×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
جنگ بندی کا اعلان اک نیا چکمہ اور عالمی سازش
Dated: 04-Mar-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com طالبان کی طرف سے سیز فائر کا اعلان دھوکہ اور چکمہ ہی نہیں حکمران کلاس کو بے وقوف بنانے کی کوشش بھی ہے جس میں وہ کامیاب رہے ہیں۔ طالبان ایک طرف جنگ بندی کا اعلان کر رہے تھے اور دوسری طرف پولیوٹیم اور اس کی سکیورٹی پر مامور ایف سی اہلکاروں کو بمبوں اور گولیوں سے بھون رہے تھے ۔ یعنی طالبان نے جنگ بندی کے علان کو 14پاکستانی جانوں کی سلامی دی۔ اس سفاکیت میں خاصا دار فورس کے 8اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ حسب سابق فوج نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے باڑا میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور 5کو مار ڈالا ۔ ملکی اور بین الاقوامی لیول پر طالبان پر جو پریشروجود میں آیا ہے ۔ طالبان وقتی طور پر اس اثر کو زائل کرنے کے لیے جنگ بندی کا محض اعلان کر رہے ہیں جبکہ اپنے پالنے والوں کے حکامات کی بجا آوری میں حملے بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔29ایف سی اہلکاروں کی شہادت کے بعد حکومتی بیانات تھے کہ دہشت گردوں کے مکمل ہتھیار ڈالنے تک آپریش جاری رکھا جائے گا اب سیز فائر کے اعلان پر خوش ہیں اور مذاکراتی کمیٹی طالبان کمیٹی سے ملاقات کی راہیں دیکھ رہی ہے۔لگتا ہے حکومتی صفوں میں طالبان حمایتوں کی بڑی تعداد موجود ہے جو حکومت کو گومگو کی کیفیت میں مبتلا رکھ کر طالبان مقاصد پورے کرنا چاہتی ہے۔ حکمرانوں کے اندر بھی وہ جرأت نہیں کہ دہشتگردوں کو اینٹ کا جواب پتھر سے دے سکیں۔ سابق گورنر سلیمان تاثیر اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹوں کا طالبان کی طرف سے اغوا موجودہ حکمرانوں کے خاندانوں کو کوئی حتمی اقدام اٹھانے سے روکتا ہے۔ ان کا انجام دیکھ کر ان کی ٹانگیں کانپتی ہیں۔ دس ہزار ذبح ہونے والے فوجی کیا کسی ماں کے لخت جگر نہیں تھے؟طالبان نے لفظ جنگ بندی اور سیز فائر کا لفظ استعمال کرکے خود کو دہشت گرد کی بجائے حریف پارٹی شو کیا ہے حالانکہ وہ ریاست کے باغی ہیں اور ان کی تعداد مٹھی بھر ہے۔ مہران و کامراہ ایئربیس جیسی حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے ،70ہزار سویلین اور 10ہزار عسکری جوانوں کی سفاکانہ قتل، 70ارب ڈالر کے اثاثے تباہ کرنے اور ایک لاکھ پاکستانیوں کو اپاہج بنانے والوں سے مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ اور ان کے خوف سے ان کے آگے حکمران جھک سکتے ہیں تو پھر پاکستان کی 65جیلوں میں پابندسلاسل 80ہزار مجرموں کے ساتھ مفاہمت و صلح و قصاص اور جنگ بندی کے نام پر مذاکرات شروع کیے جائیں جن کے جرائم دہشتگردوں کے مقابلے میں کہیں کم ہیں۔ 82ہزار سویلین اور عسکری مقتولین کے 5لاکھ وارثان کو پاکستان بے دخل کر دیا جائے تاکہ وہ اپنے پیاروں کا سودا ہوتے ہوئے نہ دیکھ سکیں۔ قومی خودمختاری ،سلامتی و سالمیت اور وقار اپنی ذاتیات اور مفادات سے مقدم ہونا چاہیے ۔ اپنے اقتدار پر قومی مفادات کو ترجیح اور حکمرانی کی مدت پوری کرنے کا خبط قوی بدقسمتی ہے۔زارداری نے جس طرح 5سال تک فوج اور اپوزیشن کے ساتھ مل کر ملک کو یرغمال بنائے رکھا اب وہی حربہ نوازشریف حکومت استعمال کر رہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب آن بورڈ عدلیہ اور بیوروکریسی اور طالبان کو لے لیا گیا ہے جبکہ فوج اپنے گلے کاٹنے والوں کو رعایت دینے پر تیار نہیں۔ اے پی سی نے حکومت کو مذاکرات کا حق دیا تھا جس کے بعد حالات مزید خراب ہوئے اب کسی بھی قسم کے مذاکرات کرنے سے پہلے اے پی سی نیا مینڈیٹ لینا ہوگا۔گو کہ اس میں طالبان کے حامی ہوں گے لیکن ان کے ساتھ متحدہ جیسے فوج کے حامی اور طالبان کو قاتل سمجھنے والے بھی ہوں گے۔ اب پی پی پی اور پی ٹی آئی بھی مذاکرات کی حامی نہیں رہی۔ طالبان کچھ طاقتوں کے مہرے ہیں۔ ان کی زبان سے سیز فائر سیز فائر اپنی جان بچانے کے لیے نکل رہا ہے جبکہ وطن فروشی کی قیمت وصول کرنے کے لیے تلواریں فوج کے گلے کاٹ رہی ہیں۔ پولیوورکرز کے محافظوں کو بھی اسی لیے سیز فائر کے اعلان کے بعد تہ تیغ کیا گیا۔ دہشتگردوں پر اعتبار ممکن نہیں یہ پہلے بھی 8امن معاہدے توڑ چکے ہیں تاہم طالبان کے پیچھے وہ ملک ہے جس نے ایران اور شام کو سبق سکھانے کے لیے پاک فوج کی خدمات اور اسلحہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ پاکستان نے معذرت کی تو اس نے بھارت کے ساتھ کئی معاہدے کر لیے جن میں سعودی فوج کی ترتیب بھی ہے۔ اس سے ’’دوستوں‘‘ کی پہچان بھی ہو گئی۔ پاکستان کی بقا اسی میں ہے کہ حکمران ذاتی تعلقات سے بالا تر ہو کر ملکی مفادات میں فیصلے کریں، حقیقت کا ادراک کریں۔ پاکستان ہے تو حکمرانیاں اور اقتدار ہے۔ پاکستان کو دہشتگردی کی آگ سے دہشتگردوں کا خاتمہ کرکے ہی نکالا جا سکتا ہے۔ ان کے ساتھ ہاتھ ملا کے دیکھ لیا وہ قابل اصلاح نہیں ہیں۔ایک طرف مذاکرات اور سیز فائر کا اعلان کرتے ہیں دوسری طرف دہشتگردی سے بھی باز نہیں آتے۔ پاک فوج نے درست سمت اختیار کی ہوئی ہے حکمران بھی اپنی ٹانگوں پر بوجھ ڈالیں۔ طالبان اکستان کو برباد کرنے کی عالمی سازش کا حصہ ہیں ان کے ساتھ فوجی ہی نمٹ سکتی ہے بشرطیکہ حکومت اور قوم بھی ساتھ ہو۔ قوم تو فوج کے ساتھ ہے اگر حکومت نے بزدلی کا مظاہرہ جاری رکھا تو اس کا خدا ہی حافظ ہوگا۔ ابھی جس وقت میں یہ کالم تقریباً مکمل کر چکا تھا تو ٹی وی چینل پر ایک اندوہناک خبر ملی کہ اسلام آباد ضلع کچہری میں دو خودکش حملوں کے نتیجے میں درجنوں لوگ شہید اور اور زخمی ہوئے ہیں۔ شہد میں ایک ایڈیشنل سیشن جج رفاقت اعوان صاحب اور درجن بھر وکلاء سمیت دیگر عدالتی اہلکار شامل ہیں۔ یقینا طالبان ترجمان شاہد اللہ شاہد کی طرف سے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ دہشت گرد جنگ بندی اور فائر بندی کو بہانہ بنا کر اس واقعہ کا رخ یقینا پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیوں کی طرف موڑنے کی کوشش کریں گے لیکن پاکستان کے بیس کروڑ عوام اب یہ سمجھ چکے ہیں کہ قاتلوں اور دہشتگردوں کی شناخت کیا ہے۔خدارا حکمرانوں سے التماس ہے کہ مزید لاشیں گرنے سے پہلے طالبان کے خلاف آپریشن جاری رکھا جائے اور آخری گولی اور آخری دہشت گرد تک ان کا پیچھا کیا جائے۔ پاکستان کے بیس کروڑ عوام عالمی سازشوں میں گِھرے ہوئے ہیں اور اس وقت دوست اور دشمن کی پہچان تقریباً ناممکن ہے کیونکہ ہمارے برادر اسلامی ممالک بھی ہمارے خیرخواہ نہیں رہے جس کا فائدہ اٹھا کر کچھ اندرونی اور بیرونی قوتیں پاکستان کو توڑنے کے خواب دیکھ رہی ہیں۔لیکن جب تک ایک بھی پاکستانی زندہ ہے دشمنوں کا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus