×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا بجلی بحران میں دانستہ اضافہ کیا جارہا ہے؟
Dated: 02-Jul-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com حکومت نے گردشی قرضوں کی ادائیگی شروع کر دی۔ گذشتہ حکومت نے سرکولرڈیٹ جسے گردشی قرضہ کہا جاتا ہے 500ارب روپے سے اوپر پہنچایا۔ اس کی بڑی وجہ اعلیٰ سطح پر انتہا درجے کی کرپشن تھی۔ سپریم کورٹ نے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو رینٹل منصوبوں کی کرپشن میں ملوث قرار دیا تھا۔ نئی حکومت آئی تو وہ فی الحال تو اربوں اور کھربوں روپے کی کرپشن کے سامنے بند باندھے ہوئے ہے۔ معطل شدہ چیئرمین نیب فصیح بخاری نے کہا تھا کہ سرکاری اداروں میں روزانہ 12ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے۔ کرپشن کا یہ پیسہ اب قومی خزانے میں محفوظ ہو رہا ہے۔ سرکولرڈیٹ ختم کرنے کے نام پر نئی حکومت نے ٹیکسوں میں اضافہ کر دیا۔ تین چار ہفتوں میں بجلی کی قیمت میں تین مرتبہ اضافہ کر دیا۔ سی این جی سٹیشن ہفتے میں محض ڈیڑھ دو دن کھولے جاتے ہیں۔ پٹرول کی قیمتیں ایک بار پھر بڑھا دی گئی ہیں۔ ہر وزیر مشیر خزانہ خالی ہونے کا رونا روتا ہے۔ ایک ماچس کی ڈبیا پر بھی ہر پاکستانی ٹیکس دیتا ہے۔ پٹرول کی قیمت 102روپے کر دی گئی حکومت اس پر پچاس روپے سے بھی زیادہ ٹیکس لیتی ہے۔ ایسے ٹیکس تو روزانہ خزانے میں جمع ہوتے ہیں۔ خزانہ مستقلاً کیسے خالی رہ سکتا ہے؟ اس حکومت نے میک اپ کے سامان پر ٹیکس نہیں لگایا اور عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہونے سے سونا سستا ہو گیا اب مہنگائی سے مارے ہوئے بھوکے لوگ میک اپ سے خود کو خوبصورت بنائیں اور ’’سستے‘‘ سونے کے نوالے کھائیں۔ وزیر خزانہ استحق ڈار نے عہدہ سنبھالتے ہی اگست میں گردشی قرضوں سے مکمل نجات کا علان کیا تھا۔ اس پر عمل شروع ہو گیا۔ دو روز قبل حکومت نے آئی پی پیز کو پانچ سو ارب میں سے 326ارب روپے کی ادائیگی کر دی ہے باقی پونے دو ارب روپے 10اگست تک ادا کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ وہ بھی یقینا ادا ہو جائیں گے۔ 326ارب روپے کی ادائیگی کے باوجود بجلی کی لوڈشیڈنگ میں سرِ مو بہتر ی نہیں آئی اتنی رقم سے شارٹ فال ادائیگی کے تناسب سے پانچ ہزار میگاواٹ سے کم ہو کر 16،17سو میگاواٹ پر آ جانا چاہیے تھا۔ اس سطح پر شارٹ فال آ جاتا ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق پورے ملک میں یکساں لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے تو دو تین گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ نہیں ہو گی۔ سرکولرڈیٹ کا خاتمہ ہونے پر تمام پلانٹ چل پڑیں گے۔ یہ اپنی صلاحیت کے مطابق بجلی پیدا کریں تو 20ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی دستیاب ہو گی جبکہ موجود حالات میں ہزاروں فیکٹریاں مستقل بند ہو چکی ہیں، ضرورت صرف 16ساڑھے سولہ ہزار میگاواٹ کی ہے۔ ان ناقابل تردید حقائق کے باوجود بھی وزیر پانی و بجلی واویلا کرتے ہیں کہ تین سال میں بھی لوڈشیڈنگ ختم نہیں ہو گی اور ساتھ ہی عوام کو مزید خوفزدہ کرتے ہیں کہ بجلی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ ادھر وزیراعظم میاں نوازشریف بجلی پر سبسڈی ختم کرنے کا ڈراوا دیتے ہیں۔ آپ تھرمل پراجیکٹس کو کوئلے اور ہائیڈل پر لے جائیں تو سبسڈی کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ آپ دس روپے تک یونٹ لانا چاہتے ہیں یہ دُگنا منافع کے ساتھ 3روپے یونٹ تک آ جائے گا حکومت تھرمل پراجیکٹس کو کوئلے پر تو لانا چاہتی ہے لیکن ہائیڈل کے سب سے بڑے منصوبے کا لاباغ ڈیم کو نظرانداز کر رہی ہے صرف اس ایک منصوبے سے 4ہزار میگاواٹ بجلی دستیاب ہو گی۔ حکومت بھاشا ڈیم کی تعمیر کو ترجیح دے رہی ہے۔ اس کے اعلانات شعبدہ بازی سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتے۔ مشرف دور میں اس کا دو اور گذشتہ دو رمیں ایک مرتبہ افتتاح ہوا ۔ ن لیگ حکومت شاید چوتھا افتتاح کرنے کی پلاننگ کر رہی ہے۔ اس کی تعمیر شروع ہو جائے تو کالاباغ ڈیم کے مقابلے میں یہ دوگنا مدت میں مکمل ہو گا اور یہ کالاباغ ڈیم کا متبادل بھی نہیں ہے۔ محض سرکولرڈیٹ ختم ہونے سے ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا ہو گی۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف ترکی کے ساتھ کوڑے کرکٹ سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کو عملی شکل دے رہے ہیں۔ نندی پوری اور چیچوکی ملیاں پاور پلانٹس اگلے سال 900میگاواٹ پیداوار شروع کر دیں گے۔ چین 7مختلف شہروں،6چھ سو میگاواٹ کے ایٹمی بجلی گھر لگا رہا ہے۔ چولستان اور رحیم یار خان میں ایک ہزار میگاواٹ چین ہی کے تعاون سے سولرسسٹم کے تحت پیدا کی جائے گی۔ یہ منصوبے زیادہ سے زیادہ دو سال میں چار ہو جائیں گے اس سب کے باوجود بھی وزیربجلی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی ڈیڈلائن دینے پر تیار نہیں اور فرماتے ہیں اس کے خاتمے میں چھ سال بھی لگ سکتے ہیں۔ سرکولرڈیٹ کی ادائیگی پر بھی لوڈشیڈنگ ختم نہیں ہوتی تو اسے حکمرانوں کی بدنیتی ہی سمجھا جائے گا۔ کیوں کہ یہ ہر صورت بھارت سے بجلی کی برآمد کا فیصلہ کر چکے ہیں جس کی ضرورت نہیں ہے۔ کیا بھارت سے بجلی کی درآمد کا جواز پیش کرنے کے لیے لوڈشیڈنگ کا بحران دانستہ آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ایک عام فہم انسان کے بھی ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ یا تو حکومت گزشتہ حکومت کی روش پر چلتے ہوئے بجلی کا بحران برقرار رکھ کر اپنی من پسند عالمی کمپنیوں سے من پسند تجارتی معاہدے کرنا چاہتی ہے یا پھر انڈیا سے محبت کی پینگیں بڑھا کر اس سے تجارتی رہداری شروع کرنا چاہتی ہے۔جس کا فائدہ صرف پاکستان کے چند سرمایہ اورانڈسٹریلسٹ خاندان کو ہوگا مگر اس کے منفی اثرات یہ ہوں گے کہ ہمیں کشمیر سمیت بھارت کے ساتھ حل طلب ہر ایشو پر پسپائی اختیار کرنا ہوگی۔اور کشمیر ایشو ہمیشہ کے لیے ایک ہزار میگاواٹ بجلی کے تلے دفن ہو کر رہ جائے گا۔ایک اور وجہ بھی اس کی جو سامنے آتی ہے حکومت ہر صورت میں بھارت کے ساتھ بجلی کا معاہدہ کرکے پاکستان کی عسکری قوت کو مزاحمت سے دفاعی پوزیشن میں لانا چاہتی ہے تاکہ اپنی ملی ہوئی بار ی کو پانچ سال تک انجوائے کر سکیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus