×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
عالمی اقتدار پر صہیونی قبضہ کا منصوبہ
Dated: 23-Nov-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com میرے ایک صہیونی دوست شالوم نے ایک دن اپنے 6سالہ بیٹے کی سالگرہ پر مجھے مدعو کیا۔سالگرہ کی تقریب کے بعد ایک خاص رسم ادا کی گئی۔بچے کوایک 6فٹ اونچی دیوار پر کھڑاکر گیا گیااور عزیز و اقارب نے بار ی باری بچے کو کہا کہ وہ نیچے چھلانگ لگائے ہم اسے گِرنے نہیں دیں گے لیکن بچے نے بات نہ مانی پھر بچے کے باپ نے بھی بچے کو کہا’’رافیل چھلانگ لگا دو‘‘بچے نے چھلانگ لگائی تو باپ نے پھیلائے ہوئے ہاتھ پیچھے ہٹا لیے۔بچہ زمین پر گر گیا۔میں دم بخوداس خصوصی رسم کو ادا ہوتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔تجسس سے اسی وقت شالوم سے پوچھاکہ جب بچے نے چھلائی لگائی تو تم نے اپنے بازو پیچھے کیوں کر لیے؟شالوم نے بتایا کہ ہمارے ہاں جب بچہ پانچ سال کا ہوتا ہے تو ہم اسے زندگی کے رموز و اسرارسکھانا شروع کر دیتے ہیں۔جس میں ہمارا خاص مقصداس نقطہ پر ہوتا ہے کہ زندگی میں کسی پر اعتبار نہ کرنا حتیٰ کہ اپنے باپ پر بھی نہیں۔شایدیہی وجہ ہے کہ یہودی تعداد اور گنتی میں قلیل ہونے کے باوجودپوری دنیا کی معیشت پر چھائے ہوئے ہیں۔کونسا ایسا کاروبار ہے جس میں صہیونی ٹاپ پر نہیں ہیں؟دنیا بھر کے بینکنگ سسٹم، پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا، فلم، اسلحہ سازفیکٹریاں حتیٰ کہ کاسمیٹکس اور فیشن انڈسٹریز پر بھی صہیونی مکمل طور پر قابض ہیں۔ دنیا کی سپرپاور امریکہ کے پولیٹکل اور ایجوکیشن سسٹم میںیہ جس تیزی سے سرایت کر گئے ہیں اس کااندازہ قارئین آپ کو مندرجہ ذیل چند مثالوں سے بخوبی ہو جائے گا مثلاً امریکہ کے ایک معروف جریدے ’’فارورڈ‘‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق یروشلم میں قائم ایک اسرائیلی تھینک ٹینک ’’شالم‘‘ نے امریکی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اسرائیل کی حمایت کے لیے بیرونی ذرائع کی بجائے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے قریبی دوست رونالڈ لارڈر کی دولت سے قائم کیا گیاتھا ان تھنک ٹینکس نے امریکی طلبہ کی حمایت حاصل کرنے کے لیے صحافت سے متعلقہ طالب علموں کی تربیت شروع کی اور ان افراد کو کولمبیا یونیورسٹی، مشی گن یونیورسٹی، ٹورنٹو یونیورسٹی، پنسلوینیا یونیورسٹی اور ہارورڈ یونیورسٹی میں شامل کرکے صہیونی پروپیگنڈے کے لیے جریدوں کی اشاعت شروع ہو گئی گویا یاک اسرائیلی دفاع نے امریکی سرمایہ دار کی مالی مدد سے ایک اجتماعی غوروفکر کا ادارہ قائم کیا اس تھینک ٹیک سے فارغ التحصیل طلبہ غوروفکر اور جدوجہد کے لیے سیاسی جماعتیں تشکیل دیتے ہیں۔ صہیونی لابی نے اپنا حدف خاص طور پر جارج بش، بل کلنٹن اور باراک اوباما کو ٹارگٹ کیا تھا۔ جارج بش جو صر ف ایک گورنر تھے اور کلنٹن بھی جبکہ باراک اوباما سینیٹر تھے۔ صہیونیوں کو رونالڈ ریگن کی کمزور صدارت کے باعث امریکی ریاست کی تاریخ میں پہلی بار وائٹ ہائوس میں اپنے نمائندے بھیجنے کا موقع ملا۔ اور باراک اوباما کو آگے لانے کا مقصد ڈیموکریٹک پارٹی کے ذریعے کانگریس اور سینٹ میں اپنے پائوں جمانا تھا۔ قارئین آپ کو یاد ہوگا کہ بِل کلنٹن کو وائٹ ہائوس کی ایک یہودی سیکرٹری لِنڈاٹِرپ نے ایک یہودی لڑکی مونیکا لیونسکی کو وائٹ ہائوس میں داخل کرانے میں ایک خصوصی کردار ادا کیا تھا اور بعدازاں ڈیموکریٹک پارٹی کی پوری لیڈرشپ کو اس سکینڈل کے ذریعے بلیک میل کیا گیا۔ بل کلنٹن کے 8سالہ دور میں اکثر اہم وزراء اور نائبین نہ صرف یہودی تھے بلکہ وہ اسرائیلی شہریت کے حامل بھی تھے۔ جن کے اسرائیلی فوج اور خفیہ اداروں سے مراسم کوئی راز کی بات نہ تھی۔JINSA اور AEI نامی تھنک ٹینک نے بش جونیئر کے دور میں جس طرح وائٹ ہائوس پر قبضہ کیا تھا اس کا اندازہ بُش دور میں وائٹ فہرست سے لگایا جا سکتا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی ہدایت پر AEI نے ’’نئی امریکی صدی‘‘ نامی منصوبے پر کام شروع کیا اس کا مقصد دنیا بھر کی ابھرتی ہوئی معیشتوں کو روزافزوں توانائی کے مرکز مشرقِ وسطیٰ پر مکمل قبضح کرکے دنیا بھر کی معیشت کو امریکہ محتاج بنا کر امریکی استعماریت کو اگلی صدی تک توسیع دینے کا نام دیا گیا اس منصوبے کے خالقین میں صدر بش کی خارجہ پالیسی کے مشیر رچرڈ پرل کا نام بھی آتا ہے۔ رچرڈ پرل سرکاری طور پر پینٹاگون کی دفاعی کمیٹی کا چیئرمین تھا۔ اسے 70کی دہائی میں صدر نکسن نے دفتر سے دستاویزات چوری کرنے کے جرم میں نکال دیا گیا تھا مگر بعدازاں یہودی لابی AEI کی سفارش پر دوبارہ بھرتی کر لیا گیا اس دور میں پال وویفررٹز جو بش کا ڈپٹی سیکرٹری ڈفینس اور پالیسی بورڈ کا رکن تھا۔ بش ہی کے دور کے ایک معروف نام ڈگلس فیتھ کا تھا جو پینٹاگون میں بطور مشیر تعینات تھا جو نہ صرف جنونی تھا بلکہ اسرائیل کی شہریت کا حامل بھی تھا۔ عراق اور افغانستان کی جنگ کا طبل بجانے والوں میں ایک نام ایڈورڈ ڈالٹوک کا ہے جو پینٹاگون میں نیشنل سٹڈی گروپ کا رکن تھا جس نے صہیونی مقاصد کو سپورٹ کرنے کے لیے اپنے آفس کو استعمال کیا وائٹ ہائوس میں ایک خاص نام ڈووززخیم جو وزیر دفاع کا نائب تھا زخیم نہ صرف یہودی تھا بلکہ جوانی میں ’’راہب‘‘ بھی رہ چکا تھا۔اس نے عراق پر ممکنہ امریکی حملے کو کروانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پینٹاگون کے مشیروں میں ایک نام کینتھ ایڈیمن کا بھی تھا اس کی وجہ شہرت اسرائیلی نواز ٹی وی چینل ’’Fox (فوکس)‘‘ جس نے مسلمانوں اور عربوں کے خلاف زہریلے پروپیگنڈے کے ذریعے نفرت پھیلا کر امریکہ کو عراق پر حملہ کے لیے تیار کیا تھا۔ لوئیس سکوٹرسی جو کہ ڈک چینی کا چیف آف سٹاف تھا اس نے عراق اور صدام کے خلاف نیوکلیئر اور زیلی گیس کی جعلی دستاویزات تیار کی تھیں۔ سیکیورٹی کونسل کے مشیر ہرابرٹ سیلاف مشہور تھینک ٹینک ’’واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فارنیرایسٹ‘‘ کا پالیسی ساز تھا جبکہ ابراہم ایلیٹ ایک صہیونی تھنک ٹینک ’’اخلاقیات اور عوامی پالیسی‘‘ کا روئے رواں تھا۔ بش سینئر کے دورِ حکومت میں اس کو غداری کے جرم میں سزا بھی ہو چکی تھی جبکہ کلنٹن کے دور میں مارک گراس مین وائٹ ہائوس میں داخل ہو اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مشیر رچرڈ سین بھی اسی دور میں وائٹ ہائوس میں داخل ہوئے۔ رابرٹ زوئلک تجارتی کمیٹی کا مشیر تھا اور مشہور شدت پسند تھا۔ ایری فلشر جارج بش کا ترجمان تھا جبکہ ڈیوڈ فرم صدارتی تقریریں لکھتا تھا وہ ایک شدت پسند یہودی ہے۔ وائٹ ہائوس کا ڈپٹی چیف آف سٹاف شوابلٹن یہودی کمیونٹی کا ممتاز شدت پسند تھا جبکہ ڈیوڈ وِزمر یہودی تھینک ٹینک کے لیے کام کرتا تھا جبکہ ایلیٹ کوہن، سٹیف گولڈ سمتھ، صدر بش کے مشیر تھے اور اسرائیلی وزیراعظم ایہودالمرٹ کے ذاتی دوست تھے سابقہ امریکی سفیر جوزف گلڈ سرکاری ڈیوٹی کے دوران یہودی تنظیموں اور وائٹ ہائوس کے درمیان رابطوں کا کردار ادا کرتا تھا۔ قارئین یہ چند نام امریکی پالیسیوں اور امریکی سسٹم کے اندر موجود صہیونی لوگوں کے ہیں جو اقتدار کے ایوانوں کے اندر مذموم سازشیں کرتے ہیں اور امریکن پالیسیوں اور عالمی امن کو سبوتاژ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اس وقت عالمی امن اور عالمی معیشت صہیونی شکنجہ میں جکڑی ہوئی ہے اور اس اطلاع پر ہماری سوچوں کو شاک لگ جانا چاہیے کہ دنیا کی 100عظیم یونیورسٹیوں میں مسلمان طالب علموں کی تعداد 1.3فیصد سے بھی کم ہے جب کہ ہمارے دائیں بازو کے نام نہاد دانشور قوم کو گمراہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ موجوداسرائیلی صدر شیمون پیرس نے ایک ملاقات میں مجھے بتایا کہ ہم تو فلسطین کو آزادی دینا چاہتے ہیں مگر فلسطین کے دوست ہمسایہ ممالک ایسا نہیں ہونے دے رہے ۔ عرب ممالک یہ نہیں چاہتے کہ مشرقِ وسطی کے عین درمیان ایک ایسی ریاست قائم ہو جائے جہاں ملوکیت اور بادشاہت کی بجائے جمہوریت اور سیاسی نظام رائج ہو۔ تصویر کیپشن مطلوب وڑائچ اسرائیلی صدر شیمون پیرس کے ساتھ ایک ملاقات
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus