×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
دہشت گردی کے لیے خوف کی علامت ۔چوہدری اسلم شہید
Dated: 11-Jan-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com کراچی میں دہشت گردوں نے شیر دل پولیس افسر ایس پی چوہدری اسلم سمیت 4پولیس اہلکاروں کو شہید درجن بھر کوزخمی کر دیا۔ چوہدری اسلم اپنی ڈیوٹی پر تھے۔ان کوجرأت مند افسر سمجھا جاتا تھا۔ انہوںنے اپنے خون کے آخری قطرے تک دہشت گردوں کے مقابلے کا عزم کر رکھا تھا۔ ان کو حکومت نے بلٹ پروف گاڑی دی ہوئی تھی جو واپس لے لی گئی اور خطروں سے کھیلنے والا افسر دہشت گردوں کاآسانی سے شکار ہو گیا۔ ان کے قتل کی ذمہ داری انہی دہشت گردوں نے قبول کر لی ہے جو اس سے قبل ایسی سینکڑوں وارداتوں کی ذمہ داری قبول کرچکے ہیں۔ جن میں بیس ہزار فوجی اور پولیس کے سپوتوں سمیت 60ہزار پاکستانی شہید کیے گئے ہیں۔ دہشت گرد فاٹا سے نکل کر کراچی جیسے شہر میں تباہی مچا رہے ہیں۔ جہاں رینجرز اور پولیس ان کے اجارہ داری کی راہ رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ چوہدری اسلم ان میں نمایاں تھے۔ ابھی کل انہوں نے مقابلے میں تین دہشت گردوں کو ٹھکانے لگایا تھا۔ اسلم شہید اور دہشتگردی کے خاتمے کے سرگرم فوج، رینجرز پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں اور ایجنسیوں کے افسر اور اہلکار ہمارے حقیقی بھائی ہیں جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر قوم کو امن دینا چاہتے ہیں۔ چوہدری اسلم جو کہ ایبٹ آباد مانسہرہ کے رہنے والے تھے مگر اپنی دلیری اور بہادری کی وجہ سے کراچی میں چوہدری کہلاتے تھے ان کے دہشت گردی کے خلاف بلاخوف عمل نے ایک بات تو ثابت کر دی کہ انسان اپنے وصف اور خوبیوں کی بنا پر چوہدری بنتا ہے۔ صرف کسی شخص کے آگے ذات کے خانے میں چوہدری لکھنے دینے سے ہی وہ انسان چوہدری نہیں بن جاتا۔میں نے پچھلے کچھ عرصے سے چوہدری اسلم کے متعلق سوچا تھا کہ اتنا بہادر انسان اب تک زندہ کیسے ہے کیونکہ بے شمار خونخوار بھیڑیئے جن کے منہ کو معصوم انسانوں کا لہو لگ چکا ہے وہ اس شخص کی طرف للچائی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ چوہدری اسلم کی شہادت نے ایک اور بات بھی ثابت کر دی کہ جب ارادے پختہ ہوں ،عزم جواں ہوں اور ایمان تازہ ہو تو پہاڑوں کے سینے چیر کر ان سے رستے بنائے جا سکتے ہیں ۔چوہدری اسلم کی شہادت نے آج ایک مائنڈ سیٹ کو شکست دی ہے اور پاکستانی قوم کو پھر ایک نقطے پر اکٹھا کر دیاہے اور وہ نقطہ ہے اخوت کا ،شہادت کا ،قربانی کا اور عزم کا۔اگر ہم آج سے یہ عہد کر لیں کہ ہمیں اپنے دشمنوں کو شکست دینا ہے تو یقینا یہ عزم نو چوہدری اسلم کی ہی مرہون منت ہوگا ۔چوہدری اسلم کی شہادت سے پاکستان پولیس اور سکیورٹی اداروں نے ایک بات ثابت کی ہے کہ اچھے بُرے لوگ ہر پارٹی ،ہر ادارے میں موجود ہوتے ہیں۔ دہشت گردوں نے پورے ملک کو بارود کا ڈھیر بنا دیا ہے۔ ان کی پشت پر غیرملکی پاکستان دشمن طاقتیں موجود ہو سکتی ہیں لیکن ہماری سکیورٹی فورسز کے شہید ہونے والے سپوتوں کا خون ہمارے حکمرانوں کی گردن پر بھی ہے جو بالواسطہ دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ گذشتہ 6سات سال میں 22ہزار دہشت گرد، قاتل اور جرائم پیشہ افراد پکڑے گئے جن میں اکثر کو پولیس تفتیش میں چھوڑ دیا گیا۔ کچھ کو عدالتوں سے رہائی مل گئی ۔ کئی جیلوں سے فرار ہو گئے اور جن کو سزائیں ہوئیں ان پر عمل نہیں ہوا۔ گذشتہ 6سال میں ایک بھی دہشت گرد پھانسی کے پھندے پر نہیں پہنچایا گیا حالانکہ روزانہ درجنوں دہشت گرد گرفتار ہوتے ہیں جو کسی بھی طریقے سے بچ نکلتے ہیں وہ پہلے سے زیادہ خطرناک اور خوفناک کارروائیاں کرتے ہیں۔ نوازلیگ کے حوالے سے تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ دہشت گردوں کی ساتھی اور حامی ہے۔ اس تاثر کو تقویت اس وقت ملی جب اس حکومت نے آتے ہی دہشت گردوں کو سنائی گئی سزا پر عمل کا اعلان کرتے ہوئے پھانسی کی ایک تاریخ دے دی جو حکمرانوں نے محض ایک دھمکی پر واپس لے لی۔ ان کے حوصلے بلند ہونا فطری امر ہے۔ وہ پہلے ہی ملک میں آہن و آتش کی بارش کر رہے تھے حکمرانوں کی بزدلی پر وہ شیر ہو گئے اور ملک کا ہر شہری خود کو لاوارث محسوس کرتا ہے۔ پولیس ،فوج،رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایجنسیوں کے اہلکار دہشتگردوں کے سامنے سینہ سپر ہیں۔ ان کو جدید اسلحہ اور حفاظت کی ضرورت ہے۔ جو عوام اور حکمرانوں کے لیے دہشتگردوں کے خلاف ڈھال ہیں۔ شرمناک امر ہے کہ حکمرانوں ،ان کی بیگمات اور سات پردوں کے اندر بیٹھے سیکرٹریوں کو بلٹ پروف گاڑیاں دی گئی ہیں اور چوہدری اسلم جیسے خطرات میں بے خوف کود پڑنے والے افسران کو عام گاڑیاں دی گئی ہیں۔ آخر حکمران کتنے جرأت مند افسروں کو درندوں کے آگے پھینکتے رہیں گے؟ وزیراعظم نوازشریف ایک اور شرمناک قانون منظور کرا رہے ہیں جس کے تحت جج نقاب پہن کر مقدمات کی سماعت اور فیصلے کریں گے۔ وزیراعظم نے ہی قوم کو بتایا کہ ملزم اعترافِ جرم کر رہا تھا اور جج اس کو بے گناہ لکھ رہا ہے۔ ایسے لوگوں کو جج بننے کا کوئی حق نہیں۔ جو آئین قانون کے تقاضوں کے مطابق انصاف کا ترازو نہیں تھام سکتے ان کو گھر آرام سے جا کر بیٹھ جانا چاہیے۔ Enough is Enough دہشتگردوں سے اب صرف سکیورٹی فورسز ہی نہیں نپٹ سکتیں۔ اب تمام سیاسی پارٹیوں کو اختلافات سے بالاتر ہو کر متحدہ ہونا ہوگا۔ قوم کے ہر فرد کو ایس پی اسلم بننا ہوگا۔ ہمارے پاس سیاسی اور مذہبی اختلافات کے لیے بہت وقت ہے۔ صوبائی اور لسانی تعصب بھی چلتا رہے گا۔ جس طرح سے ایس پی اسلم کی شہادت پر مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی، تحریک انصاف، متحدہ قومی موومنٹ، ق لیگ ، اے این پی سمیت تمام سیاسی حلقے متحد ہو کر سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ ہو جائیں تو دہشتگردوں کو کہیں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔ پاکستان کو بچانا ہے تو قوم کے اتحاد کا یہ آخری موقع ہے۔ اسے ضائع کیا گیا تو پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus