×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
چور کی داڑھی میں تنکا!
Dated: 30-Dec-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com حسب توقع سانحہ پشاور کے چند روزبعد ہی ملک کی سیاسی جماعتوں مذہبی دھڑوں اور پریشر گروپس کے تھیلوں سے بلیاں باہر نکلنا شروع ہو گئی ہیں۔ سانحہ پشاور میں سینکڑوں معصوم بچوں کی المناک شہادتوں کے بعد ملکی اور عالمی دبائو کانتیجہ تھا کہ ہماری سیاسی جماعتیں وقتی دکھاوے کے لیے ایک موقف اپناتے ہوئے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہو گئیں۔ اگر 16دسمبر کو صحیح صورت احوال عوام کو بتا دی جاتی تو نہ رہتا بانس نہ بجتی بانسری۔ پھر سیاسی جماعتوں نے سانحہ پر بلائی جانے والی اے پی سی کے دوران ہی تحفظات کا اظہار کر دیا تھا مگر شدید عوامی ردعمل کے خوف نے انہیں باز رکھا کہ وہ اس اے پی سی کے فیصلوں سے انحراف کر سکیں مگرابھی چند ہی روز گزرے ابھی سکول کے در دیوار سے شہدا کا خون بھی صاف نہیں ہوا کہ ایم کیو ایم، پی پی پی اور جماعت اسلامی کی قیادتوں نے ڈھکے چھپے لفظوں میں خصوصی ٹرائل کورٹس کے قیام پر عدم اعتماد اور اپنے تحفظات کا اظہار شروع کر دیا۔ لاڑکانہ میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی ساتویں برسی کے موقع پر اپنے ہی بیٹے کے ہاتھوں زخم خوردہ پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے پاک فوج پر الزام لگاتے ہوئے سیاست میں دراندازی کا الزام لگایا اور سابق صدر اور چیف آف آرمی سٹاف پرویز مشرف کو آرمی کا’’پالتو بِلا‘‘ قرار دیا اور اس تحفظ کا بھی اظہار کیا کہ کہیں خصوصی عدالتوں کے آڑ میں پاک فوج ان کو اور میاں محمد نوازشریف کو سلاخوں کے پیچھے بند نہ کر دیں۔ جبکہ ایم کیو ایم کے فاروق ستار نے بھی ایک پریس کانفرنس میں کھلے الفاظ میں یہ اظہار کیا کہ انہیں ڈر ہے کہ یہ خصوصی فوجی عدالتیں کہیں ان کے کارکنوں کو سزائیں دینے کے لیے استعمال نہ کی جائیں۔اسی طرح حکمران جماعت مسلم لیگ ن جس نے سانحہ پشاور کے واقعہ سے سکون کا سانس لیا ہے کہ ان کی جاتی جاتی حکومت یکدم ٹھہر گئی ہے مگر آج بھی ان کی نیتیں صاف نہیں ورنہ آج عمران خان اور تحریک انصاف کو پھر احتجاج کے لیے کال کی دھمکی نہ دینا پڑتی۔ قارئین پاکستان کی مذہبی و سیاسی پارٹیاں چاہتی ہیں کہ اسی طرح بندر بانٹ چلتی رہے اور چور مچائے شور کی آواز میں گلشن کا کاروبار چلے مگر ان کو چھیڑنے والا، پوچھنے والا کوئی نہ ہو یعنی فوجی عدالتیں ان کو نہ پکڑیں باقی سب کو پکڑیں ۔ اس طرح ملک کی لوئر عدلیہ سے لے کر سپریم عدلیہ اور ججز حضرات اور ملک بھر کے ایک لاکھ وکلاء حضرات بھی نہیں چاہتے کہ خصوصی عدالتوں کا قیام ہو۔ دراصل کوئی بھی فریق اپنے اختیارات کی تقسیم نہیں چاہتا مگر یہ سب مل کر عوام کے حقوق عوام کے اختیارات عوام کی امنگیں سلب کرنا چاہتے ہیں اور ان کے تحفظات کو فقط ’’چور کی داڑھی میں تنکا‘‘کہا جا سکتا ہے ابھی تو شروعات ہیں آگے پھر وہی تماشہ شروع ہونے والا ہے۔ قارئین! ڈاکٹر طاہر القادری نے ان خصوصی حالات میں شدید علالت کے باوجود پاک فوج کو چند نکات پیش کیے تھے جن سے حقیقی اور غیر دائمی نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔مجھ سے بڑا جمہوریت کا کوئی چمپئن ہیں۔ میں نے اب تک کی اپنی ساری عمر جمہوریت کی نذر کر دی ہے۔میرا خیال ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری کے نکات کو صرف ایک بار تہہ دل سے نظر تو ڈال لینی چاہیے اور اگر نیت سے عمل کیا جائے تو اچھے نتائج برآمد کیے جا سکتے ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے 14نکات پر مشتمل رہنما اصول متعین کر دیئے ہیں جس سے دہشتگردی کا جڑوں سے خاتمہ ہو جائے گا۔ وہ فرماتے ہیں کہ:’’ کالعدم تنظیموں پر مکمل پابندی لگائی جائے اور انکی املاک ضبط کی جائیں، آپریشن ضرب عضب کا دائرہ پورے ملک میں پھیلایا جائے دہشت گرد گروپس اور انکے حمایتیوں کے مکمل خاتمہ کیلئے وار آن ٹیرر کا اعلان کیا جائے، پارلیمنٹ دہشت گردی کی جنگ کو پاکستان کی جنگ قرار دینے کی متفقہ قرارداد پاس کرے، دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے بلاتاخیر ابہام سے پاک قانون سازی کی جائے، دہشت گردوں سے تعاون کرنے والوں، تعلق رکھنے والوں اور انکی حمایت میں بیانات دینے والوں کو برابر کا مجرم سمجھتے ہوئے ان کیلئے عمر قید کی سزا مقرر کی جائے، دہشت گردوں کو جلد سے جلد کیفرکردار تک پہنچانے کیلئے فوجی عدالتیں قائم کی جائیں، مدارس کے نظام اور نصاب میں اصلاحات کو یقینی بنایا جائے، نصاب یکساں ہونا چاہئے، نصاب سازی کیلئے جید علماء پر مشتمل بورڈ تشکیل دیا جائے، منظور شدہ نصاب کے علاوہ کچھ بھی پڑھنے پڑھانے پر قانوناً پابندی عائد کی جائے۔ نفرت، فرقہ واریت، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے فروغ کا سبب بننے والے لٹریچر پر پابندی اور اسے بلاتاخیر نذرآتش کیا جائے، دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے کام کرنے والی خصوصی عدالتیں، ادارے، نیم عسکری فورسز اور ایجنسیاں براہ راست فوج کے ماتحت ہونی چاہئیں، دہشت گردی کے خاتمہ اور ’’وار آن ٹیرر‘‘ ڈیکلیئر کر کے فوج کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے۔ انسداد دہشت گردی کی 55 عدالتوں میں 5 سال سے 2025 وہ کیسز زیر التوا ہیں جن کے فیصلے 7 دن کے اندر ہونا قانونی تقاضا تھا۔‘‘ قارئین دہشتگردی کے فروغ میں جنرل کیانی کی بزدلی کا عمل دخل ہے۔ انہوںنے دہشتگردوں کا زیادہ ہی اثر قبول کیا۔ انہوں نے تو گویا فوج کے ہاتھ پائوں باندھ کر دہشتگردوں کے سامنے پھینک دیا۔ ان کے حوصلے اتنے بڑھے کہ فوجیوں کو یرغمال بنا لیتے اور ان کو ذبح کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے۔ ایسی سفاکیت پر آرمی چیز جنرل کیانی محض دفاعی اقدامات ہی پر اکتفا کرتے رہے۔ ایسے میں پاکستان طالبان کی یرغمالی ریاست بنا دکھائی دیتا تھا۔میڈیا بھی ان دہشتگردوں سے خائف نظر آتا تھا۔ جنرل راحیل شریف نے جرأت کا مظاہرہ کیا اور آرمی چیف کا عہدہ سنبھالنے کے پہلے روز ہی سے وہ دہشتگردوں کو اینٹ کا جواب پتھر سے دے رہے ہیں۔ وہ ایک فوجی اہلکار کو شہید کرتے تو فوج دس دہشتگردوں کو جہنم واصل کر دیتی۔ایسے میں مسلم لیگ ن کے حکمرانوں کے دل میں دہشتگردوں کے لیے زیادہ ہی نرم گوشہ محسوس ہوتا تھا۔ فوج دہشگردوں کا خاتمہ پوری قوت سے کرنا چاہتی تھی جب کہ حکومت مذاکرات کے ذریعے ان کو رام کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ فوج نے حکومت کی مذاکرات کی ضد کے سامنے خاموشی اختیار کی تو طالبان نے اسے اپنی کامیابی قرار دیا۔حکومت میں آتے ہی نوازلیگ نے دو دہشتگردوں کو پھانسی پر لٹکانے کا شیڈول جاری کیا تو ایک ہی دھمکی پر یہ حکومت لیٹ گئی اور سزائے موت پر گذشتہ دور کے معطل کیے ہوئے عمل کو جاری رکھنے کا فیصلہ صادر کر دیا۔ وزیرداخلہ چودھری نثار طالبان کے ساتھ مذاکرات کے بڑے حامی تھے اور شاید اب بھی ہیں۔ جون کے وسط میں فوج نے دہشتگردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کا کا فیصلہ کیا جس پر حکومت کو بادلِ نخواستہ ہاں کرنا پڑی تو چودھری نثار علی خان کئی ماہ نوازشریف سے ناراض رہے۔رانا ثناء اللہ کے دہشتگردوں سے رابطوں سے خود مسلم لیگ ن والے بھی انکار نہیں کرتے۔ پشاور میں ملٹری سکول پر حملہ کرکے دہشتگردوں نے قیامت ڈھا دی۔ میری اطلاع کے مطابق دہشتگردوں نے ساڑھے پانچ سو بچوں کو شہید کیا۔ حکومت خود کو بچانے اور عالمی سطح پر شرمندگی سے بچنے کے لیے تعداد کم بتا رہی ہے۔ اتنی تعداد میں بچے دہشتگردوں کی بھینٹ چڑھ جائیں تو ان کی حمایت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اوپر دیئے گئے ان اصولوں پر عمل ہو جائے تو یقینا دہشتگردوں اور دہشتگردی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس کے لیے ایک بہادر، جرأت مند اور پُرعزم حکومت کی ضرورت ہے جس سے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومتیں قطعی طور پر تہی دست ہیں۔ اس معاملے میں اول و آخر فوج ہی کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ 30دسمبر2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus