×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کراچی کے حالات اور سیاسی بساط
Dated: 21-Sep-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com ماضی میں مائی کلاچی کہلانے والا حصہ آج دنیا کے پہلے 10میٹروپولیٹن شہروں میں سے ایک ہے اور ایک مختاط اندازے کے مطابق آج اس کی آبادی ڈھائی کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ آبادی کے بڑھتے ہوئے آسیب نے جہاں دوسرے مسائل پیدا کیے وہاں سب سے بڑا مسئلہ لااینڈ آرڈر، چادر اور چاردیواری کا تحفظ، بھتہ خوری اور دیگر چھوٹے چھوٹے مافیا گروپس بے قابو جن کی طرح کراچی کیامن پر لٹکتی تلوار کی طرح ہیں۔ ایک سابقہ آمر ضیاء الحق نے ملک اور وفاق کی سب سے بڑی سیاسی جماعت پی پی پی کے لیڈر کو پھانسی دے کر اوراس کی سیاسی جماعت کے مقابلے میں ایک ایسی قوت کو لاکھڑا کیا جو کہ اس وقت ایک سماجی تنظیم کی سی حیثیت رکھتی تھی اور کراچی کے چند کالجوں کی دیواروں پر اس تنظیم کے نام لکھا ہوا ملتا تھا۔ ضیاء الحق کے ساڑھے گیارہ سالہ دور میں اس کی بھرپور سرپرستی اور آبیاری کی گئی چونکہ یہ تنظیم ملک کے سب سے بڑے شہر میں اردو سپیکنگ طبقے کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب رہی تھی۔ اس لیے اسی نے چند ہی سالوں میں نہ صرف اپنا تنظیمی ڈھانچہ مضبوط کیا بلکہ سرکاری سرپرستی میں اسلحہ کے بل بوتے پر شہر کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو گئی۔ یہ ضیا الحق کی مارشل لاء کا وسط تھا۔ سٹوڈنٹس یونین پر پابندیاں تھیں ،مجھ پر بھی مقدمات کی بھرمار تھی جس کی وجہ سے میں کراچی میں روپوش رہا۔مگر ابھی تک کراچی کی چکاچوند کر دینی والی روشنیاں ماند نہیں پڑی تھیں۔ رات کے کسی بھی پہر بلاخوف و خطر کسی بھی علاقے میں کسی بھی ریسٹورنٹ پر بیٹھ کر کھانا کھا کر اور چائے ،کافی پیتے ہوئے عجب سا اطمینان محسوس کرتے تھے اور تب تک لاشے گرنا اور لاشیں بند بوریاں بھی ملنا شروع نہیں ہوا تھا مگر رفتہ رفتہ طاقت نے اپنی اصل صورت میں آنا شروع کر دیا۔ متحدہ قومی موومنٹ کے مقابلے میں پنجابی پختون اتحاد تشکیل پایا۔ پھر بلوچ اور دیہی سندھ کے لوگوں نے بھی خود کو مختلف سیاسی جماعتوں اور تنظیموں سے منسلک کر لیا جہاں سے اس پُرامن شہر کی صورت احوال بگڑنا شروع ہوئی۔ 92ء سے لے کر 97ء تک کراچی کم از کم دو آپریشن میں سے گزرا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مسلح گروپس کے ہزاروں لوگ تہ تیغ ہوئے۔ ایم کیو ایم کی 90فیصد مرکزی قیادت ملک سے فرار ہو چکی تھی مگر اس دوران 12اکتوبر1999ء کا واقعہ رونما ہوا اور پھ رایک فوجی آمر اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے ملک بھر سے مضبوط گروپس کو ساتھ ملانا شروع کیا تو ایم کیو ایم کی بھی ایک دفعہ ایسی سنی گئی کہ وہ نہ صرف مشرف حکومت کی بھرپور حلیف ثابت ہوئی بلکہ مرکزی او رصوبائی حکومتوں میں اپنا بھرپور حصہ وصول کیا۔ جبکہ گذشتہ گیارہ سال سے زائد عرصہ تک سندھ پر ایک ایسا شخص گورنر بن کر حکومت کرتا رہا جس کے اپنے دامن پر دو سو سے زیادہ قتل کی ایف آئی آردرج تھیں۔ پی پی پی کے گذشتہ پانچ سالہ دورِ اقتدار میں سے بھی ساڑھے چار سال تک وفاقی اور صوبائی حکومت میں شامل اقتدار رہنے والی جماعت گذشتہ الیکشن سے صرف دو ماہ قبل پی پی پی حکومت سے گٹھ جوڑ اور سازش کرکے خود پر اپوزیشن کا لیبل لگا لیا تاکہ 2013ء کے الیکشن میں ایک دفعہ پھر عوام کو جھانسا دیا جا سکے۔ مشرف کے دور میں ایم کیو ایم کے کراچی کے میئر مصطفی کمال نے شاید کچھ ترقیاتی کام تو کیے ہوں لیکن ڈھنڈورا کہیں زیادہ پیٹا یہی وجہ تھی کہ میرے جیسا شخص اس پر کالم لکھنے پر مجبور ہو گیا قارئین نوائے وقت کو میرا کالم (لاہور کو بھی ایک مصطفی کمال چاہیے) یاد ہوگا۔ کراچی کے موجودہ پوزیشن اس سیاسی بساط کی سی ہے۔ جہاں سبھی کھلاڑی ایک دوسرے کو شاہ مات دینے کے چکر میں ہیں۔ ایم کیو ایم جو پچھلے 13سالوں سے مسلسل کراچی پر قابض تھی اور پورٹ اور شپنگ کا محکمہ مسلسل ایم کیو ایم کے زیر تسلط رہا جس کے دوران سپریم کورٹ کی رپورٹ کے مطابق 19ہزار نیٹو کنٹینر غائب کرکے کراچی بارود کے ڈھیر پر بٹھا دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب ایم کیو ایم شامل اقتدار نہیں تو کراچی میںمہاجر لبریشن آرمی کی باتیں ہو رہی ہیں۔ یہ منصوبہ بلوچستان لبریشن آرمی سے ملتا جلتا لگتا ہے اور شاید ان دونوں منصوبوں کے پیچھے سازش اور قوت ہمسایہ ملک بھارت کی ہے۔ دوسری طرف گلف اور مشرق وسطی میں بدلتی ہوئی صورت حال کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایم کیو ایم کا فوج کو آپریشن کراچی میں بلوانے کا مقصد شاید یہی ہو سکتا ہے کہ پاک فوج کو اپنے ہی ملک کے اندر گلیوں اور بازاروں میں لے جا کر اتنا کمزور کر دیا جائے کہ وہ کسی بیرونی حملہ کی صورت میں مزاحمت نہ کر سکے۔ کراچی کی سیاست کے دوسرے بڑے سٹیک ہولڈر پی پی پی نے اس موقع پر مسلم لیگ ن کی مرکزی حکومت کے ساتھ مل کر ٹارگٹڈ آپریشن شروع کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے جس پر ایک دفعہ پھر ایم کیو ایم نے واویلہ مچانا شروع کر دیا ہے جبکہ اس بساط کے تیسرے کھلاڑی تحریک انصاف اور اے این پی کراچی میں کسی متوقع سیاسی خلا کے منتظر ہیں اور اور بادی النظر میں ایسا ہونا ممکن نظر آتا ہے اس بساط کے چوتھے اور اہم کھلاڑی مسلم لیگ ن کی قیادت ہے۔ جو یہ سمجھتی ہے کہ پی ٹی آئی ،ایم کیو ایم کے یا ایم کیو ایم ، پی پی پی سے یا اے این پی ، ایم کیو ایم سے لڑائی کرکے نہ صرف اپنی طاقت کھوئیں گے بلکہ مسلم لیگ ن کی قیادت کو انتہائی بگڑے ہوئے حالات کا بہانہ بنا کر سندھ میں گورنر راج نافذ کرنے کا موقع بھی میسر آئے گا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پی پی پی کی قیادت وفاق کی طرف سے ذوالفقار احمد چیمہ کی بطورِ آئی جی سندھ نامزدگی کو نہ صرف مسترد کر دیا ہے بلکہ اٹھارویں ترمیم کے تحت حاصل ہونیوالی صوبائی خودمتخاری اور اختیارات کا اصرار کیا ہے جبکہ ایم کیو ایم اس نقطہ پر مرکزی حکومت کے زیادہ قریب ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر سندھ حکومت میں وہ شامل نہیں ہوئے تو وہ یہ باور کرانے میں کامیاب ہو جائیں کہ سندھ میں ایم کیو ایم کے بغیر بننے والی حکومت نہیں چل سکتی۔شاید کراچی میں فوج کو آپریشن کی دعوت دینے کے پیچھے بھی یہی مقاصد پوشیدہ ہیں او ریہ بھی ممکن ہے کہ گورنر راج کے بعد جب پی پی پی کی حکومت سندھ میں ختم ہو جائے گی تو مسلم لیگ ن ، پی پی پی میں پیٹریاٹ گروپ بنا کر ایم کیو ایم کو ساتھ ملا کر صوبے میں پہلی دفعہ شہری سندھی وزیراعلیٰ لانے میں کامیاب ہوجائیں۔ کچھ بھی ہوایک محدود پیمانے پر آپریشن جاری ہے اور اس سے نکلنے والے نتائج سیاسی شطرنج کی بساط پر بیٹھے کسی کھلاڑی کے حق میں جاتے ہیں۔ اس سے قطع نظر مجھے شہید بھٹو کے یہ الفاظ یاد آ رہے ہیں کہ لاہور پاکستان کا دل ہے اور کراچی پاکستان کی شہ رگ ہے۔ کیا ہم اپنی شہ رگ پر دشمن قوتوں کا غاصبانہ قبضہ برداشت کریں گے؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus