×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کرپشن کنگ اور مافیا کا بندھن!
Dated: 10-Mar-2015
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com چھانگا مانگا و گلگت وسوات کے ریسٹ ہائوسز سے شروع ہونے والی اس کرپشن کہانی کا انجام تو نجانے کیا ہوگا مگر یہاں سے حصول زر کی دوڑ شروع ہوئی۔ اس نے اپنے پیچھے لاتعداد کہانیوں کو جنم دیا ہے۔ دراصل اقتدار کے چور دروازے سے حصول زر کا جنون ہی تھا جس کے آگے اخلاقیات کی دیواریں خس وخاشاک کی طرح بہہ گئیں۔ کچھ ذاتی دوستوں کے توسط سے اس وقت کے گورنر پنجاب جنرل غلام جیلانی تک پہنچ جانا شریف برادران کے لیے مستقل میں اقتدار کے دروازے کھول دینے کے مترادف تھا۔ پھر اس کے بعد تاریخ میں پہلی بار لفظ ہارس ٹریڈنگ پاکستان میں متعارف ہوا۔ عوام کے منتخب نمائندے اپنے آپ کو اقتدار کے تاجروں کے ہاتھوں بیچنے کے لیے پیش کرنے لگے۔ میری ذوالفقار علی بھٹو دور کے سابق وزراء اور ممبران اسمبلی سے رسمی گفتگو ہوئی تو پتہ چلا اس دور میں لاہور، کراچی، ملتان، پشاور اور فیصل آباد سے بائی روڈ اسمبلی اجلاسوں میں شرکت کے لیے آنے والے ممبران کو گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس ’’جی ٹی ایس‘‘ کے ووچر ملا کرتے تھے یار لوگ ان کو بعض اوقات بیچ کر یا دوستوں میں بانٹ کر کرپشن کا شکار ہوتے تھے۔ اس دور کی کرپشن کو آج کے دور کی عشر عشیر بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ شہید بے نظیر بھٹو سے شادی کی خواہش تو آصف علی زرداری کے دل میں تھی یا نہ تھی مگر ان کے والد محترم مرحوم حاکم علی زرداری جو ان دنوں پیپلزپارٹی میں شامل تھے اور بعدازاں کافی بے عزت کرکے پارٹی سے نکالے گئے تھے کی یہ شدید خواہش تھی کہ بھٹو کی بیٹی کو بہو بنا کر بھٹوز سے انتقام لیاجا سکے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بھٹو ازم اور بے نظیر ویژن کو د دفعہ زرداری کرپشن کی وجہ سے اقتدار سے ہٹایا گیا۔خود راقم زرداری کیسوں کی وجہ سے زرداری صاحب کے ساتھ جیل میں تھا۔ وہاں پر اور بعدازاں 2004میں فائنل ضمانت کے بعد زرداری صاحب کو اکثر نجی محفلوں میں یہ کہتے سنا گیا کہ اگر ہمیں شریف برادران کا مقابلہ کرنا ہے تو ہمیں ان سے زیادہ دولت اکٹھی کرنا ہو گی۔ یہی وجہ تھی کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے پاکستان واپسی کا پروگرام بنایا تو زرداری صاحب سے کہہ دیا کہ وہ اب پاکستان کی سیاست میں واپسی کا سوچنا بھی چھوڑ دیں بصورت دیگر محترمہ نے زرداری صاحب سے ازدواجی تعلقات ختم کرنے کی دھمکی دے دی تھی۔ خود راقم اور اکثر ممبران ایف سی اور سی ای سی اس بات کے گواہ ہیں کہ لندن میں ہونے والے پارٹی اجلاسوں میں سے شہید محترمہ آصف علی زرداری کو اٹھ کر چلے جانے کا کہہ دیتی تھیں۔ شہید بے نظیر کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری نے نام نہاد جمہوریت بہترین انتقام کا نعرہ بلند کیا اور مفاہمت کی سیاست کا رواج ڈالا۔ دراصل ساڑھے گیارہ سال کی جیل کی تربیت نے آصف علی زرداری کو خاصا ’’کریمنل مائنڈ‘‘ بنا دیا تھا او روہ دولت حاصل کرنے کا ہر جائز ناجائز حربہ استعمال کرنے کو تیار تھے۔ مشرف نے اپنے پیچھے ایک مستحکم معاشی طور پر پاکستان چھوڑا تھا، جس وقت مشرف نے اقتدار چھوڑا یا اسے چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا پاکستان کا قومی خزانہ بھرا ہوا تھا اور ڈالر پچھلے سات سال سے ایک ہی جگہ پر قائم تھا، حتیٰ کہ ملک میں رئیل سٹیٹ انقلاب آ چکا تھا۔ جب زرداری صاحب نے مسند صدارت پر قبضہ کیا تھا تو ملکی خزانہ بھرا تھا پس پھر کیا تھا آصف صاحب اور ان کی ٹیم نے ہاتھوں اور پائوں سے ملکی خزانے کو لوٹا، نام نہاد ترقیاتی سکیمیں بنا کر کاغذات پر جو تیار کی گئیں، نقشے بھی بنوائے گئے، رینٹل پاور کی سکیم ہو یا حج اوقاف کی ،سٹیل مل ہو یا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ملکی خزانے کو مال غنیمت سمجھ کر لوٹاگیا اور آج حالت یہ ہے کہ آصف علی زرداری دور کے آدھے پرا جیکٹس کے چیئرمین اور وزراء ملک سے غائب ہیں یعنی آپ اندازہ لگا لیں صرف ’’اوگرا‘‘ کے ایک سابق چیئرمین نے ایک سوبلین ارب کی خوردبرد کی ،جس میں سے نوے فیصد اس نے صاحب صدر کی ہمشیرہ کو ادا کیے۔ سندھ حکومت میں تمام ترقیاتی فنڈز کھا لیے گئے، تمام نوکریاں جو اس دوران دی گئی ان کے لیے ایک ہی معیار تھا وہ تھا ’’پیسہ‘‘ ۔یہی وجہ ہے کہ آج ’’تھر‘‘ میں روزانہ درجنوں بچے کم خوراکی کی وجہ سے مر رہے ہیں اور 85سالہ ایک بوڑھے کو سندھ کا ’’محمد شاہ رنگیلا‘‘ بنا کر بیٹھا دیا گیا ہے اور بلاول بھٹوزرداری کا اتالیق جس کو مقرر کیا گیا ہے اس شخص کا باپ ایک معمولی ایف آئی اے اہلکار تھا جس نے رحمان ملک کی سرپرستی میں کرپشن کی تمام حدود کراس کیں۔ وہ شخص اس وقت ایک بڑے میڈیاہائوس کا مالک ہے اور کھربوں روپے کی جائیدادکا مالک ہے، جسے ملک کی اعلیٰ عدالت سے قید با مشقت اور بھاری جرمانہ بھی ہوا تھا، جسے بعدازاں آصف علی زرداری صاحب نے ایک صدارتی حکم سے منسوخ کر دیا۔ وہی ہشام ریاض شیخ بلاول کا سٹاف افسر بھی مقرر ہوا ہے کی گذشتہ روز زرداری صاحب کے ایک اور دست راست عثمان فاروقی جو کہ چیئرمین سٹیل مل تھے اور کھربوں روپے خوردبرد کرنے کے جرم میں انہیں سزا ہوئی تھی کی بیٹی شرمیلافاروقی سے شادی کروا دی گئی۔گویا دو کرپٹ خاندانوں کو ازدواجی رشتے میں باندھ کر کرپشن کو ’’حلال‘‘ کر دیا گیا۔ اور گزشتہ دنوں سابق صدر کے سابق دوست و ساتھی جناب ذوالفقار مرزا نے الزام لگایاکہ ان سے زرداری صاحب نے ایک شوگر مل واپس لے لی ہے یعنی مال غنیمت کا حصہ واپس کرنے کو کہا گیا ہے ۔ ذوالفقار مرزا کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات میری گذشتہ تحریروں کو سچ ثابت کرتے ہیں کہ آصف علی زرداری یاروں کا یار نہیں بلکہ وہ ’’عالمی احسان فراموش‘‘ ہے۔پیپلزپارٹی کے اندر جو ٹوٹ پھوٹ شروع ہو چکی ہے اسے کچھ دن اور چھپانا تقریباً ناممکن ہے۔ قارئین!آصف علی ز رداری نے مفاہمت کی سیاست کے نام پر کرپشن کا جو بازار گرم کیا تھا اس میں عدلیہ، بیوروکریسی، سیاست دان، فوج سب کو شامل کیا گیا حتیٰ کہ سابق ملٹری چیف اور ان کے برادران کے’’کیانی ٹائل‘‘کے چرچے ہر فوجی جوان کی زبان پر ہیں۔ یہ وہ واحد ملٹری چیف تھے جن کی توقیر فوجی جوان نہیں کرتے۔ قارئین جب تک ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان اپنی سمتوں کا تعین نہیں کر لیتے تب تک تبدیلی اور انقلاب کے خواب پورے نہیں ہوں گے جس ملک کے عوام چند دن دھرنا دے کر اس کو احسان عظیم سے تعبیر کریں جس قوم کو ایک فوری زرلٹ کی ضرورت ہو اس قوم کو ’’ایجوکیٹ‘‘ کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا پاکستان کے عوام گذشتہ ساڑھے سات سال سے اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں سے آگاہ نہیں؟ کیا عوام نہیں جانتے محض چند لاکھ کے مجمع کے دھرنے سے ملک میں انقلاب بپا نہیں کیاجا سکتا۔ انقلاب کے لیے اور اس خون چوسنے والی جونکوں سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لیے ہمیں مجموعی طور پر ایک لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا وگرنہ آج بھی خون چوسنے والے یہ ڈریکولا ز مل کر عوام کی رگوں سے خون نچوڑنے کا منصوبہ بنا چکے ہیں۔ کرپشن کے ان بادشاہوں کا تخت و تاراج کرنا ہوگا وگرنہ ہماری نسلیں بھی ان کی غلامی سے چھٹکارا نہیں پا سکیں گی۔ ان دولت کے پجاریوں کی آپس میں مفادات کے نام پر مفاہمتیں ہوتی رہیں گی اور چند باضمیر لوگ بس تڑپ تڑپ کر ہلکان ہوتے رہیں گے۔ 10مارچ2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus