نہیں، شورش صاحب کے تعلقات بھی تادم مرگ قائم رہے۔‘‘ ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر معرض وجود میں آنے والی پارٹی دنوں میں پھلی پھولی اور اپنے قیام کے محض تین سال بعد اس نے مغربی پاکستان میں کلین سویپ کیا۔ پاکستان دولخت 70ء کے الیکشن کے باعث ہوا یا اس کی وجہ ایوبی آمریت تھی اس پر بہت کچھ کہا جا چکا ہے۔ بہرحال اس روح فرسا سانحہ کے بعد پاکستان کی زمام اقتدار ذوالفقار علی بھٹو کے ہاتھ میں تھما دی گئی۔ ذوالفقار علی بھٹو یقینا ایک طلسماتی شخصیت تھے۔ دسمبر 1971ء میں بھٹو صاحب اقتدار کی مسند پر جلوہ افروز ہوئے۔ ان کو کٹا بھنا پاکستان ملا تھا،اس وقت معیشت ڈوبی ہوئی اور 93ہزار پاکستانی فوجی اور سویلین بھارت کی قید میں تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بڑے سلیقے اور تدبر سے پاکستان کی رفوگری کی۔ جنگی قیدیوںکوواپس لائے وہ بھی بڑے آبرومندانہ طریقے سے ۔ پاکستان کو متفقہ آئین دیا، اسلامی بینک کی بنیاد رکھی،اسلامی سربراہی کانفرنس کا لاہور میں اجلاس بلا کر مسلم امہ کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی۔ قادیانیوں کو اقلیت قرار دے کر دیرینہ مسئلہ حل کر دیا جو فرقہ ورانہ فسادات کا سبب بنتا چلا آ رہا تھا۔ مزدور کو اپنا حق مانگنے کا طریقہ سکھایا۔ عوام میں سیاسی شعور بیدار کیا۔ بیرونی ممالک وسیع تر روزگار کے مواقع پیدا کیے۔ تعلیمی شعبے میں انقلابی تبدیلیاں کیں۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے کارناموں کی فہرست طویل ہے۔ قیام پاکستان کے بعد آج تک تمام حکمرانوں کی کارکردگی ایک طرف ،بھٹو صاحب کی دوسری طرف، ان سب پر بھاری پڑ جاتی ہے۔ انہوں نے ورکر کو اس کا صحیح مقام دیا۔ ورکر پر اعتماد کیا تو ورکر نے انہیں سرآنکھوں پر بٹھایا اور ان کو تخت تک لے گئے۔ بالآخر وہ بھی جاگیرداروں کے نرغے میں آئے جو بھٹو صاحب کو تخت سے تختے تک لے گئے۔ پھانسی کے پھندے سے جھول جانے کے باوجود بھٹو اپنے چاہنے والوں کے دل میں زندہ رہا۔ آمریت کے بادل چھٹے ،جیالوں کو اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملا تو بھٹو کی تصویر دخترِ مشرق محترمہ بینظیر بھٹو کو اقتدار میں لے آئے۔ ایک مرتبہ نہیں دو مرتبہ، یہ الگ بات ہے کہ محترمہ کو ایک بار بھی اپنی ٹرم پوری کرنے نہیں دی گئی۔ بہرحال محترمہ کو جتنا بھی اقتدارمیں رہنے کا موقع ملا وہ جیالوں کو عزت سے نوازتی رہیں۔ جیالے کچھ نہیں مانگتے اپنی قربانیوں کا صلہ نہ اپنے بہائے گئے خون پسینے کا معاوضہ وہ صرف عزت چاہتے ہیں، وقار چاہتے ہیں جو محترمہ ان کو دیتی رہیں۔ پھر محترمہ کو بھی شہید کر دیا گیا تو ایک بار پھر جیالوں نے شہیدوں سے وفا کا حق ادا کر دیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے نامزدکردہ امیدواروں کو کامیاب کرانے میں دن رات ایک کر دیا، جس کے نتیجے میں 18فروری 2008ء کے الیکشن میں پاکستان پیپلزپارٹی ملک کی سب بڑی پارٹی بن کر ابھری اور اقتدار اس کی جھولی میں آ گرا۔ قیادت ایسے لوگوں کے ہاتھ آ گئی جس کی پالیسیوں کے باعث اسے پارٹی رہنما اسے جیالا کُش کہنے پر مجبور ہیں۔بے نظیر بھٹو کے بعد جائزہ لیا جائے کہ پارٹی نے کیا کھویا اور کیا پایا تو کھویا کھویا ہی نظر آتا ہے۔ اگر کسی چیز کی بہتات ہے تو سرِ فہرست کرپشن ہے۔ جس کے باعث بہت سے لوگ پارٹی چھوڑ گئے۔ جو پارٹی میں موجود ہیں وہ کرپٹ ہو گئے یا خاموشی سے ایک طرف بیٹھ گئے۔ پارٹی کے نامہ اعمال میں سب سے بڑا کارنامہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ہے اس پر سالانہ 80ارب روپے خرچ ہوتے ہیں۔ اس میں سے کچھ رقم تو براہ راست جیبوں میں چلی جاتی ہے باقی مستحقین کو ماہانہ ایک ہزار روپیہ دے کر حاتم طائی کی قبر پر ٹانگ رسید کی جاتی ہے۔ غریبوں کو باوقار روزگار دینے کے بجائے ان کو بھکاری ہونے کا احساس دلایا جا رہا ہے۔ ایک ہزار روپے میں تو ایک من آٹا بھی نہیں آتا۔ کیا بہتر تھا کہ اس پروگرام کی رقم سے ملک میں فیکٹریاں او رکارخانے قائم کر دیئے جاتے۔ ایک ارب روپے کی لاگت سے قائم ہونے والی فیکٹری میں دس ہزار مزدوروں کو روزگار ملتا ہے۔ ہر سال 80فیکٹریاں لگتیں تو پانچ سال میں 400لگ چکی ہوتیں جن میں 40لاکھ مزدور اپنی روزی کما رہے ہوتے۔ اس طرف کسی کا دھیان نہیں۔ بڑے بڑوں کو اپنے مفادات کی فکر ہے۔ گیلانی صاحب اپنی فیملی کو ساتھ ملا کر 500ارب روپے کما کر سرخرو ٹھہرے، راجہ وزیراعظم بننے سے قبل واپڈا کے 40ارب پر ہاتھ صاف کرگئے۔ اوگرا کا ایک سربراہ 80ارب لے اڑا۔ اتحادی بھی اپنی حیثیت کے مطابق وصولیاں کر رہے ہیں۔ افسوس یہ پارٹی اقتدا رمیں آئی تو اقتدار میں لانے والوں کو بھلا دیا، نوازشیں دوسروں پر ہو رہی ہیں۔ جسے قاتل لیگ قرار دیا وہ ڈپٹی وزیراعظم کے عہدے پر پہنچا دیئے گئے۔ جس نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو بلیک میل کرکے دو ایم پی ایز کے ساتھ پنجاب کی وزارت اعلیٰ حاصل کی اسے پنجاب کا صدر بنا دیا گیا جو وزیر بننے کے بعدپارٹی میں شامل ہوا جیالے انہیں اپنا قائد ماننے پر تیار نہیں۔ صرف جیالوں کو ہی پارٹی قیادت کی پالیسیوں پر تحفظات نہیں ایم این اے اور ایم پی ایز بھی نالاں ہیں۔ صورت حال میں انقلابی تبدیلی نہ آئی تو میرا وژن کہتا ہے کہ ان میں سے نوے فیصد امیدوار الیکشن کا اعلان ہوتے ہی اپنی وفاداریاں تبدیل کر لیں گے۔ مجھے پی پی پی ایک بار پھر 97کے مقام پر نظر آتی ہے جب پنجاب میں اسے صرف دو سیٹیں ملی تھیں۔ ایسی بُری حکمرانی پہلے کبھی دیکھنے میں آئی نہ سننے میں آئی۔ رینٹل پاور منصوبے کرپشن سے شروع ہو کر کرپشن پہ ختم ہو گئے۔واپڈ بجلی پیدا کرنے سے قاصر ہے۔ریلوے، پی آئی اے اور سٹیل مل منافع بخش ادارے دیوالیہ ہونے کو ہیں۔ عدلیہ اور فوج کی کریڈیبلٹی بُری طرح متاثر ہوئی۔ عدلیہ کے فیصلوں کا وقار بُری طرح مجروح کیا جا رہا ہے۔ فوج کے خلاف ایسی میڈیا مہم چلائی جا رہی ہے کہ جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی محافظ فوج کو اغواکار کے روپ میں پیش کیا گیا اور اسے ایک بوجھ بھی قرار دیا جا رہاہے۔ صوبوں کا پنڈورا بکس بھی میری پارٹی کی بصارت سے عاری قیادت نے کھولا او رکالاباغ ڈیم منصوبے کا باب بھی اسی نے بند کیا جو بہترین قومی مفاد میں ہے۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی کہتی ہے کہ سرکاری محکموں میں ماہانہ 8سو ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے یہ سال میں 9600ارب اور پانچ سال 480کھرپ روپے بن جاتی ہے۔ اس رقم سے پاکستان کا کونسا مسئلہ اور بحران ہے جو ختم نہیں ہو سکتا؟ ایسی حکمرانی پر جیالے بڑا کڑھتے ہیں۔ ان کو اپنی پروا نہیں وہ پارٹی کے خیرخواہ ہیں۔ جب پارٹی ان کی بات نہیں پوچھتی تو وہ مایوسی کی آگ میں جلتے ہیں۔ انتقام پر اس لیے آمادہ نہیں کہ نقصان شہیدوں کی پارٹی کو ہوگا آخر صبر کب تک؟ وہ صرف اپنی موجودگی اور عدم موجودگی کا احساس پولنگ کے دن گھروں میں بیٹھ کر دلا دیں گے۔ جب ان کو نظرانداز کرنے والوں کوئی ایجنٹ بھی نہیں ملے گا۔ مجھے 2007ء میں نگران حکومت میں جنرل پرویز مشرف نے وفاقی وزارت کی پیشکش کی مگر محترمہ بے نظیر بھٹو کی صرف ایک کال پر میں انکار کرکے رستے میں سے ہی واپس آ گیا۔ جیالے اب بھی اپنا کردار ادا کرنے کو تیا رہیں۔ کوئی ان سے ذوالفقار علی بھٹو شہید اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید جیسا پیار تو کرے۔آج پیپلزپارٹی نے 46واں یومِ تاسیس منایا خدا کرے اگلے سال پارٹی یومِ تاسیس منانے کے لیے اپنا وجود برقرار رکھ سکے۔ جیالے بلاول بھٹو کو بھٹو ثانی دیکھنا پسند کرتے ہیں،اس کے لیے جیالوں کے آنسو پونچھنا اور ان کو گلے لگانا ضروری ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus