×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
جنرل وی کے سنگھ سے ملاقات اور خطے کی مجموعی صورت حال!
Dated: 20-May-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com گذشتہ دنوں بھارتی لوک سبھا کے الیکشن کا آخری مرحلہ بخیروخوبی انجام پایا۔ رزلٹ کے مطابق بی جے پی (کنزرویٹوہندو) نے 534کے ایوان میں سے 282سیٹیں جیت کر حکومت بنانے کے لیے سادہ اکثریت حاصل کر لی ہے جبکہ بی جے پی اور اتحادیوں نے مل کر 330نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ جھاڑ کھنڈ، دہلی، اتراکھنڈ، راجھستان اور گجرات کے صوبوں میں بی جے پی نے کلین سویپ کیا ہے۔ آنجہانی اندراگاندھی کی بہو سونیا گاندھی اور پوتے راہول گاندھی کو گذشتہ الیکشن کے مقابلے میں 176سیٹیں کم ملیں اور وہ صرف 60سیٹیں حاصل کر سکے۔ عام آدمی پارٹی کے سربراہ کیجروال نہ صرف اپنی سیٹ ہار گئے بلکہ صرف 4سیٹیں جیت سکے۔ 1984ء میں اندراگاندھی کے قتل کے بعد ہونے والے الیکشن میں کاسٹ کیے گئے ووٹوں کا تناسب اب تک کے الیکشن میں سب سے زیادہ تھا جو 64فیصد بنتا ہے لیکن 2014ء میں 66اعشاریہ 4فیصد تناسب رہا اور اس مرتبہ 51کروڑ ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیاجو کہ پورے یورپ کی کل آبادی سے بھی زیادہ بنتا ہے جبکہ گجرات جہاں سے نریندرمودی کو مسلمانوں کی شدید مزاحمت کے خدشات تھے اور کانگریس نے بھی جس کو ایشو بنا رکھا تھا، وہاں سے بی جے پی حیرت انگیز طور پر تمام کی تمام 26سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہے۔ کانگریس کے گرنے والے سیاسی بُت جن میں سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید، وزیر داخلہ شیتل کمار شندے، لوک سبھا کے سپیکر میراکمار، راج ببر اور سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ شامل ہیں جبکہ بی جے پی کے جیتنے والے امیدواروں میں سے شتروگھن سنھا، کرشن لال ایڈوانی،محبوبہ مفتی، سشماراج، ونود کھنہ، امریندر سنگھ، ہیمامالنی اورملائم سنگھ یا دو شامل ہیں۔ قارئین! کچھ عرصہ قبل میری ایک مشترکہ دوست کے ہاتھ سابق بھارتی چیف آف آرمی سٹاف جنرل وجے کمار سنگھ جو کہ بھارتی تاریخ میں پہلے سکھ چیف آف آرمی سٹاف بنے سے ایک تفصیلی ملاقات ہوئی۔ ہمارے میزبان نے جب ہم دونوں کو متعارف کروایا تو جنرل وی کے سنگھ کو محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ میرے خصوصی ایلچی کی ذمہ داری کا غائبانہ تعارف تھا لیکن جب جنرل وی کے سنگھ کو میں نے یہ بتایا کہ محترمہ کی شہادت کے بعد میں نے پاکستان کے سب سے بڑے اشاعتی ادارے ’’نوائے وقت‘‘ میں کالم نگاری کر رہا ہوں تو جنرل وی کے سنگھ کا اشتیاق دیدنی تھا۔ جنرل وی کے سنگھ نے بتایا کہ وہ ہی نہیں پورا ہندوستان ڈاکٹر مجید نظامی صاحب سے غائبانہ متعارف ہے اور کہا مجید نظامی صاحب کی ٹینک پر بیٹھ کر بھارتی یاترا کرنے کی کہانی ہر ہندوستانی کو زبانی ازبر ہے۔ جس پر میں نے جنرل وی کے سنگھ کو بتایا کہ پاکستان جس دو قومی نظریئے کی بنیاد پر معرضِ وجود میں آیا تھا اس نظریئے کی حفاظت آج بھی ڈاکٹر مجید نظامی پوری تن دہی سے سرانجام دے رہے ہیں اور وطن اور قوم سے محبت کرنا کسی بھی شخص کے لیے نہ صرف قابل ستائش ہے بلکہ باعثِ فخر بھی ہے جس پر جنرل وی کے سنگھ نے کہا کہ میں نے ریٹائرمنٹ کے بعد ایک تو اپنی آٹوبائیوگرافی "Courage and Conviction" کے نام سے لکھی ہے اور اب میں نے سیاسی پارٹی بی جے پی جوائن کر لی ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود تنازعات کے باوجود ڈائیلاگ کی گنجائش موجود ہے۔ جنرل وی کے سنگھ نے کہا کہ اگر جرمن، فرانس، انگلینڈ، اٹلی، آسٹریا، سویڈن، لگسمبرگ، سوئٹزرلینڈ اپنی ہزاروں سال پرانی دشمنیاں بھلا کر آج کی نسل کو ایک متحدہ یورپ دینے میں کامیاب ہو گئے ہیں، جہاں اب نہ سرحدوں کی لکیریں ہیں جبکہ ایک سنگل کرنسی کو قبول کر چکے ہیں، جبکہ ایک یورپین پارلیمنٹ بھی وجود میں آ چکی ہے تو ہم ایسا کیوں نہیں کر سکتے؟ جس پر میں نے جنرل وی کے سنگھ کو بتایا کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان نہ صرف اعتماد کی کمی ہے بلکہ بھارت علاقے میں ماسٹر کہلوانے کا زعم بھی رکھتا ہے جبکہ باہمی خیرسگالی کے لیے باہمی اعتماد سازی ضروری ہوتی ہے اور بھارت کے قدامت پسند مذہبی لیڈر پاکستان کی خطے میں موجودگی کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں جس پر جنرل وی کے سنگھ نے جواب دیا کہ ایس یہی کچھ جذبات اور خیالات ہمارے ہاں کی لیڈرشپ کو آپ کی قدامت پسند لیڈرشپ سے ہیں لیکن گذشتہ ادوار کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی ہندوستان نے کنزرویٹو بی جے پی اقتدار میں آئی تو پاکستان اور بھارت کے درمیان نہ صرف فاصلے کم ہوئے بلکہ مسائل کو زیادہ بہتر طریقے سے سمجھا گیا۔ جنرل وی کے سنگھ نے اس سلسلے میں سابق بھارتی وزیراعظم واجپائی کے دورئہ پاکستان کے دوران مثبت ڈپلومیسی کو مثال کے طو رپر پیش کیا۔ اس ملاقات کے دوران جنرل وی کے سنگھ کی بیگم بھارتی سنگھ بھی بڑے انہماک سے گفتگو سن رہی تھیں جبکہ میری بیگم بدرالنساء بیگم بھارتی سنگھ کو پاکستان کی ثقافت کے متعلق بتاتی رہیں۔ میری بیگم بدرالنساء وڑائچ نے بیگم بھارتی سنگھ کو پاکستان آنے کی دعوت دی جس پر بیگم بھارتی سنگھ نے کہا کہ اس کے والدین بھی پاکستانی پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں۔جبکہ میں نے جنرل وی کے سنگھ کو لاہور آنے کی دعوت دی اور انہیں بتایا کہ جب وہ لاہور آئیں گے تو ان کی ملاقات میں ڈاکٹر مجید نظامی صاحب سے ضرور کروائوں گا تاکہ آپ کو پتہ چل سکے کہ پاکستانی ایک پُرامن ہمسائے کی حیثیت سے بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ ملاقات کے اختتام پر جنرل وی کے سنگھ نے درخواست کی کہ آئندہ لوک سبھا الیکشن تک میں اس ملاقات کے مندرجات کا ذکر اپنے کسی کالم میں نہ کروں کیونکہ اس کے نتائج اس کے انتخابی عمل کو متاثر کر سکتے ہیں اور اب جبکہ جنرل وی کے سنگھ غازی آباد کے حلقہ سے لوک سبھا کے رکن منتخب ہو گئے ہیں تو میں نہ صرف ان کو مبارک باد پیش کرتا ہوں بلکہ توقع رکھتا ہوں کہ وہ وعدے کے مطابق پاکستان آ کر ڈاکٹر مجید نظامی صاحب سے تبادلہ خیال کرکے کوئی مثبت حل نکالیں گے۔ اب چونکہ ایران میں بھی ڈاکٹر احمدی نژاد کے بعد حسن روحانی بھی صدر منتخب ہو چکے ہیں اور افغانستان میں اگلے چند دنوں میں ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا الیکشن کے آخری رائونڈ میں اشرف غنی احمد زئی سے ون ٹو ون مقابلہ جس میں ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی جیت پاکستان کے قومی مفاد میں نہیں ہو گی، جبکہ امریکی افواج کے انخلا کے بعد پاک فوج اور ISI پر بھارت افغانستان اور ایران میں سیاسی تبدیلیوں کی وجہ سے علاقائی دبائو بڑھ جائے گا جبکہ خطے کی مجموعی صورت حال اس وقت آتش فشاں کے دھانے کی طرح ہے۔ سعودی عرب، شام، لبنان، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات اور کویت کسی بھی وقت مسلکی لڑائیوں کی آگ کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں اور پاکستان کو خطے میں اپنے دوست بڑھا کر خود کو اس جنگ و جدل سے دور رہنا ہوگا۔ ہم ایران اور بھارت کو برابری کی بنیاد پر باہمی امن کا یقین دلا کر، جبکہ چین ترک اور عربوں کے ساتھ باہمی مفادات کے حوالے سے خطے میں اپنی حیثیت منوا سکتے ہیں۔ مگر اس کے لیے کیا ہمارے پاس فہم اور ادراک رکھنے والی قیادت موجود ہے؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus