×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے!
Dated: 09-Jun-2015
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com خیبر پختونخواہ میں ایک عشرے کے بعد بلدیاتی الیکشن ہوئے جس میں متعدد بے ضابطگیاں دیکھنے کو ملیں، جس پر عمران خاں نے کمال فراخ دلی سے ممکنہ نئے الیکشن کا عندیہ دے دیا مگر اے این پی اور جے یو آئی جن کو خلافِ توقع ان الیکشنز میں کامیاب ملی۔ جنہوں نے اب صوبائی حکومت کے مستعفی ہونے اور اسمبلی توڑنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ حیرت ہے دھاندلی بلدیاتی الیکشن میں ہوئی اور مطالبہ صوبائی حکومت توڑنے کا؟ گذشتہ ہفتے ملکی تاریخ کے سب سے اہم منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار ماڈل ایان علی کے تفتیشی کسٹم آفیسر اعجاز چوہدری کو کچھ نادیدہ ہاتھوں نے قتل کر دیا جبکہ اس سے پہلے یہی ہاتھ ایان کے والد پر بھی قاتلانہ حملہ کر چکے ہیں۔ شنید ہے کہ اس بار اس کیس میں ملوث کئی ہیوی ویٹ کرپشن کنگز اسلام آباد کے کھمبوں پر لٹکائے جائیں گے۔ ادھر ذوالفقار مرزا کی سندھ ہائی کورٹ آمد کے موقع پر ایک مشہور اور طاقتور ڈان کی طرف سے بھیجے گئے نقاب پوش سرکاری غنڈوں نے حملہ کر دیا، جس میں سانحہ ماڈل ٹائون سے سبق سیکھتے ہوئے میڈیا کو بھی سبق سکھانے کی کوشش کی گئی مگر اس کاوش سے سندھ کی عدلیہ اور صوبائی گورنمنٹ کے درمیان فاصلے بڑھ جانے کے امکان ہیں۔ ادھر ایپکس کے ساتھ معاہدے کے تحت رینجرز کو فُل اختیار ات دیئے گئے ہیں کہ وہ مختلف محکموں کے اندر غلط بھرتیوں کا تدارک کرے، جس کی وجہ سے بزرگ اور ضعیف سندھی حکومت نہ صرف پریشان ہے بلکہ دکھلاوے کی پھرتیاں دکھانا بھی شروع کر دی ہیں جبکہ میری طرح قارئین بھی دم بخود ہیں کہ ایان علی کیس میں سابق صدر کے سابق اٹارنی جنرل و سابق گورنرپنجاب لطیف کھوسہ ایان علی کے وکیل مقرر ہوئے ہیں جبکہ سندھ ہائی کورٹ کے احاطہ میں ذوالفقار مرزاپر ممکنہ حملے اور صحافیوں پر تشدد والے واقعہ میں سابق صدر کے سابق وزیر قانون و سابق چیئرمین سینیٹ فاروق ایچ نائیک ملزمان کے وکیل کے طور پر پیش ہوئے ۔ لطیف کھوسہ اور فاروق ایچ نائیک سابق صدر کے ملکی و غیر ملکی کیسز میں نمائندگی کرتے ہیں۔ اس طرح یہ کڑیاں کہاں پہ ملتی ہیں اس کا فیصلہ قارئین کریں گے۔ گذشتہ دنوں کی ایک بڑی خبر مبینہ طور پر جعلی سندیں، سرٹیفکیٹ اور ڈگریاں جاری کرنے کا الزام جس ادارے پر ہے وہ ادارہ پوری دنیا میں آن لائن آئی ٹی ایجوکیشن فراہم کرنے والے پانچ بین الاقوامی اداروں میں سے ایک ہے، جس سے ہزاروں تعلیم یافتہ پاکستانیوں کو پرکشش ملازمتیں اور جاب مارکیٹ ملی ہوئی ہے جبکہ کروڑوں ڈالرز کا زرمبادلہ بھی ملک میں لانے کا وسیلہ بنے ہوئے ہیں۔دنیا بھر کے ایفورڈ ایبل طبقہ کو ڈگریاں جاری کرنا تو جرم ٹھہرا مگر پورے پاکستان کی چائینہ کٹنگ اور جعلی پلاٹنگ کرکے جعلی اور فرضی فائلیں بیچتا اور پھر ’’رابن ہڈ‘‘ کہلواتاہے۔ اس پر کوئی قانونی دفعات نہیں لگتیں۔ خدا خدا کرکے راولپنڈی، اسلام آبادمیٹروبس کا افتتاح وزیراعظم کے ہاتھوں اختتام کو پہنچا۔ وزیراعظم نے حنیف عباسی اور شکیل اعوان کی الیکشن کیمپین کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر یہ دونوں شیر جیت جاتے تو میں علاقے کے باسیوں کو ہیلی کاپٹر سروس سے نوازتا اور ساتھ ہی ایک طنزیہ نشتر فوج کو بھی چبھو دیا کہ جنگیں ہمیشہ مارشل لاء ادوار میں ہوئی ہیں۔ پتہ نہیں میاں صاحب نے اس پیغام کے ذریعے بھارتی پراکسی وار یا ملکی عسکری قیادت کو کوئی خاص اشارہ دینے کی کوشش کی ہے۔ دراصل ربڑ سٹیمپ موجودہ وفاقی حکومت نہ صرف اخلاقی طور پر بلکہ مورالی طور پر نفسیاتی شکست و ریخت کا شکار ہو چکی ہے۔ سمدھی پاکستان جناب اسحق ڈار صاحب نے حالیہ بجٹ میں بری فوج کے لیے تین سو اکہتر ارب مختص کیے جبکہ پڑوسی بھارت کی بری افواج کا بجٹ تین ہزار آٹھ سو ارب روپے ہے جبکہ ہمارے جری بہادر اور قابل ستائش سیاست دانوں میں سے صرف ایک شخص اوگرا کے چیئرمین نے ایک سو چالیس ارب روپے کا گھپلا کیا جبکہ رینٹل پاور سیکنڈل میں دو سو ارب سے زائد کا جیتا جاگتا ٹیکہ لگایا گیا اور موجودہ دور حکومت کے ابتدائی دنوں میں موجودہ حکمران خانوادے نے اپنے بزنس پارٹنر میاں منشاء کو پانچ سو ارب روپے سلامی کے طور پر پیش کر دیئے۔ قارئین! گذشتہ سات سالوں کے دوران ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں اور ان کی وزیروں کی فوج نے جو دس دس ، بیس بیس ارب روپے کے ٹیکے ملکی خزانے کو لگائے ان کا مجموعی حجم ہزاروں ارب روپے بنتا ہے اور ان تمام لٹیروں کی فہرستیں ملکی خفیہ ایجنسیوں، نیب اور عسکری اداروں کے پاس تیار پڑی ہیں۔ آج ایک حیران کن اور رونگٹے کھڑے کر دینے والی خبر نے ملک کے بیس کروڑ عوام کو جھنجوڑ کر رکھ دیا کہ بنگلہ دیش کی حکومت کی جانب سے اٹل بہاری واجپائی کو دیا جانے والا ’’فرینڈز آف لیبریشن وار آنرز‘‘ ایوارڈ وصول کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے چوالیس سال پہلے سقوطِ ڈھاکہ کے دوران بھارتی مداخلت کو نہ صرف قبول کر لیا بلکہ بھارت کو اس کردار کے صلے میں بنگلہ دیش کی حکومت نے اپنے کچھ سمندری جزیروں سے دستبرداری بھی اختیار کر لی ۔ یاد رہے اٹل بہاری واجپائی اور نریندر مودی کو ملنے والا یہی ایوارڈ آج سے دو سال پہلے مشہور شہرہ آفاق اینکر حامد میر صاحب اور انسانی حقوق کی چیمپیئن محترمہ عاصمہ جہانگیر اور سلیمہ ہاشمی صاحبہ کو بھی دیا گیا تھا۔ بھارت کی طرف سے آج آفیشیلی طور پر اس وقت کے مشرقی پاکستان میں مداخلت کو تسلیم کر لیے جانے کے بعد میری تینوں مذکورہ پاکستانی دوستوں سے التماس ہے کہ یہ ایوارڈ نما طمانچہ بنگلہ دیشی حکومت کے منہ پر واپس دے ماریں۔ شاید اس طرح سے کچھ عزتِ سادات بچی رہے۔ ہمارے کپتان عمران خان اور تحریک انصاف کو اتنا نقصان مسلم لیگ ن نے نہیں پہنچایا جتنا ان کے اپنے دوست ’’یارمیڈیا‘‘ نے اپنی بیوقوفانہ دانشوریوں سے پہنچایا۔ یوں تو عمران خان کو اکرام اللہ نیازی، فوزیہ قصوری اور شیریں مزاری نے بھی حسب توفیق نقصان پہنچایا ۔ اگلے چند روز میں جوڈیشل کمیشن کا دھاندلی پر فیصلہ متوقع ہے اور اگلے ہی چند روز میں منہاج القرآن اور عوامی تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کی پاکستان میںآمد بھی طے ہے ایک نئے اور ہنگامہ خیز سیزن کا آغاز ہونے والا ہے۔ آج ٹورنٹو ایئرپورٹ پر ڈاکٹر صاحب پاکستان جانے کے لیے براستہ لندن روانہ ہو گئے ہیں۔ اور لندن میں کچھ دن قیام اور میڈیکل چیک اپ کے بعد پاکستان پہنچ جائیں گے۔ آج میں نے ان کے چہرے پہ اور باتوں میں جو عزم مصمم محسوس کیا اس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ اب بہت کچھ ہونے والا ہے ۔ میری اوپر بیان کی گئی تمام خبریں سبزی منڈی کے بھائو نہیں وہ ٹریلر ہیں جو آنے والے طوفان سے پہلے چلنے ہیں۔ شاید اسی پہ یہ کہتے ہیں کہ ’’ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے‘‘ 9جون2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus