×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
میری پہلی تنخواہ…واہگہ پر دہشت گردی
Dated: 04-Nov-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com آج میری ماں حیات ہوتیں تو میں بڑے فخر سے اس کے قدموں میں بیٹھ کر اسے بتاتا کہ آج مجھے میری سیاسی اور صحافتی جدوجہد کا شاندار صلہ ملا ہے گزشتہ روز جب میں قائد انقلاب ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کی کینڈا آمد کے بعد ان سے ملا تو دیکھتے ہی انہوں نے مجھے سینے سے لگا کر میری پیشانی پہ بوسہ دیتے ہوئے کہا آپ میری ٹیم کے بہترین کھلاڑی میں سے ایک ہیں اور مجھے اپنے فیصلے پر فخر ہے کہ میں نے آپ کو اپنے ساتھ شامل کیامیرے لیے ڈاکٹر صاحب کے یہ الفاظ کسی گولڈ میڈل سے کم نہیں اور میں اسے اپنی پہلی تنخواہ تصور کرتا ہوں۔ اس سے پہلے 2001ء میں جب میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو امریکن اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ، پینٹاگون، اراکین کانگریسی وسینٹیرز اور اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری سے کامیاب مذاکرات کروا چکا اور ہم پینٹا گون کی بلڈنگ سے باہر نکل رہے تھے تو شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے چہکتے ہوئے خوشگوار موڈ میں مجھے کہا کہ: ‘‘مطلوب آج میں آپ کو ٹریٹ کروں گی‘‘ اور پھر میرا بھانجا جو اس وقت گاڑی ڈارئیور کر رہا تھا اسے کہا کہ سامنے بلڈنگ کی پارکنگ میں گاڑی روک لو شہید محترمہ خود نیچے اترئیں میں اور خالد اعوام ان کے پیچھے چل پڑے محترمہ ایک آئس پارلر میں داخل ہوئیں اور چار عدد ’’منٹ آئس کریم‘‘ لے کر آئیں اور ہم سب نے ساتھ مل کر کھائی۔ قارئین! یہ میری اسوقت اٹھارہ سالہ سیاسی جدوجہد کا پہلا انعام تھا جو مجھے ایک عظیم رہنما کی طرف سے ملا میں جب روزانہ حالات حاضرہ کے پروگرامز، مباحثے اور ٹاک شوز دیکھتا ہوںاور نت نئے حصے اور افسانے سننے کو ملتے ہیں کہ فلاں صحافی سائیکل سے مرسیڈیز اور بی ایم ڈبلیو کا سفر کتنے عرصے میں طے کرنے میں کامیاب ہوا زرد صحافت نے صحافت کے معماروں کا قبلہ تبدیل کر کے رکھ دیا ہے پرتعیش مہنگی اور لمبی گاڑیاں، عالی شان کوٹھیاں اور ایکٹرز پر محیط فارم ہاوسز راتوں کو دلربا پارٹیاں ہفتے میں چار دن ٹاک شوز کر کے ویک اینڈ لندن، پیرس، زیورخ میں گزرنے والے ہی لوگ اپنا اکاونٹ اور دل اب پاکستان کے باہر ممالک میں رکھنے لگے ہیں فوج بمقابلہ سیاست دان و بیورو کریسی کے درمیان ایسا کھیل کھلایا جاتا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ گزشتہ چار مہینوں سے مملکت عزیز میں جاری اندرونی سیاسی خلفشارکو ہوا دینے میں بھی میڈیا کا ایک اپنا کردار ہے آدھے صاحبان اقتدار کے طرف دار ہوگئے اور باقی آدھے فوج اور دھرنے کے قائدین کے اطراف منڈلانے لگے اس ساری کشمکش میں دھرنے والے، انقلاب والے، مارچ اور ریلی والے، حکمران اور فوج والے کتنا جیتے کتنا ہارے اس کے قطعہ نظر اس سارے چکر میں کچھ صحافی لاکھ سے کروڑ پتی اور کروڑ پتی سے ارب پتی ضرور بن گئے اور عوام کا حال یہ ہے کہ کھیا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے، قارئین، ملک کے اصل مسائل کی طرف توجہ دیں تو حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب کی طرف سے دھرنوں کو ملک گیر سطح پر پھیلانے کے بعد تحریک انصاف کی قیادت کچھ بوکھلائی بوکھلائی سی نظر آرہی ہے۔ گزشتہ روز پی ٹی آئی کے اسد عمر ڈاکٹر طاہرالقادری کے متعلق ہرزہ خدمات بیان کرتے ہوئی نہیں تھکتے مگر عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ انگے سگے بھائی زبیر عمر نواز شریف کی حکومت میں سب سے زیادہ ’’مال‘‘ بنانے والے عہدے نجکاری کمیشن کے چیئرمین ہیں اور عوام کی یاد داشت اتنی بھی کمزور نہیں کہ زبیر عمر اور اسد عمر اسی جنرل ریٹائرڈ غلام عمر کے صاحبزادے ہیں جو سکوٹ ڈھاکہ کے بنیادی اور مرکزی گنگاروں میں نہ صرف شامل ہیں بلکہ عالمی انسانی حقوق کی عدالت میں نسل کشی کے کیس بھی موصوف ہی ہیں دراصل عمران خان کی شرافت، صداقت، ذہانت اور ایمانداری اور حب الوطنی پر میرے سمیت کسی پاکستانی کو شک نہیں مگر انکا حال ’’رضیہ غنڈوں میں پھنس گئی‘‘ جیسا ہو کر رہ گیا ہے جو میں اپنے ڈیڑھ سال پہلے سے کالموں میں لکھتا چلا آ رہا ہوں گزشتہ روز عمران خاں کو اس کا ادراک ہوا اور انہوں نے امیر جماعت اسلامی جناب سراج الحق کے متعلق کہہ دیا کہ موصوف وکٹ کے دونوں طرف کھیل کر عوام کی کاز کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔دراصل جماعت اسلامی کے سابقین کی ایک بڑی تعداد کو پی ٹی آئی میں ’’انجیکٹ‘‘ کردیا گیا ہے جو پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم پر مسلم لیگ ن کی اننگز کھیل رہے ہیں دراصل معصوم عمران خاں اگر پنجاب یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے ہاتھوں ’’دھلائی‘‘ کو یاد رکھتے تو آج انہیں یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتے۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب جو کل پاکستان کا 62 فیصد بنتا ہے کا پی ٹی آئی کا صدر بھی پرانا جمعیت اور جماعت اسلامی کا رہنما ہے۔ جبکہ شاہ محمود قریشی نے جاوید ہاشمی کو کباب میں ہڈی سمجھ کر نکال باہر کرنے کے بعد پی ٹی آئی میں اپنی پوزیشن مضبوط کرلی ہے اور اب رفتہ رفتہ پی ٹی آئی کے اندر ایک نیا پاکستان بنانے کے منصوبے پر علم در آمد اس طرح شروع ہوگا کہ 21نومبر لاڑکانہ میں جلسہ عام کے دوران سندھ سے جاگیرداروں کی ایک فوج ظفر موج شامل کرلی جائے گی جبکہ’ کے پی ک سے پہلے ہی اعظم سواتی اور پرویز خٹک کی صورت میں اور پنجاب سے جہانگیر ترین، خورشید محمود قصوری سمیت دیگر بھی اپنے پنجے گاڑے بیٹھے ہیں ان حالات میں ڈاکٹر طاہرالقادری کا نیا ایجنڈا اور حکمت عملی میں تبدیلی اس بات کی مظہر ہے کہ شیخ الاسلام کو اپنے اطراف میں روح پذیرہونے والی حقیقتوں کا ادراک تھا یہی وجہ تھی کہ پاکستان کے غریب اور لوئیر مڈل کلاس طبقہ کی اصلی نمائندگی کرنے کا بیڑہ اٹھایا اور محرم کے بعد انقلاب کو غربیوں کی دہلیز تک پہنچانے کا معمہ اور جامع پلان تیار کرلیا ہے( ڈاکٹر طاہرالقادری سے ملاقاتوں اور نئی حکمت عملی پر تفصیلی گفتگو آئندہ کالم میں ملاحظہ کیجئے گا) میں ابھی کالم مکمل ہی کرپایا تھا کہ واہگہ بارڈر پر دہشتگردی کی واردات کی خبر نے جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ خود کش بمبار نے ایک قیامت برپا کر کے ڈیڑھ سو انسانوں کو خون میں لت پت کر دیا۔ اس میں سے ساٹھ خالق حقیق سے جاملے۔ کالعد تنظیم جند اللہ اور طالبان کے گروپ جماعت الاحرارنے دھما کے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ جنداللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے ردعمل میں واہگہ بارڈ پر دھماکہ کیا۔ یوم عاشور سے قبل اس خونریزی کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ پاک فوج دہشتگردوں کا خاتمے کا عزم کئے ہوئے ہے۔ اس کی طرف سے کہا گیا ہے وہ شمالی وزیرستان سے دہشتگردی کا خاتمہ کرے پورے میں ان کا تعاقب کرے گی۔ اب فوج کو مزید انتظار نہیں کرنا چاہئے۔ ملک کے جس کونے میں بھی یہ چھپے ان کو دہشتگردی کے مزید موقع دئے بغیر ان کا تعاقب کر کے نیست نابود کردینا چاہئے۔ خدا کرے آج یوم عاشور پر امن گزر جائے۔ 4نومبر2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus