×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
جشنِ انقلاب اور ہماری ذمہ داریاں!
Dated: 13-Sep-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com 17جون سے چند یوم پیشتر قائد انقلاب ڈاکٹر طاہر القادری جب انگلینڈ سے تشریف لائے تو دیگر ایشوز پر بات کے علاوہ پاکستان روانگی اور ممکنہ خدشات و خطرات پر کافی گفتگو ہوئی۔ یوں تو کئی دوسرے مسائل پر ہمارے تحفظات یکساں تھے مگر حکمرانِ وقت سے اس بات کی قطعاً توقع نہ تھی کہ وہ 17جون کے دن ظلم کے پہاڑ ڈھا کر انقلاب کی بنیادوں میں خون بھر دیں گے۔ اسی روز ڈاکٹر صاحب سے پھر مشاورت ہوئی تو پہاڑوں جیسا حوصلہ رکھنے والے اس عظیم انسان نے مجھے یہ خوبصورت الفاظ کہے ’’مشکلات ہمیشہ بہترین لوگوں کے حصے میں آتی ہیں کیونکہ وہی اسے بہترین طریقے سے نبرد آزما ہونے اور سرانجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘‘ آج 13ستمبر ہے آزادی مارچ اور انقلاب مارچ کے قافلوں کو طلوع ہوئے پورے 30دن ہو گئے ہیں اور اس دوران شہدائے ماڈل ٹائون کا خون سفر کرتے ہوئے اسلام آباد میں ایوانِ اقتدار کی دہلیز پار کر چکا ہے اور درجن بھر انقلابیوں نے اپنے خون سے انقلاب کے دیپ روشن کیے اور خصوصاً ان گذشتہ 30دنوں نے عمران خان کی فکری سوچ، ویژن اور طرز تقریر میں بڑی حد تک مثبت تبدیلی پیدا کی ہے۔ شاید یہی وہ ایک کمی تھی جس کو عمران خان نے خوش اسلوبی سے حاصل کر لیا ہے چشم فلک نے اس دوران بڑے عظیم معجزے روزنما ہوتے دیکھے کل تک علی بابا اور چالیس چوروں کا نعرہ لگانے والے آج اپنے دامن میں تین سو چوروں کو سما کر جمہوریت کی وہ تشریف کر رہے ہیں، جس کی بنا پر آصف علی زرداری نے 5سال کی مدت پوری کی اور مفاہمت کی سیاست، جمہوریت بہترین انتقام کا کرپشن زدہ نعرہ لگا کر وطن عزیز کے 20کروڑ لوگوں کو عمدگی سے بے وقوف بنایا۔ موصوف سابق صدر نے غیروں کو تو کیا فریب دیا وہ اپنی اولاد کو بھی اس فلسفے کی بھینٹ چڑھا گئے اور پھر اپنی باری حاصل کرلینے کے بعد شریف برادران نے ایوان پارلیمنٹ کے تقدس کو جس مجرمانہ طریقے سے اپنی خواہشوں کا غلام بنایا اس کا ایک نظارہ گذشتہ روز پارلیمنٹ کے مشترکہ خصوصی سیشن میں اس وقت دیکھنے کو ملا ،جب چوہدری نثار نے اپنے خطاب میں سینیٹر اعتزاز احسن پر بڑے رقیق الزامات لگائے۔ زبانیں کنگ، عقل دنگ اور نظریں پشیمان ہو گئیں جب انہوں نے دیکھا کہ وزیراعظم کی کچن کیبنٹ کے ایک حقیر رکن نے اپنی ہی فرینڈلی اپوزیشن کے ایک سرخیل رکن کو بھرے بازار بے آبرو کر دیا مگر چوہدری بہاول بخش کے پوتے نے کچھ ایسے انداز سے جوابی وار کیے کہ اقتدار کے ایوان دھل کر رہ گئے، ہر ادا ہوتے لفظ کے ساتھ حقارت، طنز اورالزامات کے وہ زہر آلود نشتر تھے جس سے چوہدری نثار کی سیاست ہمیشہ کے لیے اسی پارلیمنٹ کے ایوان میں دفن ہو گئی۔ چوہدری نثار جنہوں نے صرف چند روز پہلے نہتے انقلابیوں پر پولیس کی جانب سے دھاوا بولے جانے والے کمانڈو ایکشن کی کمان کو جنرل ڈائر کی طرح کی تھی اور بظاہر وہ کشتیاں جلا کر نوازشریف کی قیادت پر عملی اظہار کر چکے تھے لیکن نوازشریف کو چالاک سیاست نہ سمجھنے والے ذہنوں پر مجھے حیرت ہے کہ انہوں نے کمال خوبصورتی سے اپنی صفوں میں پائے جانے والے جاوید ہاشمی ثانی کو پارلیمنٹ میں رسوا کرکے رکھ دیا اور لاکھ تلملانے کے باوجود چوہدری نثار کو متوقع پریس کانفرنس کے ذریعے اپنی صفائی دینے سے روک دیا اور قارئین کرام! آصف علی کی مفاہمت کی سیاست کے بعد یہ درگزر کی سیاست کی ابتدا ہے۔ مجھے اس وقت ایک شعر یاد آ رہا ہے : صبح کے تخت نشیں شام کو مجرم ٹھہرے ہم نے پل بھر میں نصیبوں کو بدلتے دیکھا شاید کچھ لوگ جوش عقیدت میں میری بات سے اتفاق نہ کریں مگر عمران خان کی محنت، لگن اور ڈاکٹر طاہر القادری کا شعور اور ویژن اپنا اثر دکھا چکا ہے۔ گذشتہ 30دنوں سے جتنا ٹیلی ویژن چینلز کو دیکھا گیا اور روزانہ دو سے تین دفعہ انقلابی قیادت کو لوگوں سے براہِ راست مخاطب ہونے کا موقع ملا۔ سیاست کا ایک ادنیٰ طالب علم ہونے کے ناطے کے پاکستان کے کروڑوں گھرانوں میں ڈاکٹر طاہر القادری کے نظریات سوچ اور فکر کو پذیرائی اور رسائی حاصل ہو چکی ہے، جو دنیا کی تاریخ میں بانیان انقلابات نے حاصل کرنے کے لیے سال ہا سال صرف کیے تھے۔ آج ہم لینن، مارکس، امام خمینی اور نیلسن منڈیلا کی جدوجہد اور نتائج کے قریب پہنچ چکے ہیں ۔ ایک موقع پر ڈاکٹر طاہر القادری نے کیا خوب کہاکہ’’ قرضوں کے محل کا غلام ہونے سے بہتر ہے کہ انسان اپنی جھونپڑی میں حاکم ہو‘‘ آج وطن عزیز کا ہر طبقہ کسان، طالب علم، مزدور ، سروس مین اور لوئرمڈل کلاس سمیت وطن عزیز کے اہل ہنر اور کوالیفائیڈ طبقہ اس بات کو سمجھ چکے ہیں کہ ہمارے ملک میں چوروں کی انجمن کا نام جمہوریت رکھ دیا گیا ہے۔ اس وقت ملک کے معروضی حالات معاشی عدم استحکام اور سرحدوں پر منڈلاتے غیر ملکی خطرات ہم سے اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہم اتحاد ،یقین محکم اور نظم سے اپنے دشمنوں کے آگے گڑگڑانے کی بجائے مردانہ وار مقابلہ کریں۔ پاکستان کے پاس الحمد اللہ دنیا کی سب سے اعلیٰ افواج جیسی جری فوج ،مدبر عسکری قیادت اور رب العزت کا عطا کیا ہوا نیوکلیئر پاور ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے مگر ہمارے اندر ہی سے ایک سائیڈ افیکٹ ہمیشہ نمودار ہو کر دشمن کے عزائم کو سپورٹ کرتا ہے۔ پچھلے دس سال کے دوران اور خصوصی طور پر ضیائی آمریت سے ہی ہماری اساس ،ہمارے نظریات، ہمارے کلچر، ہماری روایات کو مذاہب اور مسلک کی بنیاد پر تقسیم کرنا شروع کر دیا گیا ہے اور حقائق سے نظریں چرانے کی وجہ سے آج ہماری بری، فضائی اور بحری قوت کو مذہبی ’’دیمک‘‘ لگنا شروع ہو گئی ہے۔ جی ایچ کیو، مہران بیس، کامرہ ایئربیس اور گذشتہ روز پاک بحریہ کے ڈاکیارڈ پر ہونے والے حملے ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں۔ آج قدرت نے ہمیں یہ موقع فراہم کیا ہے کہ ہم ایک مصمم ارادے کے ذریعے اپنا حق چھیننے والے ان جمہوری لٹیروں سے جان چھڑا لیں۔ آج 30روزہ جشن انقلاب اور جشن آزادی مناتے ہوئے ذرا سوچیئے گا کہ 18ارب روپے کے فلیٹ میں رہنے والے کچی بستیوں کے دوست کیونکر ہو سکتے ہیں؟ قارئین! آج ڈاکٹر طاہر القادری صاحب سے بات ہوئی تو انہوں نے حاصل گفتگو یہ شعر سنایا: نگاہِ فقر میں نشانِ سکندری کیا ہے خراج کی جو گدا ہو وہ کیسریٰ کیا ہے 13ستمبر2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus