×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
تیری خیر ہووے پہرے دارا…!
Dated: 07-Apr-2015
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com خلافِ توقع آج جھورا جہاز اکیلا نہیں بلکہ کچھ دوستوں کے ساتھ آ ورد ہوا۔ اس نے ہاتھ میں ایک ڈبہ پکڑا ہوا تھا جسے آتے ہی میز پر کھول کر رکھ دیا۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولے مجھے یاد آیا کہ آج تو میری سالگرہ کا دن ہے۔ دوستوں نے شکایتی لہجے میں کہا کہ وڑائچ صاحب امسال آپ نے چونکہ دوستوں کو اطلاع نہیں کی اس لیے ہم خود سیلیبریٹ کرنے چلے آئے۔ میں نے معذرت خواہانہ لہجے میں جواب دیاکہ پاکستان کے معروضی حالات اور عالم اسلام کی گھمبیر صورت حال کے پیش نظر میں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ اس سال میں اپنی سالگرہ جیسی بھی کوئی خوشی نہیں منائوں گا۔ میرے اس جواب پر میرے آفس کا ماحول ایک دم سیاسی بحث میں تبدیل ہو گیا۔ بات پاک سعودی، یمن تنازع پہ چل نکلی ۔ سبھی دوست اس بات پر متفق تھے کہ کوئی بھی قبیلہ، خاندان وہ امی ہو یا عجمی، وہ ترک عثمانی ہو یا خاندان امیہ سے تعلق ر کھتا ہو مگر اگر وہ حرمین شریف کی دیکھ بھال کی سعادت پر مامور ہو تو پوری امہ کا فرض ہے کہ وہ اس کا ساتھ دے۔ جبکہ خود اللہ تعالیٰ نے اپنے اس گھر کی حفاظت کا ذمہ خود لے رکھا ہے۔ قارئین! دراصل ایران اور سعودی عریبیہ اپنی پراکسی جنگ اپنے میدانوں کی بجائے ہمارے صحنوں میںلڑنا چاہتے ہیں۔ خود میرا یہ ذاتی خیال ہے کہ سعودی عرب کا سعود خاندان مسندِ خلافت پر فائز نہیں ہے کیونکہ 1919ء سے پہلے اس سرزمین کا نام سرزمینِ حجاز مقدس تھا اسی طرح ایران کی موجودہ انتظامی قیادت بھی براہِ راست اہل بیت کے خانوادے سے تعلق نہیں رکھتی۔ ابھی چند ہی برس پہلے کی بات ہے کہ عالمِ اسلام کے باسٹھ ممالک کا ایک ہی مشترکہ دشمن اور ایک ہی مشترکہ نصب العین تھا کہ قبلہ اول بیت المقدس کو یہودیوں سے آزاد کرانا ہے مگر صہیونی اور یہودی اور سامراجی طاقتوں نے ایک عالمی سازش کے ذریعے قیادت سے عاری اسلامی دنیا کو اندرونی خلفشار کے جال میں پھنسا دیا ہے اور آج جنوبی و شمالی افریقہ، مشرقِ وسطیٰ ترک و خلیج فارس اور ایشیا کے مسلمان آپس میں دست و گریباں ہیں اور گروپوں میں تقسیم ہو کر اسرائیلی اور سامراجی مفادات کو تقویت پہنچا رہے ہیں۔ یہی حال پاکستان کے اندر بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔ پاکستان جو پہلے ہی طالبان کے ساتھ اندرونی خانہ جنگی میں ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے وہ مزید اس پراکسی اور مسلکی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ مجھے حیرت ہوئی کہ اس وقت جب میں نے گذشتہ روز ایک نجی ٹی وی چینل پر ایک بہت ہی سینئر اور قابلِ احترام صحافی ساتھی کو یہ تفصیلات پڑھتے ہوئے دیکھا جبکہ وہ کہہ رہے تھے کہ ہمیں سالانہ زرِ مبادلہ سعودی عرب سے چار اعشاریہ چار ارب، کویت اور بحرین سے دو ارب ڈالر اور متحدہ عرب امارات سے ایک ارب ڈالر آتا ہے اور سعودی عرب میں پچیس لاکھ پاکستانی اور متحدہ عرب امارات اور مشرقِ وسطیٰ میں مقیم بیس لاکھ پاکستانی یہ زرمبادلہ ہر سال پاکستان بھیجتے ہیں مگر میرے فاضل دوست یہ بتانا بھول گئے کہ ہر سال بائیس لاکھ پاکستانی عمرہ کی سعادت کے لیے جاتے ہیں جس پر ایک محتاط اندازے کے مطابق فی کس دو لاکھ روپیہ خرچہ آتا ہے جبکہ ہرسال حج ادا کرنے کے لیے تقریباًڈھائی لاکھ پاکستانی فی کس محتاط اندازے کے مطابق چار لاکھ روپے خرچ کرتے ہیں۔ان دونوں تعدادوں میں وہ پاکستانی تارکین وطن جو دنیا کے ڈیڑھ سو ممالک میں رہتے ہیں جو لاکھوں کی تعداد میں حج اور عمرہ ادا کرتے ہیں شامل نہیں۔ قارئین! اگر ہمیں سعودیہ سے ہر سال ساڑھے چار ارب ڈالر زرِ مبادلہ آتا ہے تو یہاں سے عمرے اور حج کی مد میں ہم تقریباً دس ارب ڈالر کسی نہ کسی صورت میں سعودی حکومت کو واپس ادا کر دیتے ہیں جبکہ سعودیہ میں پچیس لاکھ پاکستانی اپنے کفیلوں کے زیرسایہ جو زندگی گزار رہے ہیں وہ سب کے سامنے ہے۔ میں اپنے خاندان اور دوستوں کے عزیزواقارب کو ذاتی طور پر جانتا ہوں جن کے سعودی کفیلوں نے پچھلے دو سال سے ان کی تنخواہیں دبا رکھی ہیں اور اسی طرح دوبئی، ابوظہبی اور متحدہ عرب امارات میں ایک تصدیق شدہ سروے کے مطابق پاکستان سے لوٹا ہوا سرمایہ پاکستانی شرفا اور امراء نے متحدہ عرب امارات میں جو انویسٹ کر رکھا ہے اس کا مجموعی حجم ایک سو پچاس ارب ڈالر سے بھی زیادہ بنتا ہے ۔ یو اے ای میں اس سسٹم میں ملازمت کرنے والے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام نہ بتانے کی شرط پر جب مجھے یہ تفصیلات پیش کیں تو میں حیرت سے سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور جب میں نے یہ دیکھا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان اور اکنامسٹ کی رپورٹ کے مطابق اس سال امریکہ نے چھبیس کروڑ انیس لاکھ، چین نے اٹھارہ کروڑ پینسٹھ لاکھ جبکہ متحدہ عرب امارات سولہ کروڑ ایک لاکھ ڈالر پاکستان میں انویسٹ کیے جبکہ سعودی عرب نے اپنی پاکستان میں کی ہوئی سرمایہ کاری میں سے آٹھ کروڑ چار لاکھ ڈالر واپس نکال لیے ہیں۔ قارئین! وطن عزیز میں اس وقت تقریباً سات ہزار میگاواٹ بجلی کی مزید ضرورت ہے جبکہ ہماری استعداد بائیس ہزار سات سو ستانوے میگاواٹ ہے مگر ہم صرف بارہ ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں اور اگر متحدہ عرب امارات میں پاکستانی لیڈروں کی سرمایہ کاری ہی کو ملک میں واپس لایا جا سکے تو پاکستان فرانس اور جرمنی سے اقتصادی طور پر مضبوط ملک بن سکتا ہے۔مجھے یاد ہے کہ بچپن میں زمین پر اگر کوئی کتاب کے اوراق عربی زبان میں پڑے نظر آتے تو ہر پاکستانی بے ساختہ انہیں اٹھا کر چومتا اور آنکھوں سے لگا لیتا لیکن سعودی عرب اور مشرقِ وسطی کے عربوں کے عربی و عجمی رویئے کو دیکھ کر آج پاکستان کا مسلمان زمین پر پڑے عربی کے ورق کو چومنے سے پہلے یہ تصدیق کر لینا مناسب سمجھتا ہے کہ وہ تحریر قرآنی آیات کی ہے یا ویسے ہی عربی تحریر ہے۔ ہم تو وہ قوم ہیں کہ ہم روضۂ رسولؐ سے لپٹ کر اس کی جالیوں سے چمٹ کر بوسہ لینے کی جستجو میں ہوتے ہیں تو اوپر سے سعودی پولیس ہم پر ڈنڈے برسا رہی ہوتی ہے مگر ہمارے لب مسلسل یہ کہہ رہے ہوتے ہیں ’’تیری خیر ہووے پہرے دارا ۔روضے دی جالی چوم لین دے‘‘۔ قارئین! حرمین شریف کی حفاظت اور تقدس کے لیے ہر پاکستانی کی جان بھی حاضر ہے اور خادمین حرمین شریف سے محبت بھی مگر یہ عشق دو سرمایہ کار خاندانوں کے درمیان نہیں بلکہ پاکستان اور عرب اقوام کے درمیان ہونا چاہیے۔قارئین آج ہی اطلاع ملی کہ برادرم عمران خان پارلیمنٹ میں دوبارہ چلے گئے ہیں۔ یہ وہی پارلیمنٹ ،وہاں وہی وزیراعظم اور سپیکر قومی اسمبلی ہوگا جسے وہ جعلی قرار دے چکے ہیںمگر عمران خان کے فیصلے سے ثابت یہ ہوتا ہے کہ سیاست میں کوئی چیز بھی حرفِ آخر نہیں ہوتی یہاں کارکنوں کی لاشوں کی قیمت ملکی سلامتی کا بہانہ بنا کر وصول کر لی جاتی ہے۔ 7اپریل2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus