×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کا اتحاد ہوگا،مگر ۔۔۔۔
Dated: 30-Mar-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com مسلم لیگی گروپ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں تو متحدہ مسلم لیگ ملک کی سب سے بڑی پارٹی ثابت ہو سکتی ہے۔ گذشتہ انتخابات میں پیپلزپارٹی سب سے بڑی پارٹی بن کر سامنے آئی۔ اب اس کے لیے 2008ء والی پوزیشن حاصل کرنا ناممکن ہے۔ آج کل پاکستان میں انتخابی گہماگہمی کا موسم ہے۔پرانے اتحاد ٹوٹ رہے اور نئے بن رہے ہیں۔ چھوٹی جماعتیں اور پریشرگروپ بڑی جماعتوں خصوصاً مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے گرد جمع ہو رہی ہیں۔ سب سے زیادہ دوری ق لیگ اور پیپلزپارٹی سے اختیار کی جا رہی ہے البتہ یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہنے میں اپنی بقا سمجھ رہی ہیں۔ ق لیگ تو تقریباً تباہی کے کنارے پہنچ چکی ہے۔ پیپلزپارٹی نے اسے سہارا نہ دیا یا اس کی ایجنسیوں کو ضرورت محسوس نہ ہوئی تو اس کا وجود پاکستانی سیاست سے مفقود ہو جائے گا۔ اس حقیقت کا بہت کم لوگوں کو ادراک ہے کہ اتحادوں کی بات کی جائے تو مذہبی جماعتوں کے اتحاد کے سامنے کوئی پارٹی ٹِک نہیں سکتی۔ 2002ء کے انتخابات میں چند مذہبی جماعتوں کا اتحاد بنا تو یہ ملک کی تیسری بڑی پارٹی تھی۔ مولانا فضل الرحمن مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے وزارت عظمیٰ کے امیدوار تھے۔ پیپلزپارٹی ان کی حمایت کرتی تو یقینا مولانا وزیراعظم بن جاتے۔ پیپلزپارٹی خود تو دوسرے نمبر پر رہتے ہوئے بھی جیت کی پوزیشن میں نہیں تھی۔ مولانا کی حمایت کرکے وہ امریکہ کو ناراض بھی نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے مشرف صاحب کے امیدوار ظفر اللہ جمالی ایک ووٹ کی اکثریت سے وزیراعظم بن گئے۔ مذہبی جماعتوں کو اپنی طاقت اور ووٹ بینک کا بخوبی اندازہ ہے لیکن عدم برداشت کی بھی انتہا ہے۔ یہی ان کے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے میں امرمانع ہے۔2002ء کے انتخابات میں ڈاکٹر طاہر القادری بھی مجلس عمل میں شامل ہوتے تو یہ اتحاد یقینا پہلی پوزیشن حاصل کر چکا ہوتا۔ ایک تو مذہبی جماعتیں عدم برداشت کے رویے کے باعث ایک پلیٹ فارم پر متحد نہیں ہو رہیں دوسرے عالمی طاقتوں کے لیے ان کو برداشت کرنا بھی مشکل ہے، اس لیے وہ بھی مذہبی جماعتوں کے اتحاد کی شکست ریخت میں ذاتی دلچسپی رکھتی ہیں۔ مذہبی جماعتوں میں مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علمائے اسلام اور مولانا مودودی مرحوم کی جماعت اسلامی قابل ذکر ہیں۔ دونوں کا ایک دوسرے کے لیے وجود آج کل ناقابل برداشت ہے اور دونوں انفرادی طور پر قابلِ ذکر کامیابی کی پوزیشن میں نہیں۔ جے یو آئی تو خیبر پی کے اور بلوچستان میں چند سیٹیں نکال لیتی ہے۔ جماعت اسلامی گو ملک کی سب سے منظم جماعت ہے لیکن آج اس کی یہ حالت ہے کہ پورے ملک سے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ایک سیٹ بھی نہیں جیت سکتی۔ جے یو آئی خیر پی کے میں اپنی سیٹوں کی تعداد بڑھانے کے لیے ن لیگ سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر رہی ہے جبکہ جماعت اسلامی پی ٹی آئی کو اپنے دامن الفت میں لا رہی ہے۔ جماعت اسلامی نے عمران خان کے ساتھ جامعہ پنجاب میں جو بدتمیزی اور ہلڑبازی کی اس کے باوجود بھی عمران خان کا جماعت اسلامی سے اتحاد ان کے حوصلے کی علامت ہے۔ جماعت اسلامی کے ساتھ اگر عمران خان اتحاد نہ بھی کریں تب بھی تحریک انصاف جماعت اسلامی کے رنگ میں کسی حد تک رنگی جا چکی ہے۔ اس کے عہدیداروں کا جائزہ لیں تو ایسے لوگ بڑی تعداد میں مل جائیں گے جو جماعت اسلامی سے وابستہ رہ چکے ہیں۔دیگر جماعتوں میں بھی جماعت اسلامی کا اسی طرح اثر و رسوخ ہے، خاص طور پر مسلم لیگ ن میں۔جماعت اسلامی کا ووٹر چونکہ مذہبی رحجان رکھتا ہے اس لیے وہ دلی طور پر مسلم لیگ ن سے قربت رکھتا ہے اور جماعت اسلامی الیکشن میں عمران خان کا ووٹ لے تو سکتی ہے مگر دے کچھ بھی نہیں سکتی۔دائیں بازو کی شہرت رکھنے والی پارٹیوں میں جماعت اسلامی کے لوگ غیرارادی طور پر نہیں جاتے، سوچی سمجھی منصوبہ بندی سے بھیجے جاتے ہیں جو بوقت ضرورت جماعت اسلامی کے مفاد کے لیے کردار ادا کرتے ہیں۔ آج مسلم لیگ ن کی پوری کوشش ہے کہ جماعت اسلامی تحریک انصاف کے ساتھ نتھی ہو جائے۔ یہ کچھ نہ کچھ سیٹیں تو ضرور نکالے گی۔ مسلم لیگ ن کو اگر حکومت سازی میں تحریک انصاف کی ضرورت پڑتی ہے تو جماعت اسلامی ،تحریک انصاف کو ن لیگ کے ساتھ اتحاد کے لیے آمادہ کرے گی۔ عمران خان اگر اپنی ننھی منی اتحاد کی بات ماننے سے انکار کرتے ہیں توجماعت کا پی ٹی آئی میں گھس بیٹھیا گروہ عمران کو ن لیگ کا ساتھ دینے پر مجبور کرے گا۔ جس کے سامنے خان صاحب بے بسی کی تصویر بنے نظر آئیں گے۔ گویا ضرورت پڑنے پر عمران خان الیکشن کے بعد نوازشریف کے اتحادی بن جائیں گے۔ جب کوئی بھی گروپ پارٹی کی حیثیت اختیار کرتا ہے تو اسے اپنی قوت آزمانی چاہیے ایک پریشرگروپ بن کر بلیک میلنگ کے ذریعے چندنشستیں حاصل کرنا چور دروازے سے اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہونے کے مترادف ہے۔ بڑی پارٹیاں ایسی گروپوں اور تانگہ سوار پارٹیوں کو منہ نہ لگائیں تو یہ اپنی موت آپ مر جائیں۔ عمران خان سونامی لے کر اٹھے ہیں تو وہ کوشش کریں کہ انتخابات سے قبل کسی کی پذیرائی کرکے انتخابات کے بعد انہی کے ہاتھوں بلیک میل ہونے سے بچیں۔ وہ چند پارٹیوں کو ساتھ ملا کر انہیں یہ کہنے کا موقع نہ دیں کہ ہماری وجہ سے پی ٹی آئی جیتی ہے۔ 2013ء کے انتخابات کے بعد بھی انتخابات ہوتے رہیں گے۔ عمران خان سولوفلائیٹ کریں تاکہ انہیں اپنی اصل طاقت کا تو اندازہ ہو سکے۔عمران خان کو چاہیے کہ اپنی یوتھ کے ووٹر کو دل برداشتہ نہ کرے ۔ کسی بھی پارٹی میں شمولیت اختیار کرنا ہر کسی کا استحقاق اور جمہوری حق ہے مگر اپنی پارٹی میں اپنے نظریات اور منشور سے ہٹ کر لوگوں کو داخل کرنے سے ایک ایسا ’’مکس سیلٹ‘‘بن جاتا ہے جو بعدازاں آپ کے لیے مشکلات پیداکرتا ہے۔ موجودہ تناظر میں تحریک انصاف کو شاید کسی اتحاد کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ ایک نئی منظم کی گئی پارٹی ہے ،جس کو ابھی یہ دیکھنا ہے کہ پاکستان کے کونسے علاقے یا حلقے میں اس کی پوزیشن کمزور یا مضبوط ہے ۔ موجودہ الیکشن کو تحریک انصاف ایک تجزیاتی الیکشن سمجھ لڑے تو آئندہ الیکشن تک یقینا ملک کی سب سے بڑی پارٹی بن جائے گی۔جبکہ مذہبی پارٹیاں بڑی سیاسی جماعتوں سے اتحاد کرکے بلیک میلنگ کا رویہ اختیار کرتی ہیں۔یقینا آئندہ الیکشن کے نتائج کے بعد پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کا ممکنہ اتحاد نظر آتا ہے کیونکہ تحریک انصاف ،مسلم لیگ ن اور دوسری چھوٹی مذہبی جماعتوں کے ووٹرز پیپلزپارٹی جیسی لیفٹ کی جماعت سے اتحاد کی نفی کریں گے ۔تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن دونوں اس پوزیشن میں نہیں کہ اکیلے حکومت بنا سکیں، اس لیے آئندہ چھ ہفتوں میں ایک دوسرے کو گالیاں نکال کر یا الزامات دے کر اپنے مستقبل کی راہ کو پیچیدہ نہ کرے اور ممکنہ پشیمانی سے بچیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus