×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
جیالے تیر چلا۔۔۔ہُن آپ ای چلا
Dated: 07-May-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com گذشتہ دنوں برصغیر کی نامور گلوکارہ شمشاد بیگم رحلت فرما گئیں۔ جن کا گایا ہوامشہور گانا ’’کبھی آر کبھی پار ہوا تیر نظر‘‘اتنا مشہور ہوا کہ اپنے دور میں ہر زبان پر زدعام تھا۔کاش شمشاد بیگم زندہ ہوتیں تو پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت ان کی خدمات حاصل کرتیں کہ وہ ان کی انتخابی مہم کے لیے گاناگائے۔پیپلزپارٹی جس نے ان الیکشن میں اپنی انتخابی کمپین کا سارا دارومدار الیکٹرانک اینڈ پرنٹ میڈیا پر چھوڑا ہوا ہے اور خود پارٹی کے سابق وزرائے اعظم سمیت پوری وفاقی کابینہ، سٹینڈنگ کمیٹیوں کے چیئرمین اور مشیر حضرات مالِ غنیمت کو سنبھالنے اور چھپانے کی وجہ سے پردہ سکرین سے غائب ہیں۔میرا ماتھا اسی روز ٹھنکا تھا جب رانا آفتاب اور پھر امتیاز صفدر وڑائچ کو پیپلزپارٹی پنجاب کی صدارت سے ہٹایا گیا تھا اور ایسے شخص کو پیپلزپارٹی پنجاب کا صدر بنا دیا گیا جو پیپلزپارٹی کی قیادت کو ماضی میں بلیک میل کرتا رہا تھا۔تو میرے سمیت سبھی نے یہ جان لیا کہ یہ حرکتیں الیکشن لڑنے اورجیتنے والی نہیں ہیںاور اسی طرح مرکز میں جہانگیر بدر کو سینیٹ کے قائدایوان کے عہدے سے بھی ہٹا دیا گیا اور ایک منجھے ہوئے اور بانی ورکر کوپارٹی کی جنرل سیکرٹری شپ سے فارغ کر دیا گیا ۔جنگوں کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے ،چاہے وہ جنگیں سیاسی ہوں کہ عین گھمسان کا جب رن پڑ رہا ہو تو کمانڈر اور سپہ سالار تبدیل نہیں کیے جاتے۔دراصل پارٹی قیادت کو چوری کھانے والے مجنوئوں نے اس طرح اپنے سحر میں جکڑا ہوا ہے کہ ان کی عقل اور آنکھیں دونوں ہی کام نہیں کر رہیں۔پیپلزپارٹی وہ واحد جماعت ہے جس کے پاس قربانیاں دینے والے کارکنان کی طویل فہرست ہے اور گذشتہ چوالیس سال میں پیپلزپارٹی کے جیالوں نے جہاں پارٹی قیادت کا پسینہ گرا وہاں اپنا خون گرانے سے گریز نہ کیا ہے۔ضیاء الحق کے دور سے دیکھیں تو شہید بھٹو کی جب پھانسی کا اعلان ہوا تو ملک بھر سے لاکھوں جیالوں نے گرفتاریاں پیش کیں،ہزاروں پر سرعام کوڑے برسائے گئے ، سینکڑوں کو پھانسیوں کی سزا ہوئی۔بے شمار جیالے پرانے قلعوں میں پابندسلاسل کر دیئے گئے۔اور انسانی تاریخ نے اپنی آنکھوں سے پہلی دفعہ دیکھاکہ ایک قائد اور انسان کے لیے ملک بھرسے 9 جیالوں نے خودسوزی کرکے ایک تاریخ رقم کر دی ہے ۔اور بے شمار جیالے خودکشی کی کوشش کے دوران ہمیشہ کے لیے معذور ہو گئے ہیں۔18اکتوبر 2007ء کو شہید محترمہ بے نظیر بھٹوکی پاکستان آمد کے موقع پر 250 سو جیالوں نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔اور پھر ججوں کی بحالی کی تحریک کے دوران سینکڑوں جیالوں نے خون کے نذرانے پیش کیے۔اور27دسمبر2007ء کو جیالوں نے جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے شہید محترمہ کے گرد انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنا کر شہید محترمہ کو بچانے کی کوشش میں درجنوں جیالے شہید محترمہ کے ساتھ ہی شہید ہو گئے۔ جیالوں ہی کی بدولت 1986ء میں بھٹو کی بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو کا فقید المثال استقبال کرکے آمر کے مسنداقتدار کی چولیں ہلا دیں۔اورپھر جب بھی پارٹی پر کبھی امتحان کا وقت آیا تو جیالوں نے ہی پارٹی کی ڈوبتی نائو کو نہ صرف سہارا دیا بلکہ پارٹی قیادت کے کرپٹ امیج کو بھی اپنے خون سے صاف کیا ۔(خود راقم بھی صدر مملکت آصف علی زرداری کے ساتھ اڈیالہ جیل میں صعوبتیں اور مشکلات برداشت کرنے کی تاریخ رقم کر چکا ہے)کوئی بھی کسی قسم کا بھی لالچ جیالوں کی دیوانگی کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکا۔اور مجھے آصف علی زرداری اور محترمہ بے نظیر کے بھٹو کیسوں کی پیروی سے باز رہنے کے عوض بھاری رقم اور تین دفعہ وفاقی وزارتوں کی پیش کش کی گئی،جسے میں نے حقارت سے ٹھکرا دیا ۔یہی وجہ ہے کہ مردِ صحافت جناب ڈاکٹر مجید نظامی صاحب مجھے بڑے پیارے سے سینئر جیالا پکارتے ہیں۔لیکن اب پیپلزپارٹی کی قیادت نے کبھی یہ سوچا ہے کہ کیا وجہ ہے اب پارٹی کا جیالا ٹس سے مس نہیں ہو رہا اور وہ اس سارے الیکشن کی کمپین میں لاتعلق ہو کر بیٹھا ہے۔جبکہ پارٹی قیادت (اگرکہیں ہے)نعروں ،ترانوں اور پارٹی سلوگنز کو میڈیا پر نشر کرکے پارٹی کے جیالوں کو ایموشنل بلیک میل کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔پارٹی جیالے ہم سے پوچھتے ہیں کہ پاکستان پیپلزپارٹی گذشتہ پانچ سال سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر،گلگت بلتستان اور ساڑھے تین سال پنجاب میں اقتدار کے مزے لوٹتی رہی جبکہ وفاق میں اپنے قریبی اتحادیوں کے ساتھ وزیراعظم اور صدر بھی جب اپنے ہوں تو پھر کیا وجہ تھی کہ پارٹی کے منشور پر عملدرآمد نہ کرایا جا سکا۔وہ کون سے ایسی مجبوری تھی کہ ہم نے اپنی شہید قائد محترمہ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں تک کو پکڑنے کی کوئی بھی سیریس کوشش نہ کی۔وہ کون سے ایسے بندھن تھے یا وہ کون سے ایسے عہدوپیمان تھے کہ پارٹی قیادت پارٹی اور جیالوں کو پانچ سال مسلسل بے وقوف بناتی رہی اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے قریبی ساتھیوں کو چُن چُن کر دیوار سے لگایا جا تا رہا۔اگر قیادت کے بس میں ہوتا تو جیالوں کو دیوار میں انارکلی کی طرح چنوا ہی دیتی۔ لاکھوں جیالے بے روزگار بیٹھے ہیں ۔ صرف لاہور کو ہی لے لیں کہ کتنے جیالے اور پارٹی لیڈر پارٹی کو چھوڑ چکے ہیں۔اور جو باقی ہیں وہ بھی بے روزگار اور لاچار بیٹھے ہیں۔جب کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت وزرائے اعظم اور کابینہ کے وزیروں سمیت تین سو خاندانوں کو ارب پتی بنا دیا گیا ہے جبکہ پورے ملک کے جیالوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ پیپلزپارٹی کی جعلی قیادت کارکنان و جیالوں کا خون تو نچوڑ ہی چکی ہے اور ماس بھی نوچ ہی چکی ہے اب ہڈیاں بچی ہیں شاید ان سے بھی جوس نکالنا چاہتی ہے۔اور کس منہ سے ان جیالوں کو جن کو کبھی درخوراعتنا نہیں سمجھا گیا آج الیکشن اور ووٹ کے وقت ان کی کے گیت گائے جا رہے ہیں ۔پاکستان کے کروڑوں جیالے آج بھی پارٹی قیادت کی آواز پر لبیک کہنے کو تیار ہیں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ پہلے پارٹی میں شامل کی گئیں کالی بھیڑوں کو الگ کیا جائے، پرانے اور سینئر کارکنان کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر معافیاں مانگی جائیں ۔محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے قتل کی آزادانہ جوڈیشل انکوائری کروائی جائے اور پارٹی کی بدنامی کا سبب بننے والے سابق وزرائے اعظم ،وزیروں اورمشیروں کی فوج کو کھمبوں پر اُلٹا لٹکایاجائے۔تو ان کی جیبوں سے گرنے والی رقم سے پاکستان کے اندھیروں کو اجالوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔بس یہ ہمارے جیالوں کی معصوم سے خواہشیں ہیں۔تم انہیں مان لو جیالا تم کو ووٹ کیا پھر سے جان بھی دینے کے لیے تیار ہے۔ اب بھٹو اور بھٹو کی شہید بیٹی کے مرثیے ،نغمے اور ترانے گانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی جبکہ جناب صدر صاحب آپ خود کو عقل کل سمجھتے ہیںاور آپ نے تو پانچ سالہ پورے کرکے عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے؟اب عوام کو مزید بے وقوف بنانا شاید اب آپ کے بس میں بھی نہیں رہا؟جیالوں کا آپ کو مشورہ ہے کہ اگلے پانچ سال صبر کیجئے اور پارٹی کے روٹھے ہوئے سرمایہ افتخار ’’جیالوں‘‘ کو منانے کی کوشش کریں شاید یہ پارٹی پھر سے قیادت پر اعتماد کرنے لگے ۔ لاہور میں دربدر پھرتے ہوئے مجھے آج بھی کئی جیالوں کے چہرے سامنے آ رہے ہیںجو نا تو پارٹی چھوڑ کر جا سکتے ہیں بلکہ وہ شکوے شکایت کرنے کوبھی جیالے کی روایات کے خلاف سمجھتے ہیں۔خود مجھے گذشتہ دوراقتدار میں شدید مالی اور ذہنیت نقصانات پہنچائے گئے لیکن ہم نے تہیہ کر رکھا ہے کہ پارٹی کے اندر رہتے ہوئے بھٹوز ازم کی جنگ لڑیں گے۔لیکن پارٹی کی موجودہ قیادت کس منہ سے اب بھی جیالوں کو پکار رہی ہے کہ جیالے تیر چلا ۔ٹی وی چینل پر پیپلزپارٹی کا یہ ترانہ ’’جیالے تیر چلا ‘‘چل رہا تھا توپاس ہی بیٹھے ایک جیالے نے برجستہ کہا ’’ہُن آپ ای چلا‘‘
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus