×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
نظام نہیں__ سوچ اور ذہن بدلنے کی ضرورت ہے!
Dated: 27-Jan-2015
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com کنگ ایڈورڈ ایٹ نے ایک امریکی طلاق یافتہ خاتون ویلز سمپسن سے 1936ء میں شادی کی جبکہ شاہی اور مذہبی قوانین اسے ایک طلاق یافتہ خاتون سے شادی کی اجازت نہیں دیتے تھے جس پر کنگ ایڈورڈ نے سلطنت برطانیہ کے تخت کو ٹھوکر مار کر باقی کی زندگی گمنامی میں گزاری۔ امریکہ کے مشہور آنجہانی صدر جان ایف کینیڈی کی بیوہ جیکولین کینڈی جسے اپنی پارٹی کی طرف سے شوہر کے قتل ہونے کے بعد صدارتی امیدوار نامزد کرنے کی پیشکش ہوئی مگر جیکولین نے امریکہ کی صدر بننے کی بجائے بحری جہازوں کا بزنس کرنے والے ایک مشہوریونانی تاجر اوناسس سے شادی کرنے کو ترجیح دی اور اقتدار کو ٹھکرا دیا۔90ء کی دہائی کینیڈا کی ایک خاتون کیم کیمبل نے وزارتِ عظمیٰ چھوڑ کرنیویارک میں کونسلر جنرل کی کہیں معمولی پوسٹ پر کام کرنے کو ترجیح اس لیے دی کے اس کے بچے نیویارک رہنا چاہتے تھے۔ اور ابھی دو ماہ پہلے کینیڈا ہی کے ایک رکن نیشنل اسمبلی جم کیری جیسن نے پارلیمنٹ سے محض اس لیے استعفیٰ دے دیا کہ اس کی بوڑھی ماں کیپٹل اٹاوہ سے دور ایک قصبے میں رہتی ہے اور وہ اپنا گائوں چھوڑنا نہیں چاہتی۔ مسٹر جم کیری جیسن نے اس گائوں کا کونسلر بننے کو ترجیح دی ہے۔ قارئین! ایسی سینکڑوں مثالیں ماضی قریب اور ماضی بعید میں تاریخ عالم میں پڑھنے کو، دیکھنے کو اور سننے کو ملتی ہیں۔ مہذب معاشروں میں اقتدار کو ایک بوجھ اور ذمہ داری تصور کیا جاتا ہے۔ خود میں نے یورپ میں اپنے تین دہائیوں پر مشتمل قیام کے دوران دیکھا اور مشاہدہ کیا ہے کہ وہاں کے لوگ ایک عام انسان کی طرح جی کر زندگی کے لمحات سے لطف اندوز ہونے کو اقتدار کی زنجیر پر ترجیح دیتے ہیں۔ جبکہ برصغیر پاک و ہند میں سوچ اور ذہن اس کے برعکس ہے۔ ہماری تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہمارے بادشاہوں نے اقتدار کے لیے بھائی نے بھائی کو، باپ نے بیٹے کو، شوہر نے بیوی کو قتل کروایا۔ حتیٰ کہ باپ کی آنکھیں تک کلوا دی گئیں۔ ہمارے سماج میں اقتدار کے لیے مصائب برداشت کرنے کو روایات، قومی فریضہ اور جمہوریت کا تسلسل قرار دیا جاتا ہے اور بسا اوقات صرف حصول اقتدار کے لیے ایسی گھنائونی سازشیں اور غیر انسانی ہتھکنڈے اختیار کیے جاتے ہیں کہ جن کے ذکر سے انسانیت کانپ کر رہ جاتی ہے۔ ہمارے موجودہ حکمران شریف برادران کو اقتدار کے سنگھاسن پر ایک دفعہ بیٹھنے کا موقع کیا ملا کہ اب یہ اس کرسی ء اقتدار کو اپنی میراث سمجھتے ہیں۔ متعدد بار اس خاندان کو معزول کرکے تخت و تاراج کیا گیا مگر اقتدار کی لذت ان کو ہر بار ہر قیمت پر اقتدار سے چمٹے رہنے پر مجبور کرتی ہے ۔ اسی طرح بھٹو اور زرداری خاندان کو بھی اقتدار کا ایسا چسکا پڑاہے کہ کرپشن اور دیگر کئی سوشل اور کریمنل ہسٹری کے باوجود یہ خاندان اقتدار کو ایک وراثت کے طور پر دیکھتا ہے۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد اس عجیب سی وصیت کا منظر عام پر آنا، اسی سلسلے کی ایک کڑی تصورکیا جاتا ہے۔ میری ذاتی رائے میں یہ ایک مائینڈ سیٹ کا فرق ہے۔ جس کو سمجھنے سے کم از کم میں قاصر ہوں۔ شاید ہم مسلمانوں کی روایات اور مزاج میں ملوکیت، بادشاہت اور سلطانیت کچھ اس طرح سے رچ بس گئی ہے کہ ہر شخص خود کو امیر المومنین کے روپ میں دیکھنا اور دکھانا پسند کرتا ہے۔ آج کا دوسرا موضوع امریکی صدر باراک اوباما کا دورئہ بھارت ہے۔گذشتہ روز امریکی صدر نے انڈیا ڈے کی خصوصی تقریبات میں شرکت کی۔ کسی امریکی صدر کے دورئہ بھارت کو اس طرح بڑھا چڑھا کر پیش کرنا شاید بھارتی اسٹیبلشمنٹ اور نان انڈین ریذیڈنس (NIR) کی پالیسی کا حصہ ہے۔ بین الاقوامی میڈیامیں موجود بھارتی لابی نے امریکی صدر کی آمد سے پہلے کچھ ایسا تماشا لگایا کہ جیسے امریکہ ایٹمی معاہدوں سمیت کشمیر بھی بھارت کی جھولی میں ڈال کر جائے گا۔ مگر قارئین باخبر امریکی اسٹیبلشمنٹ اور انتظامیہ یہ بخوبی جانتی ہے کہ 1947ء کے بعد 60سال تک بھارت روس کی گود میں بیٹھا رہا جبکہ پچھلے ایک عشرے سے سوویت یونین کی کمزور اقتصادی حالت اور ون سپر پاور کے وجود میں آنے کے بعد بھارت کا امریکہ کی طرف پلٹی کھانا غیر فطری اور نظریہ ضرورت کے مطابق اقدام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر نے طے شدہ دورے کو نہ صرف مختصر کر دیا بلکہ چند وعدوں اورمسکراہٹوں کے سوا عملی طور پر دینے سے گریز کیا۔ جہاں تک چند معاشی معاہدوں کا تعلق ہے چودہ سو کروڑ کی آبادی کے ساتھ بھارت دنیا کا دوسرا بڑا ملک اور کرئہ ارض پر موجود ہر پانچواں شخص انڈین ہے۔ اس لیے اتنی بڑی معاشی منڈی کو دوست اور دشمن دونوں ہی نظرانداز نہیں کر سکتے مگر پاکستان کی کمزور خارجہ پالیسیوں کی وجہ اور ناقص حکمت عملیوں کی وجہ سے پاکستان دنیا میں تنہا ہوتا جا رہا ہے۔ پچھلے پونے دو سال سے دنیا کے چھٹے بڑے ملک کی وزارتِ خارجہ کی کرسی خالی پڑی یہ اور حکمران قتدار بچانے کے لیے دیگر مشاغل میں مصروف ہیں مگر چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے اس نازک موقع پر افغانستان، سعودی عرب،برطانیہ،امریکہ کے کامیاب اور اسٹریٹجک دورے کرکے اور خاص طور پر امریکی صدر کے دورئہ بھارت کے موقع پر اپنے فطری ہمسائیہ اور دوست ملک چین کا اسٹریٹجک دورہ کرکے بھارت اسرائیل خارجہ پالیسی گٹھ جوڑ کے غبارے سے ہوا نکال کر رکھ دی ہے۔ایک طرف دلّی میں پریس کانفرنس ہو رہی تھی اور دوسری طرف بیجنگ میں دو آرمی چیف ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر تجدیدِ عہد کا اعلان کر رہے تھے۔ قارئین ! موجودہ بحرانوں کی سیریز اور ہوسِ اقتدار کا تقابلی جائزہ لینے کے لیے میں نے ڈاکٹر طاہر القادری صاحب سے مکالمہ کیا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ نظام بدلنے کا نعرہ اب کارآمد نہیں کہ نظام تو پاکستان میں بھی ویسا ہی چل رہا ہے جیسا کہ دنیا کے پیشترترقی یافتہ ممالک میں تقریباً ایسا ہی نظام کامیابی سے چل رہا ہے توڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے کہا کہ کیسا بھی خوبصورت فول پروف نظام پاکستان میں آ جائے لیکن چلے گا اس لیے نہیں کہ یہاں کے عوام کا ذہن اور سوچ بھی بدلنے کی ضرورت ہے۔ یہاں پر عوام کو یہ بھی بتانے کی ضرورت ہے کہ ان کی ترجیحات کیا ہونی چاہئیں تو پہلے سوچ پھر ذہن پھر ترجیحات بدلنے اور طے کرنے سے نظام پر عمل درآمد آسان ہو جائے گا۔ 27جنوری2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus