×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ادھورے خواب
Dated: 25-Jul-2009
سپنے اگرسہانے ہوں تو طویل راتیں بھی سکڑی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ ہم مفاہمت کے حسین خوابوں کے سحر سے نکلنے بھی نہ پائے تھے کہ قومی اتحاد، یکجہتی اور جمہوریت کے دشمنوں کا دائو چل گیا۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی راہیں الگ ہو گئیں، حسین خواب بکھر گئے ان کی جگہ بھیانک اور ڈرائونے سپنوں نے لے لی۔ 8ماہ تک آصف علی زرداری اور نوازشریف کے درمیان حدِ فاصل کھنچ گئی۔ دونوں کی بول چال بند تمام رابطے منقطع ہو گئے۔ لیکن جمہوریت کے بہی خوا ہوں، دونوں پارٹیوں کے خیر خواہوں نے ہار نہ مانی۔ تاریکیوں میں روشنی تلاش کرتے رہے بالآخر وہ دن آ گیا جب صدر پاکستان آصف علی زرداری اپنے بڑے بھائی سے ملاقات کے لیے محوِ پرواز اورنوازشریف دیدہ و دل خویش راہ کیے منتظر تھے۔ دنیا کی نظریں ٹی وی سکرینوں پر، ملاقات و استقبال کا منظر دیکھنے کے لیے لگی تھیں۔ ایسے میں مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کی سیکنڈ اورتھرڈ لائن قیادت کے کچھ چہرے پریشان اور بے چین تھے۔ یہ اپنی اعلیٰ قیادت کے نکتہ نظر سے متفق نہیں تھے۔ یہ مفاہمت کے بجائے روایتی یا دوسرے لفظوں میں ٹکرائو کی سیاست کے قائل ہیں یہی ان کو سوٹ کرتی ہے۔ ایک طرف مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت اور کارکن دونوں بڑوں کی ملاقات پر خوش لیکن دوسری طرف مخصوص ایجنڈے کے پروردہ لوگوں کے چہرے سیاہ ہو رہے تھے ان پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ بالآخر ان کی امیدوں پر پانی پھر گیا۔ محب وطن، جمہوریت پسندپاکستان، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)کے خیرخواہوں کو ملاقات کی کامیابی اور مشترکہ اعلامیہ کی صورت میں بہت بڑی بریکنگ نیوز مل گئی۔ بدخواہ بھی ٹِک کر بیٹھنے والے نہیں تھے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دوسری پارٹیوں سے انجیکٹ ہو کر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں لیکن درحقیقت یہ لوگ ابھی تک رجعت پسندی کے طلسم سے باہر نہیں نکل سکے۔ان کا تعلق صرف دونوں پارٹیوں سے ہی نہیں ایسی پارٹیوں سے بھی ہے جوآج بوجوہ پارلیمنٹ سے باہر ہیں۔ ان کے مفادات ایک، ایجنڈہ ایک اورمعاملات بگاڑنے کے لیے سمت بھی ایک ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) سے تعلق رکھنے و الے ان مفاد پرستوں کو اقتدار میں حصہ نہ ملنے کا رنج ہے اور یہ غصہ وہ مملکتِ عظیم کی املاک کو نقصان پہنچا کر نکال رہے ہیں۔ہڑتال سے ایک دن پہلے پنجاب میں پیپلز پارٹی کے صدر رانا آفتاب احمد خان نے پیپلز پارٹی کے صوبائی وزراء کو اور خصوصی طور پر صوبائی وزیر خزانہ تنویر اشرف کائرہ کو ہدایت کی کہ وہ وزیراعلیٰ پنجاب سے اس سلسلے میں بات کریں کہ اگر کوئی اپنی مرضی سے دکان بند کرنا چاہتا ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن اگر تاجر برادری کو ڈرا دھمکاکر اور املاک کے نقصان کی دھمکی دے کر زبردستی کی گئی تو ردعمل شایدشدید تر ہوسکتا ہے لیکن ہوا پھر وہی ٹرینیں جلتی رہیں۔ ویئر ہائوس لوٹے جاتے رہے اور ایک دن کے اندر اس ملک کے اربوں روپے کا نقصان کر دیا گیا۔ایسا وسطی پنجاب میں ہوا جبکہ باقی تینوں صوبوں میں کہیں کوئی چڑیا بھی نہیں پھڑپھڑائی۔یہ ایک لمحہ فکریہ ہے پنجاب کے دونوں کولیشن پارٹنر کے لیے ؟میں اکثر اپنے کالموں میں دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں کے قائدین کو مشورہ دیا ہے کہ دوستی کرنے سے پہلے ایک کلو نمک کھا لیں تاکہ آپ اتنے کڑوے ہو جائیں کہ دوسرے کی بات پھر کڑوی نہ لگے۔ لوڈشیڈنگ کی لعنت جمہوری حکومت کو ورثہ میں ملی۔ اسے ختم کرنے میں موجودہ حکومت سے ہو سکتا ہے کہ کچھ کوتاہی بھی ہوئی لیکن ہر سال بجلی کی کھپت میں 8فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔ مشرف کے نو سالہ اقتدار میں ایک میگاواٹ بجلی بھی پیدا نہیں کی گئی اس کا خمیازہ آج جمہوری حکومت کو بھگتنا پڑ رہا ہے اور اس سے فائدہ ذاتی مفادات کے غلام اٹھا رہے ہیں۔ مشرف کو عدالت عظمیٰ نے طلب کر لیا ہے۔ ان کے گناہوں میں ایک عوام پر بجلی کی لوڈشیڈنگ کا عذاب مسلط کرنا بھی شامل ہے۔بہرحال وہ کٹہرے میں آئیں گے تو ہر سوال کا جواب دینا اور ہر الزام کا جواز پیش کرنا ہوگا۔ لوڈشیڈنگ ایک عذاب ہے۔ ہر پاکستانی اس سے تنگ اور متاثر ہے، 22جولائی کو کچھ تنظیموں کی طرف سے ہڑتال کی کال دی گئی۔ حکومت نے اس کی مزاحمت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ امید تھی کہ یہ پرامن رہے گی۔ لیکن اس روز ٹرینوں کوجلایا گیا، پرائیویٹ گاڑیاں تباہ کی گئیں۔ دکانیں تشدد کرکے بندکرائی گئیں۔ لٹھ بردار شہروں میں دندناتے پھرتے تھے۔ یہی وہی لوگ ہیں جو پارلیمنٹ میں نہ پہنچ سکے تھے۔ ان کو مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کے ان گروہوں کی آشیر باد حاصل تھی جن کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔ پنجاب میں تو ایک طوفان بدتمیزی برپا تھا۔ کیا محب وطن طبقے قومی املاک کو جلتا دیکھ سکتے ہیں؟ وزیرریلوے کا کہنا ہے کہ پنجاب میں ریلوے کے ساتھ جو ہوا یہ سلسلہ جاری رہا تو ریلوے سروس بند کر دیں گے۔ ایسا کون چاہتا ہے؟ مسلم لیگ (ن)کی قیادت نہ پیپلز پارٹی کی قیادت۔ جو ایسا چاہتے ہیں ان کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ یہی لوگ دونوں پارٹیوں کے مابین مفاہمت کی جگہ مناقشت پیداکرنا چاہتے ہیں۔ ایک اطلاع کے مطابق گڑھی شاہومیں ایک ہزار مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لیے صرف 6پولیس اہلکار تھے۔ وزیراعلیٰ شہبازشریف ذمہ داروں پر ہاتھ ڈالیں جنہوںنے پنجاب حکومت کو بدنام کیا۔ اسی وجہ سے یہ تاثر تقویت پکڑ رہا ہے کہ مظاہرین کو پنجاب حکومت کی آشیر باد حاصل تھی۔تاجروں کے ایک دھڑے کے قائدپر کھلم کھلا الزام آ رہا ہے اور کچھ لوگوں نے ان کی ٹیلیفونک گفتگو بھی ٹیپ کر لی ہے جس میں وہ اپنے دوستوں کو پرتشدد ہڑتال پر اکسا رہے تھے بلکہ ایسا کرنے کے لیے انہیں وسائل بھی مہیا کیے گئے۔ بات لوڈشیڈنگ کی ہو رہی ہے تو اس سال کے آخر تک 3ہزار میگاواٹ پیداوار متوقع ہے جس سے وقتی طور پر بجلی کی کمی دور ہو جائے گی لیکن یہ مستقل حل نہیں مستقل حل صرف اور صرف کالاباغ سمیت دیگر ڈیموں کی تعمیر ہے اور کالاباغ ڈیم اہم ترین ہے۔ جس کی فزیبلٹی تیار، اس کی تیاری پر 80ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں، یہ ایسا منصوبہ ہے کہ حکومت آج اعلان کرے تو کل اس کی تعمیر شروع ہو سکتی ہے۔ یہ بجلی کی کمی کے ساتھ ساتھ پانی بھی وافر مقدار میں فراہم کرے گا۔ اس ڈیم سے 3600میگاواٹ بجلی دستیاب ہو گی۔حکومت کو سالانہ اڑھائی سو ارب روپے تک منافع ہوگا۔ ہزاروں لوگوں کو روزگار بھی ملے گا۔ اس میں 6.1ملین ایکڑ فٹ پانی ہمہ وقت ذخیرہ رہے گا۔ میرے جیسے پاکستان کے 18کروڑ شہری سُچے اور سہانے خوابوں والی لمبی راتوں کے ارمان لیے ہر شام کو یہ سوچ کر سوتے ہیں کہ کبھی تو ہمارے یہ ’’ادھورے خواب‘‘ حقیقت کی تعبیر اورصبح سحر کا سورج بن کر ابھریں گے۔کبھی تو اس ملک کے ارباب اختیار سے عوام کے خواب چھیننے کا اختیارواپس لے لیا جائے گا؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus