×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بات ایک جاٹ کی!
Dated: 15-Mar-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com ایک مشہور قصہ آ ج بھی یاد ہے کہ ایک دفعہ تین دوست گائوں کے باہر سیرسپاٹہ و گشت کر رہے تھے۔ گنے کے کھیت کے قریب سے گزرتے ہوئے ایک دم انہوں نے گنے توڑنے کا پلان بنایااور گنے توڑ کر کچھ دُور ہی گئے ہوں گے کہ گنوں کا مالک جٹ آ گیا۔ اس نے تینوں کو رکنے کا کہا اور اُن کے پاس جا کر ان سے بغیر پوچھے گنے توڑنے کا پوچھا ۔چونکہ جاٹ اور وہ تینوں ایک ہی گائوں سے تھے ایک دوسرے کو جانتے تھے لہٰذا جاٹ اُن میں ایک جو ’’کمی‘‘ تھا اس سے مخاطب ہوا کہ تمہارے باقی دونوں دوستوں میں سے ایک تو سیدزادہ ہے،دوسرا کسان کا بیٹا ہے مگر تم نے کمی ہونے کے باوجود گنا توڑنے کی جرأت کیوں کی؟ یہ کہہ کر جاٹ اس پر جھپٹا اور اس کی ٹھکائی کرکے اس کو بھگا دیا۔ پھر دونوں میں سے سید زادے سے بولا ۔آپ تو شاہ جی کے بیٹے ہو آپ کو شرم نہ آئی میرے کھیت سے گنے چراتے ہوئے یہ جو تمہارے ساتھ ہے یہ تو میرا برادری بھائی ہے ،تم نے چوری کیوں کی اور جھپٹ کر سید زادے کو پکڑ کر دھلائی کر دی۔ جب سیدزادہ بھاگنے میں کامیاب ہوا تو جاٹ کسان کے بیٹے کی طرف متوجہ ہوا کہ اب تم بتائو ایک کمی اور سیدزادے نے جو حرکت کی سو کی مگر تم چوہدری جاٹ کے بیٹے ہو تمہیں اپنے ہی برادری کے بھائی کے کھیت سے گنا چراتے ہوئے شرم نہ آئی؟ یہ کہہ کر جاٹ نے کسان کے بیٹے کی ٹھکائی کر دی۔ اس طرح ایک اکیلے عمر رسیدہ جاٹ نے تین نوجوانوں کو علیحدہ علیحدہ کرکے پٹائی بھی کی اور آئندہ کے لیے اپنے کھیت محفوظ بھی کرلیے! پاکستان کے موجودہ حالات جس قسم کی روش اختیار کر چکے ہیں اس کو دیکھ کر لگتا ہے کہ پاکستان کے اندرونی و بیرونی دشمنان پاکستان کو اندر سے کھوکھلا کرکے اور عالمی طورپاکستان کو اکیلا کرنا چاہتے ہیں۔ مملکت عزیز پاکستان کی جغرافیائی سرحدیں دیکھ کر اس کی اہمیت کا احساس ہوتاہے۔ ہمارے ایک طرف برادر اسلامی ملک افغانستان جبکہ دوسری طرف برادر اسلامی ملک ایران جبکہ تیسری طرف ڈیڑھ ارب کی آبادی والا ملک بھارت جس میں 40کروڑ سے زائد مسلمان بستے ہیں۔ جب کہ چوتھی اطراف چین واقع ہے۔ ہمارے معروضی حالات اور اندرونی خلفشار کی وجہ سے اور بین الاقوامی طور پر ہماری ناکام خارجہ پالیسی کی وجہ سے آج ایک ایک کرکے ہمارے تینوں اطراف کی سرحدیں محفوظ نہیں رہیں۔ افغانستان سے ملحقہ سرحد پر ماضی میں ہمیں ایک بھی فوجی کھڑا کرنے کی ضرورت نہیں تھی مگر آج ماضی کے مجاہدین ، طالبان اور بھارت کرزئی گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہماری ساری افواج اسی محفوظ بارڈر پر مصروف ہیں جبکہ پاکستان کو نائن الیون کے بعد 100ارب ڈالر کا معاشی نقصان 70ہزار کے قریب سویلین اور 12ہزار عسکری جوانوں کی شہادت کے بعد صِلہ عالمی طاقتوں سے یہ ملا کہ بھارت نے امریکہ اور نیٹوممالک کی چاپلوسی کرکے اور کرزئی کو ورغلا نے کے بعد مفادات کی دوڑ سے پاکستان کو قریباً آئوٹ کرکے رکھ دیا ہے۔ جبکہ ترکی اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کے جرم میں ایران ہمیں معاف کرنے کے موڈ میں نہیں۔ بلوچستان کی موجودہ چپقلش میں بھارت متحدہ عرب امارات کے ساتھ ساتھ ایران کے رول کو فراموش نہیں کیا جا سکتا اور چونکہ ہم سعودی عرب کو اس کی من پسند ڈیمانڈ نہیں دے سکتے اور بیک ڈورہمارا ترکی سے بھی روابط دوستی بڑھ رہے ہیں جس پر ہم کو تنبیہہ کرنے کے لیے سعودی عرب نے گذشتہ دنوں بھارت کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کی رو سے بھارت کو مستقبل میں سعودی معاملات میں مداخلت کی نہ صرف اجازت مل گئی بلکہ ماضی میں پاکستان کے قدرتی حلیف سعودیہ کا جھکائو بھارت کی طرف ہو گیا ہے۔ جب ترکی پاکستان کی محبت تو چاہتا ہے مگر معاشی اور فوجی طور پر ابھی اس قابل نہیں ہے کہ پاکستان کا سعودیہ کے ساتھ اور ایران کے ساتھ تعلق خراب ہونے کی وجہ سے اکیلا ترکی ہماری مدد کر سکے؟پھر ترکی میں خلافت کے دعوے دار سنی اکثریت، سعودیہ میں دیوبندی اور وھابی اکثریت اور ایران میں شیعہ حکومت ان تینوں کی داخلی لڑائیوں کے لیے پاکستان کی سرزمین کو نشانہ مشق بنایا گیا ہے۔ اب رہ گیا چین تو چین ہماری مدد کو تب نہیں پہنچے گا جب تک اس کے مفادات کو زک نہیں پہنچائی جائے گی۔گذشتہ روز متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور کویت نے قطر سے اپنے سفیر واپس بلا لیے یہ خطے میں بننے والی نئی حکمت عملی کی چتاونی قرار دی جا سکتی ہے جبکہ متحدہ عرب امارات کے بلوچستان اور گوادر میں جاری کشیدگی اور علیحدگی پسندوں کو وسائل مہیا کرنے کی بات اب راز نہیں رہی ۔ادھر امریکہ کے افغانستان سے نکل جانے کے بعد خطے میں جغرافیائی تبدیلیوں کے عمل کو خارج ازمکان قرارنہیں دیا جا سکتا۔ ان سب حقیقتوں کا ادراک نہ کرنا ایسے ہی ہے جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لے۔ کیا عالمی سطح پر یہ سازشیں خودبخود پروان چڑھ رہی ہیں یا کچھ عالمی چوہدری ان حالات کو نہ صرف مانیٹر کر رہے ہیں بلکہ بالواسطہ طور پر کنٹرول بھی کر رہے ہیں اور ان چوہدریوں کی خواہش ہے کہ پاکستان کو ایک کے بعد ایک اتحادی سے جدا کرکے تنہا کر دیا جائے اور تنہا کا حل جو ’’جاٹ‘‘ نے کیا تھا اس کو ہم کیا بھول گئے ہیں؟ دوسری طرف اندرونی طور پر پاکستان کو طالبان سے گتھم گتھا کرکے اور پھر مذاکرات کا شوشہ چھوڑ کر نہ صرف الجھا دیا گیا ہے بلکہ حکومت کے اندر بھی کابینہ کے اراکین کچھ کھل کر مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں اور کچھ طالبان کو دوستی اور ہمدردی کے پیغام بھجوا کر خود کومحفوظ بنانے کے چکر میں ہیں۔27دسمبر2007ء کے دن محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے سانحہ سے ہم نے سبق نہ سیکھا اس دن بھی مشرف کے سیکرٹری داخلہ ’’ظفر اقبال چیمہ صاحب‘‘ نے سانحہ کے صرف ایک گھنٹہ بعد بیان دے دیا کہ محترمہ کی شہادت دھماکے یا گولی سے نہیں ہوئی بلکہ گاڑی کا لیور لگنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ دراصل ایسا مشتعل مظاہرین اور سندھیوں کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کیا گیا اور اس کی وجہ سے آج تک محترمہ کی شہادت کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ گذشتہ روز اسلام آباد کچہری میں طالبان کے ہاتھوں پہلے شہید جج رفاقت اعوان کی موت کو بھی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے قومی اسمبلی کے فلو رپرنہ صرف متنازعہ بنا دیا بلکہ ایک من گھڑت اور فضول قسم کی تاویل بھی پیش کی۔ جس پر گذشتہ روز پاکستان بار کونسل اور وکلا نے پریس کانفرنس کرکے چوہدری نثار کے بیان کے پیچھے چھپے مفادات کا بھانڈا پھوڑ دیا کہ جس پستول کی گولیوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ تو شہید جج کے گارڈ کے پاس تھا ہی نہیں اور گارڈ نے اپنے وضاحتی بیان میں بھی کہا ہے جج صاحب باقاعدہ شناخت کرکے شہید کیے گئے دہشت گردوں کے ہاتھوں۔پتہ نہیں وزیر داخلہ موصوف اپنی گردن بچانے کے لیے یا پھر حکومتی پالیسی کے مطابق طالبان کو رعایت دینے کے چکر میں تھے جبکہ دہشت گردوں نے نہ صرف وکلاء بلکہ جج صاحب کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے بلکہ اعتراف بھی کیا ہے کہ احرار الہند نے یہ کارروائی کی ہے۔ ان تمام تجزیوں، مشاہدات اور واقعات کے بعد صاف پتہ چلتا ہے کہ کوئی قوت ہم کو جدا جدا کرکے اکیلا کر دینا چاہتی ہے اور پھر کسی دن تر نوالہ سمجھ کر ہڑپ کر جائے گی۔ حکومت اور اپوزیشن سمیت پورے ملک کے عوام نے اگر اس وقت اخوت اور یکجہتی نہ دکھائی تو ہمارا حشر بھی کمی، سیدزادے اور کسان کے بیٹے سے مختلف نہ ہوگا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus