×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
نئے منشور۔ نئی بوتل میں پرانی شراب
Dated: 19-Mar-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com رسی جل گئی ،بل نہ گیا۔ حکومت کی آئینی مدت پوری ہو گئی لیکن وزیراعظم راجہ کا وزیراعظم ہائوس سے جانے کو دل نہ چاہا۔ نگران وزیراعظم پر اتفاق رائے کو سنگِ گراں بنا دیا۔ اپوزیشن کے تین نام پسند نہ آئے۔ اپنے تین ناموں سے کسی ایک پر اپوزیشن کو قائل نہ کر سکے۔ اس حوالے سے دونوں کی ’’نیکی نیتی‘‘ اظہرامن الشمس ہے۔ گذشتہ ماہ چودھری نثار علی خان نے نگران وزیراعظم کے لیے جو پانچ نام دیئے تھے ان میں سہرِ فہرست عاصمہ جہانگیر کا نام غائب اور دیگر ایسے نام سامنے آ گئے جن کو ایک دوسرے نے مسترد کر دیا۔ مسترد کرتے ہوئے ان لوگوں پر بلاجواز تنقید بھی کی گئی حالانکہ ان لوگوں نے خود کو نگران وزیراعظم کے لیے پیش نہیں کیا تھا۔ عاصمہ جہانگیر پر اتفاق ہونے کے باوجود ان کا نام ڈراپ کر دینا حکومت اپوزیشن ڈرامہ بازی کو بے نقاب کرتا ہے۔ اب نگران وزیراعظم کی سلیکشن پارلیمانی کمیٹی یا الیکشن کمیشن ہی کرے گا۔ البتہ اس دوران راجہ بدستور وزیراعظم رہیں گے۔ اپوزیشن کے نام جس حقارت سے مسترد کیے گئے، جواب میں اپوزیشن نے بھی ایسا ہی کرنا تھاجس کے باعث راجہ کی وزارت عظمیٰ کی چمک دمک آئینی مدت کے خاتمے کے بعد سات آٹھ دن مزید برقرار رہ سکتی تھی۔ وزارت عظمیٰ چھوڑنے کے بعد بھی راجہ وزیراعظم کا پروٹوکول بمعہ وزیراعظم کے 16دن تک انجوائے کر سکیں گے۔ اب یہ سنہری 16دن 24مارچ کے بعد شروع ہوں گے۔ اب راجہ کا جس وزیراعظم ہائوس کو چھوڑنے کا دل نہیں کرتا وہ ان کا مستقل نہیں تو کم از کم اگلے پانچ سال کے لیے مستقرہو سکتا تھا اگر انہوں نے ان لوگوں کے لیے کچھ کیا ہوتا جن لوگوں نے انتخابات میں ووٹ دینا ہے۔افسوس کہ ان موجودہ اور نہ ہی ان کے پیشرو وزیراعظم نے ووٹر کے لیے کچھ کیا نہ سپورٹرز کے لیے۔ سپورٹرز میں جیالے سہرفہرست ہیں۔ پانچ سالہ دور اقتدار میں ووٹرز کی مہنگائی، بیروزگاری، کرپشن، رشوت ستانی اور اقربا پروری جیسی خرافات کے ذریعے زندگی مشکلات کی گٹھڑی بنا دی گئی۔ سپورٹرز کو بُری طرح نظرانداز کرکے کھڈے لائن لگا دیا گیا۔ مرکزی حکمرانوں کی بدترین کارکردگی اور عوام کُش پالیسیوں کا فائدہ حریف سیاستدانوں نے اٹھایا جن کی اپنی کارکردگی بھی مثالی نہیں ہے۔ دونوں پارٹیوں کے منشور سامنے آ چکے ہیں۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں اقتدار میں ہیں۔ ایک مرکز میں اور دوسری پنجاب میں۔ دونوں نے اپنے منشور میں اقتدار ملنے کی شرط پر شہد اور دودھ کی نہریں بہانے، عوام کی تقدیر بدلنے اور انقلابی اقدامات کے وعدے کیے ہیں۔ گذشتہ پانچ سال میں دونوں پارٹیوں نے کیا کیا؟ جو کچھ کیا اس کا ڈھنڈورا اشتہارات کی صورت میں الیکٹرونکس اور پرنٹ میڈیا میں پیٹا جا رہا ہے۔دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں کے نئے منشور نئی بوتل میں پرانی شراب کے مترادف ہیں۔خود ایک دوسرے سے بڑھ کر ملک و قوم کا خدمتگار قرار دیا جاتا ہے جب کہ عوام کی حالت قابلِ رحم ہے۔اس کا اندازہ آپ پاکستان میں خودکشیوں کی اور بے روزگار نوجوانوں کے ملک چھوڑنے کی شرح سے بخوبی لگا سکتے ہیں۔اس کی زیادہ ذمہ داری یقینا بڑے سٹیک ہولڈر پر ہی عائد ہوتی ہے جو پاکستان پیپلزپارٹی ہے۔بجلی گیس کاشدید بحران مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے باعث ہی پیدا ہو اور بدستور موجود ہے۔ لاقانونیت اور بدترین کرپشن کی زیادہ تر ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہوتی ہے۔ مشرف کے 9سالہ دور کو بدترین آمریت کا دور قرار دیا جاتا ہے۔ مشرف اقتدار میں اور اقتدار سے گئے تو ڈالر 60روپے کا تھا جو پانچ سالہ دور میں 100روپے کو کراس کر گیا۔ کچھ اداروں کو کرپشن نگل گئی، کچھ سسک رہے ہیں۔ بعض اشیاء کی قیمتوں میں پانچ سو فیصد اضافہ ہوا۔ بجلی کے بدترین بحران نے ملکی صنعت کا پہیہ جام کر دیا اور بچے کھچے چھوٹے اور مڈل کلاس سرمایہ کار اپنا بچا کھچا سمیٹ کربنگلہ دیش،دبئی ، سنگاپور اور ملائیشیا کو کوچ کر گئے ہیں اور وہ بنگلہ دیش جس کی کرنسی کی قیمت روپے کے مقابلے میں 10گنا کم تھی وہ آج روپے کے مقابلے میں ڈبل ہے۔ عوام مصائب کی گرفت میں رہے، حکومت اپنی مدت پوری کرتی رہی۔ مدت کے اختتام پر راجہ نے اپنی حکومت کی کامیابیوں کی ایک لسٹ پیش کی ہے۔ راجہ کے خطاب کی جھلک ملاحظہ فرمایئے: ’’حکومت کی کامیابیوں کی طویل فہرست ہے، پارلیمنٹ نے پہلی مرتبہ پاکستان کی پہلی خاتون سپیکر کو منتخب کیا، پہلی بار متفقہ وزیراعظم کا انتخاب عمل میں آیا، 18ویں ترمیم سے آئین کو اصل شکل میں واپس لائے، ساتواں این ایف سی ایوارڈ منظور کیا، صوبائی خودمختاری کا دیرینہ خواب پورا کر کے دکھایا، صدر نے اپنے اختیارات رضا کارانہ طور پر پارلیمنٹ کو منتقل کئے، صدر کے اس اقدام سے گھنائونا باب اب ہمیشہ کیلئے بند ہو گیا۔ شفاف انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کو طاقتور بنایا، ایک ہزار 700 ارب روپے کے مالی وسائل صوبوں کو منتقل کئے ،آئینی ترامیم کے ذریعے ہم نے وسائل اور اختیارات صوبوں کو منتقل کر دیئے، سیاسی محرومی کا مداوا ہوا اور صوبوں کو ا ن کا حق حاکمیت ملا۔‘‘ وزیراعظم راجہ نے جن اقدامات کو اپنی کامیابیوں میں شامل کیا ہے ان سے عام آدمی کی زندگی میں کونسی جنت کی ہوائیں آ گئیں، خوشحالی کے دَر کھل گئے، اس کے مسائل حل ہو گئے۔ خدا کی پناہ وزیراعظم نے دعویٰ فرمایا کہ ان کی پارٹی نے اپنے دورِ اقتدار میں نیشنل گرڈ میں 4ہزار میگاواٹ بجلی شامل کی، وہ بجلی ہے کہاں؟ کیا اندھیروں میں گھو گئی یا سردی میں کہیں ’’بُکل ‘‘مار کے سو گئی؟(حقائق سے نظریں چرائے بغیر ایک عام فہم کا آدمی بھی یہ دیکھ رہا ہے کہ پچھلے پانچ سالہ دور میں اقرباپروری ،وزیروں اور مشیروں کی فوج نے جس طرح اپنی بھوک اورغربت کو مٹانے کے لیے لوٹ مار کرکے قومی خزانے کو 23سو کھرب روپے کا نقصان پہنچایا ہے وہ سب کے سامنے عیاں ہے) مشرف دور میں بجلی کا شارٹ فال 18سو میگاواٹ تھا جو تین گنا سے بھی زیادہ اضافے کے ساتھ موجودہ دور میں 6ہزار میگاواٹ ہو گیا۔ اس بحران کو بھی حکمران اپنی کامیابیوں کی فہرست میں شامل کر رہے ہیں۔ جن کامیابیوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں کاش ان کا حقائق سے بھی تعلق ہوتا۔ ایسا ہوتا تو پیپلزپارٹی کے خزاں رسیدہ شجر سے ہوا کا رخ دیکھنے والے پرندوں کی اڑانیں ثمر آور گلشن کی طرف نہ ہوتیں۔اس دوران سیاسی پارٹیوں جو نئے منشور پیش کیے ہیں ان کی ضرورت ہی کیا تھی اگر وہ اپنے 2008ء کے منشور پر عمل پیرا ہوتیں ۔ یہ نئے منشور دراصل نام نہاد سیاسی لٹیروں کی طرف سے مفصل اور مفلوک الحال عوام کے جسم سے خون کا آخری قطرہ اور ہڈیوں سے ماس نوچنے کی ایک نئی سازش ہے۔دیکھنا اب یہ پاکستانی کی 18کروڑ عوام کو ہے کہ وہ اس نئی بوتل میں پرانی شراب کو قبول کرتے ہیں کہ نہیں؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus