×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
جب لُٹ رہا تھا پاکستان!
Dated: 29-Oct-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com وطن عزیز پے درپے حادثات،ہچکولوں، زمینی و آسمانی آفات اپنے اور بیگانوں کے ہاتھوں آج بُری طرح مجروح ہے۔ دراصل انگریز سے آزادی کے بعد ہمیں آزادی صحیح طریقے سے ملی ہی نہیں۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ ہر آنے والے انقلاب کے نتیجے میں جو اقوام پروان چڑھتی ہیں وہ انقلاب کے ثمرات کو نہ صرف مکمل طور پر سمیٹتی ہیں بلکہ انقلاب کہ نتائج اپنی مرضی کے مطابق حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ یورپ میں جب کلیسا کا عمل دخل اقتدار کے معاملات میں اس حد تک بڑھا کہ انسانی حقوق کا دم گھٹنے لگا تو روم سے اٹھنے والی انسانی حقوق کی تحریکوں نے صدیوں تک کلیسائوں اور گرجوں سے جنگ کا آغاز کر دیا جس کے نتیجے میں یورپ مختلف ٹکڑوں میں بٹ گیا لیکن وہ جو عزم لیے ہوئے بیٹھے تھے کہ ہم مملکت اور کلیسا کا کردار جدا کرکے رہیں گے انہیں فتح نصیب ہوئی لیکن اس کے لیے یورپی اقوام نے قربانیوں کی طویل داستان رقم کی۔ خود انگلینڈ کے چرچ آف انگلینڈ جو کہ روم کے کیتھولک چرچ سے مختلف عقائد رکھتا ہے نے بھی قریباً پندرہویں صدی عیسوی میں کروٹ لی جس کے نتیجے میں ایک طرف تو ایک مضبوط بادشاہت کا قیام وجود میں آیا اور دوسری طرف مذہب کے اندر ریفارمز پالیسیاں اپنائی گئیں جس کے نتیجے میں پروٹسٹنٹ عقائد کے ماننے والوں نے نہ صرف اپنی الگ پہچان بنائی بلکہ کیتھولک کے مقابلے میں ایک مضبوط فرقے کی بنیاد رکھی۔ جس کے نتائج آج دنیا کے سامنے ہیں۔ ہم تاریخ پر نظر دوڑائیں تو کریملن کا سرخ انقلاب اور انقلابِ فرانس اور چین کا بیدار ہونا، کوریا کی آزادی دوسری عالمی جنگ کے بعد جاپان اور جرمنی کا ایک سپرپاور کے طور پر ابھرنا اور ایرانی انقلاب کے مستحکم اثرات کسی سے بھی ڈھکے چھپے نہیں ہیں لیکن 1947ء انگریز اور ہندو بنیے سے دو قومی نظریے کی بنیاد پر آزادی حاصل کرکے بھی اپنے اندر چھپی ہوئی طاقتوں جاگیردار، نواب، سرمایہ دار اور مذہبی اجارہ داروں کے چنگل سے آزادی نہ حاصل کر سکے۔ غلامی کا وہ طوق ہم نے اتار کر پھینکا تھا اس نے ہمارے پائوں کو جکڑ لیا ، کیا یہ تلخ حقیقت نہیں کہ ڈھاکہ کی پلٹن گرائونڈ میں اپنے ہتھیار دشمن کے حوالے کرتے وقت اپنی کیپ اتار کے ان کے سامنے رکھتے ہوئے ہماری قومی غیرت اور حمیت کہاں سو گئی تھی؟۔ ہمارے ہمسایہ دشمن بھارت کی آنجہانی وزیراعظم اندراگاندھی کے یہ الفاظ ہمارے کانوں میں سیسہ پگھلائے ہوئے لگتے ہیں کہ آج ہم نے دو قومی نظریہ کو بحرئہ بنگال میں پھینک دیا۔ ہمیں پھر بھی سمجھ نہ آئی اپنا آدھا دھڑ اور اپنا ایک بازو گنوا کے بھی ہم منزل سے اتنی ہی دور ہیں جتنا 1850ء میں دور تھے۔ ہمارے بے لگام جاگیرداروں اور سرمایہ داروں نے جن کی خوداولادیں تو یورپ اور امریکہ کی اعلیٰ اور مہنگی یونیورسٹیوں میں پڑھتی ہیں جن کے بینک اکائونٹ تک پاکستان میں نہیں جن کی جڑیں کہیں اور ہیں لیکن سامراجی طاقتیں جو کہ ان کو سپورٹ کرتی ہیں وہ انہیں ہمارے سروں پر لے کے بٹھا دیتے ہیں۔ سابق وزیراعظم معین قریشی اور شوکت عزیز اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ صرف 67سال کے عرصہ میں 5مارشل لاء اور مسلط کئے گئے 5جنگوں نے نظریۂ پاکستان اور دو قومی نظریہ کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی ۔ غیروں کی جنگ میں ہم جو کُودے تو اس بُرے طریقے سے پھنسے کہ پچھلے 13سال میں ہماری معیشت سینکڑوں ارب ڈالر کی مقروض ہو گئی۔ 60ہزار سویلین اور 10ہزار عسکری جوان گنوا کر بھی آج قوم تقسیم ہو چکی ہے جبکہ اس سے پہلے بانیٔ پاکستانی حضرت قائداعظم محمد علی جناح ایمبولینس خراب ہو جانے کی وجہ سے، جب کہ لیاقت علی خاں ،ذوالفقار علی بھٹواور محترمہ بے نظیر بھٹو کو سڑکوں پر شہید کر دیا گیا اور ایک چیف آف دی آرمی سٹاف اور صدرِ مملکت ضیاء الحق کو فضائی حادثہ میں مروا دیا گیا۔بے نظیر بھٹو اور نوازشریف کو جبراً جلاوطن کیا گیا۔ آج پاکستان کی حالت ایک ایسے شخص کی مانند ہے کہ جس کا ہر حصہ ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ پنجاب مسلم لیگ ن کے پاس ہے۔ خیبرپختونخواہ پی ٹی آئی کے پاس ،بلوچستان میں مکس سلاد تیار کیا گیا ہے جب کہ سندھ پیپلزپارٹی کے پاس ہے۔ اس طرح ہم نے وفاق کے حصے بکھرے اپنے ہاتھوں سے کر دیئے ہیں۔ اپنی فوجوں کو بھارت سے ملحقہ بارڈر سے واپس بلوا کر ملک کے اندر جاری جنگ میں جھونک دیا گیا ہے۔ ایسا کوئی دن شاید ہی گزر جائے جس دن پاکستان کی فضا بم دھماکوں سے خون آلودہ نہ ہو۔ کئی صوبائی و وفاقی وزراء سمیت گورنر تک سڑکوں پر مار دیئے گئے۔ اس وقت پاکستان کا نقشہ ایسے ہے جیسے ایک اجڑا ہوا دیار۔ ایک عام انسان کا خون کرنا اتنا آسان ہے کہ سستا خون مہنگا پانی کہنا غلط نہ ہوگا۔ میری عمر کے لوگ اب جب سقوطِ ڈھاکہ کی لرزہ خیز تاریخ پڑھتے ہیں تو اپنے بزرگوں سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا عوامل تھے کہ ہم اپنے مشرقی پاکستان کو نہ بچا سکے۔ ازلی دشمن بھارت کی حمایت یافتہ مکتی باہنی کے علاوہ وہ کون کون سی ’’مکتیاں‘‘ تھیں جنہوں نے ہمیں پلٹن میدان میں رسوا کروایا؟ آج بلوچستان جل رہا ہے، کراچی لُٹ رہا ہے، پشاور لہولہان ہے،لاہور بارود کے دھوئیں کی زد میں ہے۔ کشمیر کی سرحدیں ویران پڑی ہیں۔ شکرگڑھ ،ناروال، سیالکوٹ اور قصور کی سرحدوں پر دشمن کی اشتعال انگیزی جاری ہے۔ گلگت بلتستان میں سیاحوں کو قتل کیا جا رہا ہے جبکہ ہماری نظریاتی سرحدوں کے سیاستدان محافظ ہاتھ میں کشکول پکڑے امریکہ اور آئی ایم ایف کے در پر بیٹھے ہیں اور صدا لگا رہے ہیں کہ ’’دے جا سخیا راہِ خدا‘‘ ایک دو نہیں سینکڑوں خودساختہ سیاست دان اور سابقہ حکمران طبقہ کھربوں روپے کی لوٹ مار کرکے مال غنیمت کو ملک سے باہر منتقل کر چکا ہے، عدالتیں روزانہ ایک نیا سٹیج لگا کر بیٹھ جاتی ہیں اور ایک نئے سکرپٹ پر کام شروع ہو جاتا ہے۔ لااینڈ آرڈر کی صورت حال یہ ہے کہ لوگوں نے رات9بجے کے بعد گھروں سے نکلنا بند کر دیا ہے۔بہنوں، بیٹیوں کی عزتیں محفوظ نہیں، چور اور ڈاکو گھر کے دروازے سے لوٹ کر لے جاتے ہیں۔ پڑھا لکھا اور صاحبِ استطاعت طبقہ دیارِ غیر جابسا ہے اور جو باقی بچے ہیں وہ پاکستان سے ’’زندہ بھاگنے‘‘ کے چکروں میں پڑے ہیں۔ ملک میں آٹا، چینی، ادویات، پانی، گیس، بجلی مفقود ہے۔ ایک سانس لینا بھی اس بارود زدہ ماحول میں دشوار ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ خدانخواستہ ہمارے بچے کل کو ہم سے پوچھیں گے کہ جب پاکستان لُٹ رہا تھا تو آپ کیا کر رہے تھے؟ کیا میرے یا آپ کے پاس اس کا جواب ہوگا؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus