×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
تلاشِ گمشدہ
Dated: 30-Apr-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com مجھے پاکستان میں آئندہ کے حالات ہولناک اور خوفناک نظر آ رہے ہیں۔ یہی بات میں یورپ میں مقیم اپنے ہم وطنوں سے کرتا ہوں تو وہ بڑی حیرانی سے زیادتی پریشانی کی کیفیت میں پوچھتے ہیں کہ مجھے کیسے معلوم ہوا کہ ایسا پاکستان میں ہونے جا رہا ہے؟ ان کے اس سوال پر مجھے اپنا بچپن یاد آ جاتا ہے۔ ہم ڈیرے پر دادا جی کے پاس ہوتے تو وہ اپنے مزارعوں کو بلا بلا کر کہتے کہ بارش ہونے والی ہے جانوروں کے لیے چارے وغیرہ کا انتظام کر لو۔ باقی بھی کچھ سنبھالنا ہے سنبھال لو۔ جس وقت دادا جی مزارعوں کو یہ سب کہہ رہے ہوتے مطلع صاف ہوتا اور بارش کا دور دور تک نشان بھی نہیں ہوتا تھا۔ ہم ان سے پوچھتے کہ آپ کو کیسے بتا کہ آج بارش آئے گی ؟تو وہ کہتے کہ ’’یہ میں زندگی کے تجربے، موسم کے تجزیئے اور ہوائوں کی حدت سے اندازہ لگاتا ہوں۔ یہ میں نے اپنے باپ اور انہوں نے اپنے باپ سے سیکھا تھا۔ میں دوستوں کو بتاتا ہوں کہ میں ایک سیاسی کارکن ہوں۔ میری حالات پر نظر اور سیاست کی نبض پر ہاتھ ہے۔ ماضی کے تجربات اور حال کے تجزیات وہی کچھ کہتے ہیں جو کچھ میں آپ کو بتاتا ہوں۔ جو کچھ ہونے جا رہا ہے اس کے تصور سے ہی میں کانپ کر رہ جاتا ہوں۔ الیکشن سے قبل کی خونریزی سامنے ہے۔ خدانخواستہ کسی بڑے لیڈر کو نقصان پہنچا تو اس کے بعد حالات کس کے کنٹرول میں نہیں رہیں،بوڑھا الیکشن کمیشن اور ضعیف نگران حکومت تو اپنے وجود کو نہیں سنبھال سکتے۔ انتخابات کے بعد دھاندلی کا شور مچا تو بھی نگران اور الیکشن کمیشن بے بس نظر آئیں گے۔ یہ سب کچھ ملکی استحکام،سالمیت اور سلامتی کے لیے خطرناک ہوگا۔ آج پاکستان کے تین صوبوں میں امن امان کی بدترین صورت حال ہے۔ پنجاب میں کسی حد تک حالات بہتر ہیں۔ اس لیے انتخابی مہم میں جوش و خروش بھی پنجاب میں ہی نظر آتا ہے۔ پنجاب میں حالات اگر کنڑول میں ہیں تو اس کی وجہ پولیس کی نسبتاً فعالیت ہے۔ دوسرے صوبوں میں حالات کی ابتری کی ذمہ دار پولیس ہی ہے۔ مرکز اور صوبوںمیں پیپلزپارٹی اور اس کی اتحادی ایم کیو ایم اور اے این پی اقتدار میں تھیں۔ ان سب نے ملکی وسائل کو بے دردی سے لوٹا۔ پولیس میں سفارشوں اور رشوت پر بھرتیاں کی گئیں۔ ایک ان میں میرٹ کی دھجیاں اڑا کر دس دس ہزار افراد کو بھرتی کرکے وردی پہنائی اور بغیر کسی ترتیب کے فیلڈ میں بھیج دیا گیا۔ ان میں آدھے گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کر رہے ہیںاور باقی آدھوں کو کچھ کرنا ہی نہیں آتا۔ آج کے نگران بھی گذشتہ پانچ سال کے حکمرانوں کا ہی تسلسل ہیں۔ الیکشن کمیشن بھی ان کا ہی چنا ہوا ہے اور فیصلے بھی ویسے ہی کر رہا ہے جو پانچ سال میں ہوتے رہے۔ جعلی ڈگری ،پاکستان کو لوٹنے والوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔آرٹیکل 62،63ایک بار پھر آئین کی کتاب ہی کی زینت بن کر رہ گیا۔ مرکز اور چاروں صوبوں میں نگران پیپلزپارٹی اور اس کے اتحادیوں کی مرضی کے ہیں۔پنجاب میں اگر پانچ سال تک مکمل مداخلت کا موقع نہیں ملا اب اس صوبے میں بھی دسترس حاصل ہے۔ پنجاب کے حالات اس کے لیے قابو میں ہیں کہ جہاں بھی سفارش اور میرٹ کی مٹی کم پلید نہیں کی گئی لیکن اچھے تربیتی اداروں نے نااہلوں کی بھی اچھی تربیت کر دی۔ تربیت سے پنجا ب پولیس کے اہلکارکمانڈو تو نہیں بن گئے البتہ دوسرے صوبوں کی پولیس کے مقابلے میں ان کی کارکردگی بہتر رہی ہے۔ آج چاروں صوبوں کے گورنر اور وزرائے اعلیٰ سابق حکومت کے لگائے ہوئے ہیں جس کے کرتا دھرتا آصف علی زرداری تھے جو آج بھی ایوانِ صدر میں موجود ہیں۔ مجھے تو گذشتہ پانچ سال خوفناک خواب کی مانند دکھائی دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے اس خواب کا تسلسل ٹوٹاہے نہ ٹوٹتا نظر آتا ہے۔ ٹارگٹ کلنگ اور دہشتگردی میں سیاسی و مذہبی رہنمائوں اور کارکنوں کی ہلاکتوں پر یومِ احتجاج اور ایام سوگ کے باعث تعلیمی اور کاروباری ادارے 365میں سے 250دن بند رہے۔ گویا اوسطاً پانچ سال میں صرف ڈیڑھ دو سال کا کام ہوا۔ ایسے میں تعلیمی شعبہ پسماندہ اور معیشت پستیوں کی گہرائی میں نہیں گِرے گی تو اور کیا ہوگا۔ اور وکلا کی آئے روز ہڑتالوں اور یومِ سوگ اور لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے ہماری عدلیہ اور جوڈیشری کے پاس لاکھوں کیس زیر التوا پڑے ہیں ۔ہمارے وکلا کو بھی یا تو سیاست چھوڑنی ہو گی یا وکالت۔اتنا عرصہ اقتدار میں پاکستان کی تاریخ میں کوئی پارٹی نہیں رہی۔ یہ تو اقتدار سے الگ ہو کر بھی اقتدار میں ہے۔ سب سے بڑے عہدے پر آصف علی زرداری بدستور موجود ہیں۔ چاروں گورنران کے نیازمند اور وزیراعظم و وزرائے اعلیٰ احسان مند ہیں۔ ایسے میں جیالے کل بھی مایوس تھے اب بھی ناخوش ہیں۔ ان کا کل کوئی والی وارث تھا نہ آج ہے۔ اقتدار کے سنگھاسن پر پانچ سال براجمان رہنے والی پیپلزپارٹی آج بکھری اور اجڑی ہوئی نظر آتی ہے۔ ٹکٹیں تو جیسے تیسے تقسیم ہو گئیں امیدواروں سے کروڑوں روپے فیس کی مد میں وصول کر لیے گئے۔ ویسے تو پانچ سال بھی پارٹی اور قائدین نے وصولیاں ہی کی ہیں۔ آج یہ قائدین کہیں نظر نہیں آرہے۔ مسلم لیگ ن کے پاس ایک ہی لیول کے دو قائد میاں نوازشریف اور میاں شہباز شریف ہیں۔ پی پی پی کے پاس ایک بھی نہیں۔ آصف علی زرداری نے پارٹی کی قیادت سنبھالنے کی بجائے ایوانِ صدر میں موجودگی کو ترجیح دی۔ بلاول ناراض ہو کر دبئی جا بیٹھے ہیں تو ان کو منا کر پاکستان لایا جاتا ہے۔ وہ انتخابی مہم پر اپنی سکیورٹی کو ترجیح دیتے ہیں۔ یوسف رضا گیلانی نااہل ہو کر گھر بیٹھ گئے۔ راجہ پرویز اشرف اپنے حلقے سے نہیں نکل رہے وہ الیکشن سے قبل نہیں توبعد میں نااہل ٹھہریں گے۔ مخدوم امین فہیم بھی چودھویں کا چاند ہیں۔ پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیربدر کو عین انتخابات کے آغاز پر عہدے سے ہٹا دیا گیا۔وہ سینیٹ میں قائد ایوان تھے اب سے یہ عہدہ بھی ان کے پاس نہیں رہا۔ وہ بھی گھر بیٹھے ہیں۔ گویا پارٹی کی پوری مرکزی قیادت غائب ہے اور دوسرے درجے کی قیادت یعنی احمد مختار،قمر الزمان کائرہ،خورشید شاہ،قائم علی شاہ اور نذر گوندل منظر سے ایسے غائب ہیں کہ انہوں زمین کھائی یا آسمان؟ تحریک انصاف کی کرشماتی قیادت نے بھرپور انتخابی مہم اور شریف برادران نے الیکشن کا کچھ ماحول بنایا ہے۔ اگر ان حالات میں ایم کیو ایم ،اے این پی اور پیپلزپارٹی اپنی ہی کرتوتوں کی وجہ سے آج پریشان ہیں تو اس میں پاکستان کی دیگر سیاسی جماعتوں کا کیا قصور؟انہوں نے جو بیجا تھا آخر وہی کاٹنا تھا،وہ اس دہشت کی لہر میں بھی اپنے لیے مظلومیت کا عنصر تلاش کر رہے ہیںلیکن ان کے جرائم اتنے سنگین اور ان کے کیے ہوئے معاشی اور سماجی قتل کا خون ان کے ہاتھوں پر ابھی بھی موجود ہے تو وہ کیسے عوام کے سامنے آئیں گے؟ایسے میں جیالے، امیدوار، سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور فیڈرل کونسل کے ارکان میڈیا میں تلاش گمشدہ کے نام پر اشتہار دینے کا سوچ رہے ہیں کہ ملک کو لوٹنے ، قوم کو تاریکیوں کے حوالے کرنے والی پیپلزپارٹی کی قیادت یہ اشتہار پڑے یا کوئی اور دیکھے تو انہیں گھر بھیج دے کچھ نہیں کہا جائے گا۔اور ایسا ہی ایک اشتہار پاکستان کی مظلوم عوام بھی دینے والے ہیں کہ ہمارا لاغر و لاچار الیکشن کمیشن بھی جہاں کہیں بھی ہے خدارا ملکی سلامتی و استحکام کے لیے دوبارہ اپنے دفاتر میں لوٹ آئے انہیں بھی کچھ نہیں کہا جائے گا؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus