×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بلوچستان ملکی اور عالمی تناظر میں
Dated: 29-Mar-2009
بلوچستان میں مشرف دور کی لگائی ہوئی آگ جمہوری حکومت کے قیام کے باوجود مکمل طور پر بجھ نہیں پائی۔ اس آگ پر خود مشرف نے یہ کہہ کر تیل چھڑکا تھا کہ ’’یہ 70کا دور نہیں ہے ان کو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ کس نے کب ہٹ کر دیا‘‘ اور پھر عافیت نااندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشرف نے اپنی دھمکی پر عمل کر دکھایا۔ اکبر بگٹی کے قتل کے بعد بلوچستان میں لگی آگ شعلہ جوالا بن گئی۔ مرکزی اور بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی حکومتوں کے معرضِ وجود میں آنے کے بعد حالات آہستہ آہستہ معمول پر آنے لگے۔ صدر مملکت جناب آصف علی زرداری نے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کی حیثیت سے بلوچ بھائیوں سے ہونے والی زیادتیوں پر معافی بھی مانگی(یاد رہے کہ جناب آصف علی زرداری خود بھی بلوچ النسل ہیں)جس سے بلوچوں کے زخم قدرے مندمل ہوئے۔ اب صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری 26مارچ کو دو روزہ دورے پر کوئٹہ گئے تو پارٹی چیئرمین کی حیثیت سے وہاں پارٹی میں پیدا ہونے والے خلفشار کو ختم کیا اور بلوچستان میں ایسے گروپوں سے مذاکرات کرنے اور انہیں قومی دھار ے میں لانے کے لئے کمیٹی بنائی جو گذشتہ دورِ حکومت میں ظلم کا نشانہ بنتے رہے۔اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے پہلی دفعہ بلوچستان میں بڑے اور چھوٹے ڈیموں کی منظوری کا اعلان کیا اور 46ارب 60کروڑ روپے سے بلوچستان کے لیے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ بلوچستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ بلوچوں کے حقوق کے لیے بھی اتنی ہی کوششیں کی جائیں گی جتنی کسی اور صوبے کے لیے اور اس طرح ہم اپنے ان روٹھے ہوئے مسلح جدوجہد کرنے والے بھائیوں کو منانے میں کامیاب ہو جائیں گے جو ہمارے ازلی دشمن کے بھکاوے میں آ کر گھر کی لنکا ڈھانے کے لیے کوشاں ہیں۔ صوبہ سرحد کے قبائلی اور بلوچستان کے اکثر علاقے بدامنی اور شورش کا شکار ہیں دونوں علاقوں میں شورش کی وجوہات مختلف ہیں۔ سرحد کے قبائلی علاقوں میں مبینہ طالبان سرگرم ہیں جبکہ بلوچستان میں ناراض بلوچوں کی آڑ میں پاکستان دشمن عناصر اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان میں بھارت سرِ فہرست ہے جس کے افغانستان کے تمام بڑے شہروں میں قونصل خانے قائم ہیں۔ یہ قونصل خانے بلوچستان میں تخریبی کاروائیوں کے لیے اپنے ایجنٹوں کو تربیت دینے کے ساتھ ساتھ اسلحہ اور بھاری مالی امداد بھی فراہم کرتے ہیں۔ کثیر الاشاعتی سری لنکن اخبار ڈیلی ’’مرر‘‘ نے اپنی تازہ ترین اشاعت میں لکھا ہے ’’بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ خطے کے تمام ممالک کو عدم استحکام کا شکار کر رہی ہے۔ بلوچستان میں ’’را‘‘ خفیہ کاروائیوں کے ذریعے بی ایل اے کی بھرپور مدد کر رہی ہے تاکہ اس صوبے کو پاکستان سے الگ کیا جا سکے۔‘‘ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف جن کو بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کا خبط تھا اس خبط میں وہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بے اصولی تک کی حد تک لچک کا مظاہرہ کر چکے تھے۔ اپنی صدارت کے آخری ایام میں جب ان کے پَر کٹ چکے تھے اور وہ مکمل طور پر جمہوری حکومت کے رحم و کرم پر تھے تو اعتراف کیا کہ بلوچستان میں بھارت تخریبی کاروائیوں میں 200فیصد ملوث ہے۔ صدرِ مملکت جناب آصف علی زرداری بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لا رہے ہیں۔ان کو بیک وقت دو محاذوں پر کام کرنا پڑ رہا ہے۔ وہ بدامنی میں ملوث اندرونی ہاتھ پر تو سیاسی طور پر قابو پا سکتے ہیں جس میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں دوسرا محاذ بیرونی عوامل ہیں۔ اس سے نمٹنے کے لیے ان کو اپنے غیرملکی دوستوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔ جس میں سرفہرست امریکہ اور افغانستان ہیں۔گذشتہ دورِ حکومت میں صدر پرویز مشرف اور حامد کرزئی ایک دوسرے پر الزامات کی بھرمار کرتے رہتے تھے۔ ایک موقع پر دونوں امریکہ میں صدر بش سے ملے تو ایک دوسرے سے ہاتھ نہ ملایا تھا۔آج حامد کرزئی اور صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری کے مابین مثالی تعلقات ہیں۔ دونوں کے درمیان اعتماد اور احترام کا رشتہ بن چکا ہے۔ افغانستان میں قائم بھارت کے قونصل خانے بند کرانے میں حامد کرزئی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں جس سے بلوچستان میں امن و امان کی صورت پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ امریکہ پاکستان کا دوست اور پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کا اہم اتحادی ہے۔ امریکہ کو بھی پاکستان میں قیام امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے لیکن اس کے فوجی کمانڈروں نے بلوچستان میں بھی ڈرون حملوں کی دھمکی دے رکھی ہے۔ امریکہ اگر بلوچستان میں بھی ڈرون حملے کرتا ہے تو نہ صرف پاکستانیوں بلکہ دنیا کے پرامن شہری کے دل میں امریکہ کے خلاف نفرت کے جذبات میں اضافہ ہوگا۔ پاکستان کے دوست ہونے کی حیثیت سے امریکہ کا فرض ہے کہ بلوچستان میں قیامِ امن کے لیے بھارت کو کسی بھی قسم کی مداخلت سے روکے۔ یہی اس کے، پاکستان کے اور عالمی امن کے لیے بہتر ہے۔وجہ جو بھی ہو معاملات گولی سے نہیں صرف مذاکرات کی میز پر ہی حل ہوتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا مظاہرہ سوات معاہدے کے بعد دیکھا گیا ہے۔ادھر تحریک نفاذ شریعت محمدی اور سرحد حکومت کے درمیان مذاکرات ہوئے ادھر پورے سوات میں امن قائم ہو گیا۔ سکول اور بازار کھل گئے لوگوں نے سکھ کا سانس لیا اور حکومت کو دعائیں دیں۔ لیکن دوران جمعہ جمرود میں ہونے والے خودکش حملہ میں 80کے قریب انسانی جانیں گئیں اور 200کے قریب ہمیشہ کے لیے اپاہج بن گئے۔ یہ ایسی حرکتیں یقینا اپنوں کی نہیں ہو سکتیں کوئی حکومت کا کتنا ہی مخالف کیوں نہ سہی دوران نماز خودکش حملے کے لیے وہ خود کو تیار نہیں کر پاتا۔یہ یقینا بیرونی ہاتھ ہیں جن کو ڈھونڈنا حکومت کی اس وقت اولین ترجیح ہونی چاہیے، خود تو بھارت کے اندر کسی مکھی کا پَر بھی کٹ جائے تو الزام پاکستان پر آ جاتا ہے آخر پاکستان کب تک وزارت داخلہ اور خارجہ میں بیٹھے ہوئے بھارتی نواز اسٹیبلشمنٹ کو برداشت کرے گا۔آخر ایک دن ہمیں بین الاقوامی برادری کو یہ سب کچھ بتانا ہوگا کہ وہ کون سے ہاتھ ہیں جنہوں نے پاکستان کے 18کروڑ عوام کے سکون کو برباد کیا ہوا ہے۔ابھی امریکہ کے صدر باراک حسین اوباما نے سینٹ میں ایک بِل پیش کیا ہے جس کو پہلے بائیڈن لوگر بِل کہا جاتا تھا اب جوزف بائیڈن کے امریکہ کا نائب صدر ہونے کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے سینیٹر جان کیری اور ریپبلکن پارٹی کی طرف سے وہی مسٹر لوگر کی طرف سے بِل پیش کیا گیا ہے جس کے تحت پاکستان کو اگلے پانچ سال تک ساڑھے سات ارب ڈالر کی امداد دی جائے گی جو کہ سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر کے شیڈول کے مطابق پیش کی جائے گی۔ان حالات میں جب کہ پوری دنیا میں معاشی عدم استحکام کا بول بالا ہے ان حالات میں یہ امداد پاکستان کے صرف ترقیاتی کاموں پر لگائی جائے گی۔ امریکہ کی طرف سے بیشک یہ شرط غیرضروری مگر پچھلے حالات کو دیکھتے ہوئے امریکہ نے کہا کہ وہ اب پاکستان کو ’’بلینک چیک ‘‘ پیش نہیں کرے گا۔ کیونکہ سابقہ پاکستانی حکومت نے امریکن ایڈز کا غلط استعمال تو ایک طرف اس کا کوئی ریکارڈ ہی نہیں پیش کیا۔لیکن موجود جمہوری حکومت اگلے پانچ سالوں میں اس امداد کو ترقیاتی کاموں پر خرچ کرکے پاکستانی عوام کو کم از کم معاشی بحران کے چنگل سے نجات دلانے میں کامیاب ہو جائے گی۔اور امید ہے کہ صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری اپنی صلاحیتوں، حکمت عملی اور دانش سے بلوچستان میں لگی آگ پر مکمل طور پر قابو پا لیں گے۔ مگر اس کے لیے پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کہیں پائوں کی بیڑیاں نہ بن جائے اس لیے میری پاکستان کے تمام طبقہ ہائے فکر اور خصوصی طور پرسیاسی منیجروں سے التماس ہے کہ خدارا یہ اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کا شاید ایک آخری موقع ہے اسے ضائع نہ کیا جائے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus