×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بینظیر کے قاتل کب بے نقاب ہوں گے؟
Dated: 27-Dec-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com کیا اس طرح تم مجھے بچا لو گے؟ یہ الفاظ کہتے ہوئے بی بی نے میری طرف دیکھا۔24دسمبر2007ء کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو رحیم یار خان میں جلسہ عام سے خطاب کرنے والی تھیں جبکہ میں نے اور عبدالقادر شاہین نے شہید محترمہ اور ان کے ساتھیوںکو پنجاب اور سندھ کی سرحد سے ریسیو کیا۔ 23دسمبر کی رات رحیم یار خان میں بی بی شہید کی سیاسی ملاقاتیں اور پنجاب کے لیے انتخابی لائحہ عمل موضوع گفتگو رہا۔ صبح جب ہم جلسہ گاہ جانے کے لیے نکلے تو سکیورٹی انچارج نے ہمیں بتایا کہ اچانک روٹ بدل دیا گیا ہے اس وقت تک بی بی کا کارواں تقریباً چل پڑا تھا۔ روٹ کی اچانک تبدیلی کی بات کچھ سمجھ میں نہ آئی۔ اس لیے چونکہ بی بی نے رحیم یار خان کے جلسے کے بعد شام کو بہاولپور جلسہ کرنا تھا میں اور عبدالقادر شاہین نے بی بی کے ڈائس پر آتے ہی گاڑی بہاولپور کی طرف دوڑا دی تاکہ وہاں پر جلسہ گاہ کی سڑک اور جلسہ گاہ کے اندر حفاظتی انتظامات کا جائزہ لے سکیں۔ سٹیڈیم میں بنے مستقل سٹیج کے اوپر عجیب طرح کا طوفان بدتمیزی اور بے ترتیبی تھی میںنے اور شاہین صاحب نے سٹیج پر پڑے ہوئے گلدستوں اور جو بھی مشکوک چیز وہاں ہمیں لگی ہم نے اسے ہٹا دیا۔رحیم یار خان سے جلسے کے بعد جب بی بی شہید نے مجھے اور عبدالقادر شاہین کو وہاں موجود نہ پایا تو ناہید خان صاحبہ سے پوچھا کہ وہ دونوں کدھر گئے ہیں باجی ناہید کا ہمیں فون آیا تو ہم نے انہیں بتایا کہ ہمیں فکر تھی کہ جس طرح کے انتظامات رحیم یار خان میں ہیں پتہ نہیں بہاولپور میں کیسے ہوں گے۔ یہی وجہ تھی کہ بی بی شہید جب سیڑھیاں چڑھ کر سٹیج پر پہنچی تو سامنے مجھے پا کر یہ فقرہ کہا ’’کیا تم اس طرح مجھے بچا لوگے‘‘ 27دسمبر 2007ء کے بعد میں اکثر یہ فقرہ سوچتا ہوں کہ شہید بی بی کے ذہن میں یہ بات بیٹھ چکی تھی کہ انہیں شہید کر دیا جائے گا پھر بھی وہ بہادری سے موت کی نظروں میں نظریں ڈال کر جرأت مندی سے ڈٹی رہیں اور خاص طور پر 18اکتوبر کے سانحۂ کارساز کے بعد ان کو یقین ہو چلا تھا کہ خونخوار بھیڑیئے ان کی جان کے دشمن بن چکے ہیں۔ سانحہ کراچی کے بعد ایک بھارتی ٹی چینل کو انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا ’’میں جانتی ہوں ان دنوں مجھے بہت سے خطرات کا سامنا ہے اور خاص طور پر کراچی بم دھماکوں کے بعد یہ خطرات اور واضح ہو گئے ہیں لیکن میں گھبرانے والی نہیں ہوں میرا دشمن یہ سمجھتا ہے کہ وہ مجھے ڈرا دھمکا کر واپس جانے کے لیے مجبور کر سکتا ہے مگر میرا دشمن یقینا یہ بھی جانتا ہوگا کہ میں ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی ہوں جس نے موت کو شکست دے کر زندگی پا لی۔‘‘ ایک اور جگہ پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے انتہا پسندوں نے گلا کاٹنے کی دھمکی دی ہے اور ایسا ہی ایک خط بلال ہائوس بھیجا گیا جس میں کہا گیا کہ بے نظیر بھٹو کو خودکش دھماکے کے ذریعے اڑا دیا جائے گا، ان کو چھوڑا نہیں جائے گا، وہ جہاں جائیں گی ان کا خودکش بمبار پیچھا کریں گے۔ ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے بے نظیر بھٹو نے ایک بار پھر چودھری شجاعت حسین کے اس بیان پر برہمی کا اظہار کیا جس میں چودھری شجاعت حسین نے کہا تھا کہ دھماکے پیپلزپارٹی نے خود کروائے ہیں۔ محترمہ نے کہا چودھری شجاعت ایسی بات کیوں کر رہے ہیں؟ کیا وہ دھماکے کے مجرموں کو تحفظ دینا چاہتے ہیں؟ امریکی سفیر پیٹرسن سے ملاقات کے موقع پر محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے کہا ’’پاکستان کے عوام میرے ساتھ ہیں ۔ کراچی میں 30لاکھ پاکستانی میرے استقبال کے لیے جمع ہوئے۔میں ہمت ہارنے والی نہیں ہوں میں جانتی ہوں دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کا میں ٹارگٹ ہوں بم دھماکوں کا مقصد مجھے قتل کرنا تھا اور نفسیاتی طور پر اس بات کا اشارہ دینا تھا کہ میرے لیے سیاست میں کوئی جگہ نہیں۔‘‘18اکتوبر کو پاکستان روانگی سے پہلے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے جنرل پرویز مشرف کو ایک خط لکھا کہ تین افراد ان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں جن میں پنجاب کے وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی، سابق ڈپٹی ڈائریکٹر نیب حسن وسیم افضل اور انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر جنرل سید اعجاز شاہ شامل ہیں۔خط کے آخر میں شہید محترمہ نے لکھا کہ اگر مجھ پر خودکش حملہ یا میرے خلاف اس قسم کا کوئی دوسرا واقع ہوا تو چودھری پرویز الٰہی، سید اعجاز شاہ اور جنرل ریٹائر حمید گل اس کے ذمہ دار ہوں گے۔ آج اس سانحۂ عظیم کو گزرے پانچ سال ہو گئے ہیں ہر سال 21جون شہید محترمہ کی سالگرہ کے دن اور 27دسمبر شہادت کے دن سے پہلے دو ہفتوں میں دھواں دار تقریریں، سیمینار اور تعزیتی ریفرنس فائیو سٹار ہوٹلوں میں کروا دیئے جاتے ہیں۔ ہر سال وفاقی وزیر داخلہ یہ انکشاف کرکے 20کروڑ عوام کے زخموں پرنمک چھڑکتے ہیں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے قاتل 27دسمبر والے دن بے نقاب کر دیئے جائیں گے۔ آج ملک کے 20کروڑ عوام اور پیپلزپارٹی کے کروڑوں جیالوں کے صبر کا دامن لبریز ہو چکا ہے۔ آج جنرل مشرف پر قتل کا الزام لگانے والوں اور اس کے ریڈ وارنٹ نکلوانے والوں نے اس کو گارڈ آف آنر پیش کرکے سلامی کیوں دی تھی؟پیپلزپارٹی کی پوری وفاقی کابینہ اور وزیراعظم نے اسی جنرل مشرف کے سامنے حلف کیوں اٹھایا تھا؟ جیالے یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا شہید محترمہ نے کوئی ایسی وصیت چھوڑی تھی کہ ان کے نامزدکردہ قاتلوں کو ڈپٹی وزیراعظم بنا دیا جائے؟ کیا شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے وارثوں کا یہی حق وراثت ہے کہ وہ خود تو اقتدار انجوائے کرتے رہیں او راپنے اقتدار کو طوالت دینے کے لیے جمہوریت سب سے بہترین انتقام کا سلوگن استعمال کرکے بے نظیر بھٹو شہید کے قاتلوں پر نوازشات کی بارشیں کریں اور پیپلزپارٹی کو آج اقتدار میں لانے والے شہید محترمہ کے بہت ہی قریبی ساتھیوں کو سیاسی، سماجی اور معاشی طور پر ہراساں کریں اور بہت سے جانثارانِ بے نظیر پرعرصۂ حیات تنگ کرکے انہیں خاموش جلاوطنی پر مجبور کر دیا جائے۔ آج 27دسمبر ہے میرا یمان ہے کہ شہید زندہ ہوتے ہیں آج لاڑکانہ میں سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور فیڈرل کونسل کا بھی اجلاس ہوگا یقینا اس محفل میں شہید زندہ ہونے کے ناطے محترمہ بے نظیر بھٹو بھی موجود ہوں گی تو کیا وہ موجود افراد کو پہچان پائیں گی؟ کیونکہ آج پیپلزپارٹی کی اگلی صفوں میں بیٹھی ہوئی قیادت کو شہید محترمہ کی زندگی میں یہ مقام حاصل تھا۔ آج پارٹی کی قیادت میں چُن چُن کر ایسے لوگوں کو لایا جا رہا ہے جن کا مطمح نظر لوٹ کھسوٹ کرپشن او رمال بنانا ہے۔ پیپلزپارٹی کو جو نقصان آمر ایوب خان، ضیاء الحق اور مشرف نہ پہنچا سکے تھے وہ پیپلزپارٹی نے پانچ سال مکمل کرکے خود کر لیا ہے۔ کیا محترمہ شہید بے نظیر بھٹو کی جلاوطنیوں، قید وصعوبتوں اور ان کے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو شہید، میر شاہنواز بھٹو شہید اور ان کے عظیم باپ ذوالفقارعلی بھٹو شہید کی دی ہوئی قربانیوں کو ہم نے پانچ سالہ اقتدار کے لیے قربان کر لیا ہے؟میں نے 99سے لے کر 27دسمبر شہادت کے دن تک پاکستان اور اوورسیز میں بسنے والے پارٹی کارکنوں اور جیالوں کو بہت قریب سے دیکھا ہے آج ہم ان سے منہ چھپاتے پھرتے ہیں۔ ہمارے پاس جیالوں کے سوالوں کے جواب نہیں ہیں لیکن قانونِ قدرت ختم نہیں ہوا اور وہ دن دور نہیں کہ جب دخترِ مشرق کا لہو پکارے گا کہ میرا قاتل کون ہے؟ پیپلزپارٹی کی قیادت اور وراثت کے پاس بہت تھوڑا وقت رہ گیا ہے، اقتدار کا سورج غروب ہونے کے قریب تر ہے۔ کل کو یہ طِفل تسلیاں کون سنے گا، کیا کارکن اور جیالے ہم سے یہ سوال نہیں کریں گے کہ تم کیسی قیادت اور وراثت ہو جو دخترِ مشرق کے قاتلوں کو اقتدار کے پانچ سالوں میں بے نقاب کرکے کیفرکردار تک نہ پہنچا سکی ۔ یاد رکھیئے اب کی بار جیالوں کو بے وقوف نہیں بنایا جا سکے گا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus