×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سیاسی شہادت کی تمنا اور معجزوں کا انتظار۔مگر بے سود
Dated: 02-Feb-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com حکمران پارٹی اور اس کے اتحادیوں سے ملک کا کونسا طبقہ خوش اور مطمئن ہے؟ اس پر میں بڑے انہماک کے ساتھ غور کرتا ہوں۔ ان طبقات میں اپر،مڈل اور لوئر کلاس شامل ہے۔ فوج اور عدلیہ کو بھی شامل رکھتا ہوں۔ مجھے صرف وہی لوگ موجودہ حکمرانوں کی انداز جہاں بانی سے مطمئن نظر آتے ہیں جن کے حکمرانوں کے ساتھ براہِ راست مفادات وابستہ ہیں۔ کوئی لاکھوں میں کھیلتا ہے ، کوئی کروڑوں میں ،کوئی اربوں میں۔ حکمرانوں سے بھلا وہ سرکاری کارندہ کیوں خوش نہیں ہوگا جو ایک کھرب روپے کے لگ بھگ خزانے کو نقب لگا کر اس کے باوجود پاکستان سے فرار ہو گیا کہ سپریم کورٹ نے اسے گرفتار کرنے کے احکامات جاری کر رکھے تھے۔ ایک طرف اربوں روپے کی کرپشن، وہ بھی صرف ایک شخص کی یا ایک ادارے میں نہیں بلکہ حکمرانوں میں ہر تیسرا فرد اور پھر اس کے قریبی ،عزیز اور دوست بھی پوری طرح قومی خزانے کو جتنا بس چلتا ہے دونوں ہاتھوں نوچ رہے ہیں۔لوٹ مار کرنے والے کتنے ہو سکتے ہیں؟ ان کی تعداد ہزاروں میں ہو سکتی ہے، لاکھوں اور کروڑوں میں نہیں۔ لاکھوں اور کروڑوں تو ان لوٹ مار کرنے والوں کے ہاتھوں تنگ ہیں۔ ان کی زندگی اجیرن بن چکی ہے۔ خط زندگی سے نیچے جانے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ملک میں بجلی ہے نہ گیس نہ پانی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔صنعتیں بند ہونے سے معیشت تباہ ہو رہی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ایسے مصائب اور بحرانوں پر قابو پانے کی حکمرانوں کی طرف سے کوئی کمٹمنٹ دیکھنے میں نہیں آ رہی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ عوام کو اذیت میں مبتلا کرکے صاحبانِ اقتدار لطف اندوز ہوتے ہیں۔ جہاں مجھے ایک بادشاہ کی داستان رہ رہ کر یاد آ رہی ہے جو اپنی فوج کے ساتھ دشمن کے مقابلے کے لیے اپنے ملکی سرحدوں کی طرف جا رہا تھا۔ رات کو پہاڑی علاقے میں کھائیوں کے اوپر شب بسری کا حکم دیا۔ اندھیرے میں ایک ہاتھ سیکڑوں فٹ کھائی میں گر گیا۔ اس کی خوف کے مارے چیخ بلند ہوئی۔ بادشاہ سلامت کا اس آواز نے دل موہ لیا۔ درباریوں سے پوچھا کہ کیسی آواز تھی۔ حقیقت معلوم ہونے پر بادشاہ نے ایک اور ہاتھی کو کھائی میں گرانے کا حکم دیا۔ بادشاہ صبح تک ایسی چیخوں کو انجوائے کرتا رہا تاآنکہ آخری ہاتھی بھی کھائی میں گرا دیا گیا۔ کیا ہمارے حکمران بھی عوام کی آہ و بقا سے اس بادشاہ کی طرح خوش ہوتے ہیں؟ لگتا تو ایسے ہی ہے۔ یہ بھی آخری فرد تک کو زندہ درگور کر دینا چاہتے ہیں؟اور پھر انجام بھی یقینا اسی بادشاہ کی طرح ہونا ہے جس نے اپنی طاقت اپنے ہاتھوں ختم کر لی تھی۔ عوام تو آپ کی طاقت ہیں ان کو اپنی جاہ پرستی اور دولت جمع کرنے کی طمع میں اپنا دشمن بنایا جا رہا ہے۔ سوچ لیا ہے کہ آئندہ اقتدار کھجور کے پھل کی طرح دور ہو گیا اب کوئی ایسا معجزہ ہو جائے کہ عوام کی ضرورت بھی نہ ہو اور اقتدار بھی بچا رہے۔ اگر اقتدار ہاتھ سے جاتا ہے تو مظلوم اور سیاسی شہید تو بن جائیں تاکہ عوام ان کی کرتوتوں پر نظر نہ ڈالیں مظلومیت سے متاثر ہو کر ایک بار پھر عزت کی پگڑی پہنا دیں۔ سیاسی شہید بننے کے لیے سال ڈیڑھ سال سے کوشش عروج پر ہے۔ فوج کے ساتھ پنگے بازی اور عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائی کی جاتی رہی ہے۔ میمو کیس میں فوج کو زچ کیا گیا، عدلیہ کے فیصلوں کو مذاق بنا کے رکھ دیا گیا۔ مقصد یہی کہ ان میں کوئی تو ٹھڈے مار کر یا گریبان سے پکڑ کر اقتدار سے نکال دے۔ فوج تخت الٹنے کے کلچر سے لاتعلق نظر آئی تو عدلیہ کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کر لیا کہ شاید وہی کچھ کرشمہ کر دکھائے۔ ڈیڑھ دو درجن کے قریب فیصلوں پر عمل کرنے سے انکار کر دیا۔ وزیراعظم ایسا شخص بنا دیا جو اپنے پیشرو جیسا تھا۔ چیئرمین نیب خود کہتے ہیں کہ ملک میں روزانہ دس سے بارہ ارب روپے کی بدعنوانی ہے لیکن دھڑلے سے کہتے ہیں کہ کرپٹ لوگوں کو نہیں پکڑوں گا۔ جن لوگوں نے اوگرا والے کو بھگایا ان پر ریفرنس دائر کرنے سے انکاری ہیں۔ رینٹل کیس کے بدعنوانوں کو گرفتار کرنے پر تیار نہیں۔ اب چیف جسٹس کے خلاف صدر کو خط لکھ دیا۔ حکمران پارٹی کا ایک سینیٹر ہذیان پہ ہذیان بک رہا ہے۔ اسے کوئی لگام نہیں دیتا۔ وزیرداخلہ رحمن ملک بڑی ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ کراچی چھن گیا تو ایجنسیاں بھی ذمہ دار ہوں گی۔ بڑی گورننس کا ذمہ دار حساس ادارہ کیوں ہو؟ وہ اتحادی کیوں نہ ہوں بھتہ خوری جس کی جبلت اور انسانوں کو نگلنا جن کی فطرت ہے؟ ایجنسیوں کو الزام اس لیے دیا گیا کہ فوج ہی شاید آخری دنوں میں سیاسی شہادت کا درجہ دلا دے۔آئینی مدت پوری ہونے میں چند ہفتے رہ گئے لیکن انتخابات کے شیڈول کا اعلان نہیں کیا جا رہا۔ اگر سیاسی شہادت نہیں تو ایسے معجزے کا انتظار ہے کہ الیکشن نہ ہو سکیں۔ رحمن ملک ایسے حالات پیدا کر دیں کہ آئین اور قانون کا وہ آرٹیکل بروئے کر آ جائے جس سے اقتدار کی عمر کم از کم ایک سال بڑھ جائے۔ ایسا ہو تو کیا ایک سال میں پہاڑوں سے آبِ زر کے چشمے پھوٹ پڑیں گے اور پہاڑ سونا اگلنے لگیں گے جس سے قوم کی تقدیر بل جائے گی۔فطرت نہیں بدل سکتی کبھی نہیں۔ ایسا ہوا تو بھی کوشش ہو گی کہ ان سے محلات اور جائیدادیں خرید لی جائیں۔ بیرونِ ممالک بینک بھر دیئے جائیں۔ لیکن اب حکمرانوں کے پاس اصلاح کا وقت ہے نہ کوئی معجزہ رونما ہوگا اور نہ ہی کوئی ادارہ ان کو سیاسی شہید بننے کا موقع دے گا۔ پانچ سال میں جو بیجا وہ کاٹنے کا وقت آ گیا ہے۔ ببول اور کانٹے بیجے ہیں تو وہی کاٹنے ہوں گے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus