×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
انقلاب کا موسم
Dated: 22-Jul-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com بچپن کے دنوں کی کئی یادوں میں سے کچھ آج بھی میرے ذہن میں محفوظ ہیں۔ میرے دادا جی چوہدری برکت علی وڑائچ جنہیں اہل علاقہ احترام سے ’’میاں جی‘‘ کے نام سے پکارتے تھے۔ میاں جی اپنے آبائواجداد کی طرح کھیتی باڑی کے پیشے سے منسلک و وابستہ تھے۔ چونکہ ان کا بیشتر وقت ’’کھوہ‘‘ ڈیرے پر گزرتا تھا، اس لیے تینوں وقت کا کھانا ڈیرے پر ان کو پہچانا میری ذمہ داری تھی ۔ ایک دن حسب معمول میں صبح کا ناشتہ لے کر ڈیرے پر پہنچا تو دیکھا میاں جی اپنی اونچی آواز میں مزارعوں کو پکار پکار کر کہہ رہے تھے کہ فوری طور پر چارہ کاٹ کر دو یا تین دن کا ذخیرہ کر لو کیونکہ بارش آنے والی ہے۔ یہ اوائل اپریل کے دن تھے۔ سورج صبح ہونے کے باوجود پوری تاب کے ساتھ چمک رہا تھا۔ بارش کے بظاہر کوئی آثار دکھائی نہ دے رہے تھے، ملازموں کی حیرانگی اور میرے استفسار پر میاں جی نے جواب دیا کہ ہم جدی پشتی کسان ہیں، زمین کا سینہ چیڑ کر رزق تلاش کرنا ہمارا پیشہ ہے اور موسم کا زراعت کے شعبے سے گہرا تعلق ہے اور یہ ہنر میں نے بھی اپنے آبائواجداد سے سیکھا ہے۔ آج آسمان رنگارنگ دیکھ کر میں بتلا سکتا ہوں کہ آج بڑی تیز کی بارش ہونے والی ہے اور پھر ایسا ہی ہوا، چند ہی گھنٹوں بعد نہ تھمنے والی موسلادار بارش شروع ہو چکی تھی جو مسلسل دو تین دن جاری رہی، جس سے کھیت پانی سے بھر گئے ،مگر میاں جی کی چھٹی حس یا علم سے اگلے چند روز کا چارہ مزارعین نے محفوظ کر لیا تھا۔ انہی میاں جی کا یہ پوتا جب (راقم) مڈل و ہائی سکول پہنچا تو طلباء سیاست کا آغاز کر دیا۔ کالج میں سٹوڈنٹس یونین کا صدر چنا گیا اور صرف 19سال کی عمر میں پہلی جلاوطنی کرکے سوئٹزرلینڈ پہنچا۔ جلاوطنی میں بیگم نصرت بھٹو و محترمہ بے نظیر سے سیاسی تربیت حاصل کرنے کا موقع ملا۔ 1999ء سے لے کر 2007ء تک شہید بی بی کے خصوصی ایلچی کی حیثیت سے قومی و بین الاقوامی لیڈروں اور سربراہان مملکت و وزرائے اعظم سے بالمشافہ ملنے ،تبادلہ خیال اور بات کرنے کے مواقع حاصل ہوئے، بلکہ جدوجہد جمہوریت کے سلسلے میں ضیائی آمریت اور مشرف کے مارشل لاء سمیت سول ڈکٹیٹر نوازشریف کی حکومتوں سے ٹکر بھی لی اور ابھی تک بے بنیاد مقدمات کا سامنا ہے۔ اس دوران متعدد مرتبہ جیلیں بھی کاٹیں اور سابق صدر آصف علی زرداری اور راجہ پرویز اشرف کا جیل فیلو بھی رہا۔ میثاقِ جمہوریت اور این آر او جیسے معاہدوں کا عینی شاہد ہوں اور کئی راز سینے میں پنہاں ہیں مگر آج میں کہتے ہوئے تکلف نہ برتوں گا کہ سیاست اور اقتدار کے شوقین آصف علی زرداری نے جو ’’میکاولی‘‘ طرزِ سیاست کے گرویدہ ہیں، نے اپنا اقتدار بچانے کے لیے نوازشریف، پرویز کیانی، چوہدری افتخار اور بیوروکریسی کے ساتھ ’’یملا‘‘ بن کر اقتدار کی کانٹوں بھری راہ پر خوشدلی سے چلتے رہے اور کامیاب ہوئے۔لیکن نوازشریف مئی2013ء کے الیکشن میں بظاہر کلین سویپ کرکے بھی نوازشریف صرف ایک سال میں ہی کلین بولڈ ہو چکے ہیں۔ جبکہ آصف علی زرداری ٹولہ الیکشن ہار کر بھی سندھ، کشمیر، گلگت بلتستان کی حکومتیں سنبھالے ہوئے ہیں اور چمکیلی بتیسی نکال کر عوام کا منہ چڑا رہے ہیں۔ اس وقت پاکستان کی خارجہ پالیسی ناکام ہو چکی ہے حکمرانوں کے پاس ترکی اور چین کے علاوہ کوئی تیسرا ملک ایسا نہیں کہ جس سے کاغذی معاہدے بھی کر سکیں۔ اس دوران جدہ کے جادوگر خود اپنے دام میں صیاد آ گیا کہ مصداق عراق شام میں بُری طرح پھنس چکے ہیں۔ انہیں اب سرور محل کے سابقہ مکینوں سے کوئی خاص مطلب نہیں۔ایران سے گیس کے معاہدے تعطل کا شکا رہیں۔ افغانستان میں اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ متنازعہ الیکشن کی وجہ سے صورت حال کشیدہ ہے۔ متحدہ عرب امارات و دوبئی کے اپنے معاشی مفاد ہیں اور برطانیہ ہر آنے والے سے کہتا ہے کہ ’’آئے ہو تو کیا لے کر آئے ہو جائو گے تو کیا دے کر جائو گے‘‘ امریکہ موسم اور آسمان کا رنگ دیکھ کر ہرجائی بن چکا ہے جبکہ ہمسایہ بھارت میں انتہا پسند ہندو جماعت کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ بلوچستان میں بھارتی شورش اس کا ثبوت ہے۔ سرحدوں کے اندر بھی اندرونی صورت حال تسلی بخش نہیں ہے۔ پچھلے ایک سال میں ایک پیسے کی غیرملکی انویسٹمنٹ ملک میں نہیں، صرف غیر ملکی قرضہ جات کا بوجھ بھرا ہے۔ قرضوں کا حجم 20ارب ڈالرز سے 75ارب ڈالرز کی نفسیاتی حدیں عبور ر چکا ہے اور وزیر خزانہ کہتے ہیں کہ ڈالر 96سے 107اور پھر 98پر لے آنا مضبوط ملکی پالیسی ہے؟ جبکہ گذشتہ ایک سال میں مہنگائی کا جن بے قابو ہو چکا ہے۔ ضروریات زندگی کی روزمرہ اشیاء تین سو فیصد مہنگی ہو چکی ہیں۔ گیس اورپٹرول چراغ لے کر ڈھونڈنے سے نہیں ملتا، جب ملے تب ایفورڈایبل نہیں ہوتا۔ لاء اینڈآرڈر کا ناگ پھن پھیلائے بیٹھا ہے، دہشت گردی عروج پر ہے، سکیورٹی اہلکاروں کی گذشتہ ایک سال کے دوران سینکڑوں شہادتیں ہوئیں، ہزاروں سویلین شہیدہوئے اور حکومت مذاکرات و مذاکرات کھیلتی رہی۔ چوری، ڈاکہ زنی،قتل، اغوا ء برائے تاوان اور سٹریٹ کرائم ریاست کے لیے ناسور بن چکے ہیں، بھتہ خوری و بال جان بن چکا ہے۔لوڈشیڈنگ کے عذاب نے عوام کو نفسیاتی مریض بنا کر رکھ دیا ہے۔ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے ہزاروں فیکٹریاں،کارخانے اور ادارے بند ہو چکے ہیں، بے روزگاری سے خودکشیوں اور دیگر جرائم میں 500فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ممبران اسمبلی اور وزیروں کو اغواء کیا جا رہا ہے۔ حکومت عوام سے کیے کسی ایک وعدے کی لاج بھی رکھنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ اسمبلیوں میں تین چوتھائی اکثریت کے باوجود وزیراعظم گذشتہ ایک سال سے سینٹ میں جانے سے کترا رہے ہیں۔ کوئی قانون سازی نہیں ہو سکی۔ 60فیصد محکمے اور وزارتیں، وزراء اور چیئرمینوں کے بغیر چل رہی ہیں۔ حتیٰ کہ وزیر خارجہ ، وزیر دفاع ،وزیر قانون، وزیر تعلیم جیسے محکموں میں ایڈہاک بیس پر کام چلایا جا رہا ہے۔ حکمران ہر مرض کی دوا بس ایک ہی ’’پھکی‘‘ جمہوریت کو گردانتے ہیں۔ اداروں کے درمیان کھنچائو کا یہ عالم ہے کہ وزیر دفاع اپنی ہی فوج پر تنقید کرتا ہے۔ تو قارئین ایسے حالات میں کسی میاں جی یا ان کے پوتے کی پیشن گوئی یا تجربہ کی ضرورت باقی رہتی ہے؟ سانحہ ماڈل ٹائون کے بعد لواحقین کو ایف آئی آر بھی کٹوانے کی اجازت نہ دینا۔ایسے میں کسی ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر، دانشور ہونے کی ضرورت نہیں، ایسے میں آسمان کی طرف دیکھ کر موسم بتانے کی ضرورت نہیں۔ قائدانقلاب نے چیلنج دے دیا حکمرانوں کو مگر حکمران چیلنج کا جواب دینے کی بجائے فرار کے راستے ڈھونڈ رہے ہیں مگر کیا یہ سب مفاد پرستوں کا ٹولہ ملک سے فرار ہو سکے گا۔ پاسبان انقلاب کا حصہ بن کر ہر کوئی اپنے حصے کا کردار ادا کرے۔ جب 32سال تک جمہوریت کے لیے جدوجہد کرنے والا مایوس ہو کر اس نظام سے قائدانقلاب کے مشن کے ہراول دستہ میں شامل ہو چکا ہے تو پھر اب کسی اور تجزیئے کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟ لیکن قارئین ادھورا انقلاب خطرناک ہوتا ہے۔ خون کی ندیاں بہا کر بھی آپ اس کی قیمت نہیں چکا سکتے۔حکمرانوں کی ذرا سی لغزش سبز انقلاب کو سرخ راستوں پر ڈال سکتی ہے۔ ضرب عضب، اعتکاف کا عشرہ اور عید الفطرکے بعد پاکستان کے عوام کوایک بڑی خوشی ملنے والی ہے۔ ’’اللہ پاکستان کی خیر کریں آمین‘‘ 22جولائی2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus