×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سیاسی چائنہ کٹنگ
Dated: 30-Jun-2015
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com میں بچوں کے ساتھ بیٹھا ٹی وی پر پاکستانی نجی چینل دیکھ رہا تھا۔ معاشی دہشت گردی کے موضوع پر ایک پروگرام پیش کیا جا رہا تھا ایک دم میرا چھوٹا بیٹا جلال مجھ سے مخاطب ہوا کہ بابا یہ ’’چائینہ کٹنگ‘‘ کیا ہوتی ہے؟میں بیٹے کے سوال پر مسکرایا اور انہیں بتانے لگا کہ یہ جو ٹی وی چینل پر آپ یہ لفظ سن رہے ہو اس کا فرنچ کٹنگ، سوئس بے بی کٹنگ، سولجر کٹنگ یا ہیئر کٹنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ چائینہ کٹنگ کو کراچی میں ایم کیو ایم کے بلڈنگ مافیا ونگ نے متعارف کروایا جبکہ پیپلزپارٹی کے کچھ فنکار بشمول رحمان ملک بھی اس کے بانیوں میں شامل ہیں۔ یہ لوگ سرکاری اور غیرآباد زمینوں، پلاٹوں، پارکوں اور کھیلوں کے میدانوں اور قبرستانوں کی زمین کے جعلی کاغذات بنا کر ان کو آپس میں تقسیم کر لیتے ہیں اور آجکل پاک رینجرز اور پاک فوج نے جو وطن عزیز کو ان معاشی دہشت گردوں اور شدت پسندوں سے صاف کرنے کا عزم کیا ہے تو مافیا کے اس قبیلے کے لوگوں کو اپنے بنے بنائے محلات اور وراثتیں چھوڑ کر بھاگتے ہوئے بہت تکلیف ہو رہی ہے۔ میرے ایک سندھی دوست پیر عادل راشدی جو ایک ممتاز روحانی اور مذہبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ سندھی زبان کی اس مشہور کہاوت کو اکثر بیان کرتے ہیں کہ ’’جب آپ کسی بُرے آدمی کے علاقہ میں گھر بنائو تووہ گھاس پھونس سے بنا ئو تاکہ جب آپ کو اسے چھوڑ کر جانا پڑے تو آپ اس کو جاتے ہوئے لات مار کر گرا جائو‘‘ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران کراچی اور اندرونِ سندھ میں پندرہ سو سے زائد اموات ہوئیں اور پوری دنیا کی نظریں پاکستان کی طرف لگی ہوئی ہیں کہ ایک نیوکلیئر پاور نیشن اپنے شہریوں کو بجلی اور پانی تو مہیا کرنے میں یکسر ناکام ہو چکی ہے ان کو تحفظ ،عزت اور روٹی کیسے دے گی؟ کراچی میں جاری ٹارگیٹڈآپریشن کے نتائج ابھی اس طرح آنے نہیں شروع ہوئے جس کی کہ توقع عوام کو تھی۔ بہت سے نچلے درجے کے ملزمان کو تو گرفتار کیا گیا مگر ان کی پشت پناہی اور سرپرستی کرنے والے بڑے مگرمچھوں پہ ہاتھ ڈالنے میں نجانے کونسی قباحت آڑے آ رہی ہے۔ عوام یہ جاننا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ ایک عام شہری کے پیش نظر یہ دو تحفظات ہیں۔ نمبر ایک یہ کہ پچھلے پانچ مارشل لائوں سے عوام کو یہ تلخ تجربہ ہوا کہ ہر دفعہ فوج نے ملکی سالمیت کو بچانے اور کرپشن کی بیخ کنی کے لیے اقتدار اپنے ہاتھ میں لیا تو اس ایکٹ کے اثرات کو این آر اوز کی نذر کر دیا۔ خاص طور پر جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کے ادوار میں تبدیلی اور انقلاب کے نام پر جو گھنائونے کھیل کھیلے جاتے رہے اور اپنے اقتدارکو طوالت دینے کے لیے سیاست کی گندی مچھلیوں کو تبدیلی کے پانی سے دھو کر گلے لگایا جاتا رہا اور 2008ء کے بعد سابق ملٹری چیف جنرل کیانی نے معاشی مقاصد حاصل کرنے کے لیے زرداری، نوازشریف اور چوہدری افتخار سے مل کر عوام سے جو گھنائونا مذاق کیا اس کریڈبیلٹی کو واپس لانے کے لیے موجودہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو بہت ساری محنت کرنی پڑے گی۔نمبر دو یہ ہے کہ عوام میںایک تاثر بڑی مضبوطی سے قائم ہو چکا ہے کہ میاں نوازشریف اپنے اقتدارکو طوالت دینے کے لیے کسی سے بھی خواہ ملک دشمن ہو،قوت یا سیاسی رہنما سے کسی وقت بھی ہاتھ ملا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پرایم کیو ایم کے ووٹوں کی ضرورت پڑے تو ایم کیو ایم مقدس ٹھہرے اور جب یہی ایم کیو ایم نواز حکومت کی پالیسیوں سے انحراف کرے تو ہمیشہ اس کے خلاف ٹارگیٹڈ آپریشن لانچ کیا جاتا ہے۔ 1992ء میں الطاف حسین کو ملک سے فرار کرانے میں کس کا ہاتھ تھا؟ اور الیکشن 2013ء سے پہلے پاکستانی عوام کے سامنے آصف علی زرداری اور اس کے ساتھیوں کے چہروں کو میڈیا ٹرائل کے ذریعے مسخ کرکے پیش کیا گیا اور اقتدار میں آ کر آصف علی زرداری کو لکشمی چوک میں کھمبوں پر لٹکانے اور گھسیٹنے کی باتیں الیکشن 2013ء کا مرکزی سلوگن تھیں۔ مگر 2013 ء کے مطلوبہ نتائج حاصل کر لینے کے بعد چورسپاہی آپس میں بھائی بھائی بن کر گلے مل بیٹھے اور پچھلے دو سال کے دوران شریف برادران کی حکومت نے سابق صدر اور اس کے دو سابق وزرائے اعظم اور مکمل کرپٹ کابینہ کے کسی ایک رکن کے خلاف بھی تحقیقات شروع نہیں کیں بلکہ الٹا چھوٹے میاں شہبازشریف نے گذشتہ روز کراچی پہنچنے پر الیکشن 2013ء کے دوران لگائے ہوئے الزامات پر معافی مانگ لی اور اب عوام کو قوی یقین ہے کہ آصف علی زرداری اس کے منہ بولے بھائی مظفر ٹپی اور فریال تالپور سمیت ان کے دیگر ساتھیوں کو ملک سے فرار کروانے میں بھی شریف برادران کا ہاتھ ہے اور ان کی حتی الوسع کوشش ہے کہ وہ اس نام نہاد جھوٹی جمہوریت کا بھرم رکھ سکیں۔ پاکستان کے بیس کروڑ عوام کا ایک مشترکہ سوال یہ بھی ہے کہ حکمران اور ان کے خاندان کے اوپر پینتیس کیس ملک کی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور کئی سالوں کے بعد بھی ان کا فیصلہ نہیں ہو سکا جبکہ سانحہ ماڈل ٹائون اور سانحہ ڈی چوک میں بھی حکمران مرکزی ملزم کے طور پر نامزد ہیں اور اس دوران حکومت کے ہی قائم کردہ جوڈیشل کمیشن جو جسٹس باقر نجفی کی قیادت میں بنا اس کی رپورٹ کو خود حکومت نے ابھی تک چھپا رکھاہے اور ایک نام نہاد جے آئی ٹی تشکیل دے کر اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دینے کی بھونڈی کوشش کی ہے اور سانحہ ماڈل ٹائون کے مرکزی ملزم رانا ثنا اللہ کو دوبارہ وزیرِ قانون بنا کر نہ صرف قانون کا مذاق اڑایا ہے بلکہ عوام کے دلوں میں ریاست اور عدل و انصاف کا امیج اس بُری طرح مجروح ہوا ہے کہ جس کی تلافی تقریباً ناممکن ہے۔ حکمران واقعی اگران دلخراش سانحات میں ملوث نہیں تو وہ اپنی بے گناہی جسٹس باقر کے سامنے کیوں نہیں ثابت کر سکے؟ قارئین!اب حکمرانوں کو حکومت کرنے کا کوئی اختیار نہیں جو عوام کی نبض نہ پہچانتے ہوں۔ حکمرانوں کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ اب 2015ء میں عوام کو ایک لمبے عرصے تک بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا۔ عوام اب کھوکھلی باتوں پر یقین اور اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اگر حکومت نے عوام کو اس کی بنیادی سہولیات اور ضروریات سے محروم رکھا تو خود حکومت کے ایوانوں سے ایک انقلاب برپا ہوگا ۔ کتنے افسوس اور مذاق کی بات ہے کہ حکمرانوں کو بیس کروڑ عوام کے اندر سے صرف ایک فیملی ہی ملتی ہے جس سے تمام وزراء، مشیروں اور افسران کا تعلق ہے جبکہ اقتدار کے لیے حکومت کو ڈیڑھ کروڑ ووٹرز نے ووٹ دیئے۔ کیا حکمرانوں کو اپنی فیملی کے علاوہ کسی دوسرے پہ اعتبار نہیں؟حکومتی خانوادے کے ایک وزیر نے ’’شرم کرو کچھ حیا کرو‘‘ کہہ کر مکافاتِ عمل کو ایسی آواز دی جو اس کا اب پیچھا نہیں چھوڑ رہی۔ بچو اس دن سے جب ملک کے بیس کروڑ عوام چِلا چِلا کر کہہ رہے ہوں گے کہ ان ننگ وطن سیاستدانوں کی چائینہ کٹنگ کرانا بہت ضروری ہے۔ 30جون2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus