×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بگڑا لاڈلہ اور لائیسنس ٹُوکِل
Dated: 05-Jul-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com افسردہ چہرہ لیے جھورا جہاز آفس میں داخل ہوا ۔ حیرانگی سے اٹا چہرہ ،وہ مجھ سے بے شمار سوالات کے جوابات چاہتا تھا وہ ذرا خاموش ہوا تو میں نے اسے بتایا کہ پنجاب کے ایک راجپوت خاندان سے تعلق رکھنے والا کنبہ جب کوئٹہ جا کر آباد ہوا تو پہلی جعل سازی کی ابتدا راجپوت سے چوہدری بن کر کی اور پھر بلوچستان کے ڈومیسائل کے حصول کے لیے بھی متعدد گل کھلائے اور بی اے میں باقاعدہ فیل ہونے کے باوجود موصوف نہ صرف پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کے سربراہ بن بیٹھے بلکہ بزورِ قوت خود کو ہیرو کہلوانے کا بھوت بھی خود پر طاری تھا۔ نازوں میں پلا بیٹا جب جوان ہونے کو آیا تو اسے ماورائے آئین اور قانون ’’ہنگامی‘‘ ترقیاں دلوا کر اور ڈیپوٹیشن کے ذریعے پابندی کے باوجود مختلف نوٹ بنانے والے محکموں میں بھیجا جانے لگا۔ باپ جب سپریم عدلیہ کا سربراہ بنا تو ’’بگڑا لاڈلہ‘‘ دونوں ہاتھوں سے دولت سمیٹنے لگا یہاں تک کہ لاہور کی ایک ریئل سٹیٹ ٹائیکون فیملی کا داماد بنا دیاگیا۔ باپ کے پنشن پر جانے سے پہلے بیٹا نہ صرف ارب پتی بن چکا تھا بلکہ ’’مناکو‘‘ فرانس میں یہودی سرمایہ کاروں سے تعلقات بھی استوار کر چکا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ سابق چیف جسٹس کے دورِ عدل کے دوران بلوچستان میں سابقہ حکومت کے دور میں ایک طے پانے والے منصوبے ’’ریکوڈک‘‘ کا معاہدہ جبری طور پرمنسوخ کیا گیا حتٰی کہ اس وقت کے بلوچستان کے وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی جن کاتعلق پی پی پی سے تھا کی نہ صرف تذلیل کی گئی بلکہ ان کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا گیا اور اب جب کہ ’’ابا جی‘‘ کی پسندیدہ حکومت اقتدار میں آ چکی ہے تو ان کے ’’ڈان‘‘ بیٹے کو اس ریکوڈک منصوبے اور بلوچستان انویسٹمنٹ بورڈ کا وائس چیئرمین لگا دیا گیا۔ یاد رہے بلوچستان میں موجود ریکوڈک کانوں میں تین سو کھرب ڈالر کا سونا موجود ہے جو پاکستان کے تاجر حکمرانوں اور ان کے ساتھیوں کی نظروں میں کھٹک اور منہ میں پانی بھر آنے کا موجب بن رہا ہے۔ (قارئین میں ابھی یہاں تک ہی لکھ ہی پایا تھا کہ مجھے اطلاع ملی کہ ارسلان افتخار نے عوامی اور انقلابی دبائو کی وجہ سے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے اور ایک دوسرے سینئر ترین سابق جج خلیل الرحمن رمدے کے بیٹے مصطفی رمدے جن کو قائم مقام ایڈووکیٹ جنرل پنجاب مقرر کیا گیا تھا نے بھی انقلابی اور عوامی دبائو پر استعفیٰ دے دیا ہے)ان دو خبروں سے ایک بات تو واضح ہوتی ہے کہ سبز انقلاب نے غاصبوں کے دروازے پر دستک دینا شروع کر دی ہے۔ قارئین !جھورے جہاز کا دوسرا سوال یہ تھا کہ کیا کسی مہذب معاشرے میں ملک کی انتظامی مشینری کو ’’لائیسنس ٹوکِل‘‘ دینے کی جسارت بھی کی جا سکتی ہے؟ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ لندن میں بحالی جمہوریت میں نکالی جانے والی ایک ریلی جس کی قیادت شہید بے نظیر بھٹو کر رہی تھیں کو صرف ایک اکیلے پولیس کے سپاہی نے سڑک پر سفید چاک سے نشان لگا کر روک دیا تھا اور کسی کو بھی وہ لکیر کراس کرنے کی جسارت نہ ہوئی۔ یاد رہے برطانیہ میں ایک پولیس آفیسر کو ڈیڑھ فٹ کی ایک چھڑی رکھنے کی بھی اجازت نہیں۔ دنیا میں پیشتر ممالک کو پولیس سٹیٹ بھی گردانا جاتا ہے مگر انہیں گولی چلانے ، عام شہری کو حراساں کرنے کی اجازت نہیں ہوتی حتٰی کہ یورپی ممالک میں ایف آئی آر کا اندراج انویسٹی گیشن کے مکمل چالان کی صورت میں کیا جاتا ہے۔پاکستان کی 66سالہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ قریباً ہر حکمران کے دور اقتدار میں پولیس و دیگر انتظامی مشینری کو اقتدار کے دوام کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ماورائے آئین قتل اور جعلی پولیس مقابلے جمہوری ادوار میں زیادہ روح پذیر ہوئے۔ خاص طور پر میاں برادران کے گذشتہ پندرہ اور پلس چھ سال کا ریکارڈ اس سلسلے میں انتہائی شرمناک رہا ہے ۔مجھے اس بات کا بھی ادراک ہے کہ دہشت گردوں کی کھلی بغاوت اور شرپسندی کے دوران حکومت کے پاس سخت اقدامات کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہ جاتا مگر گذشتہ چھ سالوں میں قانون کی دھجیاں اڑا کر آئین میں موجود سقم کو جواز بنا کر تیس ہزار گرفتار قاتلوں اور دہشت گردوں کو ضمانتوں پر رہا کیا گیا جن میں سے کوئی ایک بھی بعد میں عدالتی پیشی پر حاضرنہ ہوا۔ قارئین چند ہفتے پہلے لاہور میں ہونے والے سانحہ ماڈل ٹائون کی ذمہ داری اسی صوبے کا چیف ایگزیکٹو ،وزیر قانون اور چیف سیکرٹری لینے کو تیار نہیں تو پھر دو خواتین سمیت 16 انسانی جانوں کا قتل اور 83انسانی جسموں کو عمر بھر کے لیے معذور بنا دینے والی قوتیں کیا نریندر مودی، حامدکرزئی، امریکی سی آئی اے یا پھر جنات اور خناق تھے؟ جب صوبے کا خادم اعلیٰ ذمہ داری لینے کو تیار نہیں تو کیا آپ توقع کریں گے کہ مستقبل میں خدا نخواستہ ایک اے ایس آئی جو کہ پندرہویں گریڈ کا ہوتا ہے وہ گولی چلا کر ذمہ داری قبول کرنے کا ناپسندیدہ عمل سرانجام دے گا؟ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کی انقلابی اصلاحات کا مذاق اڑانے والے یااس پر حیرت اور حیرانگی کا اظہار کرنے والے کیا یہ بتانا پسند کریں گے کہ ڈنڈے اور گولی اور بندوق کو پالش کرنے کا حکم دینے والے اگر ہنگامی بنیادوں پر معاشرے کے اندر موجود حقیقی بگاڑ کو سدھارنے کا اور قوم کو ایجوکیٹ کرنے کا تہیہ کر لیں تو ہمیں ان غیرانسانی و غیر اخلاقی اور انسان دشمن اقدامات کی ضرورت نہ رہے۔ قارئین! خود میرے بچپن میں مجھے یاد ہے کہ ہمارے قصبے مِترانوالی میں کسی لڑائی یا چوری چکاری کے سلسلے میں قریبی تھانہ ڈسکہ سے ایک پولیس کا سپاہی ہاتھ میں چھڑی پکڑے آتا تھا اور مطلوبہ پانچ، چھ ملزموں کے ہاتھ انہی کے مفلروں اور چادروں سے باندھ کر تھانے لے جاتا تھا اور آج جوان اور گھبرو ہونے کی نشانی یہ خیال کی جاتی ہے کہ آپ نے دو چار پولیس مقابلے اپنے نام نہ کر لیے ہوں۔ یاد رکھیے ہمیں نہ صرف معاشرتی بگاڑ تشخیص کرنی ہے بلکہ اس کے لیے جو ’’شافی‘‘ علاج شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری نے تجویز کیے ہیں ان پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔ پاکستان کی سیاسی قوتوں بشمول عمران خان، چوہدری برادران، شیخ رشید، ایم کیو ایم اور ڈاکٹر طاہرالقادری سب اس بات پر متفق ہیں کہ چہرے نہیں نظام بدلو وگرنہ لائیسنس ٹوکِل کا استعمال کہیں آپ کے خلاف ہی نہ ہو جائے۔ 5جولائی 2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus