×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
پیپلزپارٹی کے شجرِ اقتدار سے جھڑنے والے پتے
Dated: 19-Feb-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com الیکشن کا موسم پاکستان پیپلزپارٹی کے لیے سیاسی خزاں اور پت جھڑ کا موسم ثابت ہو رہا ہے۔ انتخابات کے شیڈول کا ابھی اعلان نہیں ہوا کہ سیاسی پرندوں نے ہوا کا رخ بھانپ کر اڑانیں بھرنا اور پھڑپھڑانا شروع کردیا ہے۔یہ بادل دیکھ کر بارش کا اندازہ کر لیتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے دانہ پھینکنے پر یکمشت 9ارکان اسمبلی بڑی وارفتگی میں اس کے سنہری جال میں پھنس گئے۔ ن لیگ نے ایسا ہی ہاتھ ق لیگ کے ساتھ کیا تھا جب چالیس سے زائد پنجاب اسمبلی کے ارکان نے اپنے ضمیر میاں شہباز شریف کی ہتھیلی پر رکھ دیئے تھے۔ بدلے میں وزارتیں تو نہ ملیں، یہ ارکان شاید خاموش اس لیے رہے کہ ان کو وزارت اور ان کی اوقات سے بھی زیادہ مل گیا تھا۔ ان کا سربراہ ایسا شخص تھا جس پر امریکہ میں فراڈ کے کیسز تھے اور وہ الیکشن کمیشن کو بھی جعلی ڈگری دکھا کر چکمہ دے گیا ۔ بالآخر بے نقاب ہوا تو استعفیٰ دے کر رفو چکر ہو گیا، یہ فرار ہمیشہ کے لیے سیاسی بدری کی قیمت پر ہوا۔ پیپلزپارٹی سے ابھی تو پہلی کھیپ گئی ہے۔ ہم نے اپنے ایک گذشتہ کالم میں واضح کر دیا تھا کہ پارٹی پالیسیوں سے مایوس ارکانِ اسمبلی ’’اڈاری‘‘ مارنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس پر پارٹی کے حلقوں نے مضحکہ اڑایا تھا۔ انتخابات کے شیڈول کا اعلان بھی کئی ہفتے دور ہے کہ 9نمائندے گئے۔ ہم کوئی جوتشی اور علم نجوم اور فلکیات کے ماہر نہیں۔اپنی اطلاعات کے بل پربتا رہے ہیں کہ چند دن میں ایک اور کھیپ مسلم لیگ ن کی گود میں گرنے کو بے قرار بیٹھی ہے۔ ان لوگوں کو ن لیگ کے جیتنے کی ’’مہک‘‘ اور اپنی پارٹی کے ہارنے کی ’’ہمک‘‘ آ رہی ہے۔ اس لیے اپنے ضمیر کا سودا کرنے پر تیار بیٹھے ہیں۔ انتخابات کے شیڈول کا اعلان ہوا تو یقین کریں۔70فیصدسے زائد ارکان اپنی وفاداری بدل لیں گے۔ ان کے تحفظات اپنی جگہ، پارٹی پالیسیوں سے اختلاف اور مایوسی نے بھی ان کو بدظن کیا۔جو پارٹی کے زعما کل تک میرے خیالات سے متفق نہیں تھے وہ ایسے ہی تھا کہ جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیںبند کر لے اور یہ سمجھے بلی نے مجھے نہیں دیکھا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ گھر کو آگ لگی تو اس کو بجھانے کے لیے اسے ہوا دے کر خاکستر کرنے کی کوشش کی جائے اور آگ لگانے والوں کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہو جائیں۔ میں ان کارکنوں، جیالوں اور پارٹی لیڈروں میں سے ہوں جس نے پارٹی کے اندر رہ کر جہاد کیا۔قیادت کی غلط پالیسیوں پر تنقید کی،پارٹی پالیسی درست کرنے کے مشورے دیئے۔ قیادت کی آنکھیں اقتدار کی چکا چوند سے چندھیا رہی تھیں۔ ان کے دماغ پراقتدار کا خمار تھا اس لیے ہماری بات نہ سنی گئی۔ ہم وہ چند لوگ ہیں جو پت جھڑ اور خزاں میں پاکستان پیپلزپارٹی کے شہید بھٹوز کے لگائے ہوئے شجر کی شاخوں سے بڑی مضبوطی سے پیوستہ رہیں گے۔ مجھے تو پارٹی سے بھی نکالنے کی کوشش کی گئی۔پارٹی کسی خاندان کی میراث نہیں، یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی پارٹی ہے اور کارکن و جیالے ہی اس کے وارث ہیں۔اس لیے ہمیں پارٹی سے کوئی بھی نہیں نکال سکتا۔ پارٹی کی جو درگت بنی ہے وہ ہم جیسے لوگوں کو دیوار سے لگانے اور پارٹی سے تعلق نہ رکھنے والوں کو آگے لانے کے باعث بنی ہے۔ محترمہ نے جن پر اپنے قتل کی ایف آئی آر درج کرائی تھی جن کو آصف علی زرداری نے قاتل لیگ کا خطاب دیا وہ ڈپٹی وزیراعظم بنا دیئے گئے ۔ جس نے پیپلزپارٹی کو بلیک میل کرکے پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ حاصل کی۔ پنجاب کے معاملات اس کے ہاتھ میں تھما دیئے۔اور وہ شخص 2008کے بعد مسند اقتدار سے وابستہ ہونے کے بعد پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کرتا اسے شہنشاہ سلامت پنجاب پیپلزپارٹی کا صدر بنا دیتے ہیں۔میں نے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی مینجمنٹ ٹیم کے ایک انتہائی وفادار اور معتبر ساتھی کے ہاتھ ایک ایسی لسٹ دیکھی ہے کہ اگر محترمہ زندہ رہتی اور اقتدار میں آتیں تو کن لوگوں کو وزیر ،مشیر اور سفیر بنایا جاتا اور میں بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ موجودہ کابینہ اور صدر کی مشاورتی ٹیم میں 5فیصد ارکان بھی ایسے نہیں جو محترمہ کی بنائی ہوئی لسٹ میں شامل تھے۔ کارکن تو سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ پارٹیاں کارکنوں کے بل بوتے پر کامیابیاں حاصل کرتی ہیں۔ جب کارکن مایوس ہوں تو امیدوار ’’ماٹھے‘‘ گھوڑے پر شرط لگا کر اپنے موت کے پروانے پر دستخط کیوں کریں گے؟ اس لیے وہ اصولوں کو چھوڑ کر اپنی پارٹی سے ناطہ توڑ کر حریفوں سے جوڑ توڑ کر رہے ہیں۔ مجھے تو لگتا ہے کہ آئندہ الیکشن میں پیپلزپارٹی کو پورے امیدوار بھی دستیاب نہیں ہوں گے۔ ویسے شاید پارٹی کو امیدواروں کی زیادہ ضرورت بھی نہ رہے۔ کیونکہ اس کا اتحاد ق لیگ اور اے این پی کے ساتھ ہے۔ ان کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہونی ہے۔ ان کے جیتے ہوئے امیدواروں کو سیٹیں دے کر باقی جو سو کے قریب بچیں گی ان کے لیے امیدوار تو دستیاب ہو جائیں گے۔ ویسے ق لیگ نے 2002ء میں کامیابی حاصل کی۔2008ء کے انتخابات میں یہ تیسری بڑی پارٹی تھی اب تین میں ہے نہ تیرہ میں۔ پاکستان پیپلزپارٹی بھی اپنی پالیسیوں کے باعث ق لیگ کی ڈگر پر چل رہی ہے۔ آئندہ الیکشن میں دیکھیے کونسی میری پارٹی جا کر کس پوزیشن پہ رکتی ہے۔ شہید بھٹو نے جس گلشن کو اپنا خونِ جگر دے کر سینچا تھا آج اس پارٹی کے کرتا دھرتا اس کی آبیاری کرنے سے قاصر ہیں۔ لاہور میں تخت لاہور کا مقابلہ تحفے میں قلعہ نما فصیلوں میں گھرے، اُچے برجوں والے محالات سے نہیں سیاسی دانش اور جیالوں پر اعتماد سے کیا جا سکتا ہے۔ محترمہ فریال تالپور جو کہ ہماری بہن اور اچھی سیاستدان ہیں ،اپنے بھائی اور بھتیجے کی پارٹی سے مخلص ہیں۔ وہ پانچ سال نواب شاہ کی ناظم رہیں۔ اپنے علاقے اور صوبے کی سیاست میں مہارت رکھتی ہیں۔ معذرت سے کہنا پڑتا ہے کہ محترمہ فریال تالپور صاحبہ پنجاب کی سیاست اور پنجاب کی برادری ازم اور گھمبیر اور شہری سیاست سے واقف نہیں ہیںاور انہیں پنجاب کی سیاست کا تجربہ نہیں ہے۔ارکان اس وجہ سے بھی پارٹی سے باغی ہو رہے ہیں۔ میرے سمیت دنیا بھر میں پھیلے ہوئے محترمہ بے نظیر بھٹو اور قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کے ہزاروں جیالے حالات حاضرہ پر مایوس ہو رہے ہیں جب کہ پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت کو اس کی پرواہ نہیں ہے انہیں بس پانچ سال کی ٹرم پوری کرنے کا جنون ہے اور یہ خبط اب پورا ہو ہی چکا ہے مگر حاصل اقتدار کیا ہوا جس پارٹی کو ڈکٹیٹر ایوب خان ،ضیاء الحق اور مشرف بھی ختم نہ کر سکے وہ پارٹی اپنوں کی بے رحمی اور بے توجہی آخری ہچکیاں لے رہی ہے۔میرا نہیں خیال کہ پارٹی قیادت اب کارکنوں کے زخمی جسموں پر مرہم لگا سکتی ہے اور نہ اب مداوے کا موسم رہا ہے۔مگر ایک چیز طے ہے کہ پیپلزپارٹی کے اس خزاں رسیدہ درخت پر جو آخری ’’برگ‘‘ رہ جائے گاوہ یقینا میں ہوں گا۔ موجودہ حالات میں پارٹی قیادت جو بھی کر لے مکمل طور پر اصلاح ممکن نہیں۔ البتہ جیالوں کی کسی حد تک ناراضگی کم کی جا سکتی ہے۔ پارٹی قائدین اگلی ٹرم کا اقتدار کو بھول جائیں۔ اب ان کے پاس پارٹی کو منظم اور اس کی تشہیر کے لیے پانچ سال ہوں گے۔ اگر اس عرصہ سے پارٹی قیادت نے فائدہ اٹھایا تو پانچ سال بعد پھر اقتدار میں آ سکتی ہے۔ دوسری صورت میں شہیدوں کی پارٹی کا باب بند سمجھیں گے اور اس کا مقام وہی وہ گا جو آج ق لیگ کا ہے۔ موسم کا کوئی محرم ہو تو اس سے پوچھو کتنے پت جھڑ ابھی باقی ہیں بہار آنے کو
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus