×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کمر میں چُھرا گھونپنا اور کسے کہتے ہیں؟
Dated: 22-Nov-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com آج کی دنیا ایک گلوبل ویلج کا سا روپ اختیار کر چکی ہے جھوٹ کے پہلے ہی سر پائوں نہ تھے مگر اب اس پہ اور بھی پردہ ڈالنا ممکن نہیں رہا۔ ماضی میں ریاستوں کے نقشے مدتوں بعد بولتے تھے حتیٰ کہ متعدد شاہی خاندان دو سو سال سے لے کر ہزاروں سال تک پورے پورے براعظموں پر صاحب اقتدار بن کر چمٹے رہے مگر آج کے اس ترقی یافتہ اور ہائی ٹیک دور میں دنیا کا نقشہ ہر دو چار سال بعد بدل رہا ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ عالمی سیاست میں جتنی تیزی آئی ہے اتنی ہی تیزی عالمی سازشوں میں بھی آئی ہے۔ آج کسی بھی مملکت کو یہ کہنے کا اختیار نہیں کہ وہ بین الاقوامی برادری کے مروجہ قوانین کو نظرانداز کرکے انفرادی حیثیت سے سروائیو کر سکتی ہے اور خاص طور پر مملکت خداداد پاکستان، جس خطۂ ارض پہ موجود اس کے جغرافیائی محل وقوع اور ہزاروں سال پرانی تہذیب و تمدن کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ کئی دفعہ بعض ریاستی معاملات میں مذاہب کو غیر فطری طور پر گھسیٹنے سے حالت ایسے ہو جاتی ہے کہ کوّا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا۔ پچھلے تیس سالوں میں شریف خاندان کو تین دفعہ مرکز میں اور چھ دفعہ پنجاب کا اقتدار ملا اور تینوں ہی دفعہ مینڈیٹ اس قدر بھاری دلوایا گیا کہ ہر بار اسی مینڈیٹ کے پہاڑ سے ٹکرا کر اقتدار کا سر پاش پاش ہوا۔ میرے سمیت اکثریت کی یہ رائے تھی، تیسری دفعہ اقتدار ملنے کے بعد شریف خاندان ماضی کی غلطیوں سے نہ صرف سبق حاصل کریں گے بلکہ ان کے مزاج اقتدار میں متانت، برداشت اور رویوں میں شائستگی آئے گی مگر شومئی قسمت اقرباء پروری اور مزاج میں انتقامی رویئے مزید پروان چڑھے اور ماسوائے آصف علی زرداری کے کسی سے بھی ان کے تعلقات میں بہتری نہ آئی، خاص طور پر پاکستان کی اساس اور ضمانت عسکری ادارہ سے چپقلش جوں کی توں ہے۔ اس سے پہلے میاں محمد نوازشریف فوج کے سربراہان جنرل وحید کاکٹر، جہانگیر کرامت اور جنرل مشرف سے دوبدو جنگ لڑ چکے ہیں مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسلم لیگ ن یا شریف فیملی اینٹی اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر سوار ہو کر مسندِ اقتدار پر براجمان ہوئے تو پھر اس ادارے سے اختلاف کیسا؟ قارئین! اختلاف صرف اقتدار اور اختیارات کی تقسیم پر ہے اور اس مسئلے پر مسلم لیگ ن کی قیادت نے عدلیہ سے ٹکرائو سے بھی گریز نہیں کیا، یہی وجہ تھی کہ چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے زمانے میں سپریم کورٹ پر حملہ کرکے عدلیہ کو یہ پیغام دیا گیا کہ ہماری مرضی کے فیصلے کرنے ہوں گے وہ دن اور آج کا دن کہ ہر آنے والا عدلیہ کا سربراہ کسی نہ کسی طرح سے ان کے زیر اثر رہا۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا آپ لوگوں کے ذہن سے اس ٹیلی فون کی ٹیپ کی ہوئی وہ گفتگو یاد ہو گی جس میں جسٹس راشد عزیز اور جسٹس قیوم ملک سے چھوٹے میاں صاحب کی گفتگو ہوئی۔ اسی طرح جسٹس شریف اور چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کی تحریکوں میں جس طرح نوٹوں کی بوریوں اور بریف کیسوں نے رول پلے کیا وہ بھی آج کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور پھر اسی سابق چیف جسٹس نے جس طرح 2013ء کے الیکشن کو اپنی مرضی اور طریقے سے ہینڈل کیا اور جس میں جسٹس رمدے نے ایک کلیدی کردار ادا کیا اور پور ے ملک میں مینڈیٹ کو اوپر نیچے کرکے آج کے صاحب اقتدار طبقے کی جھولی میں ڈال دیا گیا۔ 14ماہ کے صبر آزما انتظار کے بعد جب عدالت ،الیکشن کمیشن اور حکومت کے ماتھے پر جوں تک نہ رینگی تو عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری نے مزاحمتی تحریک چلانے کا اعلان کیا جس کو ابتدا ہی میں خون سے نہلا دیا گیا اور جب تحریک ریلی سے جلسے اور جلسے سے دھرنے میں تبدیل ہوئی اور کشت و خون کی ایک اور شب گزر گئی اور کسی بھی لمحے میاں صاحب اور اتحادیوں کا اقتدار بس جانے ہی والا تھا تو میاں صاحب بھاگے بھاگے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کے پاس پہنچے اور انہیں مکمل اختیار دیا کہ وہ بیچ بچائو کرا دیں جس پر جنرل راحیل شریف نے عمران خان اور طاہر القادری کو مذاکرات کے لیے دعوت دی مگر اس دوران آصف علی زرداری کی ایما پر خورشید شاہ نے عین پارلیمنٹ کے فلور پر بھانڈا پھوڑ دیا چونکہ آصف زرداری پھر اگلی باری پکی کرنا چاہتے تھے اس سے پہلے مسلم لیگ ن کے موجودہ وزیر دفاع خواجہ آصف اسی پارلیمنٹ کے فلور پر عسکری قیادت کو بے آبرو کرنے کی جسارت کر چکے تھے۔ فوج اس دوران عجیب کشمکش میں پھنسی ہوئی نظر آتی ہے۔ میاں صاحب نے جب اپنے ہی دیئے ہوئے مینڈیٹ سے انکار کیا تو فوجی قیادت کو انتہائی ندامت کا سامنا کرنا پڑا۔ عالمی سازشوں میں گھِری ہوئی عسکری قیادت نے اسی وقت سول معاملات سے ہاتھ پیچھے کھینچ لیے ، اس دوران وزیرداخلہ چوہدری نثار نے بھی فوج پر اپنے حصے کی بھڑاس نکالی۔ دراصل پاک فوج اس وقت ایک طرف افغانستان کے ساتھ غیر محفوظ طویل سرحد پر مصروف ہے تو دوسری طرف بھارت کے ساتھ ہزاروں میل طویل جنگی لائن آف کنٹرول پر مشغول اور تیسری طرف نئے عالمی تناظر میں ایران کی سرحد بھی اسی طرح غیر محفوظ تصور کی جاتی ہے، جہاں بلوچستان میں عالمی قوتیں برسرپیکار ہیں اور چوتھی طرف پچھلے 13سال سے ملک کے اندر دنیا بھر کے دہشت گردوں اور شرپسند عسکری گرپوں کے خلاف پاک فوج نبرد آزما ہے اور آج بھی ’’ضربِ عضب‘‘ کی صورت میں پاک فوج ایک بڑے چیلنج کا سامنا کر رہی ہے جبکہ تیس لاکھ افغان مہاجرین اور فاٹا سے دس لاکھ آئی ڈی پیز کا آسیب بھی پاک فوج کے اوپر سوار ہے مگر پاک فوج کی قیادت کی کاوشوں کی وجہ سے افغانستان کے نو منتخب صدر اسلام آباد تشریف لائے۔ افغان صدر اشرف غنی کی جی ایچ کیو سے تفصیلی ملاقات دراصل ایک اسٹرٹیجک میٹنگ تھی، جس سے شاید وزیراعظم کو ’’سُبکی‘‘ محسوس ہوئی اور اسی طرح اقوامِ متحدہ اور امریکہ کے ناکام دورے کے بعد میاں صاحب کو جنرل راحیل شریف کے دورئہ امریکہ کے دوران ملنے والی پذیرائی بھی برداشت نہ ہوئی اور عین اس وقت جب جنرل راحیل شریف امریکی قوم، امریکی کانگریس و سینیٹ اور امریکی قیادت کو خطہ میں ہونے والی صورتِ حال پر اعتماد میں لے رہے تھے کہ اچانک وزیراعظم کے خصوصی مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے حکومتی ایما پر یہ بیان داغ دیا کہ ہم ان دہشت گردوں کے خلاف کاروائی نہیں کریں گے جن سے پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں ۔ جس پر پاک عسکری قیادت کی زبردست سُبکی ہوئی اور ان کو امریکی کانگریس کی خارجہ کمیٹی سے اسی دن ہونے والی میٹنگ بھی منسوخ کرنا پڑی جبکہ ان سارے معاملات کا امریکی حکومت نے شدید ردعمل کا مظاہرہ کیا۔ حسب عادت وزیراعظم اور ان کی کابینہ نے بعدازاں سرتاج عزیز کے بیان کو ٹائپنگ کی غلطی قرار دیا مگر امریکی حکومت اور پینٹاگون اس صورت حال کو بھانپ چکے تھے انہوں نے غیر متوقع طور پر جنرل راحیل شریف کو عزت اور توقیر بخشی اور انہیں میڈل (Legion Of Merit)اور دیگر اعزازات سے نوازا جو کہ کسی بھی آرمی چیف کے لیے پہلا موقع ہے مگر حکومت کی پالیسی سے ایک چیز تو واضح ہو چکی ہے کہ حکومت اور عسکری قیادت ایک ہی کشتی پر سوار نہیں ہیں جبکہ سرتاج عزیز کے بیان نے جلتی پر تیل کا کام کیاہے اور یہ حرکت فوج کی کمر میں چُھرا گھونپنے کے مترادف ہے۔ دیکھتے ہیں موجودہ حکومت کے اپنے پائوں پر کلہاڑی مارنے کے اس عمل کے بعد پاک فوج کا ردعمل کیا ہو گا جبکہ حکومت کو اندرونی محاذ پر عمران خان کا 30نومبر اور ڈاکٹر طاہر القادری کی تحریک کا بھی سامنا ہے۔ قارئین! داعش ، القاعدہ اور آئی ایس آئی ایس کے متعلق پاک فوج کی حکومت عملی کا اظہار کرکے جنرل راحیل شریف نے 20کروڑ پاکستانیوں کی دلی نمائندگی کی ہے۔داعش کو پاکستان کے لئے بڑا خطرہ قرار دیا جارہا تھا،اس پر جنرل راحیل نے جرات مندانہ عزم کا اظہار کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان پر داعش کا سایہ بھی نہیں پڑنے دیں گے۔ 22نومبر2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus