×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
جُما جنج نال!
Dated: 27-Sep-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com جس ملک میں غدارِ وطن اور پاک فوج اور آئی ایس آئی کی دشمن وینا ملک کے ہاں بچے کی پیدائش کی خبر کو پورا دن بریکنگ نیوز اور نشرمکرر کے طور پر چلایا جائے اور جس ملک میں گُلو بٹ کو باعزت بری کر دیا جائے اور جس ملک کا سربراہ امریکہ جا کر امریکی نائب صدر جوبیڈن کے پائوں پکڑ لے اور کہے کہ آقا مجھے آپ ہی بچائو گے تو اس ملک میں انقلاب کی ضرورت کوئی پوچھنے کی بات رہ جاتی ہے؟حکمران جو یہ سمجھتے رہے کہ وہ جھوٹے انتخابی نعروں اور روایتی سیاسی چالاکیوں سے ایوان اقتدار میں پہنچ کر مسائل کے جن کو بوتل میں بند کر دیں گے مگر عاقبت نااندیش صاحبِ اقتدار ٹولہ شاید یہ بھول گیا تھا کہ 2014ء میں جھوٹ اور فراڈ سے شاید مائل سٹون کو چھو لینا تو ممکن ہے مگر اس کو مضبوطی سے تھامنا جھوٹ اور فریب کی بنیاد پر ممکن نہیں۔ آج دیہات اور قصبات تک انٹرنیٹ، 100کے قریب ٹی وی چینلز،موبائل،ایس ایم ایس اور سوشل میڈیا کی موجودگی میں حقائق کو چھپانا ممکن نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ آج وزیراعظم، وزیراعلیٰ گورنرز اور ان کی پوری کابینہ جہاں جہاں بھی شلجموں سے مٹی جھاڑنے کے لیے پہنچتے ہیں تو انہیں عوامی غیظ و غضب اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اسلام آباد،لاہور،کراچی کے بعد اب لندن، جدہ اور نیویارک کے گلی کوچوں میں گو نواز گو کی صدائیں بلند ہونا شروع ہو چکی ہیں۔26ستمبر کو ہونے والے مظاہرے آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن میں موجود صاحب اقتدار طبقہ کی آج کل جو چپقلش اپنے سیاسی حریفوں سے چل رہی ہے اس میں شدت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہر گزرتے ہوئے دن کے ساتھ ’’گو نوازگو‘‘ ایک محبوب نعرہ بنتا جا رہاہے۔ عوامی تحریک ا ور تحریک انصاف اگر ابتدائی چند دنوں میں ہی مارچ اور دھرنے کے مقاصد حاصل کر لیتے تو شاید یہی سمجھا جاتا کہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش اور عسکری قیادت کی پشت پناہی سے ممکن ہوا ہے مگر 45دن تک علامہ طاہر القادری کے جانثاروں اور پِسے ہوئے محروم طبقے نے نہ صرف حکمرانوں کے عزم بلکہ شدید موسمی آفات و اثرات کو شکست دی۔ میری دھرنے میں موجود چند دوستوں سے جو یورپ اور دنیا بھر سے اس مارچ میں شریک ہوئے اور ابھی تک شامل ہیں بات ہوئی تو میں ان کا پختہ عزم، ولولہ، جوش اور جنون دیکھ کر حیران رہ گیا کہ آج کے اس مادی دور میں لاکھوں روپے ماہانہ کی ملازمتوں اور کروڑوں روپے کے بزنس کو کسی اور کے رحم و کرم پر چھور کر اس جہاد میں شریک ہونے والے یہ لوگ شاید تہیہ کر چکے ہیں کہ اب کوئی سیاسی چور، ڈاکو اور لٹیرا ان کے خواب چرا کر مے فیئرلندن، پام بیچ دوبئی اور واشنگٹن لاس اینجلس میں اپنے محلات نہیں سجا سکے گا۔ ملک بھر میں موجود کروڑوں افراد کو اب یہ یقین ہو چلا ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری کی مصمم قیادت اب ان کے خوابوں کی نہ صرف رکھوالی کرے گی بلکہ انکو شرمندئہ تعبیر بھی کرے گی۔ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے جس مکینکل انداز میں اپنے کارکنان کی سیاسی و روحانی تربیت کی ہے اس سے پی اے ٹی اور منہاج القرآن کے کارکنان کسی بھی سیلاب کو روکنے اور پہاڑوں کو چیرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ ہاں اس بات کو میں بھی صدقِ دل سے تسلیم کرتا ہوں کہ عوامی تحریک میں ڈاکٹر طاہر القادری کے بعد دوسری اور تیسری لائن کے سپہ سالاروں نے سیاسی کم فہمی کی بنا پر وہ نتائج نہیں دیئے جن کی ان سے توقعات تھیں حالانکہ 17جون کے بعد پاکستانی سیاست کے اندر جو تبدیلیاں آئیں اور حالات بنے وہ سیاسی لیڈرشپ کے لیے بذات خود ایک سیاسی سبق سے کم نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے اس خلاء کو دیکھتے ہوئے گذشتہ چند مہینوں کے دوران جماعت اسلامی، ایم کیو ایم او رپیپلزپارٹی کی گم گشتہ قیادت نے سیاسی فوائد حاصل کرنے کی سعی کی ،خاص طور پر سابق امیر جماعت اسلامی نے جماعت اسلامی کو جو سیاسی دھچکے لگائے تھے وہ یقینا ناقابل تلافی تھے مگر تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی سیکنڈ لائن لیڈر شپ نے اپنی غلطیوں کی وجہ سے جماعت اسلامی کو یہ موقع دیا کہ وہ ’’اینوں مینوں۔ مینوں وی گِنوں‘‘ کے مصداق نام نہاد سیاسی جرگے اور ثالثی کے نام پر اپنا سیاسی کیمپ لگانے کا موقع فراہم کر دیا۔ تمام ترصعوبتیں،مسائل ،پکڑ دھکڑ، مارپیٹ، سینکڑوں زخمی، درجنوں شہادتیں عوامی تحریک ا ور تحریک انصاف کے جانثاروں نے دیں جبکہ جماعت اسلامی نے رسماً بھی اپنی انگلی کو سوئی سے زخمی کرنے کی کوشش بھی گوارہ نہ کی اور جماعت اسلامی اور عوامی تحریک کے درمیان جو سیاسی، فکری خلیج تھی اس کے ہوتے ہوئے بھی ’’بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ‘‘کے مصداق مولانا سراج الحق، رحمان ملک اور چند نامعلوم کھلاڑیوں کو کھل کھیلنے کے مواقع فراہم کیے۔ جنہوں نے مفاہمت کی سیاست اور مذاکرات آخری حربہ کے نام پر عوامی تحریک اورتحریک انصاف کے مفادات اور مارچ و انقلاب کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ ان اصحاب کا ایک سِرا رائے ونڈ ،دوسرا منصورہ اور تیسرا بلاول ہائوس سے جا ملتا ہے اور کوئی بھی صاحبِ عقل اس بات کا سوچ بھی نہیں سکتا کہ یہ تینوں کا ٹولہ مل کر عوامی تحریک یا تحریک انصاف کا بھلا سوچتے ہوں گے؟ بلکہ انہی ’’ جُما جُما جنج نال‘‘ کی وجہ سے مارچ اور دھرنے کے نتائج ہم سے بتدریج دور ہوتے چلے گئے۔ مجھے یہاں اقبال کا یہ شعر یاد آ رہا ہے: براھیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے ہوس سینے میں چھپ چھپ کر بنا لیتی ہے تصویریں میری ڈاکٹر محمد طاہر القادری سے یہ درخواست ہے کہ میرے اس کالم کی تحریر میں پنہاں پیغام کو سمجھ کر عید سے پہلے قربانی کا اہتمام کریں کیونکہ قربانی تو ہونا ہی ہے چاہے وہ عید سے پہلے ہو یا عید کے بعد۔ 27ستمبر2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus