×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا واقعی ’’غیر ممکن ہے کہ حالات کی گتھی سلجھے‘‘!
Dated: 23-Jul-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com پاکستان پیپلزپارٹی کا پانچ سالہ دورِ اقتدار ملک و قوم کو بدترین بحرانوں میں مبتلا کرکے اختتام پذیر ہوا۔ قوم کی مشکلات کا آغاز جناب آصف علی زرداری کے ایوانِ صدر میں داخلے سے ہوا۔ 18فروری کے انتخابات کے بعد پیپلزپارٹی اپنے اقتدار کے ابتدائی دنوں میں عوامی مسائل کے حل کے لیے کمٹڈ نظر آئی لیکن جلد ہی اس کا عوامی خدمت کا ایجنڈا ذاتی مفاداتی ایجنڈے میں بدل گیا۔ ظاہر ہے ایسا ہونے سے مسائل اور بحرانوں نے ہی جنم لینا تھا۔ جس سے ہرگزرتے دن کے ساتھ عوام کا عرصہ تنگ ہوتا ہوگا۔ پیپلزپارٹی کی قیادت کو اپنی شکست کا یقین ہو چکا تھا اس لیے قومی خزانے اور وسائل کی لوٹ مار کو اپنی پہلی اور آخری ترجیح بنا لیا۔ سابقہ حکمرانوں کے پیدا کردہ مسائل اور بحرانوں سے نکلنا ناممکن نہیں تھا لیکن نوازشریف حکومت کے لیے معاملات کو کنٹرول کرنا اس لیے مشکل ہو رہا ہے کہ سابق حکمرانوں نے دانستہ ایسی مشکلات پیدا کیں کہ نئے آنے والے سرپیٹ کر رہ جائیں: غیر ممکن ہے حالات کی گتھی سلجھے اہلِ دانش بہت سوچ کے الجھائی ہے گذشتہ حکومت کی جان بوجھ کر پیدا کردہ مشکلات پر قابو پانے یا ان کی الجھائی ہوئی گتھی سلجھانے کے لیے مسلم لیگ ن کی قیادت کو حکومت میں آنے سے قبل مکمل تیاری کرنے کی ضرورت تھی جو کہیں دیکھنے میں نہیں آئی۔ یہی سمجھا گیا کہ اقتدار میں آئیں گے تو بیوروکریسی سیدھی ہو جائے گی، چٹکی بجاتے ہی مسائل حل ہوں گے اور بجلی کی لوڈشیڈنگ گھٹنے ٹیک دے گی۔ عوام نے بھی نئی حکومت سے بڑی بڑی توقعات وابستہ کی تھیں۔پیپلزپارٹی کو اپنی مشکلات کا ذمہ دار قرار دے کر اس سے انتقام لیتے ہوئے الیکشن میں بدترین شکست سے دوچار کیا اور نوز لیگ کو نجات دہندہ سمجھ کر اس کا دامن اپنے ووٹ سے بھر دیا۔ ن لیگ نے اقتدار میں آ کر ہر مسئلے کا حل حکومتی آمدن میں اضافے کو سمجھ لیا۔ بغیر کسی مناسب تیاری کے گیس میں اضافے سے بھرمار کا بجٹ تیار کرکے اضافہ کا فوری اطلاق کر دیا۔ ڈیڑھ ماہ میں تین بار بجلی کے نرخ بڑھا دیئے گئے۔ پٹرولیم مصنوعات میں بھی تیسری بار اضافے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ وزیر خزانہ دعویٰ کرتے ہیں کہ گردشی قرضوں کے 518ارب میں سے 341ارب روپے کی ادائیگی کر دی گئی ہے جس سے لوڈشیڈنگ میں خاطر خواہ کمی ہونی چاہیے تھی لیکن کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔ رمضان میں افطاری سحری اور نمازتراویح کے دوران بجلی کی ترسیل کے دعوے گذشتہ حکمرانوں کے دعوئوں کی طرح بے معنی اور لغو ثابت ہوئے۔ قوم و ملک کے درپیش بحران نواز لیگ قیادت اور حکومت کے لیے ایک چیلنج تھے جن پر قابو پانے کے لیے ایک عزم و ارادے اور کمٹمنٹ کی ضرورت تھی۔ جان بوجھ کر الجھائی گئی گتھی کو الجھانے والوں سے زیادہ دانشوری کی ضرورت تھی۔ اگر دانش اتنی نہیں ہے تو اس کمی کو محنت سے دور کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ حکمران اب تک تو محنت اور دانش دونوں سے دور دکھائی دے رہے ہیں اور کئی معاملات میں یہ سابقوں کی تقلید کرتے نظر آتے ہیں۔ جن کی وجہ سے پیپلزپارٹی کی حکومت کی بدنامی ہوتی رہی۔ میرٹ سے ہٹ کر فیصلے اور ماورائے قانون تقرریاں ہو رہی ہیں۔ ہوابازی کا مشیر شجاعت عظیم کو لگایا گیا ہے جن کی دہری شہرت کے چرچے ہیں۔ اس تقرری پر سپریم کورٹ نے بھی نوٹس لیا ہے۔ یہ صاحب کابینہ کے اجلاسوں میں بھی شرکت فرماتے ہیں، ستم یہ کہ وہ ایئرپورٹ تعمیر کرنے والی کمپنیوں میں شراکت دار ہیں۔ ستم بالائے ستم سپریم کورٹ میں بتایا گیا کہ موصوف کا ایئرفورس سے کورٹ مارشل ہوا تھا۔ طارق فاطمی کی وزیراعظم کے معاون خصوصی کے طور پر تقرری بھی وجہ تنازعہ بنی ہوئی ہے وہ امریکی کمپنی پونی کول سے بدستور وابستہ ہیں۔ اب برطانوی شہری کو گورنر پنجاب بنایا جا رہا ہے۔ مزید برآں لاقانونیت کا سلسلہ اسی طرح جاری ہے۔ فرقہ وارانہ دہشتگری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عوام کو سکھ کا سانس لینے کا موقع نہیں مل رہا۔ دوسری طرف حکمران بے فکر نظر آ رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی عوام کش پالیسیاں سات آٹھ سال بعد سامنے آئیں ۔ نئی حکومت کی پالیسیوں کو عوام کش تو فی الحال قرار دینا مناسب نہیں البتہ اس کی مسائل حل کرنے اور بحرانوں پر قابو پانے کی اہلیت سوالیہ نشان ضرور بنی ہوئی ہے۔ عوام کے اندر حکمرانوں کے خلاف نفرت بڑھتی جا رہی ہے۔ کارکردگی کی یہی رفتار رہی تو دو ماہ قبل کی آسمان کو چھوتی مقبولیت پستی کی گہرائی میں ایک سال سے بھی کم عرصہ میں گر جائے گی۔میڈیا میں ہر ہفتے خبریں سننے اور پڑھنے کو ملتی ہیں کہ وزیراعظم ویک اینڈ پر دو روز کے لیے لاہور چلے گئے۔ کیا ایسا ویہلا وزیراعظم کیس بھی ملک میں ہوگا اور پاکستان گھمبیر مسائل میں بھی گھِرا ہوا ہے۔ میاں نوازشریف کے پاس تو سر کھجانے کی فرصت نہیں ہونی چاہیے۔ وہ ویک اینڈ منانے کا شوق پورا کر رہے ہیں۔ جب کہ وزیراعظم کو اقتدار سنبھالے 45دن سے زیادہ ہو چکے ہیں اور موصوف نے ابھی تک قوم سے براہ راست خطا ب تک نہیں فرمایا۔شاید وہ سمجھتے ہوں گے کہ ان حالات میں اس کارکردگی کے ساتھ قوم کو کیا منہ دکھائوں؟ادھر بیوروکریسی موجودہ حکمرانوں کی نادانی کا مکمل فائدہ اٹھا رہی ہے۔ بیوروکریسی کی حکمرانوں کو چکر دینے کی تازہ ترین مثال ملاحظہ فرمایئے۔ وزارت مواصلات نے وزیراعظم نوازشریف کو بتایا کہ فنڈز صدر زرداری اور ان کے عزیزوں کی زمینوں تک سڑکیں بچھانے اور وزیراعظم گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کے حلقوں کی ترقی کے لیے خرچ ہو گئے اب وزارت کے پاس بڑا تعمیراتی منصوبہ شروع کرنے کے لیے رقم نہیں ہے۔ بلاشبہ ان علاقوں میں فنڈز ضرور استعمال ہوئے ہوں گے۔ وزیراعظم نوازشریف سروے کرائیں کہ واقعی وزارت مواصلات نے لاڑکانہ ،نواب شاہ، گوجر خان اور ملتان کو پیرس بنا دیا ہے۔ میاں نوازشریف صاحب بیوروکریسی کے ہتھکنڈوں کو سمجھیں، عوامی مشکلات کا ادراک کریں۔ عوامی مسائل او رمشکلات پر قابو پانا مشکل ضرور ہے ناممکن نہیں۔ اس کے لیے کمٹمنٹ اور انتھک محنت و جدوجہد کی ضرورت ہے اس کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ دوسری صورت میں انجام پیپلزپارٹی جیسا ہوگا یہ ایک صوبے تک محدود ہو ئی جس کے سر پر ہر لمحہ گورنر راج کی تلوار لہرا رہی ہے۔میں سیاست میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا شاگرد اور کالم نگاری میں میری رہنمائی مردِ صحافت ڈاکٹر مجید نظامی نے فرمائی۔اس لیے میں نے مایوس ہونا نہیں سیکھا لیکن پاکستان کے دگرگوں حالات دیکھ کر میں بھی اٹھارہ کروڑ عوام کی طرح پریشان ضرور ہو جاتا ہوں کہ آیا یہ گتھی کبھی سلجھے گی؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus