×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا یہ قوم کے پاس آخری موقع ہے؟
Dated: 10-May-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com ہم سب دوست آفس میں بیٹھے پاکستان کے ہی موجودہ سیاسی حالات پر بحث کر رہے تھے کہ اتنی دیر میں ’’جھورا جہاز‘‘ ہیجانی کیفیت میں اندر داخل ہوا(جھورا جہاز کمیونسٹی میں ہر دلعزیز اور ہر تقریب میں بن بلائے پہنچ جاتا ہے اس کی بدحواسی اپنی جگہ مگر وطن سے محبت پر کوئی شک نہیں کیا جا سکتا ) اور آٹے ہی کہنے لگا کہ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان نے 11مئی کو تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے اور اب کی بار فقط نعروں پہ اکتفا نہیں ہوگا بلکہ قوم جو گہری نیند سوئی ہوئی ہے جاگ جائے گی اور ایک سبز انقلاب آئے گا جس کی رو میں ملک کا کرپٹ اور بددیانت طبقہ بہہ جائے گا اور یہ انقلاب چہرے نہیں ملک کا نظام بدلے گا لاکھوں لوگ اسلام آاد کے ڈی چوک اور راولپنڈی میں اکٹھے ہوں گے اور کم از کم ایک کروڑ نمازی اکٹھے نماز ادا کریں گے اور اگر حکومت نے روکنے کی کوشش کی یا اس انقلاب کے رستے میں مزاحمت کی تو عوام کا سیلاب حکمرانوں کو خس و خاک کی طرح بہا کر لے جائے گا۔ جھورے جہاز کی اس گفتگو کے دوران شرکائے محفل بڑے غو ر سے جھورے کے منہ کی طرف دیکھ رہے تھے جیسے ہی وہ چپ ہوا ہر کوئی یک لخت بولنا چاہ رہا تھا ایک دوست نے کہا کہ قوم اپنے سیات دانوں سے کیا توقعات روا رکھتی ہے جس ملک کا بانی ملک کے قیام کے ایک سال بعد ہی کراچی کی سٹرک پر پنکچر ایمبولینس میں لیٹا زندگی کے سانسیں گِن رہا ہو اس قوم کو قوم کہلوانے کا حق حاصل نہیں۔ ایک دوسرا دوست بولا کہ قیامِ پاکستان کے ابتدائی ایام میں ہی جس قوم نے اپنے پہلے وزیراعظم اور قائدملت لیاقت علی خان کو راولپنڈی کے ایک جلسہ گاہ میں گولی لگتے دیکھا ہو اور مارنے والا بھی ایک پاکستانی ہو اور اسی قوم نے ترقی کے دروازے کھولنے والے فیلڈ مارشل ایوب خاں کو گلی گلی اتنا رسوا اور تخت تاراج کیا ہو کہ وہ اپنی زندگی کی آخری سانسیں گمنامی میں بستر پر پوری کرے اور جب متحدہ پاکستان کے جسم کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے اور قوم سوئی رہے جب نوے ہزار فوجی دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالیں اور قوم پھر بھی سوئی رہے اور جب پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو انکل سام عبرت کی مثال بنانے کی دھمکیاں دے اور پھر اپنی دھمکیوں کو عملی جامہ پہناتے ہوئے بھٹو کی بیوہ نصرت بھٹولاٹھیوں سے تشدد سہہ کر باقی کی زندگی معذوری اور نیم پاگل پن میں گزرے اسی بھٹو کے دو بیٹے میر شاہنواز بھٹو اور میر مرتضیٰ بھٹو ایک کو زہر دے کر اور دوسرے کو کراچی کی سڑکوں پر فائرنگ کرکے مروا دیا جائے اور اسی بھٹو کی بیٹی اور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو سڑک پر شہید کر دیا جائے اور یہ سب شہادتیں پاکستانی شہریوں کے ہاتھوں ہوں اور قوم سوئی رہے اور پھر میاں نوازشریف کو دو دفعہ اقتدار سے بے خل کیا جائے ان کی املاک کو قومی تحویل میں لیا جائے اور اس کو پابند سلاسل کرکے اس کی کوٹھڑی میں سانپ چھوڑے جائیں اور اس کی ایک جیل سے دوسری جیل میں منتقلی کے دوران جہاز میں ہتھ کڑیاں لگا کر سیٹ سے باندھ دیا جائے اور پھر ان کو زبردستی کے معافی نامے سے 10سال کے لیے جلاوطن کر دیاجائے حتیٰ کہ دوران جلاوطنی ان کے باپ میاں شریف کی وفات کے موقع پر ان کو باپ کے نمازِ جنازہ اور تدفین میں شرکت سے روکا جائے لیکن قوم خاموش رہے حتی کہ لاہور کے میٹروپولیٹن شہر میں میاں شریف کے جنازہ میں چند درجن افراد شریک ہوں اور پھر مکافاتِ عمل کے نتیجے میں جنرل مشرف جو کہ اپنی دیگر خصوصیات کے علاوہ ایک زبردست کمانڈوز کے طور پر مشہور تھے جس نے وطن عزیز کے تحفظ کی خاطر دو جنگیں لڑیں اس وقت غداری کے شرمناک الزام کی زد میں ہیں، قوم تب بھی سوئی رہے اور اب یہ قوم یہ خواہش یا تقاضا کرے کہ میاں شریف کے وارثان یا بے نظیر بھٹو کے وارثان پاکستان کی کوئی خدمت کرنا چاہتے ہیں تو یہ اس قوم کی معصومانہ نہیں مجرمانہ بھول ہے۔ جس بلاول کے نانا، نانی دو ماموں اور ماں کو مار دیا جائے ان سے یہ توقع رکھی جائے کہ وہ پاکستان کو ترقی کی راہ پر ڈالیں گے یا پاکستان کی کوئی خدمت کریں گے تو یہ دیوانے کی بڑ سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 2008ء میں ملنے والے پی پی پی کے اقتدار کے دوران مملکت عزیز کو ہزاروں ارب روپے کے ٹیکے لگائے گئے لیکن قوم خوابِ غفلت سے نہ جاگی۔ اسی طرح اپنے ساتھ ناانصافیوں کی طویل داستان رکھنے والے شریف خاندان اور ان کے اقرباء سے کوئی یہ توقع رکھے کہ کھربوں ڈالر کی غیر ممالک میں اپنی کی ہوئی سرمایہ کاری وہ واپس لے آئیں گے کسی منطق میں نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ذوالفقار علی بھٹو کے خودساختہ وارثان اور میاں نوازشریف کا خاندان پاکستان کو اپنے لیے نوٹ بنانے والی مشین سے زیادہ کا درجہ نہیں دیتے اور یہی وجہ ہے کہ میاں صاحب کو اقتدار میں آئے ہوئے پورا ایک سال ہو گیا ہے مگر ان کے بیٹے ملک سے باہر کاروبار کو وسعت دینے میں مصروف ہیں اور سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کے بچے پاکستان کو اپنا مسکن بنانے کے بجائے شاید دوبئی پاکستان کا پانچواں صوبہ تصور کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ لاڑکانہ، نواب شاہ یا کراچی میں رہنے کی بجائے دوبئی میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ دوسری طرف ملک کی حالت باریوں کے اس چکر میں اتنی نحیف ہو گئی ہے کہ صرف پچھلے ایک سال کے دوران بیرونی قرضوں کا بوجھ بڑھ کر پانچ سو گنا ہو گیا جبکہ ڈنگ ٹپائو مہم کے دوران سٹیٹ بینک آف پاکستان کی نوٹ چھاپنے والی مشینیں بغیر ایک سیکنڈ کے مسلسل نوٹ چھاپ کر ملکی معیشت کو مصنوعی سہارا دینے کی کوشش کر رہی ہیں موجودہ حکمرانوں نے گذشتہ حکمرانوں کا احتساب کرکے سڑکوں پر گھسیٹنے کا نعرہ لگایا تھا مگر لگتا ہے کہ چور اور کھوجی آپس میں مل گئے ہیں۔ اسی طرح موجودہ حکمرانوں نے آتے ہی پانچ سو ارب روپے اپنے بزنس پارٹنرز کو گشتی قرضے کے نام پر ادا کر دیئے۔ لیکن حال یہ ہے کہ شہروں میں 16گھنٹے لوڈشیڈنگ جبکہ دیہات میں کئی کئی دن بجلی غائب رہتی ہے اور حکمران عوام کو بیوقوف بنا کر طالبان سے مذاکراتی عمل کرنا چاہتے ہیں۔ جس سے فوج اور سیاسی قوتوں کے درمیان ایک دفعہ پھر شدید تنائو کی سی کیفیت ہے۔ اسحاق ڈار اپنے سمدھی کے اقتدار کو بچانے کے لیے شعبدہ بازیاں کر رہے ہیں۔ کابینہ کے وزراء کے درمیان کمیونیکیشن گیپ اور نااہلی کا یہ عالم ہے کہ ایک وزیر صبح کا سُر اور دوسرا شام کا راگ الاپ رہا ہے۔ اور ایسے وقت میں دھاندلی سے زخم خوردہ عمران خان اور علامہ ڈاکٹر طاہر القادری قوم کو جگانے آ پہنچے ہیں۔ اگر اب کی بار بھی قوم نے اپنی ذمہ داریوں کا ادراک نہیں کیا اور خوابِ غفلت سے خراٹے لینے بند نہیں کیے تو اس قوم کا مستقبل خدانخواستہ گھمبیر ہی نہیں تاریک بھی ہو گا۔ جھورے جہاز نے شرکائے گفتگو میں سے ایک صاحب سے پوچھا کہ آپ جو پچھلے 40سال سے اوورسیز میں مقیم ہیں اس دوران آپ نے پاکستان جا کر کتنی دفعہ ووٹ ڈال کر اپنا فرض ادا کیا؟ کیا آپ فلسطین، لبنان، شام اور فلپائن کے مسلمانوں کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے اپنے مادرِ وطن سے غفلت برتنے کے مرتکب تو نہیں ہوئے؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus