×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
طاہر القادری اور ان کے ایجنڈے کے پیچھے کون؟
Dated: 08-Jan-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com ایک میڈیا میں ایک ہی سوال گردش کر رہا ہے کہ طاہر القادری اور ان کے ایجنڈے کے پیچھے کون ہے؟ سیاستدان، مذہبی رہنما اور دیگر طبقے اور حلقے بھی ایک دوسرے سے یہی سوال کرتے ہیں اور پھر اپنی اپنی رائے بھی ظاہر کرتا ہیں۔ کوئی شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہرالقادری کو امریکی ایجنٹ قرار دیتا ہے ،کوئی اسٹیبلشمنٹ کا پروردہ سمجھتا ہے اور کوئی انہیں فوج کے لیے کام کرنے کا طعنہ دیتا ہے۔ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ طاہر القادری پورے خلوص اور سنجیدگی کے ساتھ عوام کو مشکلات کے گرداب سے نکالنا چاہتے ہیں۔ ان کے اندر واقعی قوم کا درد ہے۔ بلاشبہ ڈاکٹر قادری نہ صرف پاکستانی سیاست بلکہ مذہب کے حوالے سے بھی غیر متنازعہ شخصیت نہیں ہیں۔ گو ان کے چاہنے والوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان کے علاوہ غیر ممالک میں بھی موجود ہے۔ جو ان کی دینی خدمات سے اس قدر متاثر ہیں کہ ان کو مرشد کا سا احترام دیتے ہیں۔ ان پر تنقید اور طعن و تشنیع کرنے والوں کی بھی کمی نہیں۔ ضروری نہیں کہ ان کی دینی خدمات کا اعتراف کرنے والے ان کو اپنا سیاسی رہنما بھی تسلیم کر لیں۔یہی وجہ ہے کہ انتخابی سیاست میں بُری طرح ناکام رہے۔ 2002ء کے الیکشن میں ان کی عوامی تحریک نے پورے ملک سے امیدوار کھڑے کیے لیکن وہ محض ایک ہی نشست جیت سکے۔ اس کو بھی جنرل پرویز مشرف کی نوازش قرار دیا جاتا ہے۔ عمران خان نے بھی اس الیکشن میں بڑی تیاری سے حصہ لیا تھا۔ وہ بھی محض اپنے آبائی علاقے سے ہی واحد اپنی سیٹ سے کامیاب ہو سکے تھے۔ آج ماضی کے ناکام سیاستدانوں کی بھرپور پذیرائی ہو رہی ہے۔ دونوں نے بڑے بڑے جلسے کیے جن میں بلاشبہ لاکھوں لوگوں نے شرکت کی اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ اس سوال سے پہلے کہ طاہر القادری کے پیچھے کون ڈوریاں ہلا رہا ہے؟ یہ سوال کیوں نہ اٹھایا جائے کہ ماضی میں ناکامی کا سامنا کرنے والے سیاستدان عمران خان اور طاہر القادری نے کوئی نیا منشور اور کوئی نئی بات نہیں کی۔ وہ کوئی نیا فلسفہ لے کر نہیں اٹھے پھر بھی عوام میں ان کی پذیرائی کیوں ہو رہی ہے؟اس کی بڑی وجہ عوام کا روایتی سیاستدانوں اور ان کی پالیسیوں سے عوام کی مایوسی ہے۔ فروری 2008ء کے انتخابات میں عوام نے مشرف اور اس کے پروردہ سیاستدانوں سے ووٹ کی طاقت کے ذریعے نجات حاصل کی۔ عوام کی اپنے منتخب کردہ سیاستدانوں سے بڑی توقعات وابستہ تھیں۔ عوام کی امیدوں پر جمہوری حکمرانی نے پانی پھیر دیا۔ ان کی توقعات پر پورا اترنے میں وہ بُری طرح ناکام رہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مشرف ہی کی پالیسی جاری ہے۔ ڈارون حملوں میں مشرف دور کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔ جن میں بقول امریکی حکام اور میڈیا کے 97فیصد بے گناہ پاکستانی مار گئے ہیں۔ ڈارون حملے رکوانے کے لیے مشرف نے سنجیدہ کوشش کی نہ موجودہ حکومت نے۔ خارجہ پالیسی بُری طرح ناکام ہو گئی۔ آج ملکی بقا اور سلامتی کوشدید خطرات لاحق ہیں۔اندروانی محاذ پر بھی چپے چپے پر ناکامیوں اور مایوسیوں کی داستانیں بکھری ہوئی ہیں۔ لاقانونیت عروج پر ہے۔ دہشت گردوں ،لٹیروں، ڈاکوئوں، رہزنوں اور چوروں کے ہاتھوں پورا ملک یرغمال بنا ہوا ہے۔ کرپشن کی کوئی انتہا نہیں، اقرباپروری اور دوست نوازی کے چرچے ہیں، عوام کی حالت دگرگوں ہے۔ بجلی میسر ہے نہ گیس، تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ لاکھوں کارخانے بجلی اور گیس کی وجہ سے بند ہوئے،فطری امر ہے کہ کروڑوں لوگ بے روزگار بھی ہوئے۔ عوام کی قوتِ خرید نچلے سے نچلے درجے پر ہے۔ کونسا بحران، مشکل اور مصیبت ہے جس میں قوم اور ملک مبتلا نہیں۔ دوسری طرف حکمرانوں کی زندگیاں شاہانہ انداز میں بسر ہوتی ہیں۔ لوگ اپنے مسائل کا ذمہ دار اپنے ہی منتخب کنندگان کو سمجھتے ہیں۔ایسے میں عوامی مسائل اور ان کے حل کی بات جس نے بھی کی عوام نے اسے اپنے دل کی آواز سمجھا۔ طاہر القادری اور عمران خان کی پذیرائی اسی وجہ سے ہوئی۔ کالم کے شروع میں اس سوال کی بات ہوئی تھی کہ طاہر القادری کے پیچھے کون ہے ۔ امریکہ ،اسٹیبلشمنٹ، فوج یا کوئی اور۔ میں سمجھتا ہوں کہ طاہر القادری اور ان کے ایجنڈے کے پس پردہ ہمارے حکمران ہیں جو طاہر القادری کے لانگ مارچ کو کامیاب کرانے کے لیے پورا زور لگا رہے ہیں۔ طاہر القادری 10جنوری کو 40لاکھ کا لانگ مارچ اسلام آباد لے جا رہے ہیں۔ وہ جن مسائل اور بحرانوں کی بات کرتے ہیں حکومت نے ان کے حل کے لیے کوئی کوشش نہیں کی بلکہ اس کے برعکس حکومت نے عوامی زندگیوں کو مزید تلخ کر دیا جس پر لوگ ان حکمرانوں سے نجات کے لیے مزید پُرعزم ہو گئے ہیں۔پاکستان میں 35لاکھ گاڑیاں سی این جی پر ہیں۔ وابسگان کی تعداد کروڑوں میں بنتی ہے۔ آج یہ گاڑیاں بند کھڑی ہیں۔ گیس کی کمی ضروری ہے لیکن اتنی بھی نہیں کہ پنجاب میں ہفتے میں ایک دن بھی فراہم نہ کی جا سکے۔ سردیوں میں بجلی کا استعال کم ترین سطح پر آ جاتا ہے اس کے باوجود بجلی کی لوڈشیڈنگ میں بھی کوئی کمی نہیں ہوئی۔ سی این جی کی بندش کے باوجود گھریلو صارفین پہلے کی طرح پریشان ہیں۔ عوام کو نظر آ رہا ہے کہ ان کے ٹیکسوں کے جمع شدہ 80ارب روپے چیئرمین اوگرا لے اڑا۔ حکومتی صفوں میں موجود لیڈروں نے اسے بیرون ملک فرار کرا دیا۔ نیٹو کو پٹرول 42روپے پاکستانیوں کو 101روپے لیٹر فراہم کیا جاتا ہے۔ الیکشن سر پر ہیں، حکومت عوام کو ریلیف کے بجائے بجلی ، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کرکے ان پر ستم ڈھا رہی ہے۔ ایسے اقدامات سے واضح نہیں ہو جاتا کہ طاہر القادری کے ایجنڈے کو کامیاب کرانے کے پیچھے کون ہے؟ وہی لوگ ہیں جو عوام کو مایوس کر رہے ہیں۔ وہ ہمارے حکمران ہی ہیں جو لوگوں کو طاہر القادری کے لانگ مارچ میں شامل ہونے کا رستہ دکھا رہے ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus